دار الاندلس،لاہور

دار الاندلس،لاہور
121 کل کتب
دکھائیں

  • 61 قربت کی راہیں (ہفتہ 31 مئی 2014ء)

    مشاہدات:1680

    اللہ تعالی نے قرآن مجیدمیں نبی کریم ﷺ کی بعثت کےجملہ بینادی مقاصد کوبیان فرماتے ہوئے تزکیہ نفس کا خاص طور پر ذکرکیا ہے ۔نبوی تربیت میں تزکیہ قلوب کو نمایاں مقام حاصل ہے ۔قرآن مجید میں اخلاق فاضلہ اور اسلامی آداب کو حکمت کا مظہر کہاگیا ہے او رمتعدد مقامات پر حکمت کا لفظ اخلاق وآداب کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے مقاصد بعثت کو چند کلمات میں سمودیا ہے ارشاد نبوی ہے إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق کہ میری بعثت کامقصد تکمیل اخلاق ہے ۔زیر نظر کتاب ''قربت کی راہیں'' از عبید الرحمن محمدی اخلاق وآداب سے متعلق آیات وحدیث کا منتخب مجموعہ ہے ۔ مصنف کا طرز تحریر بڑا سادہ عام فہم اور واعظانہ ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مقبول عام بنائے اور تمام پڑھنے والوں کے اخلاق وعادات کی اصلاح فرمائے او رکتاب کےمصنف اور ناشرین کواجر عظیم سے نوازے (آمین) (م۔ا)

     

     

  • 62 آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان (منگل 24 جون 2014ء)

    مشاہدات:2239

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے ۔ اور اللہ رب العزت کی نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمت او ر دولت ہے۔ حب ِنبوی دنیا کی تمام محبتوں میں بالکل منفرد اور ان میں سب سے ممتاز ہے ۔یہ کوئی حادثاتی اور اتفاقی محبت نہیں کہ اچانک قائم کر لی جائے او راچانک سے ختم کردی جائے یا پھر کبھی کرلی جائے اور کبھی نہ بھی کی جائے تو کو ئی حرج نہ ہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ سے محبت ہی صرف وہ چیز ہے جو دنیااور آخرت میں کامیابی کی ضمانت اور اللہ رب العزت کی محبت پانے کاذریعہ ہے ۔اور اسی طرح کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اسلام میں حرمت اور ناموس کے اعتبار سے کسی نبی میں کوئی فرق نہیں ۔ تمام انبیاء میں سی کسی بھی نبی پر کوئی دشنام طرازی کی جاتی ہے تو اس کی سزا قتل کے علاوہ کوئی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈن...

  • 63 رمضان ماہ فوزان (بدھ 16 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2402

    روزہ اسلام کا ایک  بنیادی رکن ہے اور رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں،برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مہینہ ہے ۔اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے  ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک وہی مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم  کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے  روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے  نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی  جانے والی عبادات  ( روزہ ،قیام  ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت  لیلۃ القدر وغیرہ )کی  بڑی فضیلت بیان کی  ہے ۔روزہ  کے  احکام ومسائل  سے  ا گاہی  ہر روزہ دار کے لیے  ضروری ہے  ۔لیکن افسوس روزہ رکھنے والے بیشتر لوگ ان احکام ومسائل سےلا علم ہوتے ہیں،بلکہ بہت سے افراد تو ایسے بھی ہیں جو بدعات وخرافات کی آمیزش سے&n...

  • 64 باران توحید (بدھ 14 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2038

    تمام انبیاء کرام ؑ ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح ؑ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ؓ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ باران توحید‘‘ جماعۃ الدعوۃ باکستان کے مرکزی راہنما مولانا امیر حمزہؒ کی مایۂ ناز کتاب ہےجس میں توحید کے متعلق اکثر موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مولانا امیر حمزہ ؒ نے معاشرے میں موجود شرک کی مختلف شکلوں کو بنیاد کر توحید کی وضاحت اس انداز میں کی ہے کہ ایک عام قاری بھر پور استفادہ کرسکتاہے ۔ جو شخص دعوت توحید کا پیغمبرانہ کام کرنا چاہتا ہے اوریہ دعوت دینا چاہتا ہے تووہ ’’بارانِ توحید ‘‘ جیسی غیر فرقہ وارانہ کتاب کےمضامین سامنے رکھے ۔ اس کتاب کےہر عنوان میں قرآنی آیات ہ...

  • 65 مسئولیت کے تقاضے (جمعرات 05 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1285

    مسئولت کوئی عہدہ ،کرسی یامفادات کا منصب نہیں ہے جیسا کہ دنیادار عام تنظیموں ،پارٹیوں،گروپوں،گرہوں کے صدر ناظم ،چیئر مین یا سربراہ ہوا کرتے ہیں۔ عرف عام میں دنیا کے مختلف کاموں کوسرانجام دینے کےلیے جوذمہ داریاں تفویض کی جاتی ہیں انہیں مسؤلیت کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسے کام جن کے بارے سوال کیا جائے گا۔اور دنیا وآخرت دونوں میں اس کےبارے میں احتساب ہوگا۔ ان مسؤلیتوں کو نبھانے والے مسؤل کہلاتے ہیں۔ یعنی جن سے دنیا کی ذمہ داریوں کونبھانے کے حوالے سے پوچھ ہوگی۔ انہیں اس کے متعلق جواب دینا ہوگا۔جیسا کہ ارشاد نبوی ہے: ’’ کہ تم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہو گا۔ امام نگران ہے اور اس سے سوال اس کی رعایا کے بارے میں ہو گا۔ انسان اپنے گھر کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ ابن عمر ر نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے باپ کے مال کا نگراں ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا اور تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور سب سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔‘‘صحیح بخاری:893) اس حدیث میں مذکورہ ذمہ داری اپنے عموم میں زندگی کے تمام شعبہ جات پر مشتمل ہے۔جو مسؤل اپنی ذمہ داریاں صحیح معنوں میں نبھائیں گے دنیا وآخرت میں بہت زیادہ اجروثواب کے ساتھ سرخرو ہوجائیں گے اور جو اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔...

  • 66 مسلمانوں کی پستی کے اسباب (منگل 09 جون 2015ء)

    مشاہدات:2434

    اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔اس کا سب سے برا سبب مسلمانوں کا دین سے دور ہونا اور غیروں کے قریب ہونا ہے۔کافر ہمیں اس لئے مارتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں اور ہم اس لئے مار کھا رہے ہیں کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہیں۔تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں،اور خود بھی اسی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ زیرتبصرہ کتاب " مسلمانوں کی پستی کے اسباب "محترم ابو شہید محمد عابد منصور پوری کی مرتب کردہ ہے ،جس کی نظر ثانی محترم ڈاکٹر شاہد اقبال ظہیر صاحب نے کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 67 شان مصطفی اور گستاخ رسول کی سزا (جمعرات 02 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1995

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب   نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت  ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں  ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’شان مصطفیٰ ﷺ اور گستاخ رسول کی سزا‘‘جماعت الدعوۃ ،پاکستا ن کے مرکزی رہنماجناب قاری محمد یعقوب شیخ ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے ش...

  • 68 طاغوت کے تعاون سے جہاد (پیر 03 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1748

    نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کا ایک ایک پہلو ہمارے لئے اسوہ حسنہ اور بہترین نمونہ ہے۔آپ ﷺ کی زندگی کا اہم ترین حصہ دشمنان اسلام ،کفار،یہودونصاری اور منافقین سے معرکہ آرائی میں گزرا۔جس میں آپ ﷺ کو ابتداءً  دفاعی اور مشروط قتال کی اجازت ملی اور پھر اقدامی جہاد کی بھی اجازت  بلکہ حکم فرما دیا گیا۔نبی کریم ﷺکی یہ جنگی مہمات  تاریخ اسلام کا ایک روشن اور زریں باب ہیں۔جس نے امت کو یہ بتلایا کہ  دین کی دعوت میں ایک مرحلہ وہ بھی آتا ہے  جب داعی دین کو اپنے ہاتھوں میں اسلحہ تھامنا پڑتا ہے اور دین کی دعوت میں رکاوٹ کھڑی کرنے والے عناصر اور طاغوتی طاقتوں کو بزور طاقت روکنا پڑتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ستائیس غزوات میں بنفس نفیس شرکت فرمائی اور تقریبا سینتالیس مرتبہ صحابہ کرام  کو فوجی مہمات پر روانہ فرمایا۔جہاد کی اس اہمیت وفضیلت کا باوجود کچھ مسلمان آج بھی شکوک وشبہات میں پڑے ہوئے ہیں۔ان شکوک وشبہات میں سے ایک اشکال یہ ہے کہ یہ طاغوت کے ماتحت ہے اور ایجنسیوں کا جہاد ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " طاغوت کے تعاون سے جہاد،شرعی جائزہ "جماعۃ الدعوہ پاکستان کے مرکزی راہنما محترم حافظ محمد ابراہیم سلفی شہید﷫ کی تصنیف ہے،جبکہ نظر ثانی فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الرحمن رحمانی صاحب نے فرمائی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں  اسی قسم کے شبہات واعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 69 مجلس ذکر کی شرعی حیثیت ( عبد القدوس سلفی ) (بدھ 05 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1346

    دینِ اسلام ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں ۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات، معاملات، اخلاقیات، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی دلیل ورہنما ہے۔ ہر میدان میں کتاب وسنت کی ہی پابندی ضروری ہے ۔صحابہ کرام ﷢ نے کتاب وسنت کو جان سے لگائے رکھا ۔ا ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی اور وہ اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ کتاب وسنت سے دور ہوتے گئے اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے پیر جمانے شروع کردیئے اور اس وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم مین لے جانے والی ہے۔ اتنی سخت وعیدیں ہونے کے باوجود آج مسلمانوں کی اکثریت دین کے نام پر بدعات کا شکار ہے۔ "مجلس ذکر" بھی اسی سلسلہ کا ایک شاخسانہ ہے۔ اللہ کے ذکر کے نام پر سادہ لوح مسلمانوں کو اکٹھا کر کے بدعات کا رسیا بنایا جاتا ہے۔ ان خودساختہ مصنوعی اذکار کی اتنی فضیلت بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالٰی کے بجائے حضرت صاحب اور پیر صاحب سے تعلق گہرا ہوتا ہے۔جید اہل علم نے بدعات اور اس کے نقصانات سے روشناس کروانے کے لیے اردو وعربی زبان میں م...

  • 70 احکام زکاۃ و عشر و صدقہ فطر (اتوار 06 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:3789

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کےپانچ ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان ِخمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1456
  • اس ہفتے کے قارئین: 2981
  • اس ماہ کے قارئین: 34945
  • کل مشاہدات: 45363973

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں