ابن بشیر الحسینوی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ابن بشیر الحسینوی
    title-pages-balon-ka-mamla-copy
    ابن بشیر الحسینوی

    اسلام ایک کامل واکمل دین ہے جس نے انسانوں کی ہرموڑپر رہنمائی کی ہے او رزندگی گزارنے کے تمام سلیقے سکھائے ہیں۔ چھوٹے  سے چھوٹے  مسئلے پر بھی تفصیلی بحث  کی ہے ان میں سے ایک اہم  مسئلہ  بالوں کا ہے۔اس موضوع پر مشاہیرِ اسلام نےاپنے  اپنے  انداز میں لکھا مگر وہ موتی کتب فقہ واحادیث  میں بکھرے ہوئے ہیں ۔ اس  مصروف اور ہیجان انگیز دور میں عام  آدمی کےلیے  ان سب کا چننا اور پھر انہیں ایک لڑی میں پرونا بہت مشکل ہے۔  زیر تبصرہ کتاب ’’بالوں کا معاملہ ‘‘ کے مصنف  جنا ب ابن بشیر حسینوی  ﷾ نے نہایت خوبصورتی اوراختصار کے ساتھ قرآنی آیات ، صحیح احادیث اور آثار صحابہ کے  حوالوں سے عام فہم اور دلنشیں انداز میں  بالوں کا معاملہ مختلف ابواب میں تقسیم کر کے  ان پر روشنی ڈالی ہے ۔ انہوں نے مسلمان مرد کےبالوں کےاحکام ، کنگھی کرنے کےآداب، کن صورتوں میں بال منڈوانا جائز ہے ؟کن حالتوں میں بال کٹوانا ممنوع ہے ؟ سفید بالوں کا  کیا حکم ہے ؟ وضومیں سر کا مسح، نومسلم کےبالوں کا  حکم ، بچے اور عورت کےبالوں کے احکام  ،ابرؤوں کے بالوں کےاحکام ،رخساروں کے بال،الغرض بالوں کے متعلقہ تقریبا 137 احکام پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا ہے ۔ جو کہ انتہائی  قابل قدر  وقابل تحسین ہے ۔ محترم ابن بشیر حسنیوی صاحب  نے ثانوی کی تعلیم جامعہ لاہور الاسلامیہ سے حاصل کی پھر جامعہ التربیۃ الاسلامیہ ، فیصل آباد میں داخلہ  لیااور سندفراغت  حاصل کی پھر تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے  میدان  میں مصروف ہوگے   اور ماشاء اللہ ان کے  کئی مضامین   جماعت کے علمی  رسائل کی زینت بن چکے ہیں۔اور اب مرکز امام احمد بن حنبل کےنام سےایک دینی ادارے  کے  مدیر ومنتظم او رساتھ ساتھ دعوت وتبلیغ کاکام بھی کررہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل میں اضافہ فرمائے  (آمین)  (م۔ا)

    title-pages-khareed-o-farokhat-se-pehle-50-bunyadi-usool-copy
    ابن بشیر الحسینوی

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "خرید وفروخت سے پہلے 50 بنیادی اصول"جامعہ لاہور الاسلامیہ کے فاضل محترم ابن بشیر الحسینوی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے اسلامی تجارت کے پچاس اصول بیان کرتے ہوئے ٹائنز کمپنی کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔اسلام حلال طریقے سے کمانے اور حلال جگہ پر خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔یہ  اپنے موضوع ایک  انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

    title-page-shari-ahkam-ka-insaiklopeidiya
    ابن بشیر الحسینوی
    دینی احکام ومسائل کی معرفت ہرمسلمان کےلیے انتہائی ضروری ہے لیکن اکثر مسلمانوں کو دین کے موٹے موٹے  اور کثیرالاستعمال مسائل  کا بھی علم نہیں ہے  اس کی کئی ایک وجوہات ہیں  اس کمی کو پورا کرنے کےلیے اہل علم دن رات محنت کررہے ہیں  اللہ رب العزت ان تمام علمآء کی محنت کو قبول فرمائے۔اس کتاب میں اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے صحیح احکام کا انتخاب کیا گیا ہے  اور اس کی تحقیق وتخریج  بھی کی گئی ہے ۔مثلا ً نیت  کے احکام، رات کو پیش آنےوالے 265 مسائل کا شرعی حل ،چہرے کے احکام ،زکوۃ کے احکام اور وقت کے احکام کی مفید مباحث کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سارے احکام  کو بیان کیا گیا ہے۔

    title-pages-nasihtain-mere-aslaf-ki-copy
    ابن بشیر الحسینوی

    نصیحت، " نصح" سے خالص ہونے اور خالص کرنے کے معنیٰ میں ہے ، یعنی یہ کہ واعظ وعظ کرتے وقت مخلص ہونا چاہئے اور ہدایت و راہنمائی اور اصلاح کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں رکھتا ہو، اسی کو نصیحت کہتے ہیں۔پند کو اس لحاظ سے " نصح" اور " نصیحت" کہتے ہیں کہ خلوص نیت اور محض خیر خواہی پر مبنی ہوتی ہے ۔نصیحت تعلیم وتربیت کاایک موثر طریقہ ہے ۔قرآن مجید میں حضرت لقمان کا اپنے بیٹے کو نصیحت کرنے کا ذکر موجود ہے ۔اسی طرح کتب حدیث میں نبی کریم ﷺ کی صحابہ کرام کو کئی گئی نصیحتیں موجود ہیں بلکہ انہیں الگ سے کتابی صورت میں بھی مرتب کیا گیا ہے ۔نیز صحابہ کرام ، ائمہ کرام اور صالحین کی نصیحتیں کتب سیرت وتاریخ میں بکھری ہوئی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’نصیحتیں میرے اسلاف کی ‘‘محترم جناب فضیلۃ الشیخ محمد بن بشیر الحسینوی ﷾کی مرتب شدہ ہے ۔ مرتب موصوف عرصہ دس سے انہیں مختلف کتب سے جمع کرتے رہے ۔ فاضل مرتب نے تمام بڑے لوگوں کی نصیحتوں کو بڑے خوبصورت انداز سے اس کتاب میں مرتب کیا ہے ۔مرتب نے صحابہ کرا م او ر اسلاف میں سےمعروف ائمہ کرام اور عصر حاضر کے جید علماء ، مدرسین اوراساتذہ کی مفید وقیمتی نصائح کواس کتاب میں جمع کردیا ہے اس کتاب میں شامل نصیحت کے معنی ،مفہوم ، ضرورت و اہمیت اور اسالیب کے متعلق ڈاکٹر عبید اللہ محسن ﷾ کی تحریر بھی شاندار اور لائق مطالعہ ہے ۔اردو زبان میں یہ اپنے موضوع میں ایک منفرد کتاب ہے ۔اللہ تعالیٰ مرتب کی علمی وتحقیقی وتصنیفی اور دعوتی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-usool-al-sunnah-copy
    ابوبکر عبد اللہ بن زبیر حمیدی

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم ﷺنے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی ﷫توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اصول السنۃ " تیسری صدی ہجری کے امام اور امام بخاری ﷫وامام مسلم﷫ کے استاد محترم ابو بکر عبد اللہ بن زبیر الحمیدی﷫ عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ وتحقیق وشرح  کرنے کی سعادت جامعہ لاہور الاسلامیہ کے فاضل  محترم محمد ابراھیم بن بشیر الحسینوی نے حاصل کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-majmua-maqalat-usool-al-sunnah-copy
    امام احمد بن حنبل

    عقیدے کے مسائل بلا شبہ بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔اور تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس کی تعلیم تمام ابواب ومسائل کے ساتھ اہل علم سے حاصل کریں۔یہ بات کافی نہیں ہے کہ ادھر ادھر سے بلا ترتیب افراتفری میں عقیدے سے متعلق سوالات کئے جائیں،کیونکہ جس قدر بھی کثرت سے سوالات کئے جائیں اور ان کے جواب حاصل کئے جائیں،قریب ہے کہ جہالت اور بھی بڑھ جائے ۔لہذا جو لوگ خود اپنے آپ کو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو صحیح معنوں میں نفع پہنچانا چاہتے ہیں ،ان پر واجب ہے کہ وہ معروف اہل علم سے  اول تا آخر عقیدہ کا علم حاصل کریں،اور اس کو تمام ابواب ومسائل کے ساتھ جمع کریں۔ساتھ ہی اسے اہل علم اور اسلاف کی کتب سے حاصل کریں۔اس طریقے سے جہالت بھی دور ہو جائے گی اور کثرت سوالات کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔پھر وہ لوگوں کو تعلیم دینے اور ان کے سوالات کو حل کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب "مجموعہ مقالات اصول السنۃ " بھی عقیدے کے  چند اہم مسائل پر مشتمل ہے،جوتیسری  صدی ہجری کے معروف امام، امام اہل السنۃ والجماعۃ امام احمد بن حنبل﷫ کی عربی تصنیف  ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم ابو صاریہ احسان یوسف الحسینوی صاحب نے جبکہ تحقیق وتخریج کا کام محترم محمد ابراھیم بن بشیر الحسینوی ، ابو خزیمہ عمران معصوم انصاری اور ابو حبان کامران ملک  صاحبان نے کیا ہے۔ یہ کتاب امام صاحب کے ان رسائل پر مشتمل ہے جو انہوں نے تیسری صدی ہجری میں سلفی عقائد پر لکھے تھے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف، مترجم اور محققین کی ان عظیم خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2791 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں