اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #6868

    مصنف : محمد صدیق سانسرودی

    مشاہدات : 1136

    مصاحف عثمانیہ میں باہم اختلاف ایک حقیقت

    (جمعہ 01 فروری 2019ء) ناشر : لجنۃ القراء دار العلوم فلاح دارین سورت انڈیا

    قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ آسمانی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان کتاب کو آخرالزمان پیغمبر جناب محمد رسول اللہﷺ پر نازل کیا اور ’’إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ‘‘ (الحجر:۹) فرما کر اس کی حفاظت کا فریضہ اپنے ذمہ لے لیا۔ قرآن مجید کا یہی امتیاز ہے کہ دیگر کتب سماوی کے مقابلے میں صدیاں بیت جانے کے باوجود محفوظ و مامون ہے اور اس کے چشمہ فیض سے اُمت سیراب ہورہی ہے۔ قرآن مجید کا یہی امتیاز اور اعجاز دشمنانِ اسلام کی آنکھوں میں کاٹنے کی طرح کھٹک رہا ہے اور ان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اس کتاب لاریب کی جمع و کتابت میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے جائیں، جن کی بنیاد پریہ دعویٰ کیا جاسکے کہ معاذ اللہ گذشتہ کتابوں کی مانند قرآن مجید بھی تحریف و تصحیف سے محفوظ نہیں رہا ،لیکن چونکہ حفاظت قرآن کا فریضہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیاہے، چنانچہ تاریخ اسلام کے ہر دور میں مشیت الٰہی سے حفاظت قرآن کے لیے ایسے اقدامات اور ذرائع استعمال کئے گئے جو اپنے زمانے کے بہترین اور موثر ترین تھے۔ حفاظت قرآن کے دو بنیادی ذرائع حفظ اور کتابت ہیں، جوعہد نبوی سے لے کر آج تک مسلسل جاری و ساری ہیں۔عہد نبوی میں حفاظت ِقرآن کا بنیادی ذریعہ حفظ و ضبط تھا۔ متعدد صحابہ کرام قرآن مجید کے حافظ اور قاری تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کتابت وحی کا سلسلہ بھی جاری رہا، جیسے ہی کوئی آیت مبارکہ نازل ہوتی نبی کریم ﷺ کاتبینِ وحی کوبلوا کر لکھوا دیا کرتے تھے اور بتلاتے تھے کہ فلاں فلاں آیت کوفلاں فلاں سورت میں لکھو۔ عہد نبوی میں قرآن مجید مکمل لکھا ہوا موجود تھا مگر ایک جگہ جمع نہیں تھا،بلکہ مختلف اشیاء میں متفرق طور پر موجود تھا۔ عہد صدیقی میں واقعہ یمامہ کے بعد قرآن مجید کو صحف کی صورت میں ایک جگہ جمع کردیا گیا اور عہد عثمانی میں واقعہ آرمینیہ و آذربائیجان کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق﷜  کے دور میں ایک جگہ جمع کئے گئے قرآن مجید کے متعدد نسخے تیار کرکے مختلف اَمصار میں روانہ کردیئے گئے۔ عہد عثمانی میں کتابت قرآن کا ایسارسم اختیار کیا گیا، جو تمام قراء ت متواترہ کا احتمال رکھتا تھااور جو درحقیقت عہد نبوی اورعہد صدیقی میں لکھے گئے صحف کے رسم سے ماخوذ تھا -رسم عثمانی سے مراد وہ رسم الخط ہے، جوسیدنا عثمان ﷜ کے حکم پر سیدنا زید بن ثابت ﷜ اور ان کے دیگر ساتھیوں نے کتابت ِمصاحف میں اختیار کیا۔ زیرنظر کتاب ’’ مصاحف عثمانیہ میں باہم اختلاف ایک حقیقت‘‘ جناب قاری  محمد صدیق سانسرودی ﷾(صدر شعبہ تجوید وقراءات دار العلوم  فلاح دارین،گجرات ،الہند) کی علمی کاوش ہے ۔موصوف نے بڑے ہی شستہ اور شائستہ طرز پر جمع  وتدوین  قرآن  کریم  کےموضوع  پر پڑے ہوئے تمام مخفی پردوں کو اٹھایا ہے او ر اس موضوع پر نہایت مفید علمی کاوش پیش کی ہے ۔ جمع  وتدوین  قرآن کریم کے سلسلے  میں سیدنا زید بن ثابت ﷜ کے انتخاب اور اس عظیم الشان کام کو آپ کےحوالے کیے جانے کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات اور شبہات اور نہایت عمدگی اور سلیقے سےدیے  گئے مفصل جوابات پیش کیے ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سےنوازے ۔ یہ کتاب  ہمیں ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی ﷾ (مدیر  کلیۃ  القرآن جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور )کے توسط سے پی ڈی ایف  فارمیٹ میں  موصول ہوئی  ہے  افادۂ عام کےلیےاسے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ (م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1768
  • اس ہفتے کے قارئین 3694
  • اس ماہ کے قارئین 42088
  • کل قارئین49286058

موضوعاتی فہرست