دکھائیں کتب
  • 571 وقوف المبتدی (بدھ 29 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1005

    وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ"کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سےاعادہ" (النشر:۱؍۲۴۰) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کااحساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سےقرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اسی طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ۔اوروجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے :’’اورقرآن مجید کوترتیل کے ساتھ پڑھو ۔‘‘(المزمل:4) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا:’’الترتیل ہو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵) اس تفسیر میں ترتیل کے دوجز بیان کیے گئے ہیں 1۔تجوید الحروف 2۔معرفۃ الوقوف ۔پس تجوید الحروف کی طرح معرفۃ الوقوف بھی ترتیل کا ایک جزء اور اس کا ایک حصہ ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" وقوف المبتدی" قاری محمد اسماعیل خورجوی صاحب ، مدرس تحفیظ القرآن مکہ معظمہ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں &n...

  • 572 يايهاالذين امنوا! (بدھ 15 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:13347

    یوں تو قرآن پاک مکمل ہی ہدایت ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو خاص طور سے مخاطب کر کے کوئی بات کہتا ہے تو اس سے ایک طرح کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور دل خود بخود متوجہ ہوتا ہے کہ دیکھیں کیا بات کہی جا رہی ہے۔ عام زندگی میں بھی کسی کو نام لے کر پکارا جائے تو سننے والا پوری توجہ اور دھیان سے بات سننے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اور خاص طور پر متوجہ کرنے کے لیے یہی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں بار بار اللہ تعالیٰ  یا ایہا الذین اٰمنو (اے ایمان والو!) کہہ کر ہمیں بڑی محبت سے بلاتا ہے۔ اس کتاب میں قرآن کے وہ تمام مقامات یکجا کر دئے گئے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارا نام لے کر مخاطب کیا ہے اتنی کامیاب ہدایات خاص ہمارے ہی لیے رب دو جہاں نے نازل فرمائی ہیں۔  یوں تو ہم ان ہدایات کو قرآن میں پڑھتے ہی ہیں لیکن ایک ہی جگہ ان سب ہدایات کے مجموعے کو پڑھنا ان شاء اللہ ضرور مفید ہوگا۔ساتھ ہی کچھ تشریحی

  • 573 يايهاالذين امنوا! (بدھ 15 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:13347

    یوں تو قرآن پاک مکمل ہی ہدایت ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو خاص طور سے مخاطب کر کے کوئی بات کہتا ہے تو اس سے ایک طرح کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور دل خود بخود متوجہ ہوتا ہے کہ دیکھیں کیا بات کہی جا رہی ہے۔ عام زندگی میں بھی کسی کو نام لے کر پکارا جائے تو سننے والا پوری توجہ اور دھیان سے بات سننے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اور خاص طور پر متوجہ کرنے کے لیے یہی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں بار بار اللہ تعالیٰ  یا ایہا الذین اٰمنو (اے ایمان والو!) کہہ کر ہمیں بڑی محبت سے بلاتا ہے۔ اس کتاب میں قرآن کے وہ تمام مقامات یکجا کر دئے گئے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارا نام لے کر مخاطب کیا ہے اتنی کامیاب ہدایات خاص ہمارے ہی لیے رب دو جہاں نے نازل فرمائی ہیں۔  یوں تو ہم ان ہدایات کو قرآن میں پڑھتے ہی ہیں لیکن ایک ہی جگہ ان سب ہدایات کے مجموعے کو پڑھنا ان شاء اللہ ضرور مفید ہوگا۔ساتھ ہی کچھ تشریحی

  • قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔آج دنیاکی کم وبیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے دو فرزند شاہ رفیع الدین ﷫اور شاہ عبد القادر﷫ ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے ۔تقسیم ہند سے قبل اور بعد میں قرآن مجید کے کئی تراجم ہوچکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’پاکستان میں قرآن مجید کےتراجم وتفاسیر1947ءتا حال‘‘علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شبعہ قرآن وتفسیر کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب انہوں نے اوپن یونیورسٹی کے ایم اے علوم اسلامیہ کے طلبہ کے لیے تصنیف کی ہے ۔اس میں انہوں نےعلم تفسیر کا مفہوم اور ارتقاء، ترجمہ کا مفہوم اور اقسام اور پاکستان میں ترجمہ نگاری کا ایک تاریخی جائزہ اور پاکستان میں تفسیر نگاری ، پنجابی ، پشتو، سندھی، انگریزی اور دیگر زبانوں میں قرآن مجید کی تفاسیر اور تراجم کے بارے میں معلومات مہیا سپرد قلم کی ہیں۔(م۔ا)

  • 575 پتھروں کی بارش (قصہ سیدنا لوطؑ) (بدھ 13 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2318

    سیدنا لوط ﷤ اللہ تعالیٰ کے جلیل القد ر نبی تھی انہوں نے زندگی بھر اپنی قوم کو اللہ کی واحدانیت کی دعوت دی۔ لیکن ان کے قوم نےان کی ایک نہ مانی اور سرکشی پراترآئی۔جب حضرت لوط ﷤کی قوم کی سرکشی جب حد سے بڑھ گئی اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا تو انہوں نے اللہ پاک سے التجا کی کہ وہ فسادیوں کے خلاف انکی مدد فرمائے۔ انکی دعا قبول ہوئی اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے اس قوم کے لئے عذاب الہٰی لیکر پہنچے اور انسانی شکل میں حضرت لوط ﷤کے پاس آئے۔ قرآن مجید نےاس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔"آپ اپنے گھر والوں کو لیکر رات کے آخری حصے میں یہاں سے تشریف لے جائیں اور جب قوم پر عذاب نازل ہو تو انکی آواز سن کر تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے کا۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟" (سورۂ ہود: ۸۱)حضرت حضرت لوط ﷤ جب شہر سے نکلے تو ان کے ساتھ انکی بیٹیاں اور بیوی بھی تھی اورجب وہ شہر سے نکل گئے اور سورج طلوع ہوا تو اللہ کا عذاب بھی آ گیا جسے ٹال دینا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:" تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کر دیا۔ اور ان پر پتھر کے تہ بہ تہ کنکر برسائے جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ ظالموں سے کچھ دور نہیں۔"(سورۂ ہود: 82،83) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں کو اسطرح الٹ دیا کہ انکا اوپر والا حصہ نیچے ہو گیا، پھر مسلسل پتھروں کی...

  • 576 چشمہ رحمت (ہفتہ 07 فروری 2015ء)

    مشاہدات:1642

    لفظ ’’قرآن  ‘‘ قرآن مجیدمیں ستر مرتبہ آیا ہے جس کامفہوم باربار پڑھی جانےوالی کتاب ہے۔ یہ وہ عظیم ترین  بے مثال ،لازوال  اور لاریب کتاب ہے جسے خالق ومالکِ ارض سماء نے کائنات میں بسنےوالوں کی رشد وہدایت اور  رہنمائی کےلیے  سرور عالم ، رسول معظم  جناب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر تقریبا 23 سال کے عرصہ میں نازل فرمایا جو آج ہمارے سامنے 30پاروں کی شکل موجود ہے۔ہادی برحق امام کائنات حضرت محمد ًﷺکی  مشہور حدیث ہے کہ :۔ ’’جس نےکتاب اللہ کاایک حرف پڑھا اسے ایک  نیکی ملے  گی او ر ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہے۔‘‘اس فرمان نبوی کی روشنی میں پورے قرآن کی تلاوت کرنے پر  لاکھوں نیکیاں ملتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نےاپنی زبانِ نبوت سے   قرآن کی بعض آیات  اور سورتوں کو تلاوت کرنےکی    مخصوص فضیلت بیان  کی ہے ۔جسے محدثین کرام نے  کتب ِحدیث میں فضائلِ قرآن کے ابواب میں بیان کیا ہے او ر کئی اہل علم  نے عمومی  فضائلِ قرآن اور مخصوص سورتوں کی فضیلت پر  مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’چشمۂ رحمت ‘‘بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔یہ کتاب محترم  جناب  حافظ  محمد فاروق ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے حدیث کی روشنی میں  قرآن  مجید کی سولہ(16)سورتوں کی فضیلت کو بیان کرنےکےبعد آخر  میں  صبح وشام کی دعائیں  بھی شامل کردی ہیں۔اللہ تعالیٰ  مصنف کی اس کاوش کو قبو...

  • 577 چند سورتیں ایک نام (اتوار 05 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:1820

    قرآن مجید عالم انسانیت کی وہ عظیم ترین کتاب ہے جو اللہ کا کلام ہے اور عربی زبان میں تقریباً 23 برس کے عرصے میں آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ قرآن کے نازل ہونے کے عمل کو وحی کا نازل ہونا بھی کہا جاتا ہے اور یہ کتاب اللہ کے فرشتے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے حضرت محمد صل الله علیه وآله وسلم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے جس کا مواد تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے باوجود اس کا متن ایک جیسا ہے۔ اس کی ترتیب نزولی نہیں بلکہ حضرت محمد صل الله علیه وآله وسلم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله عنه رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اسے یکجا کیا گیا۔ اس کام کی قیادت سیدنا  زید بن ثابت رضی الله عنه رضی اللہ عنہ نے کی۔ قرآن ایک بڑی کتاب ہے۔اس کی آیات کی تقسیم نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی زندگی میں فرما چکے تھے اور یہ راہنمائی کر چکے تھے کہ کس آیت کو کس سورت میں کہاں رکھنا ہے۔ اسے سات منزلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ایک اور تقسیم سیپاروں کے حساب سے ہے۔ سیپارہ کا لفظی مطلب تیس ٹکروں کا ہے یعنی اس میں تیس سیپارے ہیں۔ ایک اور تقسیم سورتوں کی ہے۔ قرآن میں 114 سورتیں ہیں جن میں سے کچھ بڑی اور کچھ چھوٹی ہیں۔ سب سے بڑی سورت سورۃ البقرہ ہے۔ سورتوں کے اندر مضمون کو آیات کی صورت میں تقسیم کیا جاتا ہے...

  • 578 کاشف العسر شرح ناظمۃ الزہر (ہفتہ 04 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:1604

    منجملہ علوم قرآنی میں سے ایک علم الفواصل ہے ،جس سے مراد ایک ایسا فن ہے جس میں قرآن مجید کی سورتیں اور ان کی آیتوں کا شمار اور ان کے ابتدائی اور آخری سرے بتائے جاتے ہیں۔علم الفواصل کاموضوع بھی قرآن کی سورتیں اورآیات ہیں، کیونکہ اس علم میں انہی کے حالات سے متعلق بحث کی جاتی ہے۔علم الفواصل توقیفی ہے، کیونکہ رسول اللہﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو رؤوس آیات پر وقف کرتے ہوئے آیات کا علم سکھایا ہے۔ بعض آیات ایسی ہیں جہاں نبی کریمﷺنے ہمیشہ وقف کیا اور وصل نہیں کیا۔ایسی آیات تمام شماروں میں بالاتفاق معدود ہیں۔بعض مقامات ایسے ہیں جہاں نبی کریمﷺنے ہمیشہ وصل کیا اور وقف نہیں کیا، ایسے مقامات بالاتفاق تمام شماروں میں متروک ہیں۔بعض مقامات ایسے ہیں جہاں نبی کریمﷺنے کبھی وقف کیا اور کبھی وصل کیا۔اوراہل فن کے لئے یہی مقامِ اختلاف ہے، کیونکہ آپ ﷺ کے وقف کرنے میں اس مقام کے رؤوس آیات میں سے ہونے کا احتما ل ہے اوریہ بھی احتمال ہے کہ آپ نے راحت کے لئے یا تعریف وقف کے لئے وقف کیا ہو اورآپ ﷺ کے وصل کرنے میں اس مقام (جہاں پہلے وقف کیا تھا)کے عدم رؤوس آیات میں سے ہونے کا احتمال ہے اور رأس الآیۃ ہونے کا بھی احتمال رہتا ہے۔ان احتمالات کی موجودگی میں کسی مقام پر آیت ہونے یا نہ ہونے کافیصلہ کرنا اجتہاد کے بغیر نا ممکن تھااور یہی محتمل فیہ مقامات صحابہ کرام کے اجتہاد کرنے کاسبب بنے۔جو در اصل نبی کریمﷺسے ہی ثابت تھے۔ زیر نظر کتاب '' کاشف العسر شرح ناظمۃ الزھر"شیخ القراءقاری فتح محمدپانی پتی﷫کی تالیف ہے۔جس میں انہوں نے امام شاطبی﷫ کے علم الفواصل...

  • 579 کتاب اللہ پڑھنے کے قواعد (ہفتہ 29 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1027

    علم تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک ہے ۔تلاوت ِقرآن کا بھر پور اجروثواب اس امر پرموقوف ہے کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم کی تلاوت کا صحیح طریقہ جاننا او رسیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرےاس علم کی تدوین کا آغاز دوسری صدی کے نصف سے ہوا۔ائمۂ حدیث وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے ائمہ کی بھی ایک طویل لسٹ ہے اور تجوید وقراءات کے موضوع پرماہرین تجوید وقراءات کی بے شمار کتب موجود ہیں ۔ عرب قراء کی طرح برصغیر پاک وہند کے علماء کرام اور قراءعظام نے بھی علم تجوید قراءات کی اشاعت وترویج کےلیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔پاکستان میں دیوبندی قراء کرام کےعلاوہ سلفی قراء عظام جناب قاری یحییٰ رسولنگری، قاری محمداریس العاصم ،قای محمد ابراہیم میرمحمدی حفظہم اللہ اور ان کےشاگردوں کی تجوید قراءات کی نشرواشاعت میں خدمات قابل تحسین ہیں ۔مذکورہ قراء کی تجوید وقراءات کی کتب کے علاوہ جامعہ لاہور الاسلامیہ کے کلیۃ القرآن ومجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور کے زیر نگرانی شائع ہونے والے علمی مجلہ رشد کےعلم ِتجویدو قراءات کے موضوع پر تین ضخیم جلدوں پر مشتمل قراءات نمبر اپنے موضوع میں انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جس میں مشہور قراء کرام کے تحریر شدہ مضامین ، علمی مقالات اور حجیت قراءات پر پاک وہند کے کئی جیدمفتیان کرام کے فتاوی ٰ جات بھی شامل ہیں اور اس میں قراءات کو عجمی فتنہ قرار دینے والوں کی بھی خوب خبر لیتے ہوئے ان کے اعتراضات کے مسکت جوابات دیئے گئے ہیں۔تلاوت ِ...

  • 580 کتاب اللہ کے صحیح فیصلے (پیر 08 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:1067

    قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے ،جسے اللہ تعالی کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس کو پڑھنا باعث اجر وثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔جو قوم اسے تھام لیتی ہے وہ رفعت وبلندی کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو جاتی ہے،اور جو اسے پس پشت ڈال دیتی ہے ،وہ ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتی ہے۔یہ کتاب مبین انسانیت کے لئے دستور حیات اور ضابطہ زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ انسانیت کو راہ راست پر لانے والی ،بھٹکے ہووں کو صراط مستقیم پر چلانے والی ،قعر مذلت میں گرے ہووں کو اوج ثریا پر لے جانے والے ،اور شیطان کی بندگی کرنے والوں کو رحمن کی بندگی سکھلانے والی ہے۔اہل علم نے عامۃ الناس کے لئے قرآن فہمی کے الگ الگ ،متنوع اور منفرد قسم کے اسالیب اختیار کئے ہیں ،تاکہ مخلوق خدا اپنے معبود حقیقی کے کلام سے آگاہ ہو کر اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب اللہ کے صحیح فیصلے ‘‘ محترم اکبر شاہ نجیب آبادی صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے قرآن مجید میں وارد احکام اور کتاب اللہ مراد قرآن میں وارد تمام صحیح فیصلوں   کو یکجاجمع فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالی مولفین کو اس کاوش پر جزائے خیر عطا فرمائے،ہمیں قرآنی برکات سے استفادہ کرنے کی توفیق دے۔آمین(رفیق الرحمن)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1719
  • اس ہفتے کے قارئین: 15332
  • اس ماہ کے قارئین: 43581
  • کل قارئین : 46568772

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں