سلیم اختر

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جسے ان صاحب نے تصنیف کیا ہو۔

1 کل کتب
دکھائیں

  • 1 ارتھ شاستر (اتوار 21 اگست 2011ء)

    مشاہدات:20002

    ارتھ شاستر کوتلیہ چانکیہ کی تصنیف ہے جو ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوا ۔اس کتاب کا زمانہ تصنیف 311سے 300ق۔م کے درمیان ہے۔’ارتھ شاستر‘نے برصغیر کے تمدن اور اسلوب سیاست پر گزشتہ دو ہزار سال کے دوران جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے نقوش آئندہ کئی صدیوں تک بھی واضح رہیں گے۔کوٹلیہ نے اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔علوم وفنون ،زراعت،معیشت،اردواجیات،سیاسیات،صنعت وحرفت ،قوانین،رسوم ورواج،توہمات،ادویات،فوجی مہارت،سیاسی وغیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع کوتلیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سماگیا ہے جو سوچ میں آسکتا ہے ۔علم سیاسیت کے پنڈت کہیں کوتلیہ کو اس کی متنوع علمی دستگاہ کی وجہ سے ہندوستان کا ارسطو کہتے ہیں اور کہیں ایک نئے اور واضح تر سیاسی نظام کا خالق ہونے کے باعث اس کا موازنہ میکاولی سے کیا جاتا ہے ۔بہر حال یہ کتاب اس کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا معتبر ماخذ ہے۔(ط۔ا)


2 کل کتب
دکھائیں

  • 1 کتاب الوسیلہ (بدھ 25 مئی 2011ء)

    مشاہدات:16063

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا اسم گرامی محتاج تعارف نہیں ۔ساتویں صدی ہجری میں جب کہ ہر طرف شرک و بدعت ،تصوف و فلسفہ اور الحاد ولادینیت کے گھٹا گھوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے،حضرت الامام نے توحید رسالت اور آخرت پر ایمان و یقین کی قندیلیں روشن کیں او ر شرک و بدعت کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔امام صاحب کے زمانہ میں ایک گمراہ کن عقیدہ یہ بھی فروغ پارہا تھا کہ اللہ تعالی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کسی بزرگ کے وسیلہ کی ضرورت ہے ۔جس طرح ایک عام شہری کسی درمیانی واسطہ کے بغیر براہ راست بادشاہ  وقت تک نہیں پہنچ سکتا،اسی طرح اللہ عزوجل کا تقرب بھی کسی توسط کے بغیر ممکن نہیں ۔ظاہر ہے کہ یہ نظریہ قرآن وحدیث سے کسی طرح میل نہیں کھاتا لہذا امام صاحب نے اس کی پرزور تائید کی اور شرعی دلائل کی روشنی میں وسیلہ کے جائز و ناجائز پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی۔موجودہ زمانے میں بھی یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اہل بدعت وسیلہ کے غلط تصور کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں ۔لہذا ہر متبع سنت کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ حقیقت حال سے آگاہ ہو سکے اور شکوک و شبہات سے خود  بھی بچ سکے اور دوسروں کو بھی بچا سکے۔
     

  • عیدالاضحیٰ کے ایام میں اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بہیمۃ الانعام میں سے کوئی جانور ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔ قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے اس کی مشروعیت کتاب اللہ اور سنت نبویہﷺ  اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے۔ قربانی کرنے کے دنوں  کی تعداد کے حوالے سے فقہاء  کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک تین اور بعض  کے نزدیک چار دن ہیں۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی  کرنے کے کل ایّام  چار ہیں۔ یوم النحر(دس ذو الحجہ) اور ایام تشریق (یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہواں دن) جس کا ثبوت قرآن اور صحیح احادیث سے ملتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’غایۃ التحقیق فی تضحیۃ ایام التشریق؍ایام قربانی کتنے دن ؟‘‘ علامہ رئیس ندوی ﷫ کے دور سالوں( غایۃ التحقیق فی تضحیۃ ایام التشریق   اور قصہ ایام قربانی )کا مجموعہ ہے ۔ رسالہ اول  ایک سوال کے جواب میں لکھا  او ردوسرا رسالہ   دیوبندی عالم دین  ابوبکر غازی پوری  کے رد میں لکھا گیا ہے ۔علامہ رئیس ندوی ﷫ نے ان دو نوں رسالوں میں  اس موضوع کی صریح روایات نقل  کر کے  ہر ہر  روایت کے تحت اس پر وارد شدہ اعتراضات کا ازالہ فرمانے  کے ساتھ ہر حدیث پر تحقیقی حکم لگایا  ہے او رثابت کیا ہے کہ 10 تا 13 ذی الحجہ میں قربانی کرنا نصوص صحیحہ سے ثابت ہے۔ علامہ رئیس ندوی ﷫ کے یہ دونوں رسالے  پہلے الگ الگ انڈیاسے شائع ہوئے تھے۔اب  دارالصلاح ، کراچی نے ان دونوں رسالوں کو یکجا کر کے شائع کیا ہے ۔ا...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1239
  • اس ہفتے کے قارئین: 4893
  • اس ماہ کے قارئین: 33142
  • کل قارئین : 46461454

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں