ڈاکٹر رانا خالد مدنی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ڈاکٹر رانا خالد مدنی
    ڈاکٹر رانا خالد مدنی

    عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں زیرنظر کتاب ’’ العقیدہ الطحاویہ ‘‘علامہ ابو جعفر الورّاق الطحاوی﷫ کی عقیدہ کے موضوع پر معروف کتاب کے عربی متن کاترجمہ ہے۔جس میں بہت ہی مختصر انداز میں اسلامی عقائد کا احاطہ کیا گیا ہے اور اہل سنت والجماعت کےعقائد بیان کیے گئے ہیں۔ کتاب مذکور کی خو بی یہ ہے کہ تمام اسلامی عقائد کو مختصراً بیان کردیا گیا ہے اور باطل فرقوں کے بالمقابل اہل سنت والجماعت کے افکارونظریات کی نمائندگی کی گئی ہے ۔بظاہریہ چھوٹی سی کتاب ہے ۔ لیکن فائدہ کےاعتبار سے عظیم کتاب متصور ہوتی ہے۔ اس چھوٹی سی کتاب کےبارے میں علماء کاتبصرہ یہ ہےکہ:’’علامہ طحاوی ﷫ نے ’’عقیدہ طحاویہ‘‘ میں ہر وہ چیز جمع کردی ہےجس کی ہر مسلمان کو ضرورت تھی‘‘عقیدہ کی تعلیم اوراس کے عناصر سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے اس کامطالعہ ازحدضروری ہے۔متن عقیدہ الطحاویہ کا مختلف اہل علم نے ترجمہ کیا ہےیہ ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر رانا خالد مدنی(فاضل مدینہ یونیورسٹی ، چیئرمین ادارہ اشاعتِ اسلام ،لاہور) نے کیا ہے انہوں نے متن عقیدہ الطحاویہ کے تمام مطبوعہ ایڈیشنوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی تحقیق کرکے تمام عبارات پر اعراب لگائے ہیں ۔ترجمہ انتہائی آسان کیا ہے ضرورت کےپیش نظر بعض مقامات کی حاشیہ میں وضاحت کردی ہے ۔اور امام طحاوی ﷫ کامختصر تعارف بھی پیش کردیا ہے۔(م۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
    title-pages-madina-tu-al-nabi-saww-copy
    ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی کریمﷺ کی ہجرت سے قبل یہ کوئی خاص مشہور شہر نہیں تھا لیکن آپ ﷺ کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔اس شہر میں بہت سے تاریخی نشانات ، اور بکثرت اسلامی آثار وعلامات پائے جاتے ہیں جن سے شہر کی عظمت ورفعت شان کا پتہ چلتا ہے۔اس کی فضیلت میں بہت سی احادیث شریفہ وارد ہوئی ہیں ۔سیدنا عبد اللہ بن زید  نبی کریمﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپﷺنے ارشاد فرمایا:سیدناابراہیم  نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا کی، میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم  نے مکہ حرم  قرار دیا، میں مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں یہاں کے مُد میں  اس کے صاع میں (برکت ہو) جس طرح ابراہیم  نے مکہ کے لئے دعاکی۔سیدناجابر بن عبد اللہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: مدینہ لوہار کی بھٹی کے مثل ہے جو یہاں کے خبث وگندگی کو دور کرتا ہے اور اچھائی کو نکھارتا ہے،سیدناابو ہریرہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: بلا شبہ ایمان مدینہ میں  اسطرح سمٹ کر آجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں آجاتا ہے۔یہ اور اس معنی کی متعدد احادیث سے مدینہ منورہ کے فضائل ومناقب کا علم ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مدینۃ النبی ﷺ "محترم ڈاکٹر رانا محمد اسحاق ﷫اور ان کے فرزند ارجمند ڈاکٹر رانا خالد مدنی ﷾کی تصنیف وتحقیق ہے۔جس میں انہوں نے مدینہ منورہ سے متعلق جمیع معلومات کو ایک جگہ جمع فرما کر ایک انسائیکلوپیڈیا تیار کر دیا ہے۔اور جابجا کلرڈ نقشے سجا کر اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔یہ کتاب مدینہ منورہ کی تاریخ کے حوالے سے ایک مستند اور باحوالہ ذخیرہ ہے ،جس میں مدینہ منورہ سے متعلق تقریبا ہر طرح کی معلومات موجود ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفین کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-namaz-e-traweeh--rana-ishaq--copy
    ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    صحیح احادیث  کے مطابق  نبی کریم ﷺ کا  رمضان او رغیر رمضان میں  رات کا قیام  بالعموم گیارہ رکعات سے  زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر   کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام   کوتین  رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات  ہی تھیں  او ر حضرت عمر   نے   بھی مدینے  کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے  کا حکم دیاتھا اور  گیارہ  رکعات پڑھنا ہی   مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ،  حضرت علی بن  ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔ زیر تبصرہ  کتابچہ’’ 20 نماز تراویح‘‘دراصل  17 فروری 1994ء  نوائےوقت میں ’’نماز تراویح کی اہمیت‘‘ کے عنوان  سےشائع ہونے والے ایک آرٹیکل کےجواب  تحریرکیا  گیا تھا ۔نوائے  وقت کےمضمون  نگار نے  موطا امام مالک کی  ایک  حدیث کو  خلط ملط   کر کے  نماز تراویح کی تعداد بتائی  جس پر  جناب ڈاکٹررانا  محمد اسحاق﷫ نےایڈیٹر نوائے وقت اور مضمون نگار کو آگاہ کیا  مگر کسی نے جواب نہ دیا تو  موصوف نے یہ مضمون  کتابچہ کی صورت میں شائع کردیا ۔ تاکہ مسنون تراویح کی آٹھ رکعات کے  واضح اور ٹھوس دلائل سے عوام الناس واقف ہوکر اس پر عمل پیرا ہوسکیں او ر ڈاکٹر  رانا محمد اسحاق  ﷫نے  ثابت  کیا کہ جس  حدیث سے بیس رکعات ہونے کا تذکرہ نوائے  وقت کےمضمون نگار نے کیا ہے اس میں تراویح کی تعداد آٹھ ہے نہ کہ بیس۔اللہ تعالیٰ  کتابچہ کے مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ہمیں تمام عبادات مسنون طریقۂ نبوی کےمطابق ادا کرنے کی توفیق دے (آمین)(م۔ا)

    title-pages-nimaz-k-baad-ijtmai-dua-ki-sharie-haisiyat-copy
    ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    دعا عبادت کا مغز ہے یا عین عبادت ہے۔ دعا کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے اور اللہ تعالی سے اس کی مدد مانگی جا سکتی ہے۔لیکن فرض نمازوں کے بعد دعا مانگنے کے حوالے سے اہل علم کے درمیان دو رائے چلی آ رہی ہیں اور دونوں ہی غلو،مبالغے اور تشدد پر مبنی ہیں۔کچھ لوگ فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کو بدعت قرار دیتے ہیں تو کچھ لوگ فرض نماز کے بعد دعا مانگنے کو ضروری اور فرض قرار دیتے ہیں۔یہ دونوں موقف ہی غلو اور تشدد پر مبنی ہیں۔دعا کرنا بھی اللہ تعالی کی عبادت کرنا ہے۔جس پر کوئی بھی کسی قسم کی پابندی لگانا جائز نہیں ہے۔جس وقت کوئی چاہے، جب چاہے،جس طرح چاہے دعا کرے۔انفرادی دعا یا اجتماعی دعا اس پر کوئی مثبت یا منفی پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نماز کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت "محترم ڈاکٹر رانا محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے، جس کی تحقیق وتخریج محترم مولانا خالد مدنی صاحب نے فرمائی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں دعا کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس جدوجہد کو قبول فرماتے ہوئے ان کے میزان حسنات میں اضافے کا باعث بنائے۔آمین(راسخ)

title-pages-kia-nabi-e-rahmatpbuh-maghmoom-b-ho-jate-thae
بعض لوگوں کا  عقیدہ کہ نبیﷺ عام  انسانوں کی  طرح  پریشان ومغموم نہیں ہوتے تھے جبکہ یہ  عقیدہ  صریحا اسلامی عقاید اور  سلف صالحین کے عقیدہ کے خلاف ہے  کیونکہ جتنے بھی انبیاء اور رسل اللہ تعالی نے معبوث فرمائے وہ سب کے سب نسل آدم علیہ  السلام میں سے  انسان اور بشر ہواکرتے تھے اور اللہ نے  بشر کوہی  اشرف المخلوقات قرار دیاہے  بشر کایہ خاصہ ہےکہ  وہ دنیا  میں غم،خوشی ،دکھ ،سکھ غرضیکہ دنیا میں ہر قسم کے اثرات سےمتاثر ہوتا ہے   چونکہ نبی رحمت حضرت محمد بن عبد اللہ  بشرتھے اللہ   تعالی  نے ان  کوافضل البشر اور خاتم الانبیاء بناکر دنیا میں مبعوث فرمایا  لہذا بتقاضائے بشریت ان کا غم اور خوشی کے اثرات سے متاثر ہونا ضروری ہے ۔ نیز یہ عقیدہ یا خیال رکھنا کہ وہ مغموم نہیں ہوسکتے تھے  دین میں غلو اور عقیدہ اسلام کے منافی ہے ۔محترم ڈاکٹر رانامخمد اسحاق   ( فاضل مدینہ  یونیورسٹی  جوکہ  متعدد  کتب  کے  مؤلف  ہیں )نے زیر نظر کتابچہ  میں قرآن  واحادیث کی  روشنی میں  متعدد قرآنی آیات و احادیث اور اقعات  پیش کر کے  ثابت کیا ہےکہ نبی ﷺ بھی عام انسانوں کی طرح مغموم ہوجایا کرتےتھے ۔(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1405 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں