بک ہوم، لاہور

بک ہوم، لاہور
لاہور
2 کل کتب
دکھائیں

  • 1 یہودیت (تاریخ، عقائد، فلسفہ) (پیر 16 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:3171

    قرآن مجید نہ تو قصوں کی کتاب ہے اور نہ کوئی تاریخی دستاویز، نہ وه کسی شخصیت کی سوانح حیات ہے، اور نہ ہی کسی قوم کی تاریخ، بلکہ قرآن مجید تو حضور اکرم صلی الله علیه وسلم کے عہد مبارک سے لیکر تاقیامت تک کے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے نازل ہوا ہے۔اس لئےاس میں جو قصے بیان ہوئے ہیں انکا مقصد بهی انسانوں کی ہدایت ہے ۔ قرآن مجید نےجس قوم کو سب سے زیاده بطور مثال پیش فرمایا ہے وه ہے قوم یہود، جن پر اللہ تعالی کی رحمت کا اندازه اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان میں حضرت موسی علیہ السلام سےلیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک ایک قول کے مطابق ستر ہزار اور ایک قول کےمطابق چار ہزار انبیاء کرام مبعوث فرمائے۔ یعنی توریت جیسی عظیم الشان کتاب اورپهر اس کتاب کی تبلیغ کےلئے ہزاروں انبیاء کا تسلسل, اور پهر اسی قوم پر اللہ تعالی کے غضب کا اندازه اس بات سے لگائیں کہ اللہ تعالی نے بیٹهے بٹهائے انکے ہزاروں افراد کی شکلیں مسخ کردیں اور انہیں سور اوربندر بناکر ہلاک کردیا۔ یہود جب تک احکام الہی کےتابع رہے اس وقت تک اللہ تعالی کی محبت اور نصرت کے وه مستحق رہے, لیکن جب یہودیت نے اپنا رخ بدلا اوروه شیطانیت اور طاغوتیت کا دوسرا نام بن گئ تو پهر وہی یہودی جو"احباءالله" تهے "مغضوب علیہم" بن گئے۔ زیر تبصرہ کتاب " یہودیت تاریخ،عقائد،فلسفہ " رابرٹ وین ڈی ویئر کی انگریزی تصنیف ہے۔جس کا اردو ترجمہ ملک اشفاق صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں یہود کی تاریخ،عقائد اور فلسفے پر روشنی ڈالی ہے۔تقابل ادیان کے طالب علموں کے لئے یہ ایک مفید اور...

  • فلسفہ یونانی لفظ فلوسوفی یعنی حکمت سے محبت سے نکلا ہے۔ فلسفہ کو تعریف کے کوزے میں بند کرنا ممکن نہیں، لہذا ازمنہ قدیم سے اس کی تعریف متعین نہ ہوسکی۔فلسفہ علم و آگہی کا علم ہے، یہ ایک ہمہ گیر علم ہے جو وجود کے اغراض اور مقاصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیاء کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے۔ جبکہ ارسطو کے نزدیک فلسفہ کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود بذات خود اپنی فطرت میں کیا ہیں۔ کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔فلسفہ کو ان معنوں میں ’’ام العلوم‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ یہ موجودہ دور کے تقریباً تمام علوم کا منبع و ماخذ ہے۔ ریاضی، علم طبیعیات، علم کیمیا، علم منطق، علم نفسیات، معاشرتی علوم سب اسی فلسفہ کے عطایا ہیں۔ پانی کے اجزائے ترکیبی عناصر (آکسیجن ، ہائیڈروجن) معلوم کرنا سائنس ہے اور یہ دریافت کرنا کہ کیا اس ترکیب اور نظام کے پیچھے کوئی دماغ مصروف عمل ہے ؟ فلسفہ ہے ۔ اقوام عالم کے عروج و زوال پر بحث کرنا تاریخ ہے اور وہ قوانین اخذ کرنا جو عروج و زوال کا باعث بنتے ہیں ۔ فلسفہ ہے ۔ فلسفی کائناتی مسائل کی حقیقت تلاش کرتا اور اقدار و معانی کا مطالعہ کرتا ہے ۔ افلاطون کہتا ہے کہ فلسفہ تلاش حقیقت کا نام ہے ۔ رواقیہ کے ہاں علم ، نیکی ، فضیلت اور ایسی دانش حاصل کرنے کا نام فلسفہ ہے جو خدائی مشیت سے ہم آہنگ کر دے ۔ زیر تبصرہ کتاب" فلسفیوں کا انسائیکلوپیڈیا، فلسفے اور فلسفیوں کی اڑھائی ہزار سالہ تاریخ"محترم  یاسر جواد صاحب کی تصنیف ہے جواسی فلسفے اور فلسفیوں کی اڑھائی ہزار...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1425
  • اس ہفتے کے قارئین: 12696
  • اس ماہ کے قارئین: 33389
  • کل مشاہدات: 45344681

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں