دکھائیں کتب
  • 41 سگریٹ نوشی سے توبہ (پیر 13 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:1616

    شرعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی کے حرام ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔کیونکہ اس میں ایک تو فضول خرچی پائی جاتی ہے اور دوسرے نمبر پر یہ صحت کے لئے نقصان دہ بھی ہے۔اور شریعت نے فضول خرچی اور مضر صحت اشیاء ان دونوں سے منع فرمایا ہے۔یہ ترقی یافتہ زمانے کا ایسا زہر ہے جس سے چند خوش نصیب ہی محفوظ ہو نگے۔ روزانہ لاکھوں لوگ لاکھوں کروڑوں روپے اس زہر کی خریداری پر یہ جانتے ہوئے بھی خرچ کرتے ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مْضر ہے۔"تمباکو میں شامل ایک کیمیائی مادہ نکوٹین ہے جو زہریلے اور نشیلے اثرات کا حامل ہوتاہے۔یہ انسانی بدن میں سرایت کر کے وقتی طور پر اسے تسکین و لذت فراہم کرتا ہے،مگر خون میں شامل ہو کر اسے گاڑھا کر کے دورانِ خون کے کئی ایک عوارض کا باعث بھی بنتا ہے۔گردوں کے لیے گاڑھے خون کو صاف کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر سگریٹ نوش ہائی بلڈ پریشر،بلڈ شوگر،یورک ایسڈ ،کلیسٹرول،ہارٹ اٹیک،انجائنا،گردوں کے فیل ہونا جیسے جان لیوا اورخطرناک امراض کے چنگل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔اسی طرح سگریٹ کا دھواں حلق کے کینسر،پھیپھڑوں کے کینسر،ٹی بی اور دماغی جھلیوں کی سوزش کا سبب بھی بنتا ہے۔ایسے افراد جو سگریٹ کے دھوئیں کو منہ کے رستے معدے اور انتڑیوں تک پہنچاتے ہیں ،انہیں معدے اور انتڑیوں کے السر ،بواسیر اور جگری سوزش ہونے کے خطرات عام آدمی کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ اعصابی اور دماغی امراض میں نیند کا نہ آنا،ڈپریشن،بے چینی،پٹھوں کی کمزوری جیسے عوارض شامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سگریٹ نوشی سے توبہ"...

  • 42 شراب اور نشہ آور اشیا کی حرمت و مضرت (جمعرات 21 اگست 2014ء)

    مشاہدات:3415

    شراب اور نشہ آور اشیاء معاشرتی آفت ہیں جو صحت کو خراب خاندان کو برباد،خاص وعام بجٹ کو تباہ اور قوت پیداوار کو کمزور کرڈالتی  ہے۔ان کے استعمال کی تاریخ بھی  کم وبیش  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنی  انسانی  تہذیب  کی تاریخ  یہ اندازہ لگانا  تو بہت مشکل ہے  کہ  انسان نے ام الخبائث کا  استعمال کب شروع کیا اوراس کی  نامسعود ایجاد کاسہرہ کس کے سر ہے ؟ تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اور جتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا ندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔دین ِ اسلام   میں اللہ تعالی نے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نےاس کے  استعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ہے یہ سب اس مقصد کے تحت کیا گیا کہ مسکرات یعنی نشہ آور چیزوں سے پیدا  شدہ خرابیوں کو روکا جائے ا ن کے مفاسد کی بیخ کنی اور ان کےمضمرات کا خاتمہ کیا جائے ۔کتب احادیث وفقہ میں حرمت شرات  اور اس کے استعمال کرنے پر حدود وتعزیرات کی تفصیلات موجود ہیں ۔ اور بعض اہل  علم نے  شراب اور نشہ اور اشیا ء پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں  ۔زیر نظر کتاب ’’ شراب اور نشہ آور اشیاء کی حرمت ومضرت‘‘  ریاست قطر  کی شرعی عدالت کے قاضی شیخ  احمد بن حجر آل بوطامی  کی   عربی تصنیف  الخمر وسائر المسكرات تحريمها واضرارها کا  اردو ترجمہ ہے ۔ جس میں  فاضل مصنف نے  شراب اور نشہ  آور چ...

  • 43 شراب سے علاج کی شرعی حیثیت (اتوار 20 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2395

    شراب اور نشہ آور اشیاء معاشرتی آفت ہیں جو صحت کو خراب، خاندان کو برباد،خاص وعام بجٹ کو تباہ اور قوت پیداوار کو کمزور کرڈالتی ہے۔ان کے استعمال کی تاریخ بھی کم وبیش اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی تاریخ یہ اندازہ لگانا تو بہت مشکل ہے کہ انسان نے ام الخبائث کا استعمال کب شروع کیا اوراس کی نامسعود ایجاد کاسہرہ کس کے سر ہے ؟ تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اور جتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا ندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔دین ِ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کےلیے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نےاس کے استعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ہے یہ سب اس مقصد کے تحت کیا گیا کہ مسکرات یعنی نشہ آور چیزوں سے پیدا شدہ خرابیوں کو روکا جائے ا ن کے مفاسد کی بیخ کنی اور ان کےمضمرات کا خاتمہ کیا جائے ۔کتب احادیث وفقہ میں حرمت شرات اور اس کے استعمال کرنے پر حدود وتعزیرات کی تفصیلات موجود ہیں ۔ اور بعض اہل علم نے حرمت شراب پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔شراب کے نجس وطاہر ہونے میں اہل علم کے اقوال مختلف ہیں ۔اور اسی طرح شراب سے علاج کے بارےمیں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’شراب سے علاج کی شرعی حیثیت‘‘مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر ﷾ کے متحدہ عرب امارات کے ام القیوین ریڈیو سٹیشن سےاس مذکورہ موضوع پر اردو پروگرام میں روزانہ نشر ہونے والے تقاریر کا مجموعہ ہے۔جسے افادۂ عام کے لیے جناب مولانا غلام مصطفیٰ فاروق نے کتابی صورت میں مرتب کیا ہے۔اس کتاب...

  • 44 شرعی داڑھی (پیر 06 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2153

    اللہ تعالی نے انسان کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ،اور مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی  جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں  کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعض عاقبت نااندیش ملا نہ صرف داڑھی کاٹنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں بلکہ اسے نبی کریم ﷺکی سنت بھی قرار دیتے ہیں،جو نبی کریم ﷺ پر بہت بڑا بہتان اور الزام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"شرعی ڈاڑھی "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم مولانا عبد القادر عارف حصاروی صاحب کی کاوش علمیہ ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وسنت کے دلائل سے  یہ ثابت کیا ہے کہ داڑھی رکھنا فرض اور واجب ہے اور داڑھی کاٹنا یا مونڈنا ناجائز اور حرام عمل ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک مفید اور بڑی شاندار تصنیف ہے،جو موضوع سے متعلق تمام محتویات پر مشتمل ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس جدوجہد کو قبول فرماتے ہوئے ان کے میزان حسنات میں اضافے کا باعث بنائے۔آمین(راسخ)

  • 45 شرعی منہیات پر واضح تنبیہ (پیر 14 مارچ 2011ء)

    مشاہدات:11406

    شریعت اسلامیہ میں جہاں متعدد احکامات کی تعمیل ضروری قرار دی گئی ہے وہیں بہت سے کاموں سے رکنے کا بھی سختی سے حکم دیا گیا ہے۔ تاکہ نہ صرف دنیوی زندگی کو گل و گلزار بنایا جائے  بلکہ اخروی فلاح و کامرانی بھی انسان کے مقدر ٹھہرے۔ زیر نظر مختصر سے کتابچہ میں انہی تشریعی ممانعات کو قدرے اختصار سے قلم بند کیا گیا ہے۔ شیخ صالح المنجد نے تقریباً ان تمام منہایت الہٰیہ کو جمع کر دیا ہے جو قرآن یا احادیث صحیحہ میں موجود ہیں۔ انہوں نے اس کی ترتیب فقہی ابواب پر رکھی ہے۔ مکمل نص ذکر کرنے سے احتراز کرتے ہوئے صرف جزء شاہد پر اکتفاء کیا ہے۔ کتاب میں بیان کردہ منہیات کے حوالہ جات مذکور نہیں ہیں اگر یہ اہتمام ہو جاتا تو کتاب کی افادیت مزید بڑھ جاتی۔

     

  • 46 شیطان کی اذان (جمعہ 22 اگست 2014ء)

    مشاہدات:1858

    گانا بجانے کا  کام  سب سے پہلے شیطان نے ایجاد کیا یعنی  گانے بجانے کا  موجد اور بانی  شیطان ہے  اور یہ شیطان کی منادی  اور اذان  ہے  جس کے ذریعہ  وہ لوگوں کوبلاتا ہے  اور گمراہی  کے جال میں پھنساتا ہے  ۔قرآن  وحدیث    میں گانے بجانے کی  سخت ممانعت  اور وعید  بیان  ہوئی ہے  بلکہ  قیامت کی نشانیوں میں  سے  گانا بجانا بھی ایک  نشانی  ہے ۔گانا گانےاور بجانے کا پیشہ  اس  قدر عام  ہو گیا  ہے کہ اسے  مہذب شہریوں اور معزز خاندانوں نے  بھی اپنا لیا ہے ۔کمینے لوگوں کے نام بدل دئیے گئے ہیں  ۔آج ناچنے ،گانے والا کنجر نہیں گلوکار اور اداکار کہلاتا ہے  اور ڈھول بجانے والا نٹ اور میراثی نہیں بلکہ  موسیقار اور فنکار کے  لقب سے  نوازا جاتا ہے۔اور ان  لوگوں کوباقاعد ایوارڈ دئیے جاتے  ہیں  اور  برائی کی اس طرح حوصلہ  افزائی کی  کہ ان  کی عزت اور شہرت  کاچرچا دیکھ کر بقیہ لوگ بھی اس گمراہی   کے کام میں  مبتلا ہوں۔زیر نظر کتاب ’’ شیطان  کی اذان ‘‘   محترم  قاری محمد سعید  صدیقی  ﷾  کی تصنیف ہے ۔ جس میں  انہوں نے  قرآن وحدیث کے دلائل  کی  روشنی میں موسیقی  کی حرمت اور عوام کو اس مہلک بیماری کے مضر اثرات اور  نقصانات سے آگاہ کردیا ہے ۔اللہ تعا...

  • 47 صنف مخالف کی مشابہت ایک مہلک بیماری (منگل 21 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2073

    دور  ِحاضر میں  مغرب میں ظاہری طور پر مرد اور عورت کا فرق  مٹ چکا ہے  مساوات کے جنون  میں عورتیں  مردوں کی طرح اور مرد عورتوں کی طرح نظر آنے اورکام کرنے کےجنون میں  مبتلا  ہوچکے ہیں۔لوگ  آپریشن کروا کر اور زنانہ  یا مردانہ ہارمونز کے انجکشن لگوا کر اپنی  جنس تبدیل کروا رہے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے تخلیق کردہ  قوانین  فطرت میں بے  جار ردوبدل کرنےکی  گستاخانہ ،مشرکانہ اور سفاکانہ  حرکات جاری ہیں۔صنف نازک کی مشابہت کا  مطلب یہ ہے کہ مردکاعورت کی اورعورت کا مرد کی نقالی کرنا مرد کازنانہ چیزیں اور عادتیں جب کہ عورت کامردانہ چیزیں اور عادتیں اختیار  کرنا ہے۔مشابہت ایک شرعی اصطلاح  ہے جسے  تشبہ بھی  کہا جاتاہے  ۔اگر کوئی شخص اپنا لباس ،حلیہ  ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار   اپنی  صنف یا ہم پیشہ لوگوں کے علاوہ  کسی اورکا لباس ،حلیہ ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار  اپنا لے  تو اسے  تشبہ یا مشابہت کہا جاتا ہے  اسلام نے مشابہت یا  تشبہ اختیار کرنے سے منع کیا ہے ۔ارشاد  نبوی ہے  من  تشبه  بقوم فهو منهم(سنن ابو داؤد) ’’جس  نے کسی کی مشابہت اختیار کی  وہ انہی  میں سے   ہے ‘‘ایک اور حدیث میں  نبی کریم ﷺ نے مخنث مردوں پر اور اسی طرح مرد بننے والی عورتوں پر  بھی لعنت کی ہے۔اس لیے  صنف مخالف کی مشابہت حرام اورممنوع کام  ہے ۔اس کی رو...

  • 48 عورتوں پر حرام مگر کیا؟ (پیر 30 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2162

    آج کل میڈیا کادور ہے کفار موجودہ الیکٹرانک میڈیا کو مسلمانوں کےبچوں اور عورتوں کےخلاف خاص طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ماڈرن ازم ، روشن خیالی ، فیشن ، تہذیب ، ثقافت ، کلچر او ر میک اپ جیسے بکھیڑوں میں پھنس کر وہ حلال وحرام کی تمیز کھو بیٹھیں۔ وہ جدیدیت کے مہلک زہر کواس طرح اپنی رگوں میں اتار لیں کہ ان کو روز مرہ زندگی میں یہ پتہ ہی نہ چل پائے کہ وہ جو کام کررہی ہیں یہ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول اللہﷺ کو ناپسند ہے اوران کاموں سے منع کردیا گیاہے ۔ یہ کام حرام کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کامرتکب اللہ اوررسول اللہ ﷺ کا باغی ونافرمان قرار پاکر دونوں جہانوں میں ناکام ونامراد ہوتاہے۔ آج ہمارری خواتین آخرت کی جوابدہی کو یکسر بھول گئی ہیں جبکہ ان کوزندگی کالمحہ لمحہ اللہ کریم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنا چاہیے اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں ۔اگر انہوں نے حلال وحرام کی تمیز کو ترک کردیا مادر پدر آزاد زندگی گزاری تویہ اولاد قبر میں ان کےلیے دردناک عذاب کا باعث ثابت ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عورتوں پر حرام مگر کیا ‘‘ خالد عبدالرحمن العک کی عربی تصنیف کا ترجمہ ہے سلیس اور رواں اردو ترجمہ کے فرائض مولانا سلیم اللہ زماں﷾ نے انجام دیے ہیں۔ مصنف نے اس کتاب میں روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے ایسے امور ،عقائد اور دوسرے مسائل کی نشاندہی کی ہےکہ جن کی شریعت ِاسلامیہ مین ذرہ بھر گنجائش نہیں ہے وہ صریحاً حرام ہیں۔ یہ امور مرد وزن دونوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس میں ایسے امور کوترجیحاً کھول کھول کر بیان کیاگیا ہے کہ جن کاتعلق خاص طور پر صن...

  • 49 عکسی تصویر یا فوٹو کی شرعی حیثیت (پیر 08 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2329

    عصر حاضر کے جدید مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ فوٹو گرافی یا عکسی تصاویر کا بھی ہے، جسے عربی زبان میں صورۃ شمسیہ کہا جاتا ہے، جو دور حاضر میں انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔آج کوئی بھی شخص جو فوٹو گرافی کو جائز سمجھتا ہو یا ناجائز سمجھتا ہو ،بہر حال اپنی معاشی ،معاشرتی اور سماجی تقاضوں کے باعث فوٹو بنوانے پر مجبور ہے۔اس مسئلہ میں اگر افراد کے اذہان ورجحانات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دو متضاد انتہاؤں پر پائی جاتی ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر قسم کی تصاویر ،عکسی تصاویر اور مجسموں کو سجاوٹ اور (مذہبی اور غیر مذہبی)جذباتی وابستگی کے ساتھ رکھنے اور آویزاں کرنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔ان میں عام طور پر وہ لوگ شامل ہیں جن کا دین سے کوئی بھی تعلق برائے نام ہی ہے۔جبکہ دوسری انتہاء پر وہ لوگ پائے جاتے ہیں ،جو ہر قسم کی تصاویرخواہ وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا مشین اور کیمرے کے ذریعے سے،انہیں مطلقا حرام سمجھتے ہیں ،مگر اس کے باوجود قومی شناختی کارڈ،پاسپورٹ ،کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کا فارم اور بعض دیگر امور کے لئے بھی عکسی تصاویر بنواتے اور رکھتے ہیں۔ زیر تبصرہ مضمون " عکسی تصاویر یا فوٹو کی شرعی حیثیت " ابو الوفاء محمد طارق عادل خان﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں تصویر سازی سے متعلق ایک شاندار بحث کی ہے اور اس موضوع کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ان کے مطابق بعض تصاویر حرام ،بعض مکروہ اور بعض مباح یعنی جائز ہیں ۔اور پھر ہر قسم پر قرآن وحدیث سے استدلال کیا ہے۔یہ اپنے موضوع پر ایک مفید بحث...

  • 50 فوٹو گرافی کا جواز (بدھ 08 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2142

    عصر حاضر کے جدید مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ فوٹو گرافی یا عکسی تصاویر کا بھی ہے، جسے عربی زبان میں صورۃ شمسیہ  کہا جاتا ہے، جو دور حاضر میں انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔آج کوئی بھی شخص جو فوٹو گرافی کو جائز سمجھتا ہو یا ناجائز سمجھتا ہو ،بہر حال اپنی معاشی ،معاشرتی اور سماجی تقاضوں کے باعث فوٹو بنوانے پر مجبور ہے۔اس مسئلہ میں اگر افراد کے اذہان ورجحانات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دو متضاد انتہاؤں پر پائی جاتی ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر قسم کی تصاویر ،عکسی تصاویر اور مجسموں کو سجاوٹ اور (مذہبی اور غیر مذہبی)جذباتی وابستگی کے ساتھ رکھنے اور آویزاں کرنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔ان میں عام طور پر وہ لوگ شامل ہیں جن کا دین سے کوئی بھی تعلق برائے نام ہی ہے۔جبکہ دوسری انتہاء پر وہ لوگ پائے جاتے ہیں ،جو ہر قسم کی تصاویرخواہ وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا مشین اور کیمرے کے ذریعے سے،انہیں مطلقا حرام سمجھتے ہیں ،مگر اس کے باوجود قومی شناختی کارڈ،پاسپورٹ ،کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کا فارم اور بعض دیگر امور کے لئے بھی عکسی تصاویر بنواتے اور رکھتے ہیں۔ زیر تبصرہ مضمون " فوٹو گرافی کا جواز "مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی راہنما محترم رانا محمد شفیق خان پسروری صاحب  کی کاوش ہے جس میں انہوں تصویر سازی سے متعلق ایک شاندار بحث کی ہے  اور اس موضوع کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ان کے مطابق بعض تصاویر حرام ،بعض مکروہ اور بعض مباح یعنی جائز ہیں ۔اور پھر ہر قسم پر قرآن وحدیث سے...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1514
  • اس ہفتے کے قارئین: 6004
  • اس ماہ کے قارئین: 40025
  • کل قارئین : 47867781

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں