سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور
سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور
11 کل کتب
دکھائیں

  • 1 فلسفہ عمرانیات (پیر 10 دسمبر 2018ء)

    مشاہدات:2000

    لفظ عمرانیات عربی کے لفظ عمران سے نکلا ہے، جس کے معنیٰ ہیں، آبادی، سماج، معاشرت، رہن سہن۔ سماج کے لیے عمران کا لفظ ابن خلدون نے استعمال کیا تھا۔ اردو میں عمرانیات کی اصطلاح سب سے پہلے 1935ء میں علم الاخلاق میں ملتی ہے۔ اس کے لیے انگریزی میں لفظ Sociology مستعمل ہے، جس کی اصل لاطینی اور یونانی ہے۔عمرانیات یا سماجیات سماجی رویے، اس کے مآخذ، ترقی، تنظیم اور اداروں کے مطالعے کا علم ہے۔ یہ ایک ایسا سماجی علم ہے جو مختلف تجرباتی تفتیشی طریقوں اور تنقیدی جائزوں کے ذریعے معاشرتی نظم، بدنظمی اورمعاشرتی تبدیلی کے بارے میں ایک علمی ڈھانچہ وضع کرتا ہے۔ ایک ماہر عمرانیات کا عمومی ہدف سماجی پالیسی اور فلاح کے لیے براہ راست لاگو ہونے والی تحقیق منعقد کرنا ہوتا ہے، تاہم عمرانیات کے علم میں معاشرتی عمل کی تصوراتی تفہیم کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔ موضوعاتی مواد کا احاطہ فرد کے کردار اور عمل سے لے کر پورے نظام اور سماجی ڈھانچے کی تفہیم تک جاتا ہے۔عمرانی مسئلہ یا سماجی مسائل بنیادی  طور پر لوگوں کے درمیان متنوع تعلقات کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں ۔ سماج کے تمام  مسائل عمرانی نہیں ہوتے  مثلاً زرعی مسائل۔ عمرانی مسئلہ وہ ہوتا ہے  جو سماج کے رکن مختلف افراد کےآپس میں ملنےجلنے سے  وجود میں آتا ہے۔سماج کا ہر فرد سماج کے مسائل اور اس کو درپیش خطرات کا سامنا کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کااحساس کرتا ہے ۔ سماج میں  انسانوں کےزندگی گزارنے کےلیے  تعلقات...

  • 2 یورپ مسلمانوں کی نظر میں (اتوار 20 جنوری 2019ء)

    مشاہدات:1248

    یورپ  دنیا کے سات روایتی براعظموں میں سے ایک ہے تاہم جغرافیہ دان اسے حقیقی براعظم نہیں سمجھتے اور اسے یوریشیا کا مغربی جزیرہ نما قرار دیتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کوہ یورال کے مغرب میں واقع یوریشیا کا تمام علاقہ یورپ کہلاتا ہے۔یورپ کے شمال میں بحر منجمد شمالی، مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں بحیرہ روم اور جنوب مشرق میں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کو ملانے والے آبی راستے اور کوہ قفقاز ہیں۔ مشرق میں کوہ یورال اور اسلام اور مغرب 

  • 3 تاریخ بیت المقدس (بدھ 23 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:3804

    بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت  کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور بیت المقدس میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق  کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو  فتح کیا تو سیدنا عمر  نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد...

  • 4 پاکستان کی سیاسی جماعتیں (جمعہ 29 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2539

    دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہوں گے جہاں صرف دو یا گنتی کی تین، چار سیاسی جماعتیں ہوں گی لیکن پاکستان میں ان جماعتوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔پاکستان ایک کثیر سیاسی جماعتیں رکھنے والا ملک ہے، جن کی تعداد اڑھائی سو کے قریب ہے۔ان میں سے کچھ مذہبی اور کچھ لسانی جماعتیں بھی ہیں اور بعض جماعتیں ایسی بھی ہیں جن کا نام کے سوا کوئی عملی وجود نہیں ہے۔ان میں سے ہر جماعت کا اپنا منشور اور آئین ہے جس کے مطابق وہ اپنی سیاسی زندگی گزار رہی ہے اور انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔پاکستان کی سب سے پہلی سیاسی جماعت مسلم لیگ تھی جس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔اس کے بعد بے شمار جماعتیں وجود میں آتی گئیں۔ زیر تبصرہ کتاب" پاکستان کی سیاسی جماعتیں" محترم پروفیسر محمد عثمان اور مسعود اشعر صاحبان  کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی 16  بڑی سیاسی جماعتوں  کے پروگرامز اور ان کے منشور کو بعینہ یہاں جمع کردیا ہے اور اس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں کیا تاکہ ہر کوئی ان جماعتوں کے منشور سے آگاہی حاصل کر سکے۔یہ کتاب سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ایک مفید ترین کتاب ہے اور اپنے موضوع پر مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔سیاست کے طالب علموں کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔(راسخ)

  • 5 خدا فلسفیوں کی نظر میں (جمعرات 14 جون 2018ء)

    مشاہدات:1555

    دنیا جہان میں لا تعداد مذاہب پائے جاتےہیں ان مذاہب میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ تمام کے تمام ایک عالمگیر خدا اور ایک برتر ہستی پر یقین رکھتے ہیں جو قادر مطلق اور عالم کل ہے خدا کے نام ہر مذہب میں اور ہر زبان میں الگ الگ ہیں، خدا کی صفات تو عام طور پر ایک جیسی ہی ملتی ہیں، کہ وہ خالق ہے، مالک، ہے رز‍ق دینے والا، گناہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا اور دعا سننے والا۔مفکرین کے خدا کے متعلق مختلف افکار ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خدا فلسفیوں کی نظر میں ‘‘ ڈاکٹر وحید عشرت کی مرتب شدہ ہے اس مجموعہ مقالات میں مرتب نے اللہ تعالیٰ کے متعلق 40 مختلف مفکرین کے تحریر شدہ ایسے مضامین کو جمع کیا ہےکہ جن میں معروف فلاسفہ کے تصور خدا کو بیان کیا گیا ہے ۔مضمون نگاروں میں ڈاکٹر منظور احمد ، علامہ محمد ایوب دہلوی، محمد ادریس کاندھلوی ، علامہ محمد اقبال مولانا امین احسن اصلاحی ، محمد لطفی جمعہ وغیرہم کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں ۔ (م۔ا)

  • 6 ہماری جنسی اور جذباتی زندگی (ہفتہ 07 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1635

    آج کا انسان جس ماحول میں سانس لے رہا ہے اس نے اس کی شخصیت کو لخت لخت کر کے ایسے اعصابی تناؤ میں مبتلا کیا کہ انسان خود اپنا آسیب بن کر رہ گیا جس کے نتیجے میں جب اس کا اپنی ذات پر سے ایمان اٹھ گیا تو دوسروں سے ابلاغ ختم ہو گیا۔ یوں لوگ پرچھائیوں میں تبدیل ہو گئے اور دیا سایوں کی بستی بن گئی۔چنانچہ آج کا انسان اپنے سایہ کو بھی دوسروں کا سایہ سمجھتے ہوئے اس سے لرزاں ہے۔ابن العربی نے جہنم کو ایک سرد جگہ قرار دیا تھا۔ جہاں ہر آنے والا اپنی آگ خود ساتھ لاتا ہے اس کے برعکس سارتر کے خیال میں جہنم دوسرے لوگ ہیں جبکہ فرائڈ کے خیال میں جہنم جنس ہے جس کی آگ میں انسان صدا جلتا رہتا ہے۔ یہ تین نظریات اس جبر کے غماز ہیں جس سے کسی نہ کسی طور سے انسان کو عہدہ بر آ ہونا پڑتا ہے۔ اور جدید انسان کا المیہ یہ ہے کہ اسے تینوں جہنموں کی آگ میں جلنا پڑ رہا ہے اور اسی لیے ذہنی عوارض میں مبتلا مریضوں اور خود کشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی حوالے سے ہے جس میں تفصیل سے اسی موضوع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ کتاب طویل اور مختصر مضامین کا مجموعہ ہے‘ ان کے موضوعات میں تنوع ہے اور جن ذہنی مسائل سے بحث کی گئی ہے وہ ذہنی زندگی کے بیشتر امور اور شخصیت کے بہت سے مستور گوشوں پر سے پردے اٹھاتے ہیں۔ ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ہماری جنسی اور جذباتی زندگی ‘‘ ڈاکٹر سلیم اختر  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور&n...

  • تعلیم اپنے وسیع تر معنوں میں وہ چیز ہے جس کے ذریعے لوگوں کے کسی گروہ کی عادات اور اہداف ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔ اپنے تکنیکی معنوں میں اس سے مراد وہ رسمی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنا مجموعی علم ، ہنر ، روایات اور اقدار ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کرتا ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں ،بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پاکستان کے لیے مثالی نظام تعلیم کی تشکیل تعلیمات نبوی کی روشنی میں ‘‘ ڈاکٹر لیاقت علی نیازی کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ معلم انسانیت ﷺ کے فن تدریس کے رہنما خطوط کو اگر ہم سامنے رکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ نے درسگاہ صفہ میں دینی علوم کے ساتھ سا...

  • 8 سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک مجلسیں (اتوار 22 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:755

    انسان شروع سےہی اس دنیا میں تمدنی او رمجلسی زندگی گزارتا آیا ہے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک اسے زندگی میں ہر دم مختلف مجلسوں سے واسطہ پڑتا ہے خاندان ،برادری اور معاشرے کی یہ مجالس جہاں ا س کے اقبال میں بلندی ،عزت وشہرت میں اضافے او ر نیک نامی کا باغث بنتی ہیں وہیں اس کی بدنامی ،ذلت اور بے عزتی کاباعث بنتی ہیں انسان کو ان مجلسوں میں شریک ہو کر کیسا رویہ اختیار کرناچاہیے کہ جو اسے لوگوں کی نظروں میں ایسا وقار اور عزت وتکریم والا مقام بخش دے کہ لوگ اس کے مرنے کے بعد بھی اسے یاد رکھیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سید الانبیاءﷺ کی مبارک مجلسیں ‘‘ علی اصغر چوہدری کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں محسن انسانیت اور خیر البشر حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی مبارک مجلسوں کا آئینہ قارئین کے سامنے پیش کیا ہے تاکہ وہ اس میں اپنا چہرہ دیکھ کر اسے تاباں اور شاداں بنانے کی کوشش کریں اور اپنی مجالس میں سیرت طیبہ کا رنگ اختیار کریں ۔(م۔ا)

  • 9 عورت زبان خلق سے زبان حال تک (ہفتہ 15 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:831

    اللہ  تعالی نے  عورت کو معظم بنایا لیکن جاہل انسانوں نےاسے لہب ولعب کاکھلونا بنا دیا  اس کی بدترین توہین کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتاہے کہ ہر عہد میں عورت کیسے کیسے  مصائب ومکروہات جھیلتی رہی اور کتنی بے دردی سے کیسی کیسی پستیوں میں  پھینک دی گئی لیکن جب اسلام کا ابرِ رحمت برسا توعورت کی حیثیت یکدم بدل گئی ۔محسن انسانیت جناب رسول اللہ  ﷺ  نے  انسانی سماج پر احسان ِعظیم فرمایا عورتوں کو ظلم ،بے حیائی ، رسوائی اور تباہی کے گڑھے سے نکالا انہیں تحفظ بخشا ان کے  حقوق اجاگر کیے ماں،بہن ، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سےان کےفرائض بتلائے  اورانہیں شمع خانہ بناکر عزت واحترام کی سب سےاونچی  مسند پر فائز کردیااور  عورت و مرد کے شرعی احکامات کو  تفصیل سے بیان کردیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ عورت زبانِ خلق سے زبان حال تک ‘‘ عورت سے متعلق 26 موضوعات پر منفرد تحقیقی مضامین کا  مجموعہ ہے  محترمہ کشورناہید صاحبہ نے  ان  مضامین  کو مختلف مطبوعہ کتب سے   انتخاب  کر کے اس کتاب  میں شامل کیا اورکچھ خاص  موضوعات پر تحقیق کے ذریعے لکھوائے  گئے۔چند مضامین میں برصغیر کے بنیادی حوالے ہیں ۔ دیگر مضامین میں بین الاقوامی منظر کے توسط ، عورت اور مرد کےمقام کا تجزیہ کیا گیا ہے  اور تضادات کو سامنے لایاگیا ہے۔اس کتاب  کےمندرجات سے  ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں کیوں اس کتاب  کےاکثر...

  • 10 اسلامی قانون فوجداری ترجمہ کتاب الاختیار (اتوار 29 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1448

    فوجداری ضابطہ یا ضابطہ تعزیرات ایک دستاویز ہے جس میں کسی مقام پر عمل در آمد ہونے والے تمام یا بیشتر جرائم کے قوانین کو یکجا کیا جاتا ہے۔ عموماً ایک ضابطہ تعزیرات جرائم کا احاطہ کرتا ہے جو عمل در آمد علاقے میں تسلیم کیے گئے ہیں، جرمانے جو ان جرائم پر عائد ہوتے ہیں اور کچھ مخصوص پہلوفوجداری ضابطے عمومًا دیوانی قوانین مشترک ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان سے قانونی نظاموں کی تشکیل پاتی ہے ان ضابطوں اور اصولوں پر جو نسبتاً مبہم ہیں اور انہیں معاملوں کی اساس پر رو بعمل لایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شاذ و نادر ہی عام قانون عمل درآمد کرنے والے علاقوں میں نافذ العمل ہوتے ہیں۔انگریزوں کی واپسی کے بعد، تعزیرات ہند پاکستان کو ورثے میں ملا۔ بعد ازاں ان تعزیرات میں اسلامی قوانین فوجداری کی متعدد دفعات بھی شامل کی گئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی قانون فوجداری ‘‘ مولانا سلامت علی خان المعروف حذاقت خان محمد پوری کی کتاب ’’ الاختیار‘‘ کا اردو ترجمہ ہے یہ کتاب 1212ھ میں قاضیوں اور عام تعلیم یافتہ حضرات کی رہنمائی کے لیے تیار کی گئی تھی اس کتاب کو اس وقت بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔ قانون دان حضرات اسے استفادہ کرتے ہیں حتیٰ بعض مدارس حنفیہ میں یہ داخل نصاب ہے ۔صاحب کتاب محمد آباد میں عدالت مرافعہ میں بطور فیصلہ نویس وریسرچ آفیسر کام کرتے تھے۔انہوں نے اس کتاب میں تمام تعزیرات وجرائم کے متعلق اسلامی قانونِ فوجداری کی تمام دفعات مختلف ابواب وفصول میں فقہ حنفی کی مستند کتابوں کے حوالے سے نہایت جامعیت کے ساتھ جمع کردی ہیں ۔اس کت...


  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1219
    • اس ہفتے کے قارئین: 4873
    • اس ماہ کے قارئین: 33122
    • کل قارئین : 46461117

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں