قدیمی کتب خانہ، کراچی

11 کل کتب
دکھائیں

  • 1 عربی کا معلم - جلد1 (ہفتہ 14 جنوری 2012ء)

    مشاہدات:20836

    زیر نظر کتابچہ ’’عربی کا معلم‘‘ اگرچہ حجم کے لحاظ سے چار چھوٹے چھوٹے اجزاء پر مشتمل ہے تاہم عربی قواعد اور عربی زبان دانی کی تعلیم وتعلم کے حوالے سے ناقابل فراموش اور مفید ترین ہے۔قابل مصنف نے اقتضائے وقت کے مطابق اس کتاب میں عربی قواعد کو آسان ترین مشقوں اور مثالوں کے ذریعے بیان کیا ہے تاکہ زبان دانی کے ضمن میں یہ قواعد باآسانی ذہن نشین ہوتے چلے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان کی تفہیم اور افہام کے لیے اسباق کا انتخاب اور ان کی ترتیب کوئی معمولی کام نہیں ھے مگر اس کتابچے کے مشاہدے اور مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے شائقین عربی کی مایوسی اور مشقت کو کم کرنے اور تسہیل عربی کے حوالے سے قابل قدر اور کامیاب کوشش کی ہے ۔اسباق کے انتخاب اور ترتیب میں آسانی کے پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے۔پہلا جزء پندرہ اسباق پر ، دوسرا جزء دس اسباق پر ، تیسرا جزء اٹھارہ اسباق پر اور چوتھا چزء تیس اسباق پر مشتمل ہے ۔جزء اول کے علاوہ باقی سب اجزاء میں قرآنی امثلہ ، محاکموں او رتمرینات کا قابل قدر اضافہ نظر آتا ہے۔ اگر سب اسباق کو  تطبیق کے ساتھ حل کرلیا جائے تو طالب علم میں عربی سمجھنے ، لکھنے اور بولنے کی لیاقت پیدا ہوجاتی ہے یہ کتابچہ برصغیر پاک وہند کے اکثر سرکاری وغیرسرکاری مدارس ، کلیات اور جامعات میں شامل نصاب رہاہے ۔بہر حال یہ کتابچہ اس قابل ہے کہ اسے عربی دانی اور عربی گرائمر کے حوالے سے تمام سرکاری وغیر سرکاری مدارس ، کلیات اور جامعات میں داخل نصاب کردیا جائے تاکہ عربی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ متعلمین کے دلوں میں قرآن فہمی کا احساس بھی جاگزیں ہو جائے۔(م۔آ۔ہ) گرامر  نصابی کتب 

  • 2 کلید جدید برائے عربی کا معلم - حصہ اوّل (بدھ 18 جنوری 2012ء)

    مشاہدات:19214

    ’’کلید جدید‘‘اور ’’عربی کا معلم‘‘ ہر دو کتابچے مولوی عبدالستار خان کی تصنیفی مساعی میں سے ہیں اول الذکر کتابچہ چار مختصر  اجزاء پر مشتمل ہے جو ثانی الذکر کے چار اجزاء کی توضیح اور تحلیل ہے۔ جس طرح مقفل چیز کو کھولنے کے لیے کنجی کی ضرورت ہوتی ہے بعینہ جو شخص عربی کے معلم سے کماحقہ استفادے کا خواہش مند ہے اس کے پاس کلید جدید کا ہونا بہت ضروری ہے ۔خاص طور پر وہ شائقین جو بطور خود عربی سیکھنا چاہتے ہوں یا مدارس میں تعلیم پانے والے وہ ذہین اور شائق طلبہ جو اپنا مطالعہ مدرسہ کی محدود تعلیم سے آگے بڑھانا چاہتے ہوں ہر دو گروہوں کے پاس کلید جدید کا ہونا از بس لازمی ہے ۔عربی کے معلم (چار اجزاء)میں جو مشقیں عربی سے اردو اور اردو سے عربی بنانے کے لیے پیش کی گئی ہیں ان کو ’’کلید جدید‘‘کے چاروں اجزاء میں حل کردیا گیا ہے ۔نیز بعض مشکل سوالات کے جوابات اور مختلف مضامین ، خطوط اور مشکل اقتباسات کا ترجمہ بھی اس میں لکھ دیا گیا ہے ۔تاکہ طالبین اور شائقین اپنے کام کی صحت او رغلطی کو جانچ سکیں۔’’کلید جدید‘‘عربی زبان وادب کے شائقین میں تفہیم عربی کی استعداد پیدا کرنے کے لیے ایک مفید تر اور معاون کتابچہ ہے جس سے صرف نظر برتنا بہر حال مبتدی طلبہ کے لیے کسی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔(آ۔ہ)
     

  • 3 ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء جلد1 (پیر 20 مئی 2013ء)

    مشاہدات:7696

    اسلام کاسیاسی نظام خلافت ہے اوراس  نظام کی  مثالی شکل خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں نظرآتی ہے۔علمائے امت نے ہزاروں کتابیں لکھیں ہیں،جن سے  اس کی توضیح کی گئی ہے۔ازاں جملہ ان  کتابوں کے ایک کتاب شاہ ولی اللہ کی ہے۔اس کتاب میں بھی شاہ صاحب کا تبحر علمی اور قلمی روانی اپناایک اثردیکھاتی ہوئی نظرآتی ہے۔حضرت شاہ صاحب جہاں علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت رکھتےتھےوہاں  وہ ایک صوفی بھی تھے۔چناچہ اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب نے تینوں طرح کا استدلا ل فرمایا ہے ۔اس میں  مسلہ  خلافت کی توضیح ،خلفائے راشدین  کےفضائل ومناقب اور شیخین (ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم)کی افضلیت وبرتری ثابت کرنےکی کو شش فرمائی ہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہےپہلے حصےکانام مقصداول ہےاور دوسرے حصےکانام مقصددوم ہے۔مقصداول میں قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اوردلائل عقلیہ کے ساتھ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ہوناثابت کیاگیاہے۔اورمقصددوم میں خلفائےراشدین کےکارناموں کابیان ہے۔مولاناعبد الشکور نےاسے بڑی دیانت داری کےساتھ اردوقالب میں ڈھالنےکی کوشش کی ہےاللہ ان کی محنت کو شرف قبول عطافرمائے۔(ع۔ح)
     

  • 4 تحفۃ الدرر شرح نخبۃ الفکر فی مصطلح اہل الأثر (بدھ 03 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:7392

    اصولِ حدیث پر حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ کی سب سے پہلی اور اہم تصنیف ’’نخبۃ الفکر فی مصطلح اھل الاثر‘‘ ہے جو علمی حلقوں میں مختصر نام ’’نخبۃ الفکر‘‘ سے جانی جاتی ہےاور اپنی افادیت کے پیش نظر اکثر مدارس دینیہ   میں شامل نصاب ہے۔ اس مختصر رسالہ میں ابن حجر نے علومِ حدیث کے تمام اہم مباحث کا احاطہ کیا ہے ۔حدیث اوراصو ل میں نخبۃ الفکر کو وہی مقام حاصل ہے جو علم لغت میں خلیل بن احمد کی کتاب العین کو ۔مختصر ہونے کے باوجود یہ اصول حدیث میں اہم ترین مصدر ہے کیونکہ بعد میں لکھی جانے والی کتب اس سے بے نیاز نہیں ۔حافظ ابن حجر  نے ہی اس کتاب کی شرح ’’نزھۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر فی مصطلح اھل الاثر‘‘ کے نام سے لکھی جسے   متن کی طر ح قبول عام حاصل ہوا۔ اور پھر ان کے بعد کئی اہل علم نے نخبۃ الفکر کی شروح لکھی ۔ زیر نظر کتاب ’’تحفۃ الدرر ‘‘ بھی اردو زبان میں نخبۃ الفکر کی اہم شرح ہے۔جس   سے طلباء و اساتذہ کے لیے نخبۃ الفکر سے استفاد ہ اور اس میں موجود اصطلاحات حدیث کو سمجھنا آسا ن ہوگیا ہے ۔یہ شرح مولانا سعید احمد پالن پوری کی کاوش ہے ۔اللہ تعالی ٰ   مصنف   وشارح کی   علمی کاوش کو قبول فرمائے اور اسے طلباء کے لیے مفیدبنائے (آمین) م۔ا)

  • 5 تنویر المراءت شرح ضیاء القراءت (جمعہ 08 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2053

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے آخری کتاب ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام کوبندوں کی رشد وہدایت کے لیے نازل فرمایا۔یہ اللہ تعالیٰ کا ایساکلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خودلیا ہے اسی لیے توعرب کے فصیح وبلیغ ادیب اور شعراءایک آیت بنانے سے بھی قاصر و عاجز رہے۔ اس "لاریب" کتاب میں دنیا و آخرت کی بھلائیاں مضمر ہیں۔اب چونکہ یہ کتاب منزل من اللہ ہے تو اس کتاب کو اس طرح پڑھا جائے جیسا ارشاد باری تعالیٰ ہے "ورتل القراٰن ترتیلا"(المدثر) اس حکم الٰہی پر کماحقہ اس وقت عمل ہو گا جب کلام الٰہی کو علم تجوید کے اصول و قواعد کے مطابق پڑھا جائے گا۔ہر مسلمان کے ضروری کہ وہ علم تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہ ہو۔ زیرتبصرہ کتاب"تنویر المیراث شرح ضیاءالقراٰءت"قاری ابن ضیاء محب الدین احمد کی تصنیف ہے۔ موصوف نے علم تجوید کے بنیادی قواعد مثلا''احکام بسملہ، صفات حروف،مد کے احکام،اظہارو ادغام کے قواعد وغیرہ کا مختصر مگر جامع احاطہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ موصوف کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائےاور طلبہ دین کواس کتاب سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 6 مختصر شعب الایمان اردو (بدھ 13 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1886

    یہ کتاب اسلام کی بنیادی اور ایمان کی اہم ستتر’’77‘‘شاخوں پر مشتمل ہے جو امام بیہقی ﷫کی کتاب (شعب الایمان )کا اختصار ہے ‘اس کو ایمانیات ‘عبادات ‘معاملات ‘اخلاقیات ‘معاشرتی آداب وغیرہ کے موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مختصرشعب الایمان‘‘ مام ابو جعفر عمر قزوینی ﷫کی مرتب کردہ ہے انہوں نے اصلاح معاشرہ کی غرض سے قرآنی آیات ‘ احادیث مبارکہ آئمہ کے اقوال وغیرہ کی روشنی میں مرتب فرمایا۔ امام بیہقی رحمہ اللہ وہ شخصیت ہیں جو حق و باطل کے لیے درد سر بنے ہوئے تھے اس قدر دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا کا م کیا مذکورہ بالا ان کی کتب کی تعداد خود ثبوتع پیش کرتی ہیں امام رحمہ اللہ 384 ہجری ماہ شعبان کو نیشا پور کے قصبہ ’’بیہق‘‘ میں پیدا ہوئے طالب علمی زمانہ’ خراسان ‘بغدادئ کوفہ ‘عراق وغیرہ کے کئی بار سفر کیے امام موصوف مشہور زمانہ ’’امام حاکم ﷫ کے شاگرد خاص تھے فراغت کے بعد نیشا پور جا کر بڑے اجتماع میں اپنی تالیفات پڑ کر سنائیں امام موصوف (بیہقی﷫) نے 1000 کے قریب کتب تصنیف کیں اور درس و تدریس میں مشغول رہے اور یہ سلسلہ تدریس آخری عمر تک جاری رکھا۔ آپ کے سینکڑوں شاگردوں نے شرف تلمذ حاصل کیا امام بیہقی ﷫ 74 سال کی عمر پا کر 10 جمادی الاولیٰ 458 ہجری کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ نیشا پور سے بیہق ان کے آبائی گاؤں میں دفنایا کیا گیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مختصرشعب الایمان ‘‘مام ابو جعفر عمر...

  • 7 کنوز العرب ترجمہ و تسہیل شرح شذور الذہب (جمعہ 29 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:4387

    کسی بھی زبان کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی اصول و قواعد کا جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔کوئی انسان اس وقت تک کسی زبان پر مکمل عبور حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اس زبان کے بنیادی قواعد میں پختگی حاصل نہ کر لے۔یہ عالم فانی  بے شمار  زبانوں کی آماجگاہ ہےاور اس میں بہت سی زبانوں کا تعلق زمانہ قدیم سے ہے۔موجوہ تمام زبانوں میں سب سےقدیم زبان عربی ہے اس کاوجود اس وقت سے ہےجب سےیہ کائنات معرض وجود میں آئی اور  یہی زبان روزِ قیامت بنی آدم کی ہوگی۔عربی زبان سے اہل عجم کا شغف رکھنا اہم اور ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پاک کلام بھی عربی میں ہے۔اہل اسلام کی تمام تر تعلیمات کا ذخیرہ عربی زبان میں مدوّن و مرتب ہے اور ان علوم سے استفادہ عربی گرائمر(نحو و صرف) کے بغیر نا ممکن ہے۔ زیر نظر کتاب"کنوز العرب" جو کہ ابن ہشام انصاریؒ کی کتاب"شذور الذھب" کا اردو ترجمہ و شرح ہے۔ ابن ہشام انصاریؒ عربی گرائمر کے مایہ ناز مصنفین میں سے ہیں اس کے علاوہ بھی وہ بہت سی کتب کے مصنف بھی ہیں۔ مولانا عبد الناصر صاحب اور مولانا خورشید انور صاحب نے آسان و عام فہم اسلوب کے ساتھ اس کا ترجمہ و شرح کو احاطہ تحریر میں لائے ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مصنف و مترجمین کو اجر عظیم سے نوازے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 8 قرآن حکیم کے اردو تراجم (جمعہ 10 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1788

    قرآن مجید ایک مرتب ومنظم زندہ وجاوید صحیفہ ہے، جسے اللہ تعالی کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اس کو پڑھنا باعث اجر وثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔جو قوم اسے تھام لیتی ہے وہ رفعت وبلندی کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو جاتی ہے، اور جو اسے پس پشت ڈال دیتی ہے، وہ ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ کتاب مبین انسانیت کے لئے دستور حیات اور ضابطہ زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ انسانیت کو راہ راست پر لانے والی، بھٹکے ہووں کو صراط مستقیم پر چلانے والی، قعر مذلت میں گرے ہووں کو اوج ثریا پر لے جانے والے، اور شیطان کی بندگی کرنے والوں کو رحمن کی بندگی سکھلانے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم نے خدمت قرآن کو اپنی زندگیوں کا مرکز ومحور بنا کے رکھا۔ کسی نے اپنی توجہ کا مرکز احکام قرآنی اور مسائل فقہیہ کو بنایا ،کسی مفسر کا محور عام وخاص ،مجمل ومفصل اور محکم ومتشابہ رہا، کسی نے نحو وصرف پر زور دیا اور مفردات کے اشتقاق اور جملوں کی ترکیب پر محنت کی تو کسی نے علم کلام کی بحوث کو پیش کیا۔ ان خدمات میں سے ایک خدمت تراجم قرآن کی ہے، جس کے تحت قرآن مجید کا دنیا کی بے شمار زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ان تراجم میں سے بعض ترجمے اردو زبان میں کئے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" قرآن حکیم کے اردو ترجمے، تاریخ، تعارف، تبصرہ ، تقابلی جائزہ" محترمہ ڈاکٹر صالحہ عبد الحکیم صاحبہ کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے قرآن مجید کے اردو تراجم کی تاریخ، تعارف، تبصرہ اور تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ا ن کے میزان حسنات میں اضافہ ف...

  • 9 الفوز العظیم اردو شرح الفوز الکبیر (جمعرات 18 مئی 2017ء)

    مشاہدات:3518

    شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے۔ وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔ آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے۔ ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔ لیکن شاہ ولی اﷲ کا ایک بے مثال کارنامہ ’’الفوز الکبیر   فی اصول التفسیر ‘‘ہے۔ شاہ صاحب کی علوم القرآن پر اتنی گرفت ہے کہ ان کی تصنیف لطیف ’’الفوز الکبیر‘‘ سند کا درجہ رکھتی ہےچونکہ اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب تھی اسی لئے اناً فاناً سارے عالمِ اسلام میں اس کی شہرت پھیل گئی۔منیر الدین دمشقی اور مولانا سلمان ندوی نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ مفتی محمد سعید پالن پوری نے بھی اس کا عربی میں ترجمہ کیا، اور اردو و عربی میں شرح بھی لکھی۔ اس کے علاوہ بھی کئی اہل علم نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا۔ زیر نظر ک...

  • 10 فوائد مکیہ (بدھ 07 نومبر 2018ء)

    مشاہدات:1076

    تلاوت ِقرآن کا  بھر پور اجروثواب اس  امر پرموقوف ہے  کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم  کی تلاوت  کا صحیح  طریقہ جاننا اورسیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے  ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ  وہ علم تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی  حاصل کرے ۔ کیونکہ  قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی  وہ عظیم الشان کتاب ہے کہ ہر مسلمان پراس کتاب کو صحیح پڑھنا لازمی اور ضروری ہے جس  کاحکم  ورتل القرآن ترتیلا سے واضح ہوتا ہے۔ اس قرآنی حکم کی تکمیل اور تجویدکوطالب تجوید کےلیے  آسان اورعام فہم بناکر پیش کرناایک استاد کے منصب کا  اہم فریضہ ہے ۔ایک اچھا استاد جہاں اداء الحروف کی طرف توجہ دیتا ہے ۔ وہیں وہ اپنے  طالب علم کو  کتاب کےذریعے بھی مسائل تجوید ازبر کراتا ہے۔علم تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک  ہے  ۔ اس علم کی تدوین کا آغاز دوسری صدی کے  نصف سے ہوا۔ائمۂ حدیث وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے ائمہ کی بھی  ایک طویل لسٹ ہے  اور تجوید وقراءات کے موضوع    پرماہرین تجوید وقراءات  کی بے شمار کتب موجود ہیں ۔   جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب  نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔ عرب قراء کی طرح برصغیر پاک وہند کے علماء  کرام اور  قراءعظام  نے  بھی  علم تجوید قراءات  کی اشاعت وترویج کےلیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔پاکستان میں دیوبندی قراء کرام کےعلاوہ  سلفی قراء عظام&n...


  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1430
    • اس ہفتے کے قارئین: 3100
    • اس ماہ کے قارئین: 43235
    • کل قارئین : 46032414

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں