#136

مصنف : ڈاکٹر طارق عبد الحلیم

مشاہدات : 19860

المعتزلہ ماضی اور حال کے آئينہ ميں

  • صفحات: 64
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 1280 (PKR)
(ہفتہ 07 فروری 2009ء) ناشر : دار القرآن والسنہ لاہور

یہ کتاب دراصل عربی کتاب "المعتزلہ" جو کہ ۱۹۸۶ میں شائع ہوئی تھی، کا اردو ترجمہ ہے جو کہ گمراہ کن فرقوں کی شناخت کے سلسلہ کی پہلی کڑی ہے۔ عصر حاضر کی یہ انتہائی اہم ضرورت ہے کہ مسلمان  نوجوانوں کو جو کہ اسلامی شریعت اور فقہ میں صرف گمراہ کن فرقوں کے ذریعے متعارف ہوتے ہیں جیسا کہ جعلی سلفی، صوفی، شیعہ، مرجئہ، خوارج اور معتزلہ وغیرہ، انہیں اس بات کا احساس دلایا جائے کہ ان فرقوں کے ساتھ شامل ہو کر وہ گمراہی کے کیسے عمیق غار میں گرے جا رہے ہیں۔ اس دور کے اسلامی معاشرے میں غلط اور باطل کو صحیح اور حق بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور حق کو عوام کی نظروں سے چھپا کر گمراہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔  فکر مند مسلمانوں کیلئے لائق مطالعہ کتاب ہے۔

 

عناوین

 

صفحہ نمبر

مصنف کا تعارف

 

5

مقدمہ

 

7

فصل اول

 

 

جاهل دوست

 

11

علم كلام كي تعريف اور چند مثالیں

 

17

اسلامي زندگی پر علم کلام کے اثرات

 

38

علم كلام کن مراحل سے گزرا ہے

 

39

سلف صالحين نے علم کلام کی مذمت کی ہے

 

42

بہت سے متکلمین نے حق کی طرف رجوع کیا

 

43

فصل دوم

 

 

معتزلہ کے عقائد

 

47

توحید

 

48

تعطیل

 

49

مسئلہ خلق قرآن

 

59

عدل

 

60

وعد ،وعید اور المنزلۃ بین المنزلتین

 

77

امر بالمعروف ونہی عن المنکر

 

82

تیسری فصل

 

 

معتزلہ کی سیاسی وفکری  تبدیلیاں

 

107

معتزلہ کے سیاسی مراحل

 

118

اموی دور

 

118

عباسی دور

 

120

فتنہ خلق قرآن

 

122

معتزلہ متوکل کے دور میں

 

123

بویہیین کے دور میں معتزلہ

 

124

معتزلہ کا باقاعدہ ایک فرقہ کی صورت میں سامنے آنا

 

126

دور جدید کے معتزلہ

 

126

جدید مدرسہ اصلاحیہ

 

135

اختتامیہ

 

139

فضیلۃ الشیخ محمد عبدہ کا تعارف

 

143

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1092
  • اس ہفتے کے قارئین 12893
  • اس ماہ کے قارئین 46915
  • کل قارئین62206980

موضوعاتی فہرست