کل کتب 83

دکھائیں
کتب
  • 71 #6822

    مصنف : میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    مشاہدات : 2720

    فہم القرآن جلد اول

    dsa (منگل 11 دسمبر 2018ء) ناشر : ابوہریرہ اکیڈمی، لاہور

    قرآنِ  مجید پوری انسانیت کے لیے  کتاب ِہدایت ہے  او ر اسے  یہ اعزاز حاصل ہے   کہ دنیا بھرمیں  سب   سے زیاد  ہ پڑھی جانے  والی  کتاب ہے  ۔   اسے  پڑھنے پڑھانے والوں کو   امامِ کائنات   نے    اپنی  زبانِ صادقہ سے   معاشرے   کے  بہتر ین  لوگ قراردیا ہے  اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ  تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت  کرتے ہیں۔   دور ِصحابہ سے لے کر  عصر حاضر  تک بے شمار اہل  علم نے  اس کی تفہیم  وتشریح اور  ترجمہ وتفسیرکرنے کی  خدمات   سر انجام دیں اور  ائمہ محدثین نے  کتبِ احادیث میں  باقاعدہ  ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے۔اور مختلف ائمہ  نے عربی زبان میں مستقل بیسیوں تفاسیر لکھیں ہیں ۔جن میں سے کئی تفسیروں کے اردو زبان میں تراجم  بھی ہوچکے ہیں ۔ ہر دور اور ہر زبان میں قرآن مجید کی تفاسیر لکھی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ  ماضی قریب   میں برصغیرِ   پاک وہند  کے   تمام مکتب فکر کےعلماء نے تراجم اور تفاسیر کا بے شمار ذخیرہ اردو زبان میں پیش کر كے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ تفسیر فہم القرآن ‘‘قائد  ’’تحریک  دعوت  توحید‘‘  میاں  محمد جمیل ﷾ کی تصنیف ہے ۔ میاں جمیل صاحب نے اس تفسیر کا نام سورة الانبیاء کی آیت 79 فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ) سے لیا ہے ۔  موصوف نے  اس تفسیر میں درج ذیل باتیں جمع کر نے کی کوشش کی ہے تاکہ عوام الناس ‘ طلبہ اور مبتدی خطباء اس سے آسانی سے استفادہ کرسکیں۔
    ١ ۔ لفظی اور بامحاورہ ترجمہ٢۔ ربطِ کلام ٣ ۔ ہر آیت کے الگ الگ مسائل کا بیان٤ ۔ تفسیر بالقرآن کے حوالے سے ہر آیت کے مرکزی مضمون سے متعلقہ چند آیات ۔تفسیر ہذا کے مفسر موصوف میاں محمد جمیل بن میاں محمد ابراہیم گوہڑ چک 8 پتوکی ضلع قصور اپریل 1947 ء میں پیدا ہوئے۔ حفظِ قرآن اور سکول کی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ تجویدِ قرآن جامعہ محمدیہ اور درس نظامی کی تعلیم جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ سے پائی۔ اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایم۔ اے اسلامیات اور فاضل اردو کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ فراغت ِ تعلیم کے بعد لاہور میں کاروبار کرنے کے ساتھ ساتھ جون 1986 ء میں جامع مسجد ابوہریرہ کی بنیاد کریم بلاک اقبال ٹاؤن میں رکھی اور اعزازی خطابت کی ذمہ داری سنبھالی۔ 1997 ء میں ابوہریرہ شریعہ کالج کا آغاز کیا جس میں طلبہ کو چار سال میں درس نظامی اور بی ۔ اے کروایا جاتا ہے۔ 1987 ء میں مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات اور 1996 ء سے لے کر 2002 تک مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سیکرٹری جنرل رہے۔ اس کے بعد موصوف نے   مرکزی جمعیت کی  آئندہ ذمہ داری سنبھالنے سے معذرت کی اور اپنے آپ کو تعلیم و تصنیف کے لیے وقف کیا۔تفسیر فہم القرآن کے علاوہ متعدد کتب  تصنیف کر کے شائع کیں۔ 2005 ء میں تفسیر فہم القرآن لکھنے کا آغاز کیا۔جو 6 سال کے عرصہ میں مکمل ہوئی ۔اللہ تعالیٰ میاں صاحب  کے علم وعمل اور عمرمیں برکت فرمائے اور ان کی تمام مساعی کو اپنی بارگاہ  میں  قبول فرمائے ۔(م۔ا)

  • 72 #5746

    مصنف : ڈاکٹر محمد عمران

    مشاہدات : 1687

    قادیانی تفاسیر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

    (جمعہ 15 ستمبر 2017ء) ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان

    اللہ رب العزت نے سیدنا حضرت آدم﷤ سے سلسلہ نبوت کا آغاز کیا اور آخر میں آخری نبی و رسول  حضرت محمد ﷺ کو  مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت  کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک  کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کی حقیقت کو جھوٹ وفریب کا بے نقاب کرد یا ۔چنانچہ اس کے خلاف ایک زبر دست تحریک چلی جو اس کے دھوکے اور فریب کو تنکوں کی طرح بہا لے گئی۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے اسے اور اس کے پیروکاروں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک عظیم الشان فیصلہ کر کے ایک تاریخ رقم کردی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قادیانی تفاسیر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘ ڈاکٹر محمد عمران کی ہے۔ جس میں مرزا قادیانی نے جو قرآنی آیات کی تحریف اور غلط تفاسیر کیں ہیں ان کو عیاں کیا ہے ۔ مزید اس کتاب میں تعارف قادیانیت، مرزا غلام احمد قادیانی، حکیم نور الدین بھیروی، مولوی میر محمد سعید، مولوی غلام حسن نیازی، ڈاکٹر بشارت احمد، محمد علی لاہوری اور قادیانی کی دیگر    تفاسیر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ تا کہ کوئی مسلمان ان کی گندی باتوں میں نہ آئے اور گمراہی کے دین سے بچ کر دین محمدیﷺ کو اپنے جسم اور روح میں بسا لے۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو قادیانیوں کے اس خطرناک فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 73 #3718

    مصنف : نا معلوم

    مشاہدات : 2447

    قرآن مجید کی تفسیریں چودہ سو برس میں

    (جمعرات 29 اکتوبر 2015ء) ناشر : خدا بخش اوریئنٹل پبلک لائبریری، پٹنہ

    تفسیر کا معنی بیان کرنا یا کھولنا یا کسی تحریر کےمطالب کوسامعین کےقریب ِفہم کردینا ہے ۔قرآن مجید ایک کامل ومکمل کتاب ہے مگر اس کوسمجھنے کےلیے مختلف علوم کی ضرورت ہے ۔قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرنا اور ان کامطلب بیان کرنا علم تفسیر ہے اور علم تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظِ قرآن کی کیفیت ،نطق،اور الفاظ کے معانی اور ان کےافرادی ترکیبی حالات اور ان کے تتمات کا بیان ہوتاہے ۔ قرآن کلام الٰہی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ میں ایسی قابلیت پیدا کردی تھی کہ آپ منشاء الٰہی کو سمجھ جاتے تھے   اور آپ کو وحی جلی اور وحی خفی کے ذریعہ سےاحکام سے آگاہ بھی کردیاجاتا تھا ۔جو سورت یاآیت نازل ہوتی آپ مسلمانوں کو اس کامطلب سمجھادیتے تھے ۔اس لیے قرٖٖآن مجید کےمفسر اول حضور ﷺ اور پہلی تفسیر حدیث ِرسول ﷺہے ۔آپ ﷺ نے قرآن کی جو تفسیر بیان کی اس کا کچھ حصہ آپ کی حیات ِمبارکہ میں ہی ضبط تحریر میں آیا او رکچھ حصہ صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ رہا جو اس عہد کے بعد ضبطِ تحریر میں آیا ۔عہد خلافت راشد ہ میں مسلمانوں کی زیادہ توجہ حفظ قرآن اور تدوین حدیث اور ملکی معاملات پر رہی اس لیے تفسیر کے نام سے سوائے تفسیر ابی بن کعب اور تفسیر ابن عباس کےاورکوئی تفسیر کی کتاب مرتب نہیں ہوئی۔ اس کے بعد عصر حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں اور ہر صدی میں متعدد کتب تفسیر کی کئی لکھی گئیں۔اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن مجید کی تفسیریں چودہ سو برس میں ‘‘خدابخش لائبریری، انڈیا کےزیر اہتمام 1989ء میں قرآنیات کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمنار میں نامور 41 اہل علم کے   تفسیر، تاریخ تفسیر،تذکرہ مفسرین اور علوم قرآن پر پیش کیےگئے مضامین ومقالات کامجموعہ ہے۔ جسے خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری آف پٹنہ کی انتظامیہ نے مرتب کر کے کتابی صورت میں شائع کیا۔ یہ کتاب اہل علم اورطالبان ِعلوم نبوت کے لیے مفسرین اور کتب تفاسیر کے تعارف کے حوالے سے قیمتی تحفہ ہے اللہ تعالی ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 74 #1578

    مصنف : نا معلوم

    مشاہدات : 17506

    قرآن کریم کے آخری تین پاروں کی تفسیر

    (ہفتہ 15 دسمبر 2012ء) ناشر : نا معلوم

    اسلام کے ابتدائی دور ہی سے علمائے حق نے قرآنی علوم کی ترویج وتبلیغ کاسلسلہ شروع کیا اور عامۃ الناس کی آسانی کے لیے قرآن کے مطالب و مفاہیم کو احسن اور عام فہم انداز سے پیش کیا ،تاکہ قرآن حکیم کی تعلیمات عام ہوں اورلوگوں میں قرآن فہمی    کا ذوق اجاگر ہو ۔علماءکرام نے یہ فریضہ بخوبی ادا کیا اور قرآن مقدس کی تفسیر ،تشریح ،لغوی بحث ،شان نزول کے بیان سمیت مختلف تحقیقی وتکنیکی پہلؤوں پرکام کیا،جوقرآن کے ساتھ ان کی شدید محبت ومودت کی واضح علامت ہے۔ قرآن کریم کے آخری تین پاروں کی جہاں اور اعتبارات سے بہت زیادہ اہمیت ہے وہیں تفصیلی احوال جنت و جہنم اور دیگر احکامات الٰہیہ نے ان کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اسی کے پیش نظر زیر مطالعہ کتاب میں قرآن کریم کے آخری تین پاروں کا ترجمہ و تفسیر اور دیگر احکام و مسائل کو بالبداہت بیان کر دیا گیا ہے۔ شروع میں قرآن کریم کی فضیلت پر روشنی ڈالی گئی ہے اس کے بعد آخری تین پاروں کا متن کے ساتھ مکمل اردو ترجمہ قم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آخر میں ان پاروں سے مستنبط شدہ احکام کو نہایت عمدہ اور سہل انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 75 #2421

    مصنف : محمد عبد الہادی ابراہیم

    مشاہدات : 4119

    قرآن کریم کے تیس پاروں کا مختصر خلاصہ

    (پیر 15 ستمبر 2014ء) ناشر : ادارہ تبلیغ القرآن لاہور

    رمضان المبارک  کے مقدس مہینے میں لوگ  اللہ تعالیٰ  کی توفیق سے   نماز تراویح میں قرآن کریم سنتے اور دن میں تلاوت بھی کرتے ہیں  لیکن  اکثر احباب قرآن کریم   کے معنی اور مفہوم سےنابلد ہیں جس کی وجہ سے   اکثر لوگ  اس  مقدس کتاب  کی تعلیمات اور احکامات  سے محروم رہتے  ہیں ۔  محترم  محمد عبدالہادی ابراہیم  نے اس کمی کو  پورا کرنے کےلیے   تیس پاروں  کی تعلیمات اور مفہوم پر مشتمل یہ مختصر سا خلاصہ مرتب کیا ہے  ۔تاکہ ہر کوئی قرآن کریم  سنے اور سمجھے اور اس کے دل میں  قرآن  مجید  کو پڑھنے  اور اس پر عمل  کرنے کاشوق پیدا ہو ۔اللہ تعالی ٰ  فاضل مرتب کی اس کاوش کو  قبول فرمائے  ۔ اور اس مختصر   خلاصہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش  بنائے (آمین)(م۔ا)

     

  • قرآن کریم(اشرف الحواشی)

    (منگل 22 مئی 2012ء) ناشر : ابوالکلام آزاد اسلامک اویکنگ سنٹر نئی دہلی

    اس وقت آپ کے سامنے قرآن مجید کا وہ اردو ترجمہ موجود ہے جو شاہ رفیع الدین اور نواب وحید الزماں حیدر آبادی نے کیا۔ اردو ترجمہ لفظی اور بامحاورہ دونوں صورتوں میں موجود ہے۔ آیات کی مختصر تفسیر بھی درج کی گئی ہے جو شیخ الحدیث محمد عبدہ الفلاح نے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کی کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور انھیں اس کا بہترین بدیل عطا فرمائے۔ آمین (ع۔م)
     

  • 77 #1151

    مصنف : محمد عبد الرشید نعمانی

    مشاہدات : 23763

    لغات القرآن - جلد1

    dsa (جمعرات 01 مارچ 2012ء) ناشر : مکتبہ حسن سہیل راحت مارکیٹ لاہور

    قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے اس کے الفاظ کے معانی و مفاہیم کا جاننا از بس ضروری ہے۔ لہٰذا اہل علم نے ہر دور میں الفاظ قرآن کو موضوع بحث بناتے ہوئے اس پر مستقل تصانیف مرتب کی ہیں۔ اس میدان میں ماہرین لغت میں سے اگرچہ زجاج، فراء، اخفش، ابو عبیدہ، ابن قتیبہ، ابن الانباری، ابن درید اور راغب اصفہانی وغیرہم کی کوششیں قابل قدر ہیں لیکن چونکہ یہ تمام کتب عربی زبان میں مدون کی گئی تھیں لہٰذا اردو دان طبقے کے لیے اس سے استفادہ تقریباً ناممکن ہے۔ پس اس امر کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ دنیاوی تعلیم یافتہ طبقے میں قرآن فہمی کو رواج دینے کے لیے اردو زبان میں کوئی ایسی کتاب ہونی چاہیے جو علمی اسلوب میں قرآنی الفاظ اور مفردات پر بحث کرتی ہو۔ مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب نے اپنی اس کتاب کے ذریعے اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس قرآنی معجم یا لغت کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اسے الف بائی یعنی حرف تہجی کی ترتیب میں مرتب کیا گیا ہے جس سے عامۃ الناس کے لیے اس کتاب سے استفادہ بہت آسان ہو گیا ہے جبکہ عموماً قرآنی لغات کو سہ حرفی مادے کے اعتبار سے مرتب کیا جاتا ہے جس کے سبب سے عوام کے لیے ان لغات سے استفادہ کرنا نسبتاً کافی مشکل ہوتا ہے ۔ مولانا نے قرآنی الفاظ کے متفرق لغات یا اہل لغت سے معانی جمع کرتے ہوئے اس امر کا لحاظ رکھا ہے کہ اگر انہیں حدیث وسنت میں کہیں کسی لفظ کا کوئی معنی ملا تو انہوں نے اسے بھی خصوصی اہتمام کے ساتھ اس لغت میں درج فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی اس سعی کو قبول ومنظور فرمائے۔ آمین!(ح۔ز)

     

  • 78 #5032

    مصنف : صالح بن فوزان الفوزان

    مشاہدات : 1642

    مختصر تفسیر سورہ فاتحہ ، آیت الکرسی ، آخری پارہ

    (جمعہ 06 جنوری 2017ء) ناشر : نا معلوم

    تفسیر کا معنیٰ بیان کرنا یا کھولنا یا کسی تحریر کےمطالب کوسامعین کےقریب ِفہم کردینا ہے ۔قرآن مجید ایک کامل ومکمل کتاب ہے مگر اس کوسمجھنے کےلیے مختلف علوم کی ضرورت ہے ۔قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرنا اور ان کامطلب بیان کرنا علم تفسیر ہے اور علم تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظِ قرآن کی کیفیت ،نطق،اور الفاظ کے معانی اور ان کےافرادی ترکیبی حالات اور ان کے تتمات کا بیان ہوتاہے ۔اور اصول تفسیر سے مراد وہ علوم ہیں جن کے ذریعے قرآن کی تشریح کی جاتی ہے۔ قرآن کلام الٰہی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ میں ایسی قابلیت پیدا کردی تھی کہ آپ منشاء الٰہی کو سمجھ جاتے تھے اور آپ کو وحی جلی اور وحی خفی کے ذریعہ سےاحکام سے آگاہ بھی کردیاجاتا تھا ۔جو سورت یاآیت نازل ہوتی آپ مسلمانوں کو اس کامطلب سمجھاتےدیتے تھے ۔اس لیے قرٖٖآن مجید کےمفسر اول حضور ﷺ اور پہلی تفسیر حدیث ِرسول ﷺہے ۔آپ ﷺ نے قرآن کی جو تفسیر بیان کی اس کا کچھ حصہ آپ کی حیات ِمبارکہ میں ہی ضبط تحریر میں آیا او رکچھ حصہ صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ رہا جو اس عہد کے بعد ضبطِ تحریر میں آیا ۔عہد خلافت راشد ہ میں مسلمانوں کی زیادہ توجہ حفظ قرآن اور تدوین حدیث اور ملکی معاملات پر رہی اس لیے تفسیر کے نام سے سوائے تفسیر ابی بن کعب اور تفسیر ابن عباس کےاورکوئی تفسیر کی کتاب مرتب نہیں ہوئی۔ اس کے بعد عصر حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں اور ہر صدی میں متعدد کتب تفسیر کی کئی لکھی گئیں ۔اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے ۔زیر تبصرہ کتاب" مختصر تفسیر سورہ فاتحہ، آیت الکرسی، آخری پارہ "سعودی عرب کے معروف عالم دین ڈاکٹر صالح بن فوزان الفوزان کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے تفسیر ابن کثیر سے انتخاب کرتے ہوئے سورہ فاتحہ، آیت الکرسی اور تیسویں پارے  کے مختصر تفسیر بیان فرمائی ہے۔اس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر غلام محمد قمر ازہری اور عبد النذیر خان ازہر ی نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 79 #4498

    مصنف : رفعت اعجاز

    مشاہدات : 2304

    مفہوم القرآن جلد اول

    dsa (ہفتہ 02 جولائی 2016ء) ناشر : بیت القرآن لاہور

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ، بیت القرآن ،لاہور وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ سات جلدوں پر مشتمل کتاب’’ مفہوم القرآن ‘‘ فہم قرآن کے سلسلے میں محترم رفعت اعجاز صاحبہ ک تصنیف ہے ۔انہوں نے اسے سکول وکالج کے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کرتے ہوئے کتاب اللہ کے معانی کواردو زبان میں نکھارنے کے لیے ایسے خوبصورت الفاظ کاانتخاب کیا ہے جن کو دس گیارہ سال کا بچہ بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔یہ کتاب ان بچوں، بڑوں اور قرآن فہمی کے طلبہ وطالبات کے لیے بہت مفید ہے جو عربی نہیں جانتے اور ناظرہ کی روزانہ تلاوت کرنے کے باوجوداس کے وسیع اور ترپیغام کوسمجھنے سے ناواقف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے قلم ، علم وعمل میں برکت فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 80 #7024

    مصنف : ڈاکٹر ریحانہ ضیا صدیقی

    مشاہدات : 1990

    مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر بیان القرآن کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ

    (اتوار 28 جولائی 2019ء) ناشر : الندوہ ٹرسٹ لائبریری چھتر اسلام آباد

    مولانا اشرف علی تھانوی ﷫ تھانہ بھون ضلع اترپردیش  میں 1863ء کوپیداہوئے   ابتدائی تعلیم میرٹھ میں ہوئی فارسی کی ابتدائی کتابیں یہیں پڑھیں اور حافظ حسین مرحوم دہلوی سے کلام پاک حفظ کیا پھر تھانہ بھون آکر حضرت مولانا فتح محمد صاحب سے عربی کی ابتدائی اور فارسی کی اکثر کتابیں پڑھیں ذوالقعدہ 1295ھ میں آپ بغرض تحصیل وتکمیل علوم دینیہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور پانچ سال تک یہاں مشغول تعلیم رہ کر 1301ھ میں فراغت حاصل کی اس وقت آپ کی عمر تقریباً19سال تھی زمانہ طالب علمی میں حضرت میل جول سے الگ تھلگ رہتے اگر کتابوں سے کچھ فرصت ملتی تو اپنے استاد خاص حضرت مولانا محمد یعقوب کی خدمت میں جابیٹھتے۔ تکمیل تعلیم کے بعد والد اور اساتذہ کرام کی اجازت سے آپ کانپور تشریف لے گئے اور مدرسہ فیض عام میں پڑھانا شروع کر دیا چودہ سال تک وہاں پرفیض کو عام کرتے رہے،1315ھ میں کانپور چھوڑکر آپ آبائی وطن تھانہ بھون تشریف لائے اور یہاں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ کو نئے سرے سے آباد کیا اور مدرسہ اشرفیہ کے نام سے ایک درسگاہ کی بنیاد رکھی جہاں آخر دم تک تدریس،تزکیہ نفوس اور اصلاح معاشرہ جیسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔تدریس کے علاوہ آپ  نے بیسیوں کتب  تصنیف کیں۔ آپ کی تصانیف اور رسائل کی تعداد 800 تک ہے۔آپ کی اہم تصانیف میں  تفسیر بیان القرآن  یہ تقریباً چھ سال کی مدت میں مکمل ہوئی اور پہلی بار 1326ھ میں "اشرف المطابع" تھانہ بھون سے طبع ہوئی،اس میں سلیس بامحاورہ ترجمہ، تفسیر میں روایات صحیحہ اور اکابر کے اقوال کا التزام کیا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب’’ مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر بیان القرآن کا تحقیقی وتنقیدی مطالعہ ‘‘ ڈاکٹر ریحانہ ضیاء صدیقی  کے تحقیقی مقالہ کی کتابی صورت  ہے جیسے انہوں نے 1991ء میں   علی گڑھ یونیورسٹی میں پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی  بعد ازاں اس تحقیقی مقالہ کو کتابی میں شائع کردیاگیا۔مقالہ نگار نے   اس مقالے میں  مولانا اشرف علی تھانوی نے جس مقصد اور ضرورت کے تحت تفسیر بیان  القرآن  لکھی تھی اسے  پوری طرح مثالوں کےساتھ واضح کرنے کی  کوشش کے ساتھ ساتھ  تفسیر کے تحقیقی مطالعہ کی روشنی میں چنددیگر تراجم وتفاسیر کا ذکرکرتے ہوئے تفسیر کی فقہی :عقلی،کلامی حیثیت کو واضح کیا ہے  اور اردوترجمہ ،ربط آیات کے حوالوں سے مثالیں بھی پیش کی ہیں ۔نیز مولانا تھانوی کی تفسیر کا امتیاز دیگر تراجم  اور تفاسیر کے موازنہ کےساتھ  مکمل ایک باب میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 9 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1859
  • اس ہفتے کے قارئین 7844
  • اس ماہ کے قارئین 46238
  • کل قارئین49339093

موضوعاتی فہرست