عبد الرحمن عزیز آبادی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
عبد الرحمن عزیز آبادی
    title-pages-haqiqat-al-waseelata-copy
    عبد الرحمن عزیز آبادی

    وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین نے تو غیر اﷲسے استغاثہ کو بھی جائز قرار دے دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ یہ بھی وسیلہ ہے 'حالانکہ یہ خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔ 1۔اللہ تعالیٰ کے اسماء کا وسیلہ قرآن میں ہے: وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا(الاعراف:108)’’اور اللہ کے اچھے نام ہیں پس تم اس کے ناموں سے پکارو‘‘۔اللہ تعالیٰ سے اس کے اسماء حسنیٰ کے وسیلہ سے دعا کرنا درست ہے جیسا کہ اوپر آیت میں ذکر ہے جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے نبیﷺ سے دعا کا پوچھا تو آپﷺ نے یہ دعا پڑھنے کا کہا: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ "(صحيح بخاری:834’)’اے اللہ ! یقیناً میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے علاوہ کوئی بخشنے والا نہیں ۔پس تو اپنی خصوصی بخشش کے ساتھ میرے سب گناہ معاف کردے او رمجھ پر رحم فرما، بے شک تو ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے دو اسماء کو وسیلہ بنایا گیا۔ 2۔اللہ کی صفات کے ساتھ وسیلہ حدیث میں ہے: ’’اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي‘‘(سنن النسائی :1306)’’اے اللہ میں تیرے علم غیب او رمخلوق پر قدرت کے وسیلے سے یہ دعا کرتا ہوں کہ جب تک تیرے علم کے مطابق میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہے مجھے حیات رکھا او رجب تیرے علم کے مطابق میرا مرنا بہتر ہو تو مجھے وفات دے دے۔‘‘اس دعا میں اللہ تعالیٰ کی صفات، علم او رقدرت کو وسیلہ بنایا گیا ہے۔3۔ نیک آدمی کا وسیلہ ایسے آدمی کی دعا کو وسیلہ بنانا کہ جس کی دعا کی قبولیت کی امید ہو۔احادیث میں ہےکہ صحابہ کرام بارش وغیرہ کی دعا آپؐ سے کرواتے۔(صحيح بخاری :847)۔حضرت عمرؓ کے دور میں جب قحط سالی پیدا ہوئی تو لوگ حضرت عباسؓ کے پاس آئے اور کہا کہ وہ اللہ سے دعا کریں۔ حضرت عمر اس موقع پر فرماتے ہیں: ’’اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا‘‘ (صحيح بخاری:1010)۔ ’’اے اللہ! پہلے ہم نبیﷺ کووسیلہ بناتے (بارش کی دعا کرواتے) تو تو ہمیں بارش عطا کردیتا تھا اب (نبیﷺ ہم میں موجود نہیں) تیرے نبیﷺ کے چچا کو ہم (دعا کے لیے) وسیلہ بنایا ہے پس تو ہمیں بارش عطا کردے۔اس کے بعد حضرت عباسؓ کھڑے ہوئے اور دعا فرمائی۔مذکورہ صورتوں کے علاوہ ہر قسم کاوسیلہ مثلاً کسی مخلوق کی ذات یافوت شدگان کا وسیلہ ناجائز وحرام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حقیقۃالوسیلہ‘‘مولانا عبدالرحمٰن عزیز﷫ کی کاوش ہے ۔اس کتابچہ میں مصنف نے اصلاح عقائد کے سلسلے میں سلجھے ہوئے انداز میں عالمانہ بجث کی ہے۔ انہوں نے وسیلہ کے جوازکی صورتیں پیش کرنے کے بعد ناجائز صورتوں کےجواز میں پیش کیے جانے والے دلائل ، احادیث وآثار او ران کی حقیقت کو خوب واضح کیا ہے۔یہ رسالہ اپنے موضوع پر مختصر اور انہائی جامع ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کے جزائے خیر عطافرمائے اوراس رسالہ کےذریعہ صراط مستقیم سےبھٹکے لوگوں کوہدایت نصیب فرمائے (آمین) ( م۔ا)

    title-pages-momin-ki-zindagi-k-akhri-marahal-copy
    عبد الرحمن عزیز آبادی

    مولانا عبد الرحمن عزیز الہ آبادی ﷫ آف حسین  خانوالہ پتوکی ضلع قصور  (رئیس ادارہ امر باالمعروف )  کی شخصیت علمی حلقوں میں  محتاج تعارف نہیں۔موصوف ایک  بلند پایہ عالم دین او ردانشور  صاحب قلم او رمحقق تھے ۔ماہنامہ محدث ،تنظیم اہل حدیث ، ہفت الاعتصام ،ترجمان  الحدیث  اور دیگر جماعتی  رسائل میں  ان کے بیسیوں مضامین  شائع ہوتے  رہے ۔علاوہ ازیں موصوف نے  کئی ایک  کتابچہ جات بھی تحریر کرکے  اپنے  ادارے  سے شائع کیے۔ان  کے تحریر شدہ  مضامین خواص وعوام میں  انتہائی  قدر کی  نگاہ سے  دیکھے جاتے تھے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’ مومن کی زندگی کے آخری مراحل‘‘ ا ن کی  محققانہ کاوش ہے جس میں انہوں نے  74 عنوانات  قائم کر کےموت کے احکام او راس کےبعد ملنے والے  انعامات کو اختصار  کے ساتھ  کتاب وسنت کے دلائل  کی روشنی میں  واضح کیا ہے ۔ جس کا مطالعہ  قارئین کواعمالِ صالحہ کی ترغیب او رمنکرات سے نفرت دلاتا ہے  اور ہر عام وخاص کے لیے  یکساں مفید  اورآخرت کی یاد دلانے والا  ہے ۔اللہ  کتابچہ کو  عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے  اور  مصنف کے درجات  بلند فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    title-pages-wazu-k-fayouz-w-brakat-copy
    عبد الرحمن عزیز آبادی

    اسلام میں صفائی ستھرائی اور طہارت و پاکیزگی کو بڑا مقام حاصل ہے۔اسلام اپنے پیروکاروں سے طہارت اور پاکیزگی رکھنے کا بڑا پُرزور مطالبہ کرتا ہے۔ اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے اس نے اپنے ماننے والوں کو صاف ستھر ارہنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام اہل ایمان کو ہر حال میں پاک وصاف رہنے کا حکم دیتا ہے اور ساتھ ساتھ اپنے گھر، اپنے گلی محلوں، شہر، بستی، وطن کو بھی پاک وصاف رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔نماز جو سب سے اہم اور فرض عبادت ہے اس کی درست ادائیگی کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ نمازی کا بدن ،کپڑے اور نماز پڑھنے کی جگہ ہر قسم کی نجاست اور آلودگی سے پاک ہوں۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی  ہے:’’ مومنو!جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کیا کرو تو منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں(دھو لیا کرو ) ہو تم جنابت (کی حالت) میں تو غسل کرو‘‘۔(سورۃ المائدہ،6) زیر تبصرہ کتاب "وضو کے فیوض وبرکات " محترم مولانا عبد الرحمن عزیز الہ آبادی فاضل جامعہ محمدیہ اوکاڑہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے وضو کے فیوض وبرکات کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 265 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں