دار الابلاغ، لاہور

دار الابلاغ، لاہور
115 کل کتب
دکھائیں

  • 61 نوجوان لڑکوں کے نام (بدھ 19 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:1884

    یہ نوجوان نسل ہی ہے کہ جنہوں نے ملک وملت کی باگ ڈور سبنھالنی ہوتی ہے اور اس کو دنیا  میں بامِ عروج پر پہنچا کر باعزت مقام عطاء کرنا ہوتا ہے باہمت باحیاء باصلاحیت ،غیور بہادر ،جرأت مند نوجوان ہی قوموں کو جینے کا سلیقہ سکھاتے ہیں ۔ اپنی قوم کودشمن کےعسکری تہذیبی وثقافتی حملوں سے بچاتے ہیں اور دشمن پر کا ری ضرب لگا کر اپنی ملت کی کشتی ڈوبنے سے بچاتے ہیں۔لیکن آج  ہم جس دور سے گزر رہے ہیں  وہ فکری اورعملی اعتبار سے  بہت نازک ہے  نوجوان کہ جنہوں نے ملت کی نیا کو ڈوبنے سےبچانا تھا وہ خود کفار کی سازشوں کاشکار ہو کر کفر ضلالت کے اندھیروں میں ڈوب چکے ہیں۔ نوجوان کو یہ  بھی پتہ نہیں کہ اس نے اپنی زندگی کیسے گزار نی ہے؟ تو وہ قوم وملت کی زندگیوں کوتباہی سے کیسے بچا سکتا ہے؟ وہ  ہر  وقت ڈش کیبل اور انٹرنیٹ پر بیٹھار رہتا ہے اور اپنی   بہنوں کا پردہ اور دوپٹہ کھینچتا ہے ، عشق ومحبت کے نام سے  عفت مآب بہنوں کے آنچل تارتار کرتاہے۔ والدین کےلیے   ہمیشہ پریشانی کا باعث بنا رہتا ہے۔تونوجوانوں کے ایسے  اعمال سے پوری قوم ایک دردناک عذاب میں مبتلا ہے۔زیر نظر کتاب   ’’نوجوان لڑکوں کے نام...‘‘شیخ سلمان بن  فہد العودہ   کی عربی کتاب کا ترجمہ ہے   جس  میں   انہوں نے مسلم نوجوان کو بتایا ہے  کہ  وہ کیا کررہا    ہےاوراسے  کیا کرنا چاہیے۔ اس کی زندگی کا رخ  کس طرف ہوناچاہیے۔اسے کن کےخلاف کام کرنا چاہ...

  • 62 ہم توبہ کیوں نہیں کرتے (جمعہ 23 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:1421

    انسان   کی خصلت  ہے کہ  وہ  نسیان  سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت  وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے  گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے  کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے  توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے  معبود ومالک   کی ناراضگی  کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ  کریم  کے دربار میں  حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے  کا پکا عزم کرتےہوئے  توبہ کرتا ہے کہ اے  مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے  آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے  احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل  ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں  کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ  ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی  اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم  اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے  دنیاوالو! ہےکوئی  جو مجھ سے اپنے گناہوں کی  مغفرت طلب کرے ... ہے  کوئی توبہ کرنے  والا میں اسے  ا پنی  رحمت سے بخش دوں...؟زیر تبصرہ کتاب ’’ہم توبہ کیوں نہیں کرتے ؟‘‘ میں  اسی حقیقت کوزیر  ب...

  • 63 ہم بھی ایسی بنیں (ہفتہ 24 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:1572

    ہر انسان کی  یہ خواہش ہوتی ہے کہ و ہ معاشرے میں ایسا بن کر رہے  کہ ہر دلعزیزی اس کے مقدر میں ہو۔ ہر کوئی اس سے  محبت کرے  ، عزت کرے  ،احترام کرے  اورسرآنکھوں پربٹھائے ۔ یہ  خواہش مردو زن دونوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے ۔ بلکہ اگر کہاجائے کہ خواتین میں زیادہ  پائی جاتی ہے  توبے جا اورمبالغہ نہ ہوگا۔ موجودہ میڈیا خاص  طور پر اخبارات ورسائل اور الیکٹرانک سکرین پر نوجوان نسل مختلف مغرب زدہ، حیاباختہ، بے  پردہ بے دین خواتین کودیکھتی  ہے تو شیطان اس موقع پر ان کو گمراہ کرتا ہے ۔وہ ان فلم سٹار، فنکار،گلوکار،موسیقار، اور ثقافت وکھیل جیسے  شعبوں سے تعلق رکھنے والی چڑیلوں کوان کی نظر میں خوبصورت وپرفریب اور دیدہ زیب بناکرپیش کرتا ہے ۔ تو ایسے مواقع پرلڑکیوں کےدل میں نادانی اور دین سے لاعلمی کی بناء پر خواہش پیدا ہوتی ہے  کہ کاش! ہم بھی ایسی ہوں۔بعض لڑکیوں نے تواس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے  حادثاتی طور پرسامنے آنے والے یا ٹی وی اور اخبار میں  متعارف ہونے والے  لوگوں کواپنا آئیڈل بنایا ہوتاہے  اور وہ ان جیسا بننے کے  جنون میں ان جیسی شکل وشباہت ، وضع قطع ،بولنے چالنے کا رنگ ڈھنگ اپنا لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ ہم نے اپنی منزل کو پالیا ہے۔لیکن درحقیقت ایسی لڑکیاں سراب میں بھٹک رہی ہیں  اور سراب کے بھٹکے  ہوؤں کا اذیت ناک انجام ساری دنیا جانتی ہے ۔ زیر نظر کتاب’’ ہم بھی ایسی بنیں‘‘ محترم  مائل خیر آبادی کی  تصنیف ہے۔جس میں ان...

  • 64 غم نہ کریں ( جدید ایڈیشن ) (اتوار 08 فروری 2015ء)

    مشاہدات:3755

    دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی  ضرورت  ہے  یعنی نفس پر اتنا  قابو  ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس  میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں  وہ  اداس اور بدل نہ  ہو۔ انسان کو  اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف  سب کچھ  منجانب اللہ ہے  اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا  حصہ ہے  کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ  کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں  سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں  مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ  اطاعت پرمضبوط  ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ  انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی  تقاضا ہےکہ  وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے  اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک  ان کے   اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا  نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے  ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے ب...

  • 65 گناہوں سے کیسے بچیں (پیر 09 فروری 2015ء)

    مشاہدات:2661

    اسلام ایک  مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبےمیں مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے ۔  اسلام میں جس طرح مردوں کے لیے تزکیہ وتطہیر کاطریقہ کار دیاگیا  اسی طرح عورتوں کی عفت وعصمت اور پاکدامنی کی طرف بھی توجہ دی گئی ہے ۔ اسلام نے طہارت وپاکیزگی کا ایسا گراں مایہ گوہر عطاء  کیا کہ جس کے باعث اسے قدروقیمت کی نگاہ سےدیکھا جانے لگا۔ اور اسے اخلاقی ودینی اعتبار سے اوجِ ثریا  تک پہنچا دیا  اور گھر کی چار دیواری میں محصور کر کے  ایک انمول موتی اور ہیرا بنادیا ۔ زمانہ جاہلیت کی  طرح آج مغربیت  اور اس کے  دلدادہ افراد عورت کوپھر سے  بازاروں ،چوکوں، چوراہوں،تفریح گاہوں ، فائیوسٹار ہوٹلوں اور  ہواؤں میں اڑا کر شرمناک مناظر دکھانا  چاہتے ہیں ۔اور اس کوانسانیت کے عظیم منصب سےنکال کر حیوانیت کا لبادہ پہنانا چاہتے ہیں ۔تحریک نسوانیت اور تحریک آزادی جیسے  خوشنما اور دل فریب نعروں کے سائے تلے  اسے حیا باختگی اور ایمان سوز مناظر کارسیا بنانا چاہتے ہیں ۔ایسے حالات میں  اسلام کے نظام عفت وعصمت اور پاکیزگی وپاکدامنی کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے  تاکہ بنتِ آدم  قرونِ اولیٰ کی عورتوں کی طرح صاف ستھری اور ایمان کی بلندیوں کو چھونے والی عورت بن سکے ۔ اور ماں بہن ،بیٹی اور بیوی کے مرتبہ عالیہ پر فائز رہتے ہوئے   صالحیت اور نیک نامی سے کنارہ کش نہ ہو۔ زیر نظر کتاب ’’گناہوں سے کیسے بچیں‘‘مولانا محمد ظفیر الدین﷫  کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے  موضوع کے تمام گ...

  • 66 مومنات کا حج (ہفتہ 14 فروری 2015ء)

    مشاہدات:1533

    حج بیت  اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن  ہے  بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت مسلمان مرد اور عورت پرزندگی  میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  ۔اس لیے اس کے  مسائل سے  آگاہ  ہونا بھی ضروری ہے ۔تاکہ اس فریضہ کو  کتاب وسنت کی روشنی میں سرانجام دیا جائے ۔ اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے  ۔ اجر وثواب کے لحاظ     سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مومنات کا حج‘‘ جناب خالد بن عبد العزیز المسلم کی عربی تصنیف حج المراۃ المسلمۃ کا  اردوترجمہ ہے ۔ اگر چہ  یہ کتا ب عربی زبان میں  بہت دلنشیں وجامع انداز میں لکھی گئی ہے۔ لیکن فاضل نوجوان مولانا محمود احمد تبسم﷾ نے  اس کو اردو کے قالب میں اس خوبصورت انداز سے ڈھالہ ہے کہ قاری کوترجمہ کا  گمان ہی نہیں گزرتا۔اس...

  • 67 گناہوں کی دلدل میں (منگل 17 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1791

    انسان   کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک   کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جات...

  • 68 مجالس خواتین (بدھ 18 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1263

    انسان شروع سےہی اس دنیا میں تمدنی او رمجلسی زندگی گزارتا آیا ہے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک اسے زندگی میں ہر دم مختلف مجلسوں سے واسطہ پڑتا ہے خاندان ،برادری اور معاشرے کی یہ مجالس جہاں ا س کے اقبال میں بلندی ،عزت وشہرت میں اضافے او ر نیک نامی کا باغث بنتی ہیں وہیں اس کی بدنامی ،ذلت اور بے عزتی کاباعث بنتی ہیں انسان کو ان مجلسوں میں شریک ہو کر کیسا رویہ اختیار کرناچاہیے کہ جو اسے لوگوں کی نظروں میں ایسا وقار اور عزت وتکریم والا مقام بخش دے کہ لوگ اس کے مرنے کے بعد بھی اسے یادرکھیں ۔دنیا میں کچھ مجلسیں اور محفلیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں شریک ہو کر انسان اپنے دامن کوسعادت مندی کے موتیوں سے بھر لیتا ہے ۔ اجر وثواب اور اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ او رکچھ مجلسیں ایسی ہوتی ہیں جن میں شریک ہونا اس کے لیے بدبختی کاباعث بن جاتا ہے او ر اس جھولی میں موجود پہلے موتی بھی بکھر کر ضائع ہوجاتے ہیں ۔ یوں پھولوں اور کلیوں کی بجائے وہ کانٹوں کا حقدار ٹھہرتا ہے۔اور جس طرح باغات اپنے پھلوں سے پہنچانے جاتے ہیں، پھول کلیاں، خواہ وہ چنبیلی ہو یا گلاب، اپنی خوشبو سے پہنچانے جاتے ہیں۔ خاندان اپنے افراد کے رویوں سے پہنچانے جاتے ہیں، اسی طرح مجالس اپنے شرکاء سے پہنچانی جاتی ہیں، خواہ وہ مجالس مردوں کی ہوں یاخواتین کی ۔ اگرمجالس میں حاضری اور کار گزاری کا ماحاصل مثبت، پسندیدہ ،مہذب اورافرادو معاشرے کےلیے باعث نفع و راحت ہو توسمجھا جاتا ہے کہ یہ مجلس قابل تعریف وستائش ہے ۔اگر مجلس اس کے برعکس ہوتو اس کو ہمیشہ برے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کے شرکاء کو کو...

  • 69 محبتیں الفتیں (جمعرات 19 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1838

    دنیا میں بے شمار مصلحین پیدا ہوئے ۔ بہت سے اصلاحی اورانقلابی تحریکیں اٹھیں مگر ان میں سے ہر ایک نے انسان کے خارجی نظام کو تو بدلنے کی کوشش کی لیکن اس کے اندرون کو نظر انداز کردیا۔ مگر نبی کریم ﷺ کی تحریک میں شامل ہونے والا انسان باہر کے ساتھ ساتھ اندر سے بھی بدل گیا اور کلیۃً بدل گیا۔جو لوگ آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہتے گئے وہ آپ کی تربیت پاکر کندن بنتے گئے۔ اسلام کی آغوش میں آنے والے ہر شخص کے اندر ایسا کردار نمودار ہوا جس کی نظیر تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ تمام مخلوقات میں سے انسان ہی وہ خوش نصیب مخلوق ہے جس کی ہدایت اور تربیت کےلیے ایک طرف وحی والہام کی تعلیمات فراہم کی گئیں ، تو دوسری طرف ان تعلیمات کا ایک نمونہ کامل او رجامع اسوہ انبیاء ورسل کی صورت میں پیش کیا گیا۔ اورانسان ایک ایسا حیوانِ ناطق ہے جو تربیت کے مراحل سے گزر کر اشرف المخلوقات اوراخلیفۃ اللہ فی الارض بن سکتا ہے ۔ بصورت دیگر وہ جانوروں سے بدتر خصائل ورزائل کاشکار ہو کر قرآنی الفاظ میں اسفل السافلین کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ خاتم النبین محمد ﷺ انسانیت کی اصلاح وتربیت کے لیے دائمی نمونۂ عمل کےبطور مبعوث کیے گئے توقرآن مجید نے ان کےحق میں ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ کی حجت پیش کی۔ تزکیہ وتربیت فرائض نبوت میں سے ہے ۔ یہی بات ہے کہ سیرت پیغمبرﷺ میں کسی ریاست کےاجتماعی معاملات کی درستی سے لے کر انفرادی آداب کی تلقین اور آموزش شامل ہے۔ اسی تربیت کے نتیجے میں عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کی وہ لازوال نعمت میسر آتی ہے جو دین ودنیا میں فوز وفلاح کاسب سے...

  • 70 نجومیوں کی سیاہ کاریاں (جمعہ 20 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1414

    جادو کرنا یعنی سفلی اور کالے علم کے ذریعہ سے لوگوں کے ذہنوں او رصلاحیتوں کو مفلوج کرنا او ران کو آلام ومصائب سے دوچار کرنے کی مذموم سعی کرنا ایک کافرانہ عمل ہے یعنی اس کا کرنے والا دائرہ اسلام سے نکل جاتا اورکافر ہوجاتا ہے یہ مکروہ عمل کرنے والے تھوڑے سے نفع کے لیے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے اور ان کے امن وسکون کوبرباد کرتے ہیں جولوگ ان مذموم کاروائیوں کا شکار ہوتے ہیں وہ عام طور پر اللہ کی یاد سے غافل ہوتے ہیں۔ او رلوگ اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائےاپنے مصائب ومشکلات کے وقت دکھوں تکلیفوں کے مداوا اور غموں وپریشانیوں سے نجات کے ساتھ ساتھ سعادت ونیک بختی ،کامیابی کوکامرانی ،دولت کےحصول اورجاہ وحشمت کی طلب کےلیے مارے مارے عاملوں او رنجومیوں کے آستانوں پر ماتھے رگڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ان نجمیوں نے ہر ہر خاندان میں پھوٹ ، عداوت ، دشمنی بغض اور حسد وکینہ کے بیج بودیے ہیں۔ ماں کوبیٹے، بہن کو بھائی اورباپ کو اولاد کا دشمن بنا چھوڑا ہے۔ انسانیت ان کی مذموم شیطانی کارستانیوں ،سیاہ کاریوں اور بدکاریوں سے جان بلب ہے اور کسی ایسی راہنمائی کی متلاشی ہے جوان کےدکھوں کا مدوا ثابت ہوسکے ، ان کے دین وایمان اور مادی دولت کےساتھ ساتھ ان کی عزت وناموس کی حفاظت کا بھی باعث بن سکے۔ زیر تبصر ہ کتاب ’’نجومیوں کی سیاہ کاریاں‘‘ جناب یحییٰ علی﷾ کی کاوش ہےجس میں انہوں نے امت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر مرض کی درست تشخیص کی ہے او رنجومیوں کے ہاتھوں بر باد انسانیت اور زخمی روحوں کےزخموں پرشافی مرحم رکھا ہے۔ اوران کوان سفاک بہروپیوں کےجال سےنکالنے کی کامی...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1228
  • اس ہفتے کے قارئین: 4882
  • اس ماہ کے قارئین: 33131
  • کل قارئین : 46461314

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں