کل کتب 67

دکھائیں
کتب
  • 41 #4970

    مصنف : ڈاکٹر حافظ شہباز حسن

    مشاہدات : 2081

    فتاویٰ افکار اسلامی

    (پیر 12 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ افکار اسلامی، لاہور

    اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالم دین اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے برصغیر پاک وہند میں قرآن کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہل حد یث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں تقریبا چالیس کے قریب علمائے حدیث کے فتاویٰ جات کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ فتاویٰ افکار اسلامی ‘‘ ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن کاہلوں﷾(شعبہ علوم اسلامیہ یوای ٹی ،لاہور ) کی کاوش ہے یہ کتاب در اصل ان فتاوی ٰ جات پر مشتمل ہے جو موصوف کےتحریر کردہ فتاویٰ جات ماہنامہ دعوۃ التوحید ،اسلام آباد میں (جولائی2000ء تا نومبر2010ء) میں شائع ہوتے رہے ۔موصوف نےمطبوعہ فتاوی میں کچھ حک واضافہ کرکے اسے کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔نیز اس میں مجلہ دعوۃ التوحید میں شائع ہونے والے دیگر علماء کے فتاوی جات بھی شامل ہیں۔فتاویٰ کا یہ مجموعہ 310 سوالات اوران کے جوابات پر مشتمل ہے ۔محترم جنا ب مولانا ارشد کمال ﷾ نے اس فتاویٰ میں موجود روایات کی تخریج وتحقیق کی ہے اور نظرثانی کرتے ہوئے بعض مقامات پر مفید اضافے بھی کیے ہیں جس سے اس فتاویٰ کی افادیت میں دو چند ہوگئی ہے۔(م۔ا)

  • 42 #740

    مصنف : ابو محمد امین اللہ پشاوری

    مشاہدات : 22440

    فتاویٰ الدین الخالص (اردو)جلد 1

    (بدھ 22 جون 2011ء) ناشر : مکتبہ محمدیہ، پشاور

    کتاب و سنت ڈاٹ کام پر علمائے اہل حدیث کے متعدد فتاویٰ پیش کیے جا چکے ہیں ۔الحمد للہ۔زیر نظر  کتاب  ان میں سے ایک منفرد اور خوبصورت اضافہ ہے۔فتاویٰ الدین الخالص محدث زمان فقیہ عصر مولانا امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کے رشخات قلم کا نتیجہ ہےموصوف علمائے سلف کی یادگار ہیں۔زیر نظر فتاویٰ کے چند امتیازات یہ ہیں کہ فتوی کا مدار کتاب وسنت پر رکھا گیا ہے،فتوی میں مذکور احادیث کی تخریج کی گئی ہے اور اس کی صحت و ضعف کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔اس میں احکام کے ساتھ ساتھ عقیدہ،حدیث،تفسیر،معرفت فرق بھی شامل ہیں۔مذاہب علما میں سے کسی خاص مسلک کی پابندی کا التزام نہیں کیا گیا بلکہ دلیل کو اہمیت دی ہے۔اختصار و تطویل سے اجتناب کیا ہے ان خوبیوں کی بنا پر ہر مسلمان کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ شرعی مسائل سے واقف ہو کر ان پر عمل پیرا ہو سکے۔(ط۔ا)

  • 43 #1269

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 23501

    فتاویٰ اہل حدیث - جلد1

    dsa (پیر 23 اپریل 2012ء) ناشر : ادارہ احیاء السنۃ النبویۃ، سرگودھا

    عبداللہ محدث روپڑی یکتائے روز گار محقق اور اپنے دورکے مجتہد ہونے کے علاوہ علم و فضل کے روشن مینار تھے۔ تفسیر اورحدیث میں آپ کو جامع بصیرت حاصل تھی۔ احکام و مسائل اور ان کے اسباب و علل پر گہری نظر رکھتے تھے۔آپ  نے اپنی زندگی میں دین کے ہر شعبہ سے متعلق سوالات کے کتاب و سنت کی روشنی میں جوابات دئیے۔ یہ فتاوی جات عوام و خواص اور طالبان علم کے لیے نہایت قیمتی ہیں ان کی اسی اہمیت کے پیش نظر ان تمام فتاوی جات کو کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کتاب کو ’فتاوی اہل حدیث‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ مولانا کا تمام تر انحصار قرآن اور حدیث پر رہا ہے اور قیاس وعلت و معلول جیسی بحثوں سے اجتناب کیا گیا ہے۔ فتاوی جات تحقیق سے مزین اور تعصب سے پاک ہیں۔ عوام کی استعداد اور خواص کے علمی و فکری معیار پر پورا اترتے ہیں۔ (ع۔ م)
     

  • 44 #4994

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2481

    فتاویٰ برائے نظر بد، جادو، حسد

    (جمعرات 15 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ بیت الاسلام، لاہور

    جادو کرنا اور کالے علم کے ذریعے جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سے محض کبیرہ گناہ ہی نہیں بلکہ ایسا مذموم فعل ہے جو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو، جنات اور نظر بد سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب و سنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے جادو کا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظر بد ،جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دار کریں اور اس کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہاد جادو گروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیر تبصرہ کتاب’’فتاویٰ برائے نظر بد جادو‘‘ فتاوی کمیٹی کبار علماء حرمین شریفین کے نظربد، جادو، حسد کےمتعلق عربی فتاویٰ کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب میں انسانی معاشرے کے لیے مہلک تین اسباب نظربد، جادو، حسد پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تاکہ ہر شخص ان مہلک اسباب سے اجتناب کرے اور معاشرے کےلیے ایک مفید فردبن کرر ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر ان شیطانی جذبات اور اعمال کاسہارا لے کر گمراہی کا شکار ہو جا جائے ۔اس کے علاو ہ اس کتاب میں عالم اسلام کے کبار علماء کرام اور مفتیان کے فتویٰ جات اور تحریرات اور قرآن وحدیث کی روشنی میں حسد، روشنی، نظربد اور جادو کے متعلقہ مباحث بیان کیے گئے ہیں۔ (م۔ا)

  • 45 #5083

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2280

    فتاویٰ برائے کہانت ، جنات ، آسیب

    (بدھ 18 جنوری 2017ء) ناشر : مکتبہ بیت السلام الریاض

    فال نکالنے پیش گوئی کرنے ، قیافہ شناس، نجومی غیب کی خبر بتانے والے کو کاہن کہتے ہیں ۔اور کاہن کے عمل کو کہانت کہتے ہیں۔ کاہن کا ذکربائبل میں بکثرت پیشن گوئی کرنے والےکے طور پر آیا ہے، عام زندگی میں اس سے جادوگر مراد بھی لیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں بھی کاہن دو دفعہ جادوگر کے معنوں میں ہی آیا ہے۔کاہن، عربی زبان میں جیوتشی، غیب گو، اور سیانے کے معنیٰ میں بولا جاتا تھا، زمانہ جاہلیت میں یہ ایک مستقل پیشہ تھا، ضعیف الاعتقاد لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ارواح اور شیاطین سے ان کا خاص تعلق ہے جن کے ذریعہ یہ غیب کے خبریں معلوم کرسکتے ہیں، کوئی چیز کھو گئی ہو تو بتا سکتے ہیں اگر چوری ہوگئی ہو تو چور اور مسروقہ مال کی نشاندہی کرسکتے ہیں اگر کوئی اپنی قسمت پوچھے تو بتا سکتے ہیں ان ہی اغراض و مقاصد کے لئے لوگ ان کے پاس جاتے تھے اور وہ کچھ نذرانہ لیکر بزعم خویش غیب کی باتیں بتاتے تھے اور ایسے گول مول فقرے استعمال کرتے تھے جن کے مختلف مطلب ہو سکتے تھے تاکہ ہر شخص اپنے مطلب کی بات نکال لے۔دین اسلام نے اس کام کوکرنےکی سختی سے تردید کی ہے اور کہانت کا عمل کرنے کروانے کے متعلق سخت وعید بیان کی ہے۔حدیث نبوی ہے : جو شخص عراف (قسمت کا حال اورگمشدہ چیزوں کا پتہ بتانے والے پامسٹ اورنجومی وغیرہ) یا کاہن (علم رمل، علم جعفر اورجادوگر وغیرہ) کے پاس گیا تواس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں کی جائے گی۔ایک اور فرمان نبوی ہے کہ جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس آیا اوراس کی باتوں کو سچ مانا تو اس نے وحی جو نبی ﷺپر نازل ہوئی اس کا انکار کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ فتاویٰ برائےکہانت جنات ، آسیب ‘‘ سعودی عرب کے جید مفتیا ن وعلمائے عزام کے جادو، جنات، کہانت کے متعلق جاری کردہ فتاوی جات پر مشتمل کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ اس کتاب میں جنات او ران کے متعلقہ بعض عقدی وعلمی پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے اوراس کی مختلف مباحث میں جنات وشیطان سےمحفوظ رہنے کے لیے شرعی اور اد وظائف اور طریقہ ہائے علاج کا بھی تذکرہ کیاگیاہے اورساتھ ہی جادو کے علاج کےلیے اختیار کردہ شیطانی طریقوں سےمنع بھی کیاگیا ہے۔ نیر اس کتاب میں کہانت کی شرعی حیثیت بھی بیان کی گئی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کے مؤلف ، مترجم وناشرین کو جزائےخیر عطافرمائے اوراس کتاب کی تکمیل میں حصہ لینے والے تمام حضرات کے لیے اسے بلندیِ درجات کاسبب بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 46 #1393

    مصنف : ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    مشاہدات : 23121

    فتاویٰ ثنائیہ - جلد1

    dsa (ہفتہ 23 جون 2012ء) ناشر : ادارہ ترجمان السنہ، لاہور

    مولانا ثناء اللہ امر تسری کی دینِ اسلام کے فروغ کے لیے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ خاص طور پر قادیانیت کے خلاف ہر محاذ پر انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس فتنہ کے آگے بند باندھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مولانا نے اپنی زندگی میں تمام دینی علوم کا دقت نظر سے جائزہ لیا اور قرآن و سنت کے قریب صائب آراء قائم کیں۔ کتاب زیر مطالعہ میں اسی شخصیت کے اپنی زندگی میں دئیے گئے فتاویٰ جات کو مولانا داؤد راز نے مرتب صورت میں پیش کیا ہے۔ اگرچہ بعض جگہوں پر ان سےاختلاف کی گنجائش موجود ہے اور ظاہر نبی کریمﷺ کی ذات گرامی کے بعد کسی بھی شخصیت کی تمام تر آراء سے اتفاق مشکل امر ہے۔ صحابہ کرام اور تبع و تابعین کے آراء سے بھی اس دور میں اختلاف کیا جاتا رہا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 47 #5376

    مصنف : حافظ ثناء اللہ مدنی

    مشاہدات : 2394

    فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی ( کتاب الطہارت کتاب الصلاۃ )

    (ہفتہ 20 مئی 2017ء) ناشر : مکتبہ انصار السنہ النبویہ لاہور

    استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث حافظ ثناءاللہ مدنی﷾ فروری 1940 کو ضلع لاہور کے ایک گاوں کلن میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرہالی کلاں ضلع قصورمیں حاصل کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے جامع مسجد قدس چوک دالگراں کا رخ کیا۔ جہاں اپنے وقت کے ممتاز محدث اورمفتی مولانا حافظ عبداللہ روپڑی﷫ مسند تدریس پر جلوہ افروز تھے۔ آپ نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ اور اپنےاستاذ حافظ عبداللہ روپڑری﷫ کی خصوصی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔آپ حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ کےشاگردوں میں نمایاں مقام کے حامل ہیں ۔ آپ کے رفقاءمیں مولانا عبدالسلام کیلانی﷫ ، ڈاکٹر حافظ عبد الرحمٰن مدنی ﷾(مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) بھی شامل ہیں۔ آ پ اعلٰی تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ جہاں آپ نے الشریعہ میں اعلی ڈگری حاصل کی۔ خصوصاً الشیخ ابن باز سے بھر پور استفادہ کیا۔ آپ کے اساتذہ کرام میں مولانا حافظ عبداللہ محدث روپڑی ، حضرت مولاناحافظ محمد گوندلوی ، مولانا محمدعبدہ الفلاح ، مولانا عبدالغفار حسن ، الشیخ ابن باز ، علامہ ناصر الدین البانی، الشیخ محمد امین شقیطی ، الشیخ شبیہ الحمد ، الشیخ عبدالمحسن العباد، الشیخ حماد انصاری ﷭ خصوصی طور پر شامل ہیں۔مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد آپ نے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض سر انجام دیئے۔ لیکن بہترین تدریسی وقت جامعہ سلفیہ فیصل آباد اور جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہورمیں گزارہ۔1978 میں حافظ صاحب ﷾ جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد کے مدیر تعلیم مقرر ہوئے۔ آپ نے جامعہ سلفیہ کےنظم ونسق میں توازن پیدا کیا۔ آپ کے عہد میں سب سے زیادہ طلبہ مدینہ یونیورسٹی قبول ہوئے۔ آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پرتوجہ دیتے۔ اور قانون شکنی پر شدید مواخذہ کرتے تھے۔ آپ کی شخصیت بہت باوقار اور بارعب تھی۔ جس کے باعث طلبہ آپ کابہت احترام کرتے اور قواعد وضوابط کی پابندی کرتے۔ 1981میں حافظ صاحب جامعہ رحمانیہ ،لاہور تشریف لے آئے ۔ آپ ان جامعات میں ابوداود ، بدایۃ المجتہد،علم الفرائض جسے اہم اسباق پڑھاتے رہے۔ اور شیخ الحدیث کے منصب بھی فائز رہے ۔ آپ کا اسلوب تدریس بہت منفرداور متاثر کن تھا۔آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جن میں بعض ممتاز مناصب پر تعلیمی انتظامی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر ﷫ ، حافظ مسعود عالم ،مولانا حافظ محمد شریف ، مولانا محمد یونس بٹ ، پروفیسر یٰسین ظفر ، مولانا عبدالعلیم یزدانی ، مولانا محمد شفیق مدنی ، مولاناقاری عبد الحلیم بلال، ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد ، قاری محمد ابراہیم میر محمدی ، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ، قاری صہیب احمدمیرمحمدی ، مولانا محمد اجمل بھٹی حفظہم اللہ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آپ تقریباً 45مرتبہ بخاری شریف پڑھا چکے ہیں۔ آپ تدریس کےساتھ فتاوی نویسی کا کام بھی کرتے رہے آپ کےعلمی وتحقیقی فتاوی جات ماہنامہ محدث اور ہفت روزہ الاعتصام میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔یہ فتاوی جات دوجلدوں میں کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیں ۔موصوف نے اس کے علاوہ جامع الترمذی کی شرح جائزہ الاحوذی کےنام سے عربی زبان میں تحریر کی جو دو جلدوں میں شائع ہوچکی ہے ۔نیز الو صائل فی شرح شمائل بھی آپ ہی کی تصنیف ہے ۔آپ سعودی عرب ، کویت اور امارات میں مسند احمد کےعلاوہ متعد د کتبِ حدیث درساً پڑھا چکے ہیں ۔اس لیے آپ کے شاگردوں میں سیکڑوں عرب حضرات بھی شامل ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ فتاوی حافظ ثناء اللہ مدنی ‘‘ ہفت روزہ الاعتصام ،اور ماہنامہ محدث ، لاہور میں مطبوعہ فتاوی جات کی کتابی صورت ہے ۔حافظ صاحب کےفتاوی جات کی یہ دوسری جلد ہے جوکہ کتاب الطہارۃ ،کتاب المساجداورکتاب الصلاۃ پر مشتمل ہے ۔اس جلد کو حافظ صاحب نے اپنے شاگرد حافظ عبد لرؤف خان اور عبدالقدوس سلفی کی معاونت سے بڑے عمدہ انداز میں مرتب کر کے تخریج کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ یہ جلد تقریباً نوصد(900)صفحات پر مشتمل ہے ان فتاویٰ کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں براہ راست کتاب و سنت سے استدلال کیا گیا ہے نیز فتوی دیتے ہوئے فقہ الواقع اور مقاصد شریعت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے ،جس سے ان میں اعتدال و توازن کی جھلک واضح نظر آتی ہے ۔ اس کی پہلی جلد حافظ صاحب کے تلمیذ حافظ عبدالشکور (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے مرتب کر کے پندرہ سال قبل فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ کے نام سے شائع کی تھی۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کی تدریسی وتصنیفی اور دعوتی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کو صحت وعافیت سےنوازے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 48 #478

    مصنف : عبد القادر حصاروی

    مشاہدات : 4421

    فتاویٰ حصاریہ ومقالات علمیہ جلد 1

    dsa (جمعہ 31 جنوری 2014ء) ناشر : مکتبہ اصحاب الحدیث لاہور

    اسلام میں  فتویٰ نویسی کی تاریخ  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنا  کہ  بذات  خود اسلام فتویٰ سے  مراد پیش  آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی  روشنی  میں شریعت کا وہ  حکم  ہے  جو کسی سائل کےجواب  میں کوئی عالم دین  اور احکام شریعت کے اندر  بصیرت رکھنے والا شخص بیان کرے  فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے  کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے  چلا آرہا ہے  برصغیر پاک وہند میں  قرآن  کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں  بھی  علمائے اہل  کی کاوشیں لائق تحسین ہیں  تقریبا  چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاوی ٰ کتابی صورت میں   شائع ہو چکے  ہیں زیر نظر فتاوی  حصاریہ بھی اس سلسلہ کی   ایک کڑی  ہے ۔  الحمد للہ  تقریبا  20 فتاوی ٰ جات  کتا ب وسنت  ویب سائٹ  پر موجود  ہیں۔مولاناعبدالقادر حصاروی﷫ اپنے علم اورتحقیق کے اعتبار سے اونچے  مقام ومرتبے کے حامل  عالم  دین  تھے  انہوں نے مختلف دینی  موضوعات پر بہت کچھ لکھا۔ ان کے مقالات وفتاویٰ بڑے  مفصل اور تحقیقی  ہوتے  تھے  اہل حدیث رسائل وجرائد مولانا حصاری کے فتاویٰ اور مقالات سےبھر ے پڑے  ہیں  بزرگ عالم دین  مولانا  محمد یوسف راجوالوی ﷫ نے  مولانا محمد ابراہیم  خلیل﷾ سےمولانا حصاری کا فتاوی مرتب کروایا اور مولانا حصاروی ﷫ کے نواسے پروفیسر ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر﷾ نے  اسے  طباعت  سے آراستہ  کیا ہے   اللہ تعالی مولاناکے  حصاری کےدرجات  بلند فرمائے  اور  فتاوی کے مرتبین اور ناشرین کی کاوشوں کو قبول فرمائے (آمین)  (م۔ا)

  • 49 #1450

    مصنف : محب اللہ شاہ راشدی

    مشاہدات : 21639

    فتاویٰ راشدیہ

    (ہفتہ 07 جولائی 2012ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    مولانا محب اللہ شاہ بخاری ﷫ تبحر علمی، دقت نظر اوروسعت مطالعہ کے حامل شخصیت تھے۔ آپ ایک عظیم مفسر، محدث اور فقیہ تھے۔ ان کی علمیت کا سب سے بڑا مظہر زیر نظر ’فتاویٰ راشدیہ‘ ہے۔ جس میں عقائد، عبادات، معاملات، حقوق و فرائض، تجارت و معیشت اور دور جدید کے بہت سے مسائل پر فتاوی موجود ہیں۔ انھوں نے کہیں پر اجمال و اختصار کے ساتھ اور کہیں بالتفصیل جوابات عنایت فرمائے ہیں۔ چونکہ آپ کا تعلق سندھ سے تھا اس لیے وادی سندھ میں دیہات کے دور افتادہ علاقوں میں مقیم لوگوں کی مراجع و مصادر تک پوری رسائی نہ تھی، اس لیے آپ نے مختصر جوابات زیادہ فرمائے ہیں۔ دیہاتوں میں جو بے جا رسوم و رواج معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں مولانا نے شدت کے ساتھ ان کا رد فرمایا ہے۔ کچھ مقامات پر جدید دور کے غیر اسلامی سائنسی اور ملحدانہ افکار و نظریات کا بھی معقول اندازمیں جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ (ع۔ م)
     

  • 50 #6254

    مصنف : ابن قیم الجوزیہ

    مشاہدات : 2009

    فتاویٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

    (ہفتہ 24 فروری 2018ء) ناشر : ادارہ احیائے علم و دعوت لکھنؤ

    انسان کی فطرت سلیم ہے تو وہ طبعاً چاہتا ہے کہ جانوروں کی طرح آزاد اور شترِ بے مہار نہ ہو‘ کچھ اصول وضوابط کا وہ خود کو پابند بناتا ہے جن کے مطابق زندگی گزار کر وہ ایک کامیاب انسان کہلانا پسند کرتا ہے۔ ہر انسان کا وجود اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے‘اسی کا دیا کھاتا اور پیتا  اور پہنتا ہے‘ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ ان احکامات کی پیروی کرے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان کاموں سے بچے جن سے منع کیا گیا ہے پھر ہی کامیابی ہمارا مقدر ٹھہرے گی۔اور وہی احکامات ہمارے لیے اصول وضوابط کی حیثیت ہیں جن پر چل کر ہم بہتر سے بہترین کا سفر کر سکیں گے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں نبیﷺ سے کیے ہوئے ان سوالات کے جوابات بیان کیے گئے ہیں جو صحابہ کرامؓ نے وقتاً فوقتاً نبی سے پوچھے اور نبیﷺ نے ان کے جوابات دے کر ان کا خلجان دور کیا اور انہیں مطمئن کیا۔ یہ کتاب فتاوی کے تمام مجموعوں اور سیکڑوں جلدوں پر بھاری ہے‘ یہ کتاب جامعیت کے لحاظ سے اصل الاصول ہے اور اختصار کی وجہ سے سہل الحصول بھی ہے اور یہ کتاب درحقیقت امام ابن قیم کی اعلام الموقعین کے آخری باب کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب’’ فتاوٰی رسول اللہﷺ ‘‘ علامہ ابن قیم   کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

< 1 2 3 4 5 6 7 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1854
  • اس ہفتے کے قارئین 12497
  • اس ماہ کے قارئین 36037
  • کل قارئین49224555

موضوعاتی فہرست