#5256

مصنف : اشتیاق احمد ظلی

مشاہدات : 2351

مولانا الطاف حسین حالی کی یاد میں

  • صفحات: 231
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 5775 (PKR)
(منگل 04 اپریل 2017ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

مولانا الطاف حسین حالی ، ہندوستان میں ’’اردو‘‘ کےنامورشاعراورنقاد گزرے ہیں۔حالی 1837ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ابھی 9 سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ بڑے بھائی امداد حسین نے پرورش کی۔ اسلامی دستور کے مطابق پہلے قرآن مجید حفظ کیا۔ بعد ازاں عربی کی تعلیم شروع کی۔دلی میں 2 سال عربی صرف و نحو اور منطق وغیرہ پڑھتے رہے۔ حالی کے بچپن کا زمانہ ہندوستان میں تمدن اور معاشرت کے انتہائی زوال کا دور تھا۔ سلطنتِ مغلیہ جو 300 سال سے اہل ِ ہند خصوصاََ مسلمانوں کی تمدنی زندگی کی مرکز بنی ہوئی تھی، دم توڑ رہی تھی۔ سیاسی انتشار کی وجہ سے جماعت کا شیرازہ بکھر چکا تھا، اور انفرادیت کی ہوا چل رہی تھی۔1856ء میں ہسار کے کلکٹر کے دفتر میں ملازم ہوگئے لیکن 1857ء میں پانی پت آ گئے۔ 3-4 سال بعد جہانگیر آباد کے رئیس مصطفٰی خان شیفؔتہ کے بچوں کے اتالیق مقرر ہوئے۔ نواب صاحب کی صحبت سے مولانا حالی کی شاعری چمک اٹھی۔ تقریباَ 8 سال مستفید ہوتے رہے۔ پھر دلی آکر مرزا غالب کے شاگرد ہوئے۔ غالب کی وفات پر حالی لاہور چلے آئے اور گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازمت اختیار کی۔ لاہور میں محمدحسین آزاد کے ساتھ مل کر انجمن پنجاب کی بنیاد ڈالی یوں شعر و شاعری کی خدمت کی اور جدید شاعری کی بنیاد ڈالی۔4 سال لاہور میں رہنے کے بعد دلی چلے گئے اور اینگلو عربک کالج میں معلم ہوگئے۔ وہاں سرسید احمد خان سےملاقات ہوئی اور ان کے خیالات سے متاثر ہوئے۔ اسی دوران1879ء میں ’’مسدس حالی‘‘ سر سید کی فرمائش پرلکھی۔ ’’مسدس‘‘ کے بعد حالی نے اِسی طرز کی اوربہت سی نظمیں لکھیں جن کے سیدھے سادے الفاظ میں انہوں نے فلسفہ، تاریخ، معاشرت اور اخلاق کے ایسے پہلو بیان کئے جن کو نظر انداز کیا جارہا تھا۔ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد پانی پت میں سکونت اختیار کی۔ 1904ء میں ’’شمس اللعلماء‘‘ کا خطاب ملا 31 دسمبر 1914ء کو پانی پت میں وفات پائی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مولانا الطاف حسین حالی کی یاد میں‘‘مولانا کی حالی کی وفات کو ایک صدی پوری ہونے پر 2015ء میں دار المصنفین شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ کے زیر اہتما م منعقد کیے گیے ایک روزہ سمینار بعنوان ’’ مولانا حالی کی یاد‘‘ میں مختلف اہل قلم کی طرف سے پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے ۔ ان مقالات کو جناب اشتیاق احمد ظلی نے مرتب کیا ہے ۔اگرچہ یہ ایک مختصر مجموعہ ہے لیکن اس میں مولانا حالی کی دلآیز شخصیت اور ان کی عظیم الشان علمی اور ادبی خدمات کا ممکن حد تک احاطہ کر نے کی کوشش کی گئی ہے ۔(م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

مقد مہ

الف

حالی  کی کہا نی  خود  ان کی زبانی

9

حیات  سعد ی اور مو لنا  حا لی ۔ علامہ شبلی کے  قیام  علی گڑھ  کے ا بتدا ئی  دنو ں کی ایک  نادر تحر یر

18

تصا نیف حالی

22

حالی اور سر سید

27

حالی ۔ ایک  جامع  کما لات  شخصیت

39

حالی ۔ ایک مطالعہ

45

مسد س حالی  اور اس کے اثرات

56

حالی کی نثر ۔ غیر افسانوں  اد ب کا مثا لی  اسلوب

66

حالی  کی  تنقیدی  بصیر ت  کے حوالے  سے 

 

بعض باتیں

79

حالی  کا نظر یہ  شعر

86

 مو لنا   حالی  اور عر بی ز با ن  و ادب

99

سما جی درد مند ی کا استعا رہ ۔ مجا لس النساء

110

شبلی  کی  حالی  شنا سی

119

حالی کی تحریر  و ں  میں بچے  اور عو رتیں

161

متعلقات  حالی

170

روادا ری مو لنا حا لی سیمنار

187

معا رف اور مو لنا حالی

190

اشاریہ

199

آپ کے براؤزر میں پی ڈی ایف کا کوئی پلگن مجود نہیں. اس کے بجاے آپ یہاں کلک کر کے پی ڈی ایف ڈونلوڈ کر سکتے ہیں.

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1300
  • اس ہفتے کے قارئین 7573
  • اس ماہ کے قارئین 9645
  • کل قارئین55002106

موضوعاتی فہرست