#8199.02

مصنف : رحمت اللہ خلیل الرحمن کیرانوی ہندی

مشاہدات : 352

ازالۃ الشکوک جلد سوم

  • صفحات: 447
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 11175 (PKR)
(منگل 23 جون 2020ء) ناشر : عکس پبلیکیشنز لاہور

مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ اسلام اور اہل سنت کے بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ آپ علماء دیوبند مولانا قاسم نانوتوی و‌مولانا رشید احمد گنگوہی وغیرہم کے حلقۂ فکر کے ایک فرد تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، مولانا کیرانوی اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں  اور تحریرکے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ ١٨٥٤‌ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں عیسائیت کے مشہور مبلغ پادری فنڈر کو شکست دی۔جنگ آزادی ١٨٥٧‌ء میں مولانا کیرانوی حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے۔ اس کےبعد مولانا کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں موصوف  نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق کے نام سے  تحریر فرمایا۔اور ایک نیک خاتون بیگم صولت النساء کے فراہم کردہ عطیے سے مکہ مکرمہ  میں ایک مدرسہ’مدرسہ صولتیہقائم کیا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہا ں بھی  عیسائیوں سے مناظرےکئے ۔مولاناکیرانوی نےساری زندگی عیسائیت کے ردّ  میں عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں اورکئی کتابیں تصنیف کیں۔ زیر نظر کتاب ’’ازالۃ الشکوک‘‘عیسائیت کےردّ میں بڑی اہم اور مفصل ومدلل کتاب ہے۔ بہادر شاہ ظفرؒ کے صاحبزادے ولی عہد مرزا فخر الدین کے پاس عیسائی پادریوں کی طرف سے 29 سوالات بھیجے گئے۔ تو مرزا فخر الدین کی درخواست پر مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے ان سوالات کا جواب لکھنا شروع کیا جو کہ بعد میں 2 جلد میں ازالۃ الشکوک کے نام سے شائع ہوا۔ یہ کتاب سوا سو سال قبل 2 ضخیم جلدوں میں مدراس میں شائع ہوئی تهی اس کتاب کودوبارہ تحقیق و تسہیل کے ساتھ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے محقق عالم حضرت مولانا عتیق احمد بستوی نے 4 جلد میں شائع کروایا۔  (م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

سوال: جامع قرآن فقط حضرت عثمانؓ ہیں، یا ان سے پہلے حضرت ابوبکر بھی۔

17

جواب۔(1)عیسائی بھی جمہور کی طرح بعض کے قول کو غیر معتبر سمجھتے ہیں اگرچہ بعض کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو؟

17

(2)قرآن مجید کے کامل اور پورے ہونے کے سلسلے میں محقق علماء شیعہ کے اقوال

20

(3)پاردیوں کے اس شبہ کا الزامی جواب جس کو وہ بعض شیعوں کے قول سے نقل کرتے ہیں

26

(4)اسی شبہ کا تحقیقی جواب

28

چوہواں سوال

 

سوال۔قرآن میں منسوخ آیتیں کیوں ہیں؟

36

جواب۔ یہ جواب چھ مباحث پر مشتمل ہے

36

پہلا مبحث: نسخ کس کس جگہ میں آتا ہے

37

دوسرا مبحث: نسخ کے معانی

38

تیسرا مبحث: نسخ سے کوئی قباحت لازم نہیں آتی

40

چوتھا مبحث: اہل کتاب کی مقدس کتابوں میں نسخ کی دونوں قسمیں بکثرت پائی جاتی ہیں

42

نسخ کی پہلی قسم کی بارہ مثالیں

 

پہلی مثال: (1)آدم اور نوح کی شریعت میں سب جاندار حلال تھے اور موسوی شریعت میں عمومی اباحت کا حکم منسوخ ہوا

42

(2)1811ء کے عربی ترجمہ میں تحریف کا بیان

45

(3) کتاب قوانین‘‘ ایکسویں باب کے اکیسویں درس نسخے میں محرف ہے

46

دوسری مثال۔(1) آدمؐ سے لے کر ابراہیم تک بہن بھائی کا نکاح جائز تا اور موسوی شریعت میں حرام اور زنا کے براقرار دیا گیا

46

(2) 1811ء کے عربی ترجمہ کی خیانت کا بیان

48

تیسری مثال: یعقوبی شریعت میں بیوی کی موجودگی میں اس کی بہن (سالی) سے بھی نکاح کر لینا جائز تھا لیکن موسوی شریعت میں حرام قرار دیا گیا

48

چوتھی مثال: موسی کے باپ نے اپنی سگی پھوپھی سے نکاح کیا تھا لیکن موسوی شریعت میں ایسا نکاح حرام ہے

49

1665ء میں کئے گئے عربی ترجمہ کی خیانت

50

پانچویں مثال۔ یرمیا کی کتاب میں شریعت موسوی کے منسوخ ہونے کا وعدہ

51

چھٹی مثال۔ موسوی شریعت میں طلاق، اور طلاق کے بعد اس مطلقہ کا نکاح دوسرے شخص سے جائز تھا لیکن عیسوی شریعت میں دونوں حکم منسوخ ہوئے

52

ساتویں مثال۔ موسوی شریعت میں سینکڑوں چوپائے اور پرند حرام تھے

54

آٹھویں مثال۔ شریعت موسوی ہی میں غلاموں کے بہت سے احکام ابدی تھے

54

نویں مثال۔ مذکورہ شریعت میں بت کی تعظیم نہایت موکداوابدی تھا

55

دسویں مثال۔ شریعت ابراہیمی وموسوی میں ختنے کا حکم واجب تھا

63

گیارہویں مثال۔ شریعت موسوی میں قربانی کے بہت سے احکام ابدی تھے

66

بارہویں مثال۔ (1)ہارون اور ان کی اولاد کے لیے بہت سے احکام ابدی تھے لیکن  شریعت عیسوی میں یہ سب احکام منسوخ ہوئے ۔(2)شراب کی مذمت

66

(3)حواریوں نے چار احکام ما سوا توریت کے سبھی عملی احکام کو یک لخت منسوخ کر دیاتھا اور جناب پولوس نےبچے کچھے اور چار احکام میں سے بھی تین کو مسنوخ کیا

68

(4)باقی ماندہ اس ایک حکم میں حد شرعی ساقط ہے اس اعتبار ےس شریعت عیسوی مسنوخ

68

(5)نسخ کے بارے میں بوس کے اقوال

72

دوسری قسم کی مثالیں اس قسم کی سترہ مثالیں

 

پہلی مثال۔اسحاقؐ کے ذبح کا حکم عمل سے پہلے منسوخ ہوا

80

دوسری مثال۔ حضرت حزقیل کو آدمی کے پاٹخانہ سے روٹی پکانے کا حکم عمل سے پہلے منسوخ ہوا

81

تیسری مثال۔ عہد نوح میں تھوڑے ہی عرصہ میں ایک حکم دوبارہ منسوخ ہوا

81

چوتھی مثال۔ جانور کو مخصوص طریقہ سے ذبح کرنے کا حکم منسوخ ہوا

83

پانچویں مثال۔ ہارن کا اقرار

85

کہانت کا عہدہ،ہمیشہ ہمیش کے لیے عالی اور اس کے باپ کے گھرانے میں رہنے کا حکم منسوخ ہوا

85

چھٹی مثال۔ یہ حکم کہ منصب کہانت فیخاس کی اولاد میں رہے گا منسوخ ہوا

86

ساتویں مثال۔ حزقیل کی نسبت کاہن کے سراور داڑھی منڈوانے کی حرمت کا حکم منسوخ ہوا

87

آٹھویں مثال۔ بلعام کو ایک حکم رات کو دیا اور صبح کو منسوخ ہوا

87

نویں مثال۔ خرقیا کی نسبت ایک حکم دیا پھر فورا منسوخ کیا

88

دسویں مثال۔ انجیل کے مطابق حضرت عیسیٰ کی نبوت اولا نبی اسرائیل کے لیے خاص تھی پھر عام ہو گئی

88

گیارہویں مثال۔ حضرت عیسیٰ نے ایک حکم دے کر اس کو فورا منسوخ کیا

89

فائدہ ۔بے ایمان لوگوں کو کتا کہنا کچھ بد خلقی نہیں

90

بارہویں مثال۔ حضرت عیسیٰ نے شریعت موسی کی اطاعت کا حکم دیا لیکن حواریوں نے اس کو منسوخ کیا

90

تیرہویں مثال۔ حواریوں نے احکام توریت میں سے چار احکام کو باقی رکھا تھا لیکن جناب پولوس نے ان میں سے تین کو منسوخ کیا

91

چودہویں مثال۔ حضرت عیسی نے کہا تھا کہ کسی سے نہ کہو کہ میں مسیح ہوں لیکن حواریوں نے اس حکم کو منسوخ کیا

91

پندرہویں مثال۔ نزول کے بعد حضرت عیسی جہاد کے ناجائز ہونے کی بابت اپنے حکم کو منسوخ کریں گے

92

سولہویں مثال۔ جماعت کے خیمہ کی خدمت کرنے والوں کی عمر کی بابت حکم شریعت موسوسی میں منسوخ ہوا

93

سترہویں مثال۔ خطا کی قربانی کے بارےمیں شریعت موسوی میں نسخ واقع ہونا پروٹسٹنٹ فرقہ میں سلف سے خلف تک اپنے عقائد میں ایسا نسخ کیا کہ ان کے مخالف سلف سے خلف تک ان پر طعن کرتے رہے

93

پندرہواں سوال

115

سوال۔ نسخ کا وعدہ کون سی آیت ہے؟

115

جواب۔ اس سوال کا جوا

115

سولہواں سوال

117

سوال۔ قرآن پچھلی کتب سماویہ کے مخالف کیوں ہے؟

117

جواب۔ اس کا جواب

117

کتاب’’یوشع‘‘ کے بے سند ہونے کی دلیلیں

186

کتاب’’ القصنا ت‘‘ کے بے سند ہونے کا بیان

193

کتاب’’’راعوت‘‘ کی بے سندی کا بیان

193

کتاب’’’نخمیا‘‘ کی بے سندی کا بیان

194

کتاب’’’ایوب‘‘ کی بے سندی کا بیان

195

کتاب’’’زبور‘‘ کی بے سندی کا بیان

199

کتاب’’’امثال‘‘ کی بے سندی کا بیان

202

کتاب’’’جامعہ‘‘ کی بے سندی کا بیان

204

کتاب’’’نشید الانشاد‘‘ کی بے سندی کا بیان

208

کتاب’’’استیر‘‘ کی بے سندی کا بیان

208

کتاب’’’یرمیا‘‘ کی بے سندی کا بیان

210

کتاب’ ’’اشعیاء‘‘ کی بے سندی کا بیان

211

’’متی‘‘ کی بے سندی کا بیان

213

’’یوحنا‘‘ کی بے سندی کا بیان

224

قدماء کی روایات میں تعارض

226

آپ کے براؤزر میں پی ڈی ایف کا کوئی پلگن مجود نہیں. اس کے بجاے آپ یہاں کلک کر کے پی ڈی ایف ڈونلوڈ کر سکتے ہیں.

اس کتاب کی دیگر جلدیں

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2286
  • اس ہفتے کے قارئین 4526
  • اس ماہ کے قارئین 13070
  • کل قارئین54060977

موضوعاتی فہرست