کل کتب 111

دکھائیں
کتب
  • 71 #4187

    مصنف : رانا محمد شفیق خاں پسروری

    مشاہدات : 2063

    سواد اعظم اور اہل حدیث

    (منگل 08 مارچ 2016ء) ناشر : الفلاح پبلیکیشنز لاہور

    1977ء کی تحریک نفاذ اسلام ایک قومی تحریک  تھی جس میں تمام مکاتب فکر  کے افراد نے حصہ لیا تھا ور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کےلیے قربانیاں دی تھیں۔مگر نوارانی میاں اور ا ن کے ساتھیوں نے   اُس  وقت اس تحریک سے علیحدگی  اختیار کر کے  اور  سواد اعظم کانعرہ لگا کر ملک میں فرقہ واریت  کو ہوادی اور قومی یکجہتی  کو پارہ پارہ کردیا۔اس تحریک کی کامیابی کے فوراً بعد  نورانی میاں اور ان کے ساتھیوں  نے قومی اتحاد کوچھوڑ کر ’’سواداعظم ‘‘ ہونے کا اعلان کیا اور جلسوں، جلوسوں اوراخبارات میں ایک طوفان بیان بازی برپا کردیا کہ ہم سواد اعظم  ہیں اور پاکستان  میں سواد اعظم  کی مرضی نافذ ہوگئی۔تو اس وقت جناب رانا شفیق خاں پسروری﷾  نے سواد اعظم کے حقیقی مفہوم کو واضح کرنے کے لیے  ایک مفصل مضمون لکھا تھا جو مختلف جرائد ورسائل میں شائع  ہوا اورقارئین نے   اسے  بڑا پسند کیا۔ کتابچہ ہذا’’ سواد اعظم اوراہل حدیث‘‘ اسی مضمون کی  کتابی صورت  ہے۔(م۔ا)

  • 72 #4025

    مصنف : مفتی عبد الرحمن

    مشاہدات : 1702

    صراط مستقیم ( مفتی عبد الرحمن )

    (جمعرات 04 فروری 2016ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    انسان کی طبیعت اور اس کا مزاج ہے کہ وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے،اور اس کا یہ طرز عمل زندگی کے تمام معاملات میں ہوتا ہے۔اسی طرح اس کے دین کا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں  بھی خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہےاور پھر دین اسلام سے بھلا اور کونسا دین خوب تر ہوگا۔تو بہر کیف کسی مسلمان کا مقلد بن جانا ایک ایسی سائیکل پر سوار ہونے کے مترادف ہے کہ جس کے پہیے تو گھومتے ہیں مگر وہ ایک جگہ پر ہی کھڑی رہتی ہے،جس سے ورزش کاکام تو لیا جا سکتا ہے مگر سفر طے نہیں کیا جاسکتا ہے۔لہذا تقلید کو اختیار کرنا انسان کے فطری مزاج اور طبیعت کے خلاف ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں غیر مسلم ملت اسلامیہ سے ہر میدان میں پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔کاش کی ہم بھی دل کی آنکھیں کھول لیتے اور کتاب وسنت سے حقیقی راہنمائی حاصل کر کے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتے۔ زیر تبصرہ کتاب" صراط مستقیم "محترم جناب  مولانا عبد الرحمن فاضل دیو بندصاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے تقلید کا رس کرتے ہوئے اجتہاد کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائےاور امت مسلمہ کو تقلید کے جمود سے نکال کر اجتہاد کے مقام پر فائز کر دے۔آمین(راسخ)

  • 73 #2649

    مصنف : صغیر احمد بہاری

    مشاہدات : 3296

    صراط مستقیم اور اختلاف امت

    (اتوار 23 نومبر 2014ء) ناشر : اہلحدیث ٹرسٹ مرکزی جامع مسجد اہلحدیث کراچی

    تقلید اور عمل بالحدیث کے اختلافی مباحث صدیوں  پرانے ہیں،تقلید جامد کے رسیا اور قرآن وحدیث کے علمبردار علماء ومصلحین اس موضوع پر سیر حاصل بحث کر کے خو ب خوب داد تحقیق  دے چکے ہیں۔خیر القرون کے سیدھے سادھے دور کے مدتوں بعد ایجاد ہونے والے مذاہب اربعہ کے جامد مقلد فقہاء نے اپنے اپنے مذہب کی ترجیح میں کیا کیا گل نہیں کھلائے ۔حتی کہ اپنے مذہب کے جنون میں اپنے مخالف امام تک کو نیچا دکھانے  سے بھی دریغ نہیں کیا گیا جیسا کہ اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ایسا ہی کچھ طرز عمل ماہنامہ "بینات"کراچی کے مدیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اختیار کیا ہے۔موصوف سے کسی صاحب نے چند سوالات پوچھے ،جن کا جواب مولانا نے بڑی تفصیل سے دیا ۔حتی کہ اسے "بینات" کا ایک خاص نمبر بعنوان "اختلاف امت اور صراط مستقیم "شائع کر دیا۔مگر افسوس کہ اس میں اہل حدیث کو بھی خوا ہ مخواہ گھسیٹ  لیا گیا۔اس رسالے کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے مولانا نے "اختلاف امت اور صراط مستقیم " کا نمبر دوم بھی شائع کر دیا۔یہ دونوں نمبر پہلے پاکستان میں چھپے اور پھر دیو بند ہندوستان سے شائع کئے گئے۔جب یہ دونوں رسالے معروف اہل حدیث عالم دین مولانا صغیر احمد بہاری ﷾کی نظر سے گزرے تو انہوں نے ایک مفصل تنقیدی مضمون لکھ کر "الاعتصام" میں اشاعت کے لئے بھج دیا۔جو اس میں 34 قسطوں میں شائع ہوا۔احباب کا اصرار تھا کہ اسے کتابی شکل میں شائع کیا جائے تاکہ "بینات" کا تریاق ہو سکے۔چنانچہ اسے کتابی شکل میں چھاپ دیا گیا ۔اس پر محترم الاستاذ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫کی نظر ثانی اور اس زمانے کے مدیر الاعتصام مولانا صلاح الدین یوسف ﷾کی تقدیم موجود ہے۔اللہ تعالی ان بزرگوں کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 74 #4131

    مصنف : ابو المنہال شاغف بہاری

    مشاہدات : 1674

    صراط مستقیم اور اختلاف امت ( شاغف )

    (ہفتہ 20 فروری 2016ء) ناشر : ادارہ احیاء السنۃ گرجاکھ، گوجرانوالہ

    تقلید اور عمل بالحدیث کے اختلافی مباحث صدیوں  پرانے ہیں،تقلید جامد کے رسیا اور قرآن وحدیث کے علمبردار علماء ومصلحین اس موضوع پر سیر حاصل بحث کر کے خو ب خوب داد تحقیق  دے چکے ہیں۔خیر القرون کے سیدھے سادھے دور کے مدتوں بعد ایجاد ہونے والے مذاہب اربعہ کے جامد مقلد فقہاء نے اپنے اپنے مذہب کی ترجیح میں کیا کیا گل نہیں کھلائے ۔حتی کہ اپنے مذہب کے جنون میں اپنے مخالف امام تک کو نیچا دکھانے  سے بھی دریغ نہیں کیا گیا جیسا کہ اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ایسا ہی کچھ طرز عمل ماہنامہ "بینات"کراچی کے مدیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اختیار کیا ہے۔موصوف سے کسی صاحب نے چند سوالات پوچھے ،جن کا جواب مولانا نے بڑی تفصیل سے دیا ۔حتی کہ اسے "بینات" کا ایک خاص نمبر بعنوان "اختلاف امت اور صراط مستقیم "شائع کر دیا۔مگر افسوس کہ اس میں اہل حدیث کو بھی خوا ہ مخواہ گھسیٹ  لیا گیا۔اس رسالے کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے مولانا نے "اختلاف امت اور صراط مستقیم " کا نمبر دوم بھی شائع کر دیا۔یہ دونوں نمبر پہلے پاکستان میں چھپے اور پھر دیو بند ہندوستان سے شائع کئے گئے۔جب یہ دونوں رسالے معروف اہل حدیث عالم دین مولانا صغیر احمد بہاری ﷾کی نظر سے گزرے تو انہوں نے ایک مفصل تنقیدی مضمون لکھ کر "الاعتصام" میں اشاعت کے لئے بھج دیا۔جو اس میں 34 قسطوں میں شائع ہوا۔احباب کا اصرار تھا کہ اسے کتابی شکل میں شائع کیا جائے تاکہ "بینات" کا تریاق ہو سکے۔چنانچہ اسے کتابی شکل میں چھاپ دیا گیا، اور اس کا نام "صراط مستقیم اور اختلاف امت"رکھا گیا ۔اس کتاب کے شروع میں مولانا حنیف ندوی صاحب کا خطبہ بطور مقدمہ موجود ہے۔اللہ تعالی ان بزرگوں کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 75 #87

    مصنف : صغیر احمد بہاری

    مشاہدات : 16087

    صراط مستقیم اور اختلاف امت بجواب اختلاف امت اور صراط مستقیم

    (ہفتہ 28 مارچ 2009ء) ناشر : اسلامی اکادمی،لاہور

    مشہور دیوبندی عالم یوسف لدھیانوی صاحب کی کتاب "اختلاف امت اور صراط مستقیم" کے جواب میں فاضل مؤلف نے نہایت محنت اور دیدہ ریزی سے مدلل اور محققانہ جواب لکھا ہے۔ چونکہ اس کتاب میں فریقین کے موقف سامنے آ گئے ہیں لہٰذا گم گشتان بادہ تقلید کیلئے یہ کتاب اب ایک مینارہ نور کی حیثیت  رکھتی ہے۔ اگرمسلکی تعصب کی عینک اتار کر للّٰہیت اور خلوص قلب سے اصلاح نفس کی خاطر مطالعہ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلکی موشگافیوں میں صراط مستقیم کو کھو دینے والا شخص دوبارہ اس شاہراہ روشن کا مسافر بن جائے۔ مسلکی اختلافات پر ایک چشم کشا اور عمدہ ترین تصنیف
     

  • 76 #2427

    مصنف : ابو الحسن مبشر احمد ربانی

    مشاہدات : 2291

    ضربات ربانیہ بر فتنہ حقانیہ

    (منگل 02 ستمبر 2014ء) ناشر : جمعیت اہل حدیث ھیلاں منڈی بہاؤالدین

    محترم مولانا ابو الحسن مبشر احمد ربانی ﷾کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔آپ معروف عالم دین ،محقق اور جماعت الدعوہ کے مرکزی راہنماؤں میں سے ہیں،اللہ نے آپ کو بڑی عظیم الشان تحقیقی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔آپ نے مختلف موضوعات پر بے شمار مضامین ،کتابچے اور ضخیم کتب تصنیف فرمائی ہیں۔زیر تبصرہ کتاب" ضربات ربانیہ بر فتنہ حقانیہ" بھی آپ کے قلم سے نکلی ہے۔اس کتاب کا سبب تالیف یہ ہے کہ موصوف نے ایک کتاب بنام "کلمہ گو مشرک "تصنیف فرمائی تو اہل شرک کے میدان میں بھونچال آگیا اور شرک کی عمارت اپنی بنیادوں سے ہلنا شروع ہوگئی۔آپ کی اس کتاب کو دیکھ کر مولوی عبد الغنی حقانی کی رگ عصبیت پھٹ پڑی اور اس نے 21 صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ بنام " فتنہ غیر مقلدیت کا نیا روپ " لکھ ڈالا اور اس میں اپنا روایتی انداز اپناتے ہوئے بازاری اور غیر مہذب زبان استعمال کی،اور اہل حدیثوں کو برا بھلا کہا۔چنانچہ ربانی صاحب﷾ نے اس کے مغالطات اور فضولیات کا جواب دیتے ہوئے یہ کتاب " ضربات ربانیہ بر فتنہ حقانیہ"تصنیف فرمائی اور اس کے تمام اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دے دیا۔آپ نے ایسا زبر دست اور مدلل جواب دیا کہ اس کی زبان بند ہو گئی اور آج تک وہ اس کا جواب نہیں دے سکا ہے۔اللہ تعالی ربانی صاحب کی اس محنت کو قبول فرمائیں۔آمین(راسخ)

  • 77 #1647

    مصنف : نا معلوم

    مشاہدات : 4925

    عبد القادر جیلانی اور گیارہویں شریف

    (جمعہ 05 اپریل 2013ء) ناشر : مصلیان مسجد رحمانیہ حیدرآباد انڈیا

    شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں آپ کی دینی خدمات ہی آپ کا تعارف ہیں۔ آپ کی علمیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ امام ابن قدامۃؒ جیسی عظیم شخصیت کا شمار آپ کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں کچھ لوگ ان کو غوث اعظم قرار دیتے ہیں اور ان سے مدد طلب کرتے ہیں۔ حالانکہ مافوق الاسباب مدد فقط اللہ تعالیٰ سے مانگی جا سکتی ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ان کے نام پر گیارہویں شریف کا بھی اہتمام کرتے ہیں ہمارے ہاں ہر ماہ چھوٹی گیارہویں شریف اور سال کے بعد بڑی گیارہویں شریف کا پورے زور و شور کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں شیخ عبدالقادر جیلانی کے تعلق سے گیارہویں شریف کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس مختصر سے کتابچہ میں شیخ عبدالقادر جیلانی کی بعض تعلیمات و ہدایات لکھنے کے بعد گیارہویں میں بارہ سے زائد شرعی مخالفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 78 #3911

    مصنف : محمود اشرف عثمانی

    مشاہدات : 2919

    عقیدہ امامت اور حدیث غدیر

    (پیر 04 جنوری 2016ء) ناشر : ادارہ اسلامیات انار کلی ،لاہور

    اسلام میں عقائدکی حیثیت ایک ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں۔اسی وجہ سے قرآن وسنت میں عقائد کو بہت شدومد کے ساتھ بیان کیا گیاہے ۔عقائد ہی کی وجہ سے بہت سے گمراہ فرقوں نے جنم لیا۔ معتزلہ،ماتریدیہ،اشاعرہ،جہمیہ وغیرہم یہ تمام جماعتیں عقائد میں لغزش اور افراط و تفریط کا شکار ہونے کے سبب معرض وجود میں آئیں۔قرآن و سنت سے غلط استدلال اور عقل کےعمل دخل کی وجہ سے صراط مستقیم سے ہٹ گئیں۔ اسی طرح اہل سنت والجماعت او ر اہل تشیع کے مابین کئی ایک اختلافی مسائل میں سے ایک معرکۃ الآراہ اختلاف "عقیدہ امامت "ہے۔ "عقیدہ امامت "اہل تشیع کا بنیادی عقیدہ ہے۔اس عقیدے کو ان کے ہا ں اصول دین میں شمار کیا جاتا ہے ۔جس کےبغیروہ آدمی کا ایمان نا مکمل گردانتےہیں ان کے ہاں اصول دین پانچ ہیں ۔ (1) توحید (2) عدل۔ (3)نبوت۔ (4)امامت۔ (5) قیامتاہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ امت کی ہدایت کے لیے اللہ نے اماموں کو متعین کیاہے اور قیامت تک بارہ امام آئیں گے۔گیارہ امام کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ بارہواں امام جب اللہ کی مصلحت ہو گی تب ظاہر ہو گا۔ اور اسی طرح حضرت علی ؓ کو خلیفہ بلافصل اور معصوم تسلیم کرتے ہیں ۔ اپنے عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے وہ قرآن کی آیات او ر حدیث غدیر۔ حدیث ثقلین، حدیث موالاۃ سے استدلال کرتے ہیں۔ زیر نظرکتاب "عقیدہ امامت اور حدیث غدیر" مولانا محمود اشرف عثمانی حفظہ اللہ کی قابل داد تالیف ہے ۔جس میں انہوں نے اہل تشیع کے استدلال کا احسن طریقے سےتعاقب کیا ہے ۔اور ان کے باطل عقائد کا مدلل جواب دیا ہے۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ اللہ ان کو اجر عظیم عطا فرمائے اور امت مسلمہ کے لیے ان کی کاوش کو ذریعہ رہنمائی بنائے۔ آمین (عمیر )

  • 79 #4524

    مصنف : محمد یحیٰ گوندلوی

    مشاہدات : 3793

    عقیدہ اہلحدیث (یحیی گوندلوی)

    (بدھ 08 جون 2016ء) ناشر : مرکزی جمعیت اہل حدیث، گوجرانوالہ

    اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت ہے اس وقت سے یہ جماعت ہے، اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ اصحاب اہل حدیث، اہل حدیث، اہل سنت یہ سب مترادف لفظ ہیں، اہل یا اصحاب کے معنی " والے" اب اس کے نسبت حدیث کی طرف کردیں تو معنی ہونگے، " حدیث والے" اور قرآن کو بھی اللہ نے حدیث کہا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام سے مراد"قرآن و حدیث" ہے اور قرآن و حدیث سے مراد اسلام ہے۔اور مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب " عقیدہ اہلحدیث "شیخ الحدیث والتفسیر محترم مولانا محمدیحیی گوندلوی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اہل حدیث  کا عقیدہ بیان کیاہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 80 #1896

    مصنف : محمد رمضان یوسف سلفی

    مشاہدات : 6484

    عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں علمائے اہل حدیث کی مثالی خدمات

    (منگل 10 دسمبر 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    اللہ تعالیٰ نے  نبی کریم ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا، اوراسلام کو   بحیثیت دین بھی مکمل کردیا، اور اسے تمام مسلمانوں کے لیے  پسندیدہ قرار دیا ہے۔  یہی وہ عقید ہ ہے  جس پر قرون اولیٰ سے لیکرآج تک  تمام امت اسلامیہ کا اجماع ہے ۔ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول  ہیں۔حضورﷺ کےبعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا  متفق علیہ عقیدہ رہا ہے،  اور اس  میں  مسلمانوں کا کوئی بھی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص حضرت  محمدﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے  کا دعویٰ کرے، او رجو اس کے دعویٰ کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔آنحضرت ﷺ نے متعدد احادیث میں اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ برطانوی سامراج نے برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور دین اسلام کے  بنیادی اصول احکام کو مٹانے کے لیے قادیان سے  مزرا احمد قادیانی کو اپنا آلہ کار بنایا۔ مرزا قادیانی  نے انگریزوں کی حمایت میں جہاد کو حرام قرار دیا، اورانگریزوں کی حمایت اور وفاداری  میں اتنا لٹریچر شائع کیا کہ اس نے  خود لکھا کہ میں نے  انگریزی حکومت کی حمایت اوروفاداری میں اس قدرلٹریچر شائع کیا ہے کہ  اس سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔  اس نے   جنوری 1891ء میں  اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان اور 1901ء میں نبوت ورسالت کا دعویٰ  کردیا جس پر وہ  اپنی موت تک قائم رہا۔قادیانی  فتنہ کی تردید میں پاک ہند کے  علمائے اہل حدیث  نے جو تحریری وتقریری خدمات سر انجام دی ہیں،اور اس وقت بھی دے  رہے ہیں وہ روزورشن کی طرح عیاں ہیں ۔جب مرزا غلام احمد نے 1891ء میں مسیح موعود نے  کا اعلان کیا تو سب سے پہلے  علمائے  اہل حدیث میدان عمل میں آئے اورمرزا صاحب کی  تردید میں تحریر وتقریر کے ذریعہ سدباب کیا  علمائے اہل حدیث نے  اس فتنے  کی تردید  وبیخ کنی میں تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا  اور عقیدہ ختم  نبوت کے  تحفظ میں  پیش پیش رہ کر گراں قدر  خدمات  سرانجام دی اس سلسلے میں  علمائے اہل حدیث کی بے مثال خدمات کی چند اولیات یہ ہیں ۔1901ء میں جب مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا تو سب پہلے مشہور اہل حدیث عالم مولانا  محمد حسین بٹالوی نے  نے  برصغیر کے دوصد علماء سے مرزا قادیانی کی تکفیر پر فتویٰ حاصل کر کے شائع کیا اس فتویٰ پر سب سے پہلے سید نذیرحسین محدث دہلوی نے  دستخط فرمائے۔مرزا قادیانی سے  مقابلے کے لیے  سب سے پہلے  مولانا ثناء اللہ  امرتسری   نے قادیا ن جاکرمرزا کو للکارا، لیکن وہ مقابلے کے لیے  نہیں نکلا ،مرزائیوں سے مناظروں اور مباحثوں کا سلسلہ سب سے پہلے مولانا محمدحسین  بٹالوی اور مولانا ثناء اللہ امرتسری نے شروع کیا،مولانا ثناء اللہ امرتسری نے  مرزائیوں سے سب سے  زیادہ مناظرے کیے، مرزا قادیانی کو مباہلے کا چیلنج سب سے  پہلے  اہل حدیث علماء  نے دیا،مسلمانان برصغیر کی طرف سے  فاتح قادیان کا لقب مولانا ثناء اللہ امرتسری کو ہی دیا گیا ،مرزا قادیانی کی تردید میں اولین کتاب قاضی  سلیمان منصورپوری نے  ’’غایت  المرام‘‘ کے نام سے لکھی ، قیام پاکستان کے بعد  سے ملک کے دستور میں مرزائیوں کو  اقلیت قرار دینے  کا مطالبہ تحریری صورت میں سب سے پہلے   مولانا  حنیف ندوی  نے کیا۔  اس سے ہمار ا مقصد علمائے اہل حدیث کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے  نہ کہ کسی کی  تنقیص۔ مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷾ جماعت اہل  حدیث پاکستان کےمعروف قلمکار  ہیں ان کے مضامین  ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے ہیں رہتے ہیں ۔سلفی صاحب  کی اس کتاب  کے  علاوہ تقریبا چار کتابیں اوربھی ہیں۔ سلفی صاحب  نے زیرتبصرہ کتا ب  ’’ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں علمائے اہل حدیث کی مثالی خدمات‘‘ میں  قادیانی فتنہ کی ترید میں علماء اہل حدیث کی خدمات اور جہود ومساعی کو بڑے احسن انداز سے ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ یہ کتاب یقینا شائقینِ مطالعہ  اورا ہل علم کے لیے ایک دستاویز اور گراں قدرعلمی تحفہ ہے  ۔(م۔ا)
     

< 1 2 ... 4 5 6 7 8 9 10 11 12 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1301
  • اس ہفتے کے قارئین 3146
  • اس ماہ کے قارئین 55179
  • کل قارئین49459280

موضوعاتی فہرست