مجاہد اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی(5251#)

اسیر ادروی
دار الکتاب لاہور
379
17055 (PKR)

مولانا رحمت اللہ بن خلیل الرحمٰن کیرانوی﷫ کیرانہ ضلع مظفر نگر (یوپی ۔بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب اکتیس واسطوں سے سیدنا عثمان غنی﷜ سے ملتا ہے۔ مولانا کیرانوی نے بارہ برس کی عمر میں قرآن کریم اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں پھر تحصیل علم کےشوق میں دہلی چلے آئے اور مولانا حیات کے مدرسہ میں داخل ہوکر درس نظامی کی تکمیل کی اور شاہ عبد الغنی وغیرہ سے دورہ حدیث پڑھا طب کی تعلیم حکیم فیض محمد حاصل کی۔ تعلیم سےفراغت کے بعد کچھ عرصہ دہلی میں ملازمت کی اس دوران والد کا انتقال ہوگیا تو آپ وطن واپس آکر درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ رحمت اللہ کیرانوی اسلام بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، کیرانوی اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں کے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ 1270ھ بمطابق 1854ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں عیسائیت کے مشہور مبلغ پادری فنڈر کو شکست دی۔جنگ آزادی 1857ء میں کیرانوی صوفی شیخ حضرت حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے اور شاملی کے بڑے معرکہ میں بھی شریک ہوئے۔ انگریز کی فتح کے بعد کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں آپ نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق تحریر فرمایا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہاں عیسائیوں سے مناظرے کیے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مجاہد اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫‘‘ محترم جناب اسیرادروی کی مرتب شدہ ہے۔ موصوف نے اس کتاب کو مستند ترین مآخذ سے استفادہ کر کے اس کتاب کو ترتیب دیا ہے۔ موصوف نے اس کتاب کوبیس ابواب میں تقسیم کیا ہے جن میں مولانا کیرانوی کا نام ونسب، خاندان اور وطن، ولادت، تعلیم وتربیت اور درس وتدریس، اسلامی ہند پر عیسائیت کی یلغار، مولانا کیرانوی میدان عمل میں، پادری فنڈر سے خط وکتابت، مولانا کے مناظر ے اور ان کی تصانیف کا تذکرہ کاکیا ہے۔ آخری ابواب میں مولانا کیرانوی کے مکہ مکرمہ میں زندگی کے شب روز کا تذکرہ کیا ہے۔ (م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

حرف آغاز

18

ایک عہد ساز شخصیت

33

باب ۔1

 

نام ونسب ،خاندان اوروطن

83

کیرانہ

83

سالاری قوم

83

انصاری

84

نسب نامہ

84

شیخ عبدالرحمن گاذرونی

85

حضرت مخدوم کبیرالاولیاء

85

حکیم بینا

86

عطیہ جاگیر

86

حکیم حسن

87

مزید عطیہ جاگیر

88

حکیم عبدالرحیم

88

پانی پت سےکیرانہ

89

دوسری عمارات

89

باب ۔2

 

ولادت ،تعلیم وتربیت اوردرس وتدریس

91

مدرسہ حیات دہلی میں

91

دوسرے اساتذہ سے استفادہ

92

تعلیم سےفراغت کےبعد

94

درس تدریس

94

خواب میں بشارت

95

باب ۔3

 

اسلامی ہند پر عسائیت کی یلغار

97

حکومت کی استحکام کیسےحاصل ہو

97

لندن پارلیمنٹ میں درخواست

98

تجویز عملی صورت میں

98

مشنری حکام کی تعلیم وتربیت

100

تبلیغ عیسائیت کاعہد شباب

101

صورت حال کتنی خطرناک تھی

106

ہم نے جنگ جیت لی

107

طاقت کاغرورااور اس کامظاہرہ

110

تبلیغ عیسائیت میں جبروتشدد کی شہادت

110

آستین کےسانپ

117

سرسید احمد خاں کاکارنامہ

118

پادریوں کی خفیہ مدد

118

مولانا کیرانوی کامشاہدہ

119

نقطہ عروج

120

باب ۔4

 

مولانا کیرانوی  میدان عمل میں

122

عزم بالجزم

123

آگرہ کاسفر

124

مولانا کیرانوی آگرہ میں

125

حریف کی طاقت کاجائزہ

125

آگرہ کےپادریوں سےملاقات

125

نوک جھونک

126

کوئی جواب نہیں

127

آپ کے پاس اصلی کتاب ہے

128

گھر کابھیدی لنکاڈھائے

129

اونٹ پہاڑ کےنیچے

130

حریف شکنجہ میں

130

امتحان اورجائزہ

131

خوش فہمی ہواہوگئی

132

باب ۔5

 

پادری فنڈرسےخط وکتابت

134

مولانا کیرانوی کاپہلا خط

137

مولانا کیرانوی  کادوسرا خط

142

پادری فنڈرکاجواب

144

مولانا کیرانوی  کاتیسرا خط

145

پادری فنڈرکاجواب

146

مولانا کیرانوی کاچوتھا خط

147

گفتگو جاری رہی

149

مولانا کیرانوی کاپانچواں خط

150

باتوں میں کچھ تلخی آئی

153

ایک خط کےبعد دوسراخط

154

مولانا کیرانوی  کاچھٹا خط

154

مناظرانہ داؤپیچ

156

مولانا کیرانوی  کاساتواں خط

158

ایک غیر متعلق سوال

159

مولانا کیرانوی  کاآٹھواں خط

159

مناظرہ کی تاریخ طےہوگئی

160

کفر ٹوٹا خداخدا کرکے

162

باب ۔6

 

مناظرہ کاماحول اورفضا

163

باب ۔7

 

مناظرہ کاپہلا اجلاس

169

باب ۔8

 

تحریف کےمسئلہ پر مباحثہ

184

تحریف کادوسرا ثبوت

188

عیسی مسیح کی بات

188

پہلےخدا کی کتاب ثابت کرو

188

پردہ اٹھ گیا

189

بیلی نہیں آپ

190

انجیل میں تحریف

191

اصل راز کیا تھا

191

پادری فنڈر کامطالبہ

192

ثبوت حاضر ہے

192

ہوش اڑگئے

192

نوٹ کیجیے

193

ایک لاکھ پچاس ہزار جگہ تحریف

193

بدحواسی کےعالم میں

194

لو،وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بے ننگ ونام ہے

195

ہرجرم قبول

195

المٹی میٹم

196

باب ۔9

 

مناظرہ کادوسرادن

198

قرآن غلط مت پڑھئے

199

معافی چاہتا ہوں

199

پادری فنڈر کاسوال

200

جواب حاضر ہے

200

آپ کےنبی کے زمانہ میں کون سی انجیل تھی

200

قرآن نے ہم کو بتایا

201

اظہار برہمی

202

علمی بحث کےبجائے تصنیع اوقات

203

تحریف کامفہوم ومطلباورہماری مراد

204

سہوکاتب کس کو کہتے ہیں

205

یعنی یہ صرف نزاع لفظی ہے

206

تثلیث کاعقیدہ بھی انہیں تحریفات میں سے ہیں

207

فضول بحث

207

پادری لڑگئے

207

رجوع کرنے سے کوئی فائدہ نہیں

208

بے شرمی کاجواب

208

فرار ی راہیں

209

متن میں بھی غلطی ہوئی

209

ہم ان کو معتبر کب مانتے ہیں

209

ان کو یہ ضد ہے کہ ہم درد جگر دیکھیں گے

211

صاف جواب

211

مجلس مناظرہ خاست ہوگئی

212

باب ۔10

 

مولانا کیرانوی کاتاریخ سازکارنامہ

213

مدافعت نہیں اقدام

214

پیش قدمی کی تیاریاں

215

عبرتناک شکست

216

باب ۔11

 

جہاد اکبراورشاندارفتح

218

باب ۔12

 

مناظرہ کےبعد

222

مولانا کیرانوی  کاجواب

224

جھوٹا وعدہ

227

مناظرہ ضرور ہوناچاہیے

229

مولانا کیرانوی  کاجواب

229

آپ کسی پر پابندی نہیں لگا سکتے

234

نیاجال لایا پرانا شکاری

235

غلط بیانی اورپردہ پوشی

237

میں نے اپنی غلطی تسلیم کرلی تھی

239

سراسرفریب اورجھوٹ

241

عنقاشکار کس نہ شود دام بازچیں

241

پادری فنڈر نےجواب دیا

246

تابوت کی آخری کیل

247

باب 13۔

 

مناظرہ کی روادایں

254

باب 14۔

 

تصانیف

259

ازالہ الاوہام

259

ازالہ الشکوک

260

اعجاز عیسوی

261

احسن الاحادیث فی ابطال التثلیث

261

بروق الامہعہ

262

معدل اعوجاج المیزان

262

تقلیب المطاعن

263

باب 15۔

 

ایک شاہکار تصنیف اظہار الحق

264

میزان الحق پر تنقید

266

عہد نامہ قدیم وعہد نامہ جدید

268

عہد بہ عہد کی مذہبی سرگرمیاں

269

سندمتصل ضروری ہے

270

انجیل متی مشکوکہے

271

انجیل مرقس

272

انجیل لوقا

273

انجیل یوحنا

273

مزید شہادت

275

عہد قدیم وجدید کی کتابیں اغلاط سےبھری ہوئی ہیں

276

کتاب کےالہامی ہونےکادعوی

280

تحریف

283

پروئسٹنٹ فرقہ کانظریہ

285

سب ناقابل اعتبار

286

تحریفات کی مزید شہادتیں

286

اعترافات

287

نسخ کامسئلہ

287

نسخ کامسئلہ

287

اسلام میں نسخ کی اصطلاح

288

جھوٹے افسانے

289

قدیم شریعتوں کےسارے احکام منسوخ نہیں

290

ناقابل انکار ثبوت

291

یوم سبت کےاحترام کی منسوخی

292

نسخ کی مزید شہادتیں

293

ایک ہی شریعت میں حکموں کی منسوخی

295

ابطال عقیدہ تثلیث

295

ضرور ی وضاحتیں

295

تثلیث کیوں باطل ہے

298

تثلیث کےبطلان پر نقلی دلیلیں

299

انجیل مرقس شاہد ہے

300

دوسری شہادتیں

300

تثلیث ایک دلیل اوراس کارد

301

اپنی ذات سےقدرت کی نفی

301

عقیدہ تثلیث کاقتل

302

عقیدہ الوہیت مسیح کےبطلان کی دلیل

302

ابطال تثلیث پر ایک اوردلیل

303

یوحنا کی انجیل میں

304

انجیل متی میں

304

آخرسی دلیل

304

الوہیت مسیح

305

ابن اللہ کالفظ

306

ثبوت حاضر ہے

307

ہردور میں مجازی معنی مراد لیاجاتا رہا

308

کچھ مزیدشہادتیں

309

خلاصہ بحث

311

عیسائیوں کی ایک اوردلیل

311

الوہیت مسیح کی ایک اوردلیل

314

حیرتناک دعوی

315

قرآن کاکلام اللہ ہونا

316

اعتراضات کےجوابات

318

احادیث رسول کی صحت ناقابل انکار ہے

319

احادیث پر اعتراضات

322

اثبات نبوت محمدی

323

دلائل پر اجمالی نظر

323

پیشین گوئیاں

324

ایک اعتراض اوراس کاجواب

326

کتب سابقہ میں بشارتیں

327

بعض اعتراضات کےجوابات

328

حاصل کلام

329

مآخذ ومراجع

330

عہد نامہ قدیم

330

عہد نامہ جدید

331

باب 16۔

 

غدر   1857؁ء اوراسکے بعد

332

چربی لگے کارتوس

333

بادشاہ مقبرہ ہمایوں میں

334

عوامی بغاوت

334

کیرانہ کامحاذ

335

مولانا کیرانو پنجسٹھ مین

336

فوج کی ناکامی

337

وحشیانہ انتقام

337

پھانسی کےپھندے

338

توپ سےاڑادینا

339

جلاد کی ڈائری

339

کالے پانی کی سزا

340

باب 17۔

 

مولانا کیرانوی  کی ہجرت

341

تحفظ اسلام کےلیے سب قربان

343

باغی رحمت

344

مولانا کیرانوی  مکہ مکرمہ میں

344

باب 18۔

 

آملے ہیں سینہ چاکان چمن

346

چودھری عظیم الدین

348

حاجی امداد اللہ تھانوی

348

باب 19۔

 

مولانا کیرانوی  مکہ مکرمہ میں

351

مکہ مکرمہ میں زندگی کےشب روز

353

پادری فنڈر خرکی میں

353

دربار خلافت کو تشویش

354

مولانا کیرانوی  کی دربار خلافت میں طلبی

355

پادر فنڈرکاترکی سےفرار

355

روداد مناظرہ مرتب کرنے کاایماء

356

مولانا کیرانوی کاکمال اخلاص

357

کتاب کی اہمیت اورمقبولیت

358

اعزازات اورخطاب

358

باب 20۔

 

نظام تعلیم میں اصلاح کی جدوجہد

360

اعتماد علی اللہ

361

مہاجرین کےجلسے

362

کارساز مابہ فکر کارما

362

مردے ازغیب بروں آید وکارے بکند

363

مدرسہ صولتیہ کاقیام

364

باب 21۔

 

عدوشودسبب خیر گرخداخواہد

366

انگریزوں کی سازش

367

حجاز کانیاگورنر

367

ترکی دوسرا سفر

368

شاہانہ استقبال واعزاز

369

اخلاص اورنیک نیتی کاثمرہ

371

مزید عزت افرزائی اظہار اعتماد وخلوص

372

استانبول سےواپسی

373

مکہ میں استقبال

373

باب 22۔

 

کاروان زندگی منزل بہ منزل

374

مدرسہ مین توسیع وترقی

374

مسجدکی تعمیر

374

مقصد زندگی پورا ہوگیا

375

ضعف بصر

376

علاج کےلئے ترکی طلبی

376

خداکوکیامنہ دکھاؤں گا

377

مکہ مکرمہ واپسی

378

کف بصر کےبعد

378

وفات

378

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1821
  • اس ہفتے کے قارئین: 3902
  • اس ماہ کے قارئین: 28430
  • کل قارئین : 47071655

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں