دار القرآن والسنہ لاہور

دار القرآن والسنہ لاہور
لاہور
7 کل کتب
دکھائیں

  • 1 المعتزلہ ماضی اور حال کے آئينہ ميں (ہفتہ 07 فروری 2009ء)

    مشاہدات:18185

    یہ کتاب دراصل عربی کتاب "المعتزلہ" جو کہ ۱۹۸۶ میں شائع ہوئی تھی، کا اردو ترجمہ ہے جو کہ گمراہ کن فرقوں کی شناخت کے سلسلہ کی پہلی کڑی ہے۔ عصر حاضر کی یہ انتہائی اہم ضرورت ہے کہ مسلمان  نوجوانوں کو جو کہ اسلامی شریعت اور فقہ میں صرف گمراہ کن فرقوں کے ذریعے متعارف ہوتے ہیں جیسا کہ جعلی سلفی، صوفی، شیعہ، مرجئہ، خوارج اور معتزلہ وغیرہ، انہیں اس بات کا احساس دلایا جائے کہ ان فرقوں کے ساتھ شامل ہو کر وہ گمراہی کے کیسے عمیق غار میں گرے جا رہے ہیں۔ اس دور کے اسلامی معاشرے میں غلط اور باطل کو صحیح اور حق بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور حق کو عوام کی نظروں سے چھپا کر گمراہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔  فکر مند مسلمانوں کیلئے لائق مطالعہ کتاب ہے۔

     

  • 2 میراث الانبیآء (جمعرات 14 اکتوبر 2010ء)

    مشاہدات:24535

    اللہ عزوجل نے انسان کی ہدایت ورہنمائی کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمبراس دنیامیں مبعوث فرمائے۔ان سب کاپیغام دعوت ایک ہی تھااوروہ تھاکلمہ توحید۔یعنی لوگ صرف اللہ تبارک وتعالی ٰ ہی کوعبادت کامستحق جانیں اوراس کے سامنے دست سوال درازکریں ۔یہی مشترک دعوت انبیاء کی میراث ہے ۔فاضل مؤلف نے زیرنظرکتاب میں بڑی خوبصورتی سےتوحیدکی اہمیت اوراس کےمعنی ومفہوم کواجاگرکیاہے ۔انہوں نےبتایاہے کہ کلمہ لاالہ الااللہ کب انسان کےلیے مفیدہوگااوراس کی شرائط کیاہیں؟علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی واضح کیاہے کہ طاغوت سے بچناضروری ہے اورجوطاغوت سے فیصلے کرواتاہے وہ درحقیقت طاغوت پرایمان لاتاہے ۔فی زمانہ جبکہ شرعی قوانین کےبجائے خودساختہ دساتیرکی پابندی کی جارہی ہے ،یہ بحث بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔اس کےساتھ ساتھ سیاست حاضرہ کوموضوع بحث بناتے ہوئے یہ بتایاگیاہے کہ موجودہ اسمبلیوں اورایوان ہائے سیاست واقتدارمیں شمولیت کاشرعی حکم کیاہے ۔بہت ہی اہم کتاب ہے ،ہرمسلمان کواس کالازماً مطالعہ کرناچاہیے تاکہ توحیدکاتصورصحیح معنوں میں سمجھاجاسکے اورطاغوت سے بچناممکن ہوسکے۔

     

  • 3 ایک غیرمقلد کی توبہ توبہ توبہ (جمعرات 25 نومبر 2010ء)

    مشاہدات:19447

    دین اسلام میں کسی بھی مسئلہ پر  کتاب وسنت کی راہنمائی معلوم نہ ہونے پر اہل علم کی طرف رجوع کا اصول بیان کیا گیا ہے اور تقلید کے بجائے تحقیق کا رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن کچھ عرصہ قبل ایک کتاب ’ایک غیر مقلد کی توبہ‘ کے نام سے  منظر عام پر آئی جس میں تقلیدی روش ترک کرنے والوں پر بہت سے بے جا اعتراضات کا سلسلہ دراز کیا گیا۔ ان اعتراضات کی حیثیت کیا ہے زیر نظر رسالہ میں ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ۔ فاضل مؤلف نے مقلدین پر کی جانے والی تمام دشنام طرازیوں کا علمی انداز میں جواب دیتے ہوئے کتاب وسنت کی واضح ہدایت اور صحابہ و سلف کے روشن طریقے کی جانب راہنمائی کی ہے۔
     

  • 4 ایمان بالغیب حقیقت اور اقسام (منگل 03 جون 2014ء)

    مشاہدات:2189

    قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمدﷺ پر نازل فرمایا اس کتاب کے بہت سے مقامات پر اللہ نے کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔زیر نظرکتاب ''ایمان بالغیب حقیقت اور اقسام'' مشہور معروف شخصیت امام العصر علامہ احسان الٰہی ظہیرشہید﷫ کے صاحبزادہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر﷾(ناظم اعلیٰ جمعیت اہل حدیث پاکستان) کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے قرآ ن واحادیث کی روشنی میں ایمان کی اقسام ،ارکان ایمان ،جنات او رجادو کی حقیت ،انبیاء کرام کی دعوت اور مقام ،جہنم میں لے جانے والے اعمال وغیرہ جیسے موضوعا ت کو آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ مؤلف ِکتاب کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور تمام مسلمانوں کو ایمان بالغیب کی حقیقت کوسمجھنے کی توفیق دے اور ہمارے دلوں میں ایمان کو راسخ فرمائے (م۔ا)

     

     

  • 5 دار الکفر سے دار السلام کی طرف ہجرت کے اسباب (جمعہ 16 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1023

    اہل لغت نے ہجرت کے متعدد معانی بیان کئے ہیں۔ ہجرت یعنی جدائی ،دوری اختیار کرنا ،وطن کو ترک کرکے دوسری جگہ کو محل سکونت قرار دینا۔  لفظ ''ہجرت ''مادہ'' ھجر'' سے ماخوذ ہے اور'' ہجرت و ہجران'' جدائی اور جدا کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور'' مہاجر'' اس شخص کو کہا جاتا ہے جواپنی جائے پیدائش اور وطن سے نکل کر دوسری جگہ کو اپنا محل سکونت قرار دے تواس عمل کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ اور شریعت اسلامیہ میں دار الکفر سے دار الایمان کی طرف جانے کو'' ہجرت'' کہتے ہیں جیسے اوائل اسلام یا آغاز اسلام میں مسلمانوں کا مکہ سے مدینہ کی طرف جانا'' ہجرت'' کہلاتا ہے۔ جو شخص کسی شہر یا ملک میں اپنے دین پر قائم نہ رہ سکتا ہو اور یہ جانے کہ دوسری جگہ جانے سے اپنے فرائض دینی ادا کرسکے گا اس پر ہجرت واجب ہوجاتی ہے۔ دار الکفر سےمراد وہ مقام ہے جہاں کفر کے شعائر نمایاں ہوں ، اور اسلام کے شعائر، جیسے اذان، باجماعت نماز پنجگانہ، عیدین کا انعقاد اور نمازِ جمعہ وغیرہ کا عام اور ہرجگہ اہتمام نہ کیا جاتا ہو۔جبکہ دا ر الاسلام سے مراد وہ علاقے ہوسکتے ہیں ، جہاں مکمل مذہبی آزادی ہو اور وہاں اسلامی شعائر عمومی طور پر اور ہرجگہ منعقد ہوتے ہوں ۔ زیر تبصرہ کتاب"دار الکفر سے دار السلام کے طرف ہجرت کے اسباب "سعودی عرب کے معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن صالح الجربوع صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے دار الکفر سے دار السلام کی طرف ہجرت کے اسباب بیان فرمائے ہیں۔اس کتاب کا اردو ترج...

  • 6 اسلام کی عمارت کو ڈھا دینے والے دس امور (جمعرات 12 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1471

    اسلام سے خارج کر دینے والے امور کو نواقض اسلام کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ باتیں جو آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہیں اور آدمی پر آگ واجب ہو جاتی ہے۔ ان کے پائے جانے کی صورت میں نماز، روزہ اور زکوٰۃ خیرات تو کیا حتیٰ کہ کلمہ بھی فائدہ نہیں دیتا.... تاآنکہ ان سے توبہ نہ کر لی جائے۔ کیونکہ نواقض اسلام ہیں ہی وہ باتیں ہیں جن کی سب سے پہلے کلمہ پر ہی زد پڑتی ہے۔چنانچہ ضروری ہے کہ آدمی کو نواقض اسلام بھی معلوم ہوں۔ کچھ بھی ہو جائے ایسی بات کے تو آدمی قریب تک نہ جائے جس سے اس کا کلمہ ہی ضائع ہو جائے اور یوں اس پر سے اللہ کی رحمت کا سایہ اٹھ جائے اور پھر وہ جتنے بھی اعمال کرے سب کے سب مقبولیت سے محروم رہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ اسلام کی عمارت کو ڈھا دینے والے دس امور (نواقض الاسلام) ‘‘شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ﷫ کا کتابچہ ہے اس میں انہو ں ایسے دس امور پیش کیے ہیں جن کا ارتکاب کر کے انسان دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔اگر انسان اسی حالت میں فوت ہوجائے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا۔اس لیے ہر مسلمان مرد وعورت پر لازم ہے کہ وہ اسلام کو ختم کرنے والے امور کو اچھی طرح جان لے ۔ایسا نہ ہوکہ کوئی مسلمان ان کفریہ امور کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے خبر بھی نہ ہو کہ یہ کفر ہے۔ایسے امور کو جاننے کےلیے اس کتاب کامطالعہ ضرور کریں۔(م۔ا)

  • سیدنا عثمان بن عفان﷜ کی شھادت کے بعد مسلمانوں میں مختلف فرقوں نے جنم لینا شروع کردیا۔ یہ فرقے اعتقادی، سیاسی اور مسلکی بنیادوں پر معرض وجود میں آنے لگے۔ اعتقادی اختلافات کی سب سے بڑی وجہ قرآن مجید کی متشابہ آیات اور ان سے اخذ و استنباط کے طریقوں میں فرق تھا۔ عقائد کے متعلق یہ اختلاف جوہری اور بنیادی نہیں تھا بلکہ اصل عقائد سے متعلق فروعات کی بنیادپر تھا۔ان اعتقادی فرقوں میں ایک قابل ذکر ’’فرقہ معتزلہ‘‘ بھی ہے۔ معتزلہ کا لفظ عزل کے مادہ سے ہے جس کے معنی جدا ہونا، علیحدہ ہونا کے ہیں۔ اس فرقے کا تاریخی پس منظر بھی اسی قدر مختلف اور متنازع ہے جس قدر اس میں مختلف دھڑے۔ معتزلی لوگ عقل پسند اور خوب سوچ و بچار کے عادی تھے، جس کی وجہ سے تقلید ان کی خمیر میں موجود نہیں تھا۔نتیجتًا یہ فرقہ بہت سے ذیلی فرقوں میں بٹ گیا۔معتزلہ کے اصول پنجگانہ کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے اسلام میں ارکانِ خمسہ۔علمائے معتزلہ کا اس بات پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ ان پانچ اصولوں کے بغیر کوئی معتزلہ نہیں ہو سکتا۔اعتزال کے تمام احکامات اور اعمال کا مدار یہی پانچ اصول ہیں۔ (۱) توحید (۲) عدل (۳) وعد اور وعید (۴) المنزلۃ بین المنزلتین (۵) امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔عصر حاضر میں بعض نئے گروہ سامنے آرہے ہیں جن کے عقائد بھی معتزلہ کے عقائد جیسے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "المعتزلۃ ماضی اور حال کے آئینہ میں "محترم ڈاکٹر طارق عبد الحلیم اور ڈاکٹر محمد عبدہ صاحبان کی مشترکہ عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم عبد العظیم حسن زئی صاحب نے کیا ہے۔ مولف موصو...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1694
  • اس ہفتے کے قارئین: 7353
  • اس ماہ کے قارئین: 39872
  • کل مشاہدات: 44107696

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

777