کل کتب 156

دکھائیں
کتب
  • 71 #4756

    مصنف : داؤد راز دہلوی

    مشاہدات : 3778

    تحریک جماعت اسلامی اور مسلک اہل حدیث

    (بدھ 03 اگست 2016ء) ناشر : مکتبۃ السنہ الدار السلفیہ، کراچی

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔ کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تحریک جماعت اسلامی اور مسلک اہل حدیث " مسلک اہل حدیث کے معروف عالم دین، مفسر قرآن، شارح صحیح بخاری علامہ محمد داود راز دہلوی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے جماعت اہل حدیث اور تحریک جماعت اسلامی میں موجود بنیادی فرق کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 72 #90

    مصنف : ابو صہیب محمد داؤدارشد

    مشاہدات : 19921

    تحفہ حنفیہ بجواب تحفہ اہل حدیث

    (بدھ 22 اپریل 2009ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    یہ کتاب دیوبندی عالم اسماعیل جھنگوی کی کتاب "تحفہ اہلحدیث" کے جواب میں تحریر کی گئی لاجواب تصنیف ہے۔ اسلام کو کتاب و سنت ہی میں منحصر سمجھنےوالوں ، اقوال ائمہ کو کتاب و سنت کی میزان میں پیش  کر کے موافق کو قبول اور مخالف کو رد کر دینے والوں کو گمراہ اور باطل باور کرانا ناممکن ہے۔ اسی لئے اس طائفہ منصورہ کے خلاف خوب جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا کر کے لوگوں کو اس جماعت حقہ سے بد ظن کرنے اورنفرت دلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ کتنی ہی مثالیں موجود ہیں کہ کتاب و سنت کی حامل جماعت کی طرف ایسے ایسے غلط مسائل منسوب کئے جاتے رہے جن سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ اور ستم بالائے ستم یہ بھی کہ علماء کی طرف سے ان منسوب کردہ جھوٹے مسائل سے علی الاعلان برات کے اظہار کے باوجود جھوٹ ہی کو بار بار دہرایا جاتا رہا۔ تاکہ یک طرفہ لٹریچر کا مطالعہ کرنے والوں کے دلوں میں یہ جھوٹ خوب پختہ ہو جائیں۔  تحفہ اہلحدیث نامی کتاب  بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اپنے جھوٹ پر شاید دیوبندی مصنف بھی مطمئن نہیں تھے اسی لئے انہوں نے اپنا نام تک مجہول رکھا ہے۔ اور 96 صفحات کی مختصر کتاب میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو جھوٹ باندھے ہیں۔ تفصیل زیر تبصرہ کتاب ہی میں ملاحظہ فرمائیں۔ جس میں فاضل مصنف نے جھنگوی صاحب کی طرف سے پیش کی جانےوالی جملہ خرافات اور کذبات کا خوب علمی و تحقیقی محاسبہ کیا ہے۔ اندھی تقلید کی بجائے تحقیق سے صراط مستقیم کی تلاش رکھنے والوں کیلئے یہ کتاب یقیناً ایک نادر تحفہ ہے۔

     

     

  • 73 #6918

    مصنف : شاہ عبد العزیز دہلوی

    مشاہدات : 1943

    تحفۂ اثناء عشریہ اردو

    (ہفتہ 30 مارچ 2019ء) ناشر : دارالاشاعت اردوبازارکراچی

    اثنا عشریہ اہل تشیع (یعنی شیعہ) کا سب سے بڑا گروہ ہے۔ قریباً 80 فیصد شیعہ اثنا عشریہ اہل تشیع ہیں۔ ایران،آذربائیجان، لبنان، عراق اور بحرین میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہیں۔
    پاکستان کی مسلم آبادی میں اہل سنت کے بعد اثنا عشریہ اہل تشیع کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ اثنا عشریہ کی اصطلاح بارہ ائمہ کرام کی طرف اشارہ کرتی ہے، جن کا سلسلہ حضرت محمد ﷺکے چچا زاد اور داماد سیدنا علی بن ابی طالب ﷜ سے شروع ہوتا ہے۔ یہ خلافت پر یقین نہیں رکھتے بلکہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد ان کے جانشین امام  سیدنا علی بن ابی طالب﷜اور کل بارہ امام ہیں۔ اثنا عشریہ اہل تشیع بارہ ائمہ پر اعتقاد کے معاملہ میں  خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’تحفۂ اثناء عشریہ اردو ‘‘شاہ عبد العزیز دہلوی  ﷫ کی وہ عظیم تصنیف ہے جس میں   انہوں نے  اہل تشیع  کے عقائد کا ردّ کیا ہے ۔اس کتاب میں  شاہ  صاحب نے  شیعہ مذہب کی ابتداء ، ان کے بے شمار فرقے شیعوں  کےاسلاف وعلماء اور ان کی کتابیں واحادیث اور ان کے راویوں کے حالات، ان کے مکروفریب کے طریقے  جن سے   وہ سادہ لوگوں کواپنے  مذہب کی طرف لاتے ہیں ۔الوہیت  ، نبوت ، معاد اور امامت کے بارے  میں شیعہ کے  عقائد،صحابہ کرام اور ازواج مطہرات اور اہل بیت  کے متعلق ان  کے  عقائد اور اس موضوع کے   متعلق تمام مباحث  اس میں  کتاب میں جمع کردئیے گئے ہیں ۔تحفہ اثنا عشریہ  اصل کتاب تو فارسی میں ہے  متعدد اہل علم نے اس کا اردو میں ترجمہ کیاہے زیرنظر ترجمہ   مولانا  خلیل الرحمٰن نعمانی  مظاہری   کا ہے۔(م۔ا)

  • 74 #5279.01

    مصنف : پروفیسر میاں محمد سجاد

    مشاہدات : 2232

    تذکرہ علماء اہل حدیث جلد دوم

    dsa (ہفتہ 15 اپریل 2017ء) ناشر : جامعہ ابراہیمیہ، سیالکوٹ

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺاور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں مولانا حافظ عبدالمنان صاحب محدث و زیر آبادی (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان صاحب حضرت شیخ الکل کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے اور فن حدیث میں اپنے تمام معاصر پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:’’علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں (م1307ھ) کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م1320ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اوراعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کررہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی (م327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے ہاں سند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبین حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درس گاہ کا رخ کررہے تھے۔ ان کی درس گاہ سے جو نامور اُٹھے ان میں ایک مولانا محمد ابراہیم صاحب آروی (م1320ھ) تھے۔ جنہوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیادڈالی ۔اس درس گاہ کے دوسرے نامور مولانا شمس الحق صاحب ڈیانوی عظیم ابادی (م1329ھ) صاحب عون المعبود فی شرح ابی داؤد ہیں جنہوں نے کتب حدیث کی جمع اور اشاعت کو اپنی دولت اور زندگی کامقصد قرار دیا اوراس میں وہ کامیاب ہوئے۔تصنیفی لحاظ سے بھی علمائے اہلحدیث کاشمار برصغیر پاک و ہند میں اعلیٰ اقدار کا حامل ہے۔ علمائے اہلحدیث نے عربی ، فارسی اور اردو میں ہر فن یعنی تفسیر، حدیث، فقہ،اصول فقہ، ادب تاریخ او رسوانح پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ الغرض برصغیر پاک وہندمیں علمائےاہل حدیث نےاشاعت اسلام ، کتاب وسنت کی ترقی وترویج، ادیان باطلہ اور باطل افکار ونظریات کی تردید اور مسلک حق کی تائید اور شرک وبدعات ومحدثات کےاستیصال اور قرآن مجید کی تفسیر اور علوم االقرآن پر جو گراں قدر نمایاں خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ اہل حدیث کاایک زریں باب ہے ۔مختلف قلمکاران اور مؤرخین نے علمائے اہل حدیث کےالگ الگ تذکرے تحریر کیے ہیں اور بعض نے کسی خاص علاقہ کے علماء کا تذکرہ وسوانح حیات لکھے ہیں۔ جیسے تذکرہ علماء مبارکپور ، تذکرہ علماء خانپور وغیرہ ۔ علما ئے عظام کے حالات وتراجم کو جمع کرنے میں مؤرخ اہل حدیث جناب مولانامحمد اسحاق بھٹی ﷫ کی خدمات سب سے زیادہ نمایاں ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تذکرہ علماء اہل حدیث پاکستان ‘‘ پروفیسر میاں محمد یوسف سجاد کی تصنیف ہے جو انہوں نے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے ارشاد پر ساڑھے تین سال کی محنت شاقہ سے مرتب کی ہے ۔اس کتاب کی تین جلدیں ہیں لیکن ہمیں پہلی جلد نہیں مل سکی اس لیے جلد دوم اور سوم ویب سائٹ پر پبلش کی جارہی ہے ۔محترم پروفیسر یوسف سجاد صاحب نے جلددوم میں 141 اور جلد سوم میں 147 علمائے کرام کے تراجم پیش کیے ہیں ۔اس کتاب کومرتب کروانےکےاصل محرک شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید تھے ۔8 فروری 1983ء کوعلامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نے جید علماء اہل حدیث کی ایک نمائندہ میٹنگ منعقد کی اور اس میں علماء کو جماعت اہل حدیث کی طرف سے تصنیف وتالیف کے کام کوتیز کرنے کی طرف توجہ دلائی بالخصوص علمائے اہل حدیث کے حالات لکھنے کی ضرورت پر بہت زور دیاگیا اور یہ کا م شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے سپرد کیا گیا موصوف اپنی تدریسی ودیگر مصروفیات کےباعث اس کام کو خود تونہ کرسکے انہوں اپنے شاگرد رشید پروفیسر میاں یوسف سجاد سے اس کام کوشروع کروا کر پائہ تکمیل تک پہنچایا۔اللہ تعالیٰ تمام کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔(آمین)

  • 75 #5515

    مصنف : عبد الحنان جانباز

    مشاہدات : 1054

    تذکرہ مساجد اہلحدیث سیالکوٹ شہر

    (ہفتہ 24 جون 2017ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ

    مساجد روئے زمین پر زمین کا سب سےبہتر حصہ ہیں احتراماً انہیں بیت اللہ یعنی اللہ کاگھر بھی کہا جاتاہے اسلا م اور مسلمانوں کامرکزی مقام یہی مسجدیں ہیں اور مسجد اللہ کا وہ گھر ہے جس میں مسلمان دن اوررات میں کم ازکم پانچ مرتبہ جمع ہوتےہیں اوراسلام کا سب اہم فریضہ ادا کرکے اپنے دلو ں کوسکون پہنچاتے ہیں ،مسجد وہ جگہ ہے جہاں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے بندگی کااظہار کرتے ہیں،او رمسجد ہی زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے پاکیزہ متبرک اوربہترین جگہ ہے ۔نبی کریم ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو سب سے پہلے آپ ﷺ نے جوعملی قدم اٹھایا وہ مسجد کی تعمیرتھی ۔قرآن مجید میں اور احادیث نبویہ ﷺ میں بے شمار مقامات پر مسجد کی اہمیت اور قدر منزلت کوبے بیان کیا ہے۔او ر کئی اہل علم نے مسجد کی فضیلت اور احکام ومسائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تذکرہ مساجد اہل حدیث سیالکوٹ ‘‘شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے صاجزادے مولانا عبدالحنان جانباز ﷾ کی مرتب شدہ ہے ۔فاضل مرتب نے اس کتاب کو دو ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول میں سیالکوٹ کی 94 مساجد کا تذکرہ کیا ہے ۔مساجد کے تعارف میں مسجد کا نام اور اس کے ساتھ اس کا محل وقوع ، سن تعمیر، سنگ بنیاد ، افتتاحی نماز پہلی اذان ، افتتاحی خطبہ اور اس کے بعد مسجد کا تاریخی پس منظر تفصیلاً بیان کیا ہے اور طرح مسجد کی تعمیرمیں جن حضرات نے مالی تعاون کیا ان کے اسمائے گرامی درج کیے ہیں ۔ کتاب کے آغاز میں علامہ ابو عمر عبدالعزیز سوہدروی نے اپنے تحقیقی مضمون ’’سیالکوٹ تاریخ کے آئینے میں ‘‘سیالکوٹ کی علمی وتاریخی حیثیت پر روشنی ڈالی ہے ۔ اور با ب دوم میں 68 علمائے کرام کے مختصر خود نوشت حالات بیان کیے ہیں۔ان مختصر حالات میں ان علماء نے اپنی تعلیمی وتدریسی زندگی کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بھی بتایا دیا ہے کہ کہاں کہاں تدریسی خدمات سرانجام دی ہیں اور اس مسجد میں کتنے عرصہ سے وہ اپنا فرض منصبی انجام دے رہے ہیں ۔(م۔ا)

  • 76 #5278

    مصنف : محمد اسحاق بھٹی

    مشاہدات : 1448

    تذکرہ مولانا محی الدین لکھوی رحمۃ اللہ علیہ حالات خدمات خاندان

    (ہفتہ 15 اپریل 2017ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    برصغیر بالخصوص پنجاب میں دین اسلام کی نشرو اشاعت، دعوت وتبلیغ، سماجی ورفاہی خدمات لکھوی خاندان کا طرۂامتیاز رہا ہے۔ بے شمار لوگ ان کے بزرگوں کی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں توحید وسنت کی روشنی سے فیض یاب ہوئے۔عوامی خدمت کے اسی جذبے کے تحت یہ نصف صدی سے زائد عرصے سے سیاست میں بھی ہیں۔اگرچہ اس خاندان سے علمی وروحانی وابستگان کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا ہو ا ہے، تاہم ضلع قصور کاحلقہ این اے 140 ان کی انتخابی سیاست کا مرکز ہے، جہاں سے مولانا معین الدین لکھویؒ تین بار قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔ ۔1951ءمیں پنجاب میں ہونے والے پہلے انتخاب میں مولانا معین الدین کے بڑے بھائی  اور معروف اسلامی سکالر  پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے والد گرامی مولانا محی الدین لکھوی ﷫ تحصیل چونیاں سے ایم این اے منتخب ہوئے ۔ لکھوی خاندان  بالخصوص مولانا معین الدین لکھوی اور مولانا محی الدین لکھوی کے  متعلق کئی رسائل وجرائد میں  متعدد مضامین شائع ہوئے ہیں جو مختلف جگہ پر منتشر ہیں  مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھی ﷫ نے اس کتاب’’ تذکرہ مولانا محی الدین لکھوی ﷫ ‘‘ میں  تفصیل سے مولانا محی الدین لکھوی ﷫  کی حیات ، خدمات کے ضمن میں لکھوی خاندان  کا تفصیلی تعارف کو یکجا کردیا ہے ۔ اس  کتاب  میں شامل  پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے تفصیلی مقدمہ سے اس کتاب کی اہمیت دوچند ہوگئی  ہے ۔یہ کتاب مولانا محی الدین لکھوی اور لکھوی خاندان کے تعارف  وخدمات کے سلسلے میں ایک  دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ (م۔ا)

  • 77 #2857

    مصنف : ملک ابو یحیٰ امام خان نوشہروی

    مشاہدات : 3336

    تراجم علمائے حدیث ہند

    (جمعرات 22 جنوری 2015ء) ناشر : مکتبہ اہل حدیث ٹرسٹ، کراچی

    تاریخ ورجال کی کتابوں سے یہ بات نکھر کرسامنے آتی ہے کہ برصغیر پاک وہند میں اسلام دوراستوں سے آیا ہے ۔ ایک سندھ کی طرف سے اور دوسرا شمال مغربی جانب سے اورپہلےکافلے میں تووہ حضرات شامل تھےجن کاشمار صحابہ کرام﷢،مخضرمین ومدرکین میں ہوتا ہے۔جنہوں نے یہاں علم حدیث کا درس دیا۔ انہی کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ تھا کہ یہاں کےافراد کا عموماً تعلق براہ راست کتاب وسنت سے تھا۔ارض حجاز ونجد کی طرح   ارض ہند میں علماء نے حدیث رسول ﷺ کی اشاعت وترویج کےلیے درس وتدریس ،اور شروح حدیث کی صورت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تراجم علمائے حدیث ہند‘‘ہندوستان کے مشہور ومعروف سیرت نگار ابو یحییٰ امام خان نوشہروی﷫کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے ہندوستان کے   دوصد علماء حدیث کی سیرت وسوانح کو جمع کیا ہے ۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن برقی پریش دہلی سے 1938ء میں شائع ہوا ۔1971ء میں حافظ عبدالرشید اظہر﷫ کی نگرانی وکاوش سے اس کتاب کو دوبارہ شائع کیاگیا اور اس ایڈیشن میں اس وقت تک وفات پا جانےوالے علماء کی تاریخ وفات کی نشاندہی کردی گی تھی ۔ زیر تبصرہ ایڈیشن مکتبہ اہل حدیث ٹرسٹ کوٹ روڈ کراچی کا شائع شدہ ہے۔جو دراصل اشاعت اول کا عکس ہی ہے ۔(م۔ا)

  • 78 #4193

    مصنف : حافظ عبد الحمید ازہر

    مشاہدات : 1568

    تعارف اہلحدیث

    (جمعرات 10 مارچ 2016ء) ناشر : مرکزی جمعیت اہل حدیث راو الپنڈی

    مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے ۔مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے ۔ پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا لیکن اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا اقرار کرنا ضروری ہوگیا ہے ۔ضرورت اس امر کی مسلمانوں کو اس تقلیدی گروہ بندی سے نجات دلائی جائےاور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے ۔مسلک اہل حدیث در اصل مسلمانوں کوکتاب وسنت کی بنیاد پر اتحاد کی ایک حقیقی دعوت پیش کرنےوالا مسلک ہے ۔ اہل حدیث کے لغوی معنیٰ حدیث والے اوراس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیل ونہار،شب وروز،محض قرآن وسنت کےتعلق میں بسر ہوں او رجن کا کوئی قول وفعل اور علم، طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو۔گویامسلک اہل حدیث سے مراد وہ دستورِ حیات ہےجو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ،جس پر رسول اللہﷺ کی مہرثبت ہو۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’تعارف اہل حدیث ‘‘ مولانا حافظ عبدالحمید ازہر (فاضل مدینہ یونیورسٹی) کی کاوش ہے۔انہوں نے کتاب وسنت اور تاریخی شواہد کی روشنی میں ثابت کیاہے کہ اہل حدیث صحابہ کرام کےزمانہ ہی چلے آرہے ہیں۔ اور ہمیشہ حق پر قائم رہنے والی جماعت ہے۔نیز فاضل مصنف نے دلائل کی روشنی میں جماعت اہل حدیث کی قدامت ، حقانیت اور اس کاعمل بالکتاب والسنۃ ہونا بطریق احسن ثابت کیا ہے۔یہ کتابچہ پہلی بار1981ء میں شائع ہوا جسے شارح سنن نسائی شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ نے پسند کیا او ربڑی مسرت کا اظہار کیا۔اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قرآن وحدیث کواختیار کرنے اور اس پر عمل پیر ہونے کی توفیق دے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 79 #1242

    مصنف : ارشاد اللہ مان

    مشاہدات : 21621

    تلاش حق

    (ہفتہ 26 جون 2010ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    زیر نظر کتاب مؤلف کی سالہا سال کی تحقیق وکاوش کاماحاصل ہے ان کی زندگی کا آغاز تقلید اور خانقاہی سلسلوں سے ہوا پھر اللہ تعالی نےانہیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائی اس دوران انہوں نے مختلف مسالک او ران کے عقائد ونظریات کا گہرائی سے مطالعہ کرکے کتاب وسنت سے ان کاتقابل کیا یوں صراط مستقیم اپنی تمام ترحقانیت کےساتھ ان پر واضح ہوا انہی تفصیلات کو انہوں نے کتابی شکل میں جمع کےکے اس کانام ''تلاش حق'' رکھا تاکہ ان کی یہ بے پناہ ریاضت متلاشیان حق کےلیے سہولت بن جائے کتاب کو کبار اہل علم کی تصدیق وتائید حاصل ہے عقیدہ سے لےکر عبادات تک جملہ اختلافی مسائل کے حل کے لیے انتہائی مدلل او ربہترین کتاب ہے ہر مسلمان کو اس کامطالعہ کرنا چاہیے -

  • 80 #2067

    مصنف : نا معلوم

    مشاہدات : 3025

    تلاش حق ایک تحریری مناظرہ

    (منگل 20 مئی 2014ء) ناشر : تنظیم الدعوۃ الی القرآن والسنۃ، راولپنڈی

    اہل حدیث مروجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں ،نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت او رایک تحریک کا نام ہے زندگی کےہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا او ردوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا یا یو ں کہہ لیجیئے کہ اہل حدیث کانصب العین کتاب وسنت کی دعوت او ر اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے بے شمار لوگ اور کئی نامور علماء اوراہل علم نے مسلک حقّ اہل حدیث کی حقانیت کو دیکھ کر اپنا مسلک ترک کے مسلک اہل حدیث اختیار کیا۔ اس حوالے سے کتاب ''ہم اہل حدیث کیوں ہوئے '' از محمد طیب محمدی ﷾ لائق طالعہ ہے یہ کتاب ویب سائٹ پر موجود ہے۔ زیر نظر کتاب''تلاش حق '' بھی ایک حنفی عالم دین کا حنفیت کو چھوڑ کر مسلک اہل حدیث ا ختیار کرنے کی داستان پر مشتمل ہے یہ کتاب وہ خط وکتابت ہے جو مدتوں سابق حنفی عالم دین مولوی نواب محی الدین اور سید مسعود بی۔ ایس۔ سی کے مابین تقلید شخصی اور دیگر بہت سے اختلافی مسائل پر ہوتی رہی سید مسعود بی ایس سی نے مولوی محی الدین کے اشتعال انگیز سوالات کے جوابات اس احسن انداز اور پختہ دلائل وبراہین کی روشنی میں دئیے کہ بالآخر مولوی محی الدین صاحب نے طویل خط وکتابت کے بعد حنفیت کوچھوڑ کر اہل حدیث ہونے کااعلان کردیا ۔کتاب کے شروع میں مولانا محی الدین کا وہ خط بھی شامل اشاعت ہے جس میں انہوں نے حنفیت کو چھوڑ نے کے اسباب اور اپنے اہل حدیث ہونےکی داستان تحریر کی ہے اور آخر میں محترم مسعود بی۔ ایس ۔سی کا شکریہ بھی ادا کیا کہ جن کے ساتھ باہمی مراسلت ان کے اہل حدیث ہونے میں معاون بنی ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہربھولے ہوئے کو سیدھی راہ دکھائیں او ر قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائیں۔(م۔ا)

     

     

< 1 2 ... 5 6 7 8 9 10 11 ... 15 16 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1163
  • اس ہفتے کے قارئین 5027
  • اس ماہ کے قارئین 43421
  • کل قارئین49298571

موضوعاتی فہرست