دکھائیں کتب
  • 21 قیام اللیل (پیر 26 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1883

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" قیام اللیل "دوسری صدی ہجری کے معروف امام محمد بن نصر المروزی﷫ کی تصنیف ہے۔جس کا اردو ترجمہ محترم عبد الرشید حنیف صاحب نے کیا ہے۔ چنانچہ مولف موصوف نے  مستند دلائل سےگیارہ رکعت نماز تراویح کو ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو...

  • 22 قیام اللیل اور مروجہ شب بیداریاں (پیر 13 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2124

    قیام اللیل کا  مطلب عشاء کی نمازِ فرض کے علاوہ رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز ادا کرنا ہے ۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے اس عبادت کا غالب حصہ نمازتہجد  سے  ہے ۔ لہٰذا تہجد اور قیام اللیل دونوں نام ایک دوسرے کے مترادف کےطور پر قرآن وحدیث میں استعمال ہوئے ہیں۔اور رمضان کی راتوں کا یہی  وہ قیام  ہے جسے تراویح بھی کہا جاتاہے ۔نبی کریم ﷺ نے  رمضان البارک میں  قیام  کرنے کی بڑی  فضیلت  بیان کی ہے ۔ ارشا د نبوی  ہے : «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»لیکن دور حاضر میں  قیام اللیل جیسی عظیم  نفلی عبادت  کو شب بیداریوں کی رنگا رنگ اقسام اختیار کرکے  اسے رواجی  چیزوں کی  گرد سےدھندلا دیاگیا ہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’ قیام اللیل  اور مروجہ شب بیداریاں‘‘ میں  محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ  نے   کوشش کی  ہے کہ  قیام اللیل کو کتاب وسنت کی روشنی میں  واضح کیاجائے اور رواجی  چیزوں کی گرد  کوالگ کرکے  یہ دکھایا اور بتایا جائے کہ اس وقت کی مروجہ شب بیداریوں میں  قرآن  وسنت کے مطابق کیا ہے اور کیااس کے مطابق نہیں ہے۔تاکہ خلوص اور زندہ جذبے کے ساتھ اس  عبادت کوادا کرنے والے لاعلمی میں غلط  کو صحیح سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں تو اس سے بچ کر  قیام اللیل کے مقاصد ،منافع اور فوائد کوسمیٹ سکیں۔اللہ تعالیٰ  محترمہ کی اس کاوش کو عوام الناس&n...

  • 23 مختصر قیام رمضان (جمعرات 11 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:361

    نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔صحیح احادیث  کے مطابق  رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد بشمول وتر گیارہ ہے  ۔مسنون تعداد کا  مطلب  وہ تعداد  ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ زیر کتابچہ’’ مختصر قیام رمضان ‘‘علامہ ناصر الدین البانی   کی ’’ صلاۃالتراویح‘‘ کے اختصار کا اردو ترجمہ  ہے یہ  اختصار بھی علامہ البانی ﷫ نے خود  ہی کیا تھا اختصار میں  علامہ مرحو نے اعتکاف وغیرہ سےمتعلق بعض مفید باتوں کا اضافہ بھی کیا ہے ۔علامہ موصوف نے اس کتاب میں نماز تراویح کی آٹھ رکعات کو ثابت کرنے کے علاوہ  یہ بھی ثابت کیا ہے جو سیدنا عمرفاروق ﷜ کے مشہور ہے کہ انہوں نے بیس رکعت تراویح کی بنیاد رکھی وہ بالکل غلط ہے نہ توسیدنا عمرفاروق ﷜ نے بیس رکعت کا حکم دیا  اورنہ آپﷺ نےخود بیس ر...

  • 24 مسنون رکعات تراویح دلائل کی روشنی میں (ہفتہ 30 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2865

    صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد آٹھ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے منتخب کی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے اس لیے جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’مسنون رکعات تراویح دلائل کی روشنی میں ‘‘انڈیا   جید عالم دین مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہو ں رکعات تراویح کے سلسلے میں وارد   احادیث کی مکمل تحقیق پیش کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ تعداد رکعات تراویج بشمول وتر کل گیارہ رکعات ہیں اور صحابہ کرام ﷢کا عمل بھی اسی پر تھا نبی کریم ﷺ کا رمضان او رغیر رمضان میں رات کا قیام بالعموم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢ کوتین رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات ہی تھیں او ر حضرت عمر ﷜ نے   بھی مدینے کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے کا حکم دیاتھا اور گیارہ رکعات پڑھنا ہی   مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔(م۔ا)

  • 25 مسنون رکعات تراویح مع فضائل ومسائل رمضان (بدھ 24 اگست 2011ء)

    مشاہدات:19869

    اہل حدیث اور احناف کے مابین جو مسائل اختلافی ہیں ۔ان میں سے ایک مسئلہ تراویح کی رکعات کا بھی ہے کہ وہ آٹھ ہیں یا بیس؟اس حوالے سے متعدد کتابیں دونوں جانب سے لکھی جا چکی ہیں۔زیر نظر کتاب بھی اسی موضوع پر ہے۔اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں انتہائی معتدل اور سنجیدہ علمی انداز سے بحث کی گئی ہے۔کتاب کے آغاز میں سنت اوراطاعت رسول کی اہمیت پر مختصر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے بعد رمضان المبارک کے فضائل ومسائل بیان کیے گئے ہیں اور پھر تراویح کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔زیر نظر کتاب میں دلائل وبراہین قاطعہ سے ثابت کیا گیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ رکعات (تین وتر سمیت)ہی پڑھی ہیں۔اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا۔اسی طرح متعدد علمائے احناف نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ تراویح گیارہ رکعات ہیں۔بیس رکعات کے حق میں جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں ان کا بھی غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا گیا  ہے،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دلائل ضعیف ہیں،جن سے مدعا ثابت نہیں ہوتا۔اس مختصر کتابچہ کے مطالعہ سے یقیناً اس مسئلہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی بشرطیکہ تعصب کی عینک اتار کر اس کا مطالعہ کیا جائے۔(ط۔ا)
     

  • 26 نماز تراویح (جمعہ 28 نومبر 2008ء)

    مشاہدات:13538

    اس کتاب میں مصنف نے نماز تراویح کے فضائل و برکات ، تعداد رکعات ، ازالہ شبہات نماز تراویح کا حکم ، قیام اللیل ، صلوۃ اللیل اور تہجد میں فرق بیان کیا ہے اور بیس رکعات تراویح سے متعلق حدیث کی حقیقت اور اس کے متعلقہ آثار صحابہ کی استنادی حیثیت ،آٹھ رکعات تراویح فقہاء احناف کی کتب سے ، ہفت روزہ الاعتصام میں ایک استفتاء ، اور اس کے علاوہ جلالپوری صاحب کا ایک محققانہ مقالہ ، مسئلہ تراویح اور سعودی علماء و مشائخ اور اس کے آخر میں مصادر و تراجم کا ذکرہے۔

  • 27 نماز تراویح ( البانی ) (جمعہ 26 جون 2015ء)

    مشاہدات:2625

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب"نماز تراویح"اپنے زمانے کے امام اردن کے معروف عالم دین اور بے شمار کتب کے مصنف علامہ البانی صاحب﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا محمد صادق خلیل صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں نماز تراویح کی آٹھ رکعات کو ثابت کیا ہے...

  • 28 نماز تراویح (رانا اسحاق ) (جمعہ 18 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:1386

    صحیح احادیث  کے مطابق  نبی کریم ﷺ کا  رمضان او رغیر رمضان میں  رات کا قیام  بالعموم گیارہ رکعات سے  زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر   کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام   کوتین  رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات  ہی تھیں  او ر حضرت عمر   نے   بھی مدینے  کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے  کا حکم دیاتھا اور  گیارہ  رکعات پڑھنا ہی   مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ،  حضرت علی بن  ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔ زیر تبصرہ  کتابچہ’’ 20 نماز تراویح‘‘دراصل  17 فروری 1994ء  نوائےوقت میں ’’نماز تراویح کی اہمیت‘‘ کے عنوان  سےشائع ہونے والے ایک آرٹیکل کےجواب  تحریرکیا  گیا تھا ۔نوائے  وقت کےمضمون  نگار نے  موطا امام مالک کی  ایک  حدیث کو  خلط ملط   کر کے  نماز تراویح کی تعداد بتائی  جس پر  جناب ڈاکٹررانا  محمد اسحاق﷫ نےایڈیٹر نوائے وقت اور مضمون نگار کو آگاہ کیا  مگر کسی نے جواب نہ دیا تو  موصوف نے یہ مضمون  کتابچہ کی صورت میں شائع کردیا ۔ تاکہ مسنون تراویح کی آٹھ رکعات کے  واضح اور ٹھوس دلائل سے عوام الناس واقف ہوکر اس پر عمل پیرا ہوسکیں او ر ڈاکٹر  رانا محمد اسحاق  ﷫نے ...

  • 29 نماز تہجد (پیر 31 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1948

    تہجد کی نماز سنت ہے ۔ نبی ﷺ ہمیشہ اس کااہتمام فرماتے تھے اور صحابہ کرام کو بھی اس کے التزام کی ترغیب دیتے تھے ۔ قرآن پاک میں نبیﷺ کواس کی خصوصی تاکید فرمائی گئی ہے ۔نماز تہجد پڑھنے سے بڑی برکات حاصل ہوتی ہیں ۔نماز تہجد اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی مغفرت حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے ۔ تہجد کا اہتمام کرنےوالوں کو قرآن نے محسن اور متقی قرار دیا ہے ۔ اور ان کواللہ تعالیٰ کی رحمت اور آخرت کی ابدی نعمتوں اور بھلائیوں کامستحق قرار دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تہجد کی نماز نفس اوراخلاق کا تزکیہ کرنے او رراہ حق میں صبر وثبات کی قوت فراہم کرنےکا لازمی اور مؤثر ترین ذریعہ ہے ۔احادیث میں دیگر نمازوں کی طرح نماز تہجد ؍قیام الیل کا طریقہ بھی بیان ہوا ہے اور نماز کےموضوع پر لکھی گئی اکثرکتب میں ا س نماز کا طریقہ موجود ہے۔زیر تبصرہ کتاب ’’ نماز تہجد ‘‘ معروف عالم دین حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ﷫ کے افادات سے اخذ شدہ ہے۔ جسے شیخ الحدیث مولانا عبدلرشید صاحب نے مرتب کیا ہے۔ جس میں تہجد کے فوائد وبرکات ، تہجد اور وتر پڑہنے کا مسنون طریقہ پیش کیاہے ۔اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قارئین کے لیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 30 نماز تہجد تقرب الٰہی کا اہم ترین ذریعہ (پیر 07 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2151

    نماز دین اسلام کا کلمہ توحید کے بعد سب سے اہم ترین رکن ہے۔ یہی وہ تحفہ خداوندی ہے جو اللہ رب العزت نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو معراج کی شب عطا فرمایا۔ نماز کی فضیلت کے لیے آپﷺ کی یہ حدیث حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے"بین الرجل و بین الشرک و الکفر ترک الصلاۃ"۔ نماز دن و رات میں پانچ مرتبہ ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض کردی گئی ہے اور یہی وہ اہم رکن ہے جس کے متعلق قیامت کے روز سب سے پہلے سوال کیا جائے گا۔ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو اپنے قریب کرنے کے لیے بہت سارے اعمال فرائض و نوافل کی صورت میں متعارف کروائے، فرضی عبادات میں جہاں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ تقرب الٰہی کا ذریعہ ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے ان فرض عبادات کے علاوہ نوافل پر بھی بھرپور ترغیب دلائی ہے۔ ان نفلی عبادات میں سے ایک نفل عبادت"نماز تہجد" بھی ہے۔ نماز تہجد کی فضیلت آپﷺ کی اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے"افضل الصلوٰۃ بعد الصلوٰۃ المکتوبۃ الصلوٰۃ فی جوف اللیل"(صحیح مسلم)۔ یعنی نماز تہجد فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل ترین نماز ہے۔ نماز تہجد ایک ایسی نفلی مسنون عبادت ہے جو وسیلہ تقرب الٰہی ہونے کو ساتھ ساتھ احساس تشکّر اور اظہار عبودیت بھی ہے۔ زیر نظر کتاب"نماز تہجد تقرب الٰہی کا اہم ترین ذریعہ" مولانا خلیل الرحمٰن چشتی حفظہ اللہ کی قابل قدر تصنیف ہے۔ جس میں موصوف نے نماز تہجد کی فضیلت، نماز تہجد کے احکام و مسائل کو بڑے احسن انداز سے احاطہ تحریر میں لائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول و منظور فرمائے اور اہل اسلام کو فرض عبادات کے ساتھ ساتھ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1479
  • اس ہفتے کے قارئین: 12124
  • اس ماہ کے قارئین: 39818
  • کل قارئین : 45995706

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں