فضل الرحمٰن ہزاروی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
فضل الرحمٰن ہزاروی
    title-pages-istqamat-fil-deen-copy
    فضل الرحمٰن ہزاروی

    استقامت فی الدین بڑا اہم موضوع ہے بلکہ دین اسلام کی ابتدائی تاریخ اسی استقامت فی الدین سے ہی تعبیر ہے۔استقامت سے مراد اسلام کو عقیدہ ،عمل اورمنہج قرار دے کر مضبوطی سے تھام لینا ہے۔اور استقامت اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو لازم پکڑنے اوراس پر دوام اختیار کرنے کا نام ہے۔اہل علم نے استقامت کی مختلف تعریفیں کی ہیں ۔ سیدنا حضرت عمرفاروق ر فرماتے کہ استقامت کامطلب احکامات اور منہیات پر ثابت قدم رہنا اور لومڑی کی طرح مکر وفریب سے کام نہ لینا یعنی اوامر کےبجالانے اور نواہی کے ترک پراستمرار بجالانا ہے۔امام ابن قیم ﷫ استقامت کے متعلق تمام اقوال میں تطبیق دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ استقامت ایک ایسا جامع کلمہ ہے جو توحید اور اوامر ونواہی پر استقامت ،اسی طرح فرائض کی ادائیگی اللہ تعالیٰ کی محبت اس کی اطاعت وفرماں برداری لازم پکڑنے ،معصیت کوچھوڑدینے اور اللہ تعالیٰ کی حقیقی بندگی اختیار کرنے کا نام ہے ۔اللہ تعالیٰ نےنبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کو استقامت اختیار کرنے کاحکم بھی دیا ہے ۔ارشادباری تعالیٰ ہے : فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(11؍112)اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبیﷺ اور ان کے ساتھیوں کویہ حکم دیا ہےکہ وہ ویسی ہی استقامت اختیار کریں جیسی استقامت کا انہیں حکم دیاگیا ہے اور اس سے دائیں بائیں نہ ہٹیں اور نہ ہی اللہ کی شریعت سے تجاوز کریں۔استقامت فی الدین کی ضرورت مسلمان کوزندگی کے ہر موقع پر پڑتی ہے ۔ خصوصاً غمی، خوشی کے موقع پر جب کہ دین کومحفوظ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔بالخصوص زندگی کے مختلف نامساعد حالات میں استقامت ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے ان حالات میں دین پر قائم رہنا او رصبر وسکون سے رضائے الٰہی کےمطابق زندگی بسر کرنا ہی استقامت ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ استقامت فی الدین‘‘مولانا فضل الرحمٰن ہزاروی صاحب کی قابل قدر کاوش ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں استقامت کےموضوع پر ایسے واقعات درج کیےہیں جن کےپڑہنے سے انسان استقامت فی الدین کے مفہوم کوسمجھ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ مولاناکی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے لیے اجروثواب کا ذریعہ بنائے۔(آمین)(م۔ا)

    pages-from-khutbaat-e-rahman
    فضل الرحمٰن ہزاروی

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت و بیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل و براہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس و تقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ خطبات رحمٰن‘‘ مولانا فضل الرحمٰن ہزاروی کےخطبات کا مجموعہ ہے ۔ انہوں نے اس میں قرآن وسنت کی روشنی میں 29 مضامین شامل کیے ہیں۔ ان میں کچھ تقاریر ، خطبات جمعہ اور کچھ دروس قرآن ہیں۔ یہ مجموعہ طلباء وخطباءاور عوام الناس کے لیے بھی مفید ہے۔ (م۔ا)

    pages-from-khutbaat-e-hazarvi-part-1
    فضل الرحمٰن ہزاروی

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح  عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اور تزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات ہزاروی‘‘ مولانا فضل الرحمٰن ہزاروی کےخطبات ودروس وتقاریر کا مجموعہ ہے۔ ان خطبات میں سید ابو بکر غزنوی﷫ ایک نایاب خطاب اور شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کا ایک خصوصی خطاب میں شامل کیا گیا ہے جس سے کتاب کی اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ (م۔ا)

    pages-from-khutbaat-e-hazarvi-part-2
    فضل الرحمٰن ہزاروی

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح  عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اور تزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات ہزاروی‘‘ مولانا فضل الرحمٰن ہزاروی کےخطبات ودروس وتقاریر کا مجموعہ ہے۔ ان خطبات میں سید ابو بکر غزنوی﷫ ایک نایاب خطاب اور شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کا ایک خصوصی خطاب میں شامل کیا گیا ہے جس سے کتاب کی اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ (م۔ا)

    title-pages-fazail-sayyad-al-mursaleen-copy
    فضل الرحمٰن ہزاروی

    اس دنیا میں انسانوں کے مختلف طبقات میں چھوٹے سے لیکر بڑے تک ،بچے سے لیکر بوڑھے تک،ان پڑھ جاہل سے لیکر ایک ماہر عالم اور بڑے سے بڑے فلاسفر تک،ہر شخص کی جد وجہد  اور محنت وکوشش میں اگر غور سے کام لیا جائے تو ثابت ہو گا کہ اگرچہ محنت اور کوشش کی راہیں  مختلف ہیں مگر آخری مقصد سب کا قدرے مشترک ایک ہی ہے ،اور وہ ہے "امن وسکون کی زندگی"اور نبی کریم اسی امن وسلامتی کا علم بردارمذہب لے کر آئے۔ اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" فضائل سید المرسلین فی اقوال شفیع المذنبین" محترم مولانا فضل الرحمن ہزاروی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے سیرت نبوی ﷺ پر متعدد موضوعات کے تحت تفصیلی گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں  قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 552 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :