محمد ابو الحسن سیالکوٹی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    اللہ تعالی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دین اسلام کو مکمل فرمادیا- دین کی تکمیل کے بعد نہ تو اس میں اضافے کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی شخص کو اس میں ردو بدل کی اجازت دی جاسکتی ہے ليكن  ہمارے ہاں کچھ لوگ  بسا اوقات ایسا طرز عمل اختیار کرتے ہیں جو اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مطابقت نہیں رکھتا ہوتا لیکن تقلید ی میلانات کی وجہ سے اسی پر عمل کو ترجیح دی جاتی ہےاور براہ راست کتاب وسنت سے احکامات اخذ کرنے والوں پر بہت سے اعتراضات کیے جاتے ہیں-اس طرز عمل کی کس حد تک تائید کی جاسکتی ہے، اس ضخیم کتاب میں اسی کا جائزہ بھرپور اور مدلل انداز میں لیا گیا ہے –مولانا ابوالحسن سیالکوٹی نے اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے  مقلدین حضرات کے بیسیوں مغالطات کا جواب پیش کیا ہے-ان مغالطات میں سےچند یہ ہیں:1- ہر مسئلے کی سند رسول اللہ تک پہنچانی ضروری نہیں-2-دین کےمعاملے میں قیاس کرنا مشروع ہے-3-فقہ کی کتابیں بڑی آسان ہیں-4-امام ابوحنیفہ کی فضیلت میں وارد ہونے والی احادیث 5-آئمہ اربعہ پر امام ابوحنیفہ کی فضیلت 6-اہلحدیث ، حدیث کے آسان مسائل پر عمل کرتے ہیں 7- مجتہدین کا کوئی مسئلہ قرآن وحدیث کے خلاف نہیں8-حدیث میں کئی احتمالات ہیں جس کی بناء پر عمل کرنا ناجائز ہے-9- اجتہاد کے ختم ہونے کا دعوی10- امام بخاری امام شافعی کے مقلد تھے-پھر ان ان مغالطوں کے ضمن میں مقلدین کے  ڈھیروں  ایسے مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے جو تقلیدی رجحانات کی وجہ سے کتاب وسنت سے میل نہیں کھاتے-
    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    قرآن وحدیث کی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فريضہ بعض علماء کے نزدیک فرض عین او ربعض کےنزدیک فرض کفایہ قرار پایا  لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کےلیے اس فريضہ سے مفر نہیں ہے اور نہیں تو کم ازکم اپنی اولاد کی تربیت کےلیے ہرمسلمان پر لازم ہے کہ وہ قرآ ن وحدیث سے اتنا علم ضرور حاصل کرے کہ اسلام کے بنیادی عقائد اور اسلامی معاشرہ سے متعلق احادیث کا ایک ذخیرہ ہرمسلمان کےدل ودماغ میں محفوظ ہو تاکہ کتاب وسنت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ہم ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیل دے سکیں اسی مقصد کے پیش نظر مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی نے معاشرے میں روز مرہ زندگی سے تعلق رکھنے والی چالیس احادیث کا مجموعہ ’’بیاض اربعین‘‘ کے عنوان سے ترتیب دیاہے جسے قبول عام کا درجہ حاصل ہے ۔
    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد پہلے تین پاروں پر مشتمل ہے جس میں کتاب الاذان تک کی احادیث کی شرح شامل ہے)۔(ط۔ا)

    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)

    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)

    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)

    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)

    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)

    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)
    نوٹ
    فیض الباری ترجمہ فتح الباری کی تمام جلدیں ڈاؤنلوڈ کرنے کےلیے یہاں کلک کریں

    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)

    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد تین پاروں پر مشتمل ہے جس میں کتاب الحج تک کی احادیث کی شرح شامل ہے)۔(ط۔ا)

    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2672 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :