دار الشعور لاہور

دار الشعور لاہور
6 کل کتب
دکھائیں

  • 1 داس کیپیٹل - جلد اول، دوم (پیر 22 اگست 2011ء)

    مشاہدات:15919

    کارل مارکس وہ مفکر ہے ،جس کے افکار ونظریات آج بھی بحث ونظر کا موضوع ہیں اور اس کے حق اور مخالفت میں برابر تصنیفات کا سلسلہ جاری ہے ۔’داس کیپیٹل‘کارل مارکس کی فکر کا اساسی اور اہم ترین ماخذ ہے ۔یہ کتاب تاریخ کی ان امہات کتب میں شامل ہے جنہوں نے ایک نئے عہد  کی بنیاد ڈالی اور تاریخ کا ایک نیا بہاؤ پیدا کیا۔مارکس نے اپنا معاشی نظریہ رکارڈو کے نظریہ محنت سے اخذ کیا ہے ۔یہ تصور اس اصول پر قائم ہے کہ دولت من حیث المجموع محنت سے پیدا ہوتی ہے ،لہذا تقسم  دولت میں اصل عنصر اسی کو ہونا چاہیے ۔زیر نظر کتاب میں اس نے اسے  مفصل طور پر بیان کیا ہے ،جس کے مطالعہ سے کارل مارکس کے اصل نظریات سے آگاہی حاصل ہوگی اور اس کے ردوقبول حوالے سے فیصلہ کرنے میں سہولت ہوگی۔(ط۔ا)

  • 2 جنگ عظیم اول (پیر 19 ستمبر 2011ء)

    مشاہدات:23746

    بیسویں صدی کے آغاز میں ایک ایسی عظیم جنگ رو بہ عمل آئی کہ روئے زمین پر ظلم اور خون آشامی کی الم ناک داستانیں رقم ہوئیں۔ اس سے قبل انسانی ادراک و تخیل اس قدر قتل و غارت گری، خونریزی اور درندگی سے آشنا نہ تھا۔ چشم متحیر نے 1914ء سے 1918ء تک انسانوں کے ہاتھوں انسانوں کے تباہی کے ایسے مناظر دیکھے جن کے وقوع کے بعد انسان درندگی اور شیطنت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ زیر نظر کتاب اسی خون آشام داستان کو سپرد قلم کیا گیا ہے۔ جس میں کوشش کی گئی ہے کہ جنگ عظیم سے قبل شریکِ جنگ ممالک، یورپ اور باقی دنیا کے حالات و معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے جنگ کے اسباب و علل، احوال، نتائج اور اثرات پر سیر حاصل معلومات یکجا کرتے ہوئے موجودہ دور اور حالات کے تناظر میں بے لاگ اور جامع تبصرہ بھی قارئین کے لئے پیش کیا جائے۔ تاکہ کتاب نہ صرف تاریخ کی ایک اہم کڑی کے بیان پر محیط نہ ہو بلکہ مستقبل کے لیے آئینے اور مشعل کا کام بھی دے سکے۔(ع۔م)
     

  • 3 جنگ عظیم دوئم (منگل 20 ستمبر 2011ء)

    مشاہدات:23623

    بیسویں صدی اپنی آغوش میں دو عظیم جنگیں لیے روپوش ہو گئی۔ اکیسویں صدی کا آغاز بھی بیسویں صدی کی خون آشامی سے مختلف نہیں ہے۔ عالمی طاقتیں امن عالم کے جاں فزا نعرے لگا کر لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے اور اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے میں مصروف ہیں۔ یہی عالمی طاقتیں جنگ عظیم اول میں آمنے سامنے ہوئیں تو ایک کروڑ سے زائد لوگ کام آئے۔ اور جب جنگ عظیم دوم میں ان کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی تو پانچ کروڑ لوگوں کو زندگی کی بازی ہارنا پڑی اور کروڑوں لوگوں کو معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا۔ امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر امن کا سب سے بڑا علمبردار ہونے کا ثبوت دیا۔ زیر نظر کتاب جنگ عظیم دوم کے تمام پہلو آپ کے سامنے اس طرح عیاں کر دے گی کہ آپ جنگ کے تمام واقعات اپنے سامنے ہوتے دیکھ رہے ہوں گے۔ کتاب کے مصنف لوئیس ایل۔ سنائیڈر ہیں جس کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ مولانا غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ کتاب ایک تاریخی دستاویز کے ساتھ ساتھ مصنف کا غیر جانبدارانہ اور عرق ریزی سے کیا ہوا تجزیہ بھی ہے جس نے موضوع کے تمام پہلوؤں کو بخوبی سمیٹ لیا ہے۔ علاوہ ازیں مصنف نے انسانی تاریخ کا رخ موڑنے والے دو کرداروں ہٹلر اور مسولینی کی زندگیوں اور کارستانیوں سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 4 ابن رشد سوانح عمری،علم کلام اور فلسفہ (پیر 26 مارچ 2012ء)

    مشاہدات:13683

    ابن رشد کے تعارف کے لیے اس کی فقید المثال تصنیف ’بدایۃالمجتہد و نہایۃ المقتصد‘ ہی کافی ہے۔ لیکن ابن رشد کی دیگر تصنیفات کا جائزہ لیاجائے تواندازہ ہوتا ہے کہ اس نے فلسفہ، طب، فقہ و اصول فقہ، علم کلام، علم ہیئت، علم نحو الغرض کسی بھی علمی موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا اور ہر موضوع پر یادگار تصانیف چھوڑی ہیں۔ زیر نظر کتاب میں اسی شخصیت کی سوانح عمری کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اس کے علم کلام ، ا س کے فلسفے، اس کے فلسفے پر ناقدانہ تبصرہ کرتے ہوئے یورپ میں اس کے فلسفہ کی اشاعت و تاریخ کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ابن رشد کے احوال و سوانح اور اس کے علوم و مسائل کے تذکرہ پر مشتمل ہے بلکہ اس میں مسلمانوں کے علم کلام اور علم فلسفہ کی تاریخ و تنقید بھی ہے۔ نیز اس میں اسلامی علوم و فنون کی ترقی واشاعت کے واقعات کی پوری تشریح بھی ہے۔ اس کتاب سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ ابن رشد صرف فلسفی نہ تھا بلکہ ایک نقاد و متکلم اور ایک نکتہ سنج فقیہ بھی تھا۔ (عین۔ م)
     

  • 5 فلسفہ ہند و یونان (جمعہ 26 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:1371

    ہرایک فلسفی ایک خاص فلسفہ رکھتا ہے اوراپنے سلیقہ، ذوق اورمعلومات کے مطابق خوشی و غم اورمرگ و زیست کی تاویل و تفسیر کرتا ہے اورکوشش کرتا ہے کہ جوکچھ اس کے لیے اچھا یا برا ہے، خواہ موجود ہے یا ہوگا، اس سے آگاہ ہوجائے۔فلسفہ ہند در حقیقت فلسفہ ہنود ہے۔ جو بت پرستی سے وحدانیت تک پہنچتا ہے۔ مفکرین ہند کے افکار انواع و اقسام کے ہیں۔ ہر فکر کی بنیاد فلسفہ قدیم ہے جس میں کہیں خدا کا انکار اور کہیں اثبات ہے۔ پست ترین مذہب اور مہمل ترین فکر سے لے کر بہترین مذہب اور بلند ترین فکر تک یہاں موجود ہے۔ ہر مفکر اپنے رنگ میں مکمل رنگین ہے۔ فلسفہ ہندو ویونان کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا جائے تو ان کے تدریجی ارتقاء سے واضح ہوجائے گا  کہ فلسفے نےہر دو  مذکورہ ممالک میں قریباً ایک ہی سی منازل فکر طے کی  ہیں اور ان کی آخری منزل بھی ایک ہی  ہے جہاں پہنچ کی دونوں نے اپنا اپنا سفر ختم کردیا  ہے  اور وہ منزل  ہےالٰہیات جس  سے ہم یہ سمجھ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ یہی آخری منزل ہے  اور اس سے آگے عقل وفکر انسانی  کی رسائی ناممکن ہے۔ زیر نظر کتاب ’’فلسفہ ہندوویونان‘‘ شفیقی عہدی پوری کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب  فلسفۂ ہندویونان کےایک مجمل جائزے پر مشتمل ہے۔یہ کتاب اگرچہ ایک مختصر ہے مگر اپنی افادیت کےلخاظ سے بڑی بڑی ضخیم کتب پر بھاری ہے ۔ کیونکہ  اس میں سب کچھ موجود ہے ۔ یہ کتاب  ہند ویونان کےفلسفیانہ افکار وآراء کا ایسا خلاصہ ہے  جو ف...

  • 6 سائنسدانوں کے عظیم کارنامے (جمعرات 18 اپریل 2019ء)

    مشاہدات:1066

    سائنس کو اردو میں علم کہتے ہیں اور علم کا مطلب ہوتا ہے جاننا یا آگہی حاصل کرنا، لہذا سائنس کا مطلب بھی جاننے اور آگہی حاصل کرنے کا ہی ہوتا ہے۔ اپنے اردگرد کے ماحول کا مشاہدہ کرنا اور مختلف قدرتی چیزوں کے بارے میں سوچنا ہی سائنس ہے، اور اس طرح غور کرنے اور سوچنے والے شخص کو سائنسدان کہا جاتا ہے۔ یعنی سائنسدان وہ ہوتا ہے جو مشاہدہ کرتا ہے اور سوچ کر کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ سائنسدان کو اردو میں عالم کہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’سائنسدانوں کے عظیم کارنامے ‘‘ سکٹف اور سکٹف  کی انگریزی کتاب ’’سائنس سٹوریز‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ڈاکٹر انیس الدین ملک  نے انگریزی کتاب کی روح کو باقی رکھتے ہوئے  عام فہم سادہ اردو زبان میں اسے منتقل کیا ہے ۔ اس کتاب میں نوجوان نسل کےکی سہولت کے لیے سائنس دانوں کے عظیم کارناموں  کو کہانی کے انداز میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 846
  • اس ہفتے کے قارئین: 10693
  • اس ماہ کے قارئین: 31386
  • کل مشاہدات: 45313372

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں