شعبہ تصنیف و تالیف دار السلام

  • 1 تاریخ مدینہ منورہ (اتوار 26 جنوری 2014ء)

    اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل یہ کوئی خاص مشہور شہر نہیں تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔زیر نظر کتاب انتہائی معلوم افزاء اور اہم ہے۔ جس میں مدینہ منورہ کی قدیم و جدید تاریخ ،مدینۃ الرسول کے فضائل  و مناقب ،حدود حرم مدینہ ،ہجرت کے واقعات ،مدینہ منورہ سے یہودیوں کی جلاو طنی ،مسجد نبوی کی جدید و قدیم توسیع کے مراحل ،مسجد نبوی کی فضیلت ،زیارت قبر نبوی کا مشروع طریقہ اور مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد کو انتہائی شائستگی و سلاست سے بیان کیا گیا ہے ۔نیز اس کتاب میں قارئین کی دلی آسودگی ،قلبی تسکین اور مدینہ منورہ سے وابستہ یادوں کا جمیع سامان میسر ہے ۔جس کے مطالعہ سے آپ مدینہ منورہ کی قدیم و جدید تاریخ اور اس کے متعلقہ مسائل کے بارے  میں شرعی راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں ۔


  • 2 تاریخ مکہ مکرمہ (اتوار 26 جنوری 2014ء)

    مکہ مکرمہ کو روزہ اول سے دینی و مذہبی اعتبار سے مرکزیت حاصل رہی ہے اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے انسانوں  کے لیے بالعموم اور اہل اسلام کے لیے بالخصوص تاریخی کشش رکھتا ہے ۔اس لیے اس شہر مقدس کی  تاریخ حیطہ تحریر میں لانا ازحد ضروری تھا ۔کیونکہ اس میں مسلمانوں کی قلبی تسکین کا سامان تھا۔عربی زبان میں تاریخ مکہ مکرمہ اور دعوت اللہ کے تعمیری مراحل کا بیان کتب تاریخ میں تو ہے ہی البتہ اردو دان طبقہ کے لیے مکہ مکرمہ کی قدیم و جدید تاریخ لکھنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔اس عمدہ تاریخی موضوع کو مکتبہ دارالسلام نے بروقت تاڑ کر تاریخ مکہ مکرمہ کے نام سے کتاب مرتب کی جو ظاہری  اور باطنی حسن سے آراستہ ہے ۔اس میں مکہ مکرمہ کی فضیلت و اہمیت ،مکہ کی ابتدائی آبادکاری بیت اللہ کی تعمیر ،تعمیر کعبہ کے مختلف ادوار میں تعمیری مراحل سمیت چاہ زم زم  کی کھدائی ،آب زم زم کی روح زمین کے پانیوں سے فوقیت ،حج کے احکام ،حدود حرم کا بیان اور مکہ مکرمہ کے فلاحی اداروں کا بیان عمدہ اسلوب نگارش سے مرتب کیا گیا ہے ۔کتاب میں انتہائی مفید اور معلومات افزاء ہے   جس کا مطالعہ قارئین کو ماضی و حال  سے روشناس کراتا ہے اور قلوب و اذہان میں مکہ مکرمہ اور کعبۃ اللہ کے بارے میں جو خیالات و احساسات ہیں ان کی خوب روحانی سیرابی کرتا ہے ۔

  • 3 قواعد الصرف - حصہ اول (پیر 10 فروری 2014ء)

    قرآن و سنت سمجھنے کے لیے علوم عربیت میں ’فن صرف‘ کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم اسلامیہ میں پیش رفت اور کامل دسترس ممکن نہیں۔ قرآن و سنت سمجھنے کے لیے یہ بنیاد ہے۔ زیر نظر کتاب ’قواعد الصرف‘ بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے جس میں قواعد ومسائل کو بہت آسان اندازمیں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کو قرآنی مثالوں سے مزین کرتے ہوئے طالب علم کی علمی اور ذہنی سطح کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ہر سبق کے بعد تمرینات طالب علم کے لیے نہایت مفید ہیں۔ قواعد و امثلہ کی تصحیح کا مکمل اہتمام کیا گیا ہے نیز قواعد و مسائل کے انتخاب میں راجح قول کا التزام کیا گیا ہے۔ صرف سے متعلقہ بعض ایسے موضوعات بھی شامل کیے گئے ہیں جو مروجہ کتابوں میں موجود نہیں۔ بلاشبہ طالبان علوم عربیہ کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں


  • 4 پراسرار حقائق (منگل 11 فروری 2014ء)

    فی زمانہ ہمارا معاشرہ جنات و جادو اور آسیب کے حوالے سے جعلی عاملوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ ہرجگہ جادوگروں اور عاملوں کے آویزاں اشتہارات اور ان پر موجود بہت سے جانفزا نعرے عوام الناس کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اسلام ایک فطری دین ہے جس نے ہر پیش آمدہ مسئلے کا فطری حل بھی بتایا ہے۔ جادو و جنات کے توڑ کے لیے بھی اسلامی تعلیمات نہایت جامع ہیں۔ پیش نظر کتاب میں انھی تعلیمات کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔ ’مکتبہ دارالسلام‘ ہدیہ تبریک کا مستحق ہے کہ اس نے اس اہم موضوع پر کتاب و سنت کی روشنی میں عوام الناس کی رہنمائی کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ کتاب میں جہاں جنات و شیاطین، جادوگروں، نام نہاد عاملوں کی حقیقت واشگاف کی گئی ہے وہیں شیاطین سے بچاؤ کے طریقوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ جن، جادو، آسیب اور نظر بد کا علاج ایسے آسان اسلوب میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن و حدیث سے شناسائی رکھنے والا عام سا آدمی بھی ان پر عمل پیرا ہو کر جنات و شیاطین کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • 5 قواعد الصرف - حصہ دوئم (منگل 11 فروری 2014ء)

    قرآن و سنت سمجھنے کے لیے علوم عربیت میں ’فن صرف‘ کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے علوم اسلامیہ میں پیش رفت اور کامل دسترس ممکن نہیں۔ قرآن و سنت سمجھنے کے لیے یہ بنیاد ہے۔ زیر نظر کتاب ’قواعد الصرف‘ بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے جس میں قواعد ومسائل کو بہت آسان اندازمیں پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کو قرآنی مثالوں سے مزین کرتے ہوئے طالب علم کی علمی اور ذہنی سطح کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ ہر سبق کے بعد تمرینات طالب علم کے لیے نہایت مفید ہیں۔ قواعد و امثلہ کی تصحیح کا مکمل اہتمام کیا گیا ہے نیز قواعد و مسائل کے انتخاب میں راجح قول کا التزام کیا گیا ہے۔ صرف سے متعلقہ بعض ایسے موضوعات بھی شامل کیے گئے ہیں جو مروجہ کتابوں میں موجود نہیں۔ بلاشبہ طالبان علوم عربیہ کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • 6 آئیے عربی سیکھیں (پیر 03 جون 2013ء)

    عربی قرآن اوراہل جنت کی زبان ہے ۔اسلامی شریعت کا اصل منبعہ یہی زبان ہے ۔لہذا شریعت کی تفہیم کی خاطر عربی کا آنا  ازبس ضروری ہے ۔لیکن آج کےدورمیں مسلمانوں کو جہاں فکری طور پرزوال آیاہے وہاں یہ بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں کہ انہیں اپنی  زبان اور علوم سے وہ شغف نہی رہاجو انگریز ی علوم اور زبان سے ہے۔اور اسی مشکل کا بالخصوص اس وقت سامناکرناپڑتاہے جب مسلمان حج وعمرہ کیلے جاتاہے۔وہاں اسے ایک تو دوران ادئیگی فریضہ زبان نہ آنےکی وجہ سےمشکلات پیش آتی ہیں ،اوردوسری  جب اس معاشرےمیں رہتےہیں تو عرب لوگوں سے معاملہ کرتےوقت  مشکلوں کاسامناکرناپڑتاہے۔اسی طرح اگرسعودی عرب یاکسی دیگر عرب ملک میں کاروبارکیلے جاناہوتو یہ اسی طرح کی مشکلات کا پیش آتی ہیں ۔چناچہ  عوام الناس کی اسی پریشانی کےحل کیلے دارالسلام سٹوڈیولاہورپاکستان نےآئیے عربی سیکھیں کےنام سے یہ کتاب تیارکی ہے۔اس کتاب میں آسان عربی قوائد،روزمرہ استعمال ہونےوالی اشیاکےنام،گنتی او رفن وہنر سے وابسطہ الفاظ کو مکالماتی انداز میں پیش کیاگیاہے۔نیز برآں اس کی علیحدہ سے کیسٹس اورسی ڈیزبھی دستیاب ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • پیدا ئش کے بعد بچے کا اچھا سا نام رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے  ۔بیٹے یا بیٹی کی خوشخبری کے  بعد نو مولود کا  بہترین نام رکھنا بارگاہ الٰہی میں اظہار  تشکر کا ایک  انداز بھی ہے۔   لیکن لوگ اپنے بچوں کے نام رکھتے  وقت  الجھن میں پڑ جاتے ہیں اور اکثر سنے سنائے ایسے نام رکھ دیتے ہیں،   جو سراسر شر ک پر مبنی ہوتے ہیں  ۔حالانکہ اولاد کے اچھے اچھے نام ر کھنے کی شریعت میں بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔  ناموں  کے انتخاب  اوروالدین کو  اس مشکل  سے نکالنے کے لیے زیر نظر کتاب بہت اہم ہے۔  جس کی مدد سےبچوں کے اچھے  اچھے نام رکھے جا سکتے ہیں۔  کیونکہ  اچھے نام سےبچے  کی شخصیت پراچھا اثر پڑتا ہے۔  اس کتاب میں  نومولود کے متعلق عمومی احکام ومسائل،نام او رکنیت رکھنے کے  احکام بیان کرنے کے  بعد مختلف زبانوں کے  2735  نام اور ان کے معانی کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ  اہل اسلام کو اس  کتاب سے مستفید ہونےکی توفیق  عطا فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے اور اس مصنف اور ناشر کی تمام کتب حاصل کرنے کے لیے
  • حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ''حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں زیرنظر کتاب کتب دینیہ کی اشاعت کے عالمی ادار ے دار السلام کی اس سلسلے میں ایک اہم کا وش ہے جس میں حج وعمرہ کے تمام مسائل او ر اس دوران پڑھی جانے والی دعائیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جمع کر دی گئی ہیں مزید برآں تمام مقدس مقامات کو نہایت خوبصورت تصویروں او ر نقشوں کے ذریعے بخوبی اجاگر کیا گیا ہے دار السلام کی مرتب کردہ یہ دلکش کتاب خود پڑھنے اور عزیز واقارب دوست احباب کو تحفہ دینے کے لائق ہے تاکہ حج وعمرہ کے فرائض مسنون طریقے سے ادا کیے جاسکیں اللہ تعالی دار السلام کی اس کاوش کو اہل اسلام کے لیے مفید بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • اللہ تعالیٰ نے توبہ واستغفار کا دروازہ کھلا رکھا ہے جب تک انسان کاآخری وقت نہیں آجاتا وہ توبہ کرسکتا ہے اوراس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے لیکن جب آخری لمحات آجائیں موت سامنے نظر آنے لگے جب انسان کو یقین ہوجائے کہ بس اب وقت آگیا ہے اس وقت اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے تو اس کی اس توبہ کا کوئی اعتبار نہیں یا اس وقت کی توبہ قابل قبول نہیں۔انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور استغفار کرتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں...

  • 1 انسان اپنی صفات کے آئینے میں (بدھ 24 جولائی 2013ء)

    اللہ تعالی نے قرآن میں سینکڑوں مقامات پربراہ راست انسانوں سے خطاب کیاہے اور انہیں اپنی زندگی کےنصب العین کوکتاب وسنت کے مطابق ڈھالنے کاحکم دیاہے۔اسی حوالےسےاس کتاب میں ایک انسان کو کامیاب اسلامی زندگی بسرکرنےکی صراط مستقیم دکھائی گئی ہے۔ کتاب  کےپہلےایک تہائی حصے میں انسان کی پندرہ ایسی  کمزوریوں اور خصائل کاذکر کیاگیاہےجو اس کی شخصیت کےنفسیاتی عوارض اور منفی کردار کےمختلف پہلو عیاں کرتی ہیں۔قرآن کی متعدد آیات میں یہ کمزوریاں بیان کی گئی ہیں ۔انسانوں کاخالق ان کی بشری کمزوریوں ،جبلی ناہمواریوں اور فطری کوتاہیوں کوخوب سمجھتاہے،اسی باعث ان آیات میں محض ان کمزوریوں کاتذکرہ کرنےہی پراکتفانہیں کیاگیا بلکہ ان خرابیوں کےعلاج اور عوارض کےمداوے پرسیر حاصل بحث کی گئی ہے۔قرآن  کامطالعہ کرتےوقت ایک قاری کےسامنےیہ بات روشن ہوجاتی ہےکہ معروف ومنکر ،حلال وحرام ،ثواب وگناہ،نیکی  وبدی ،خیر وشر،توحیدوکفر،ظلمت ونور کی اصلیت کیا ہے۔ان ہر دو میں سے کسی  ایک کو اپنانے کے کیانتائج مرتب ہوتےہیں اور کسی خرابی کو اختیارکرنےسے نفس انسانی میں کیا عوارض پیداہوتےہیں اور انسانی شخصیت پرکیسے منفی اثرات مرتب ہوتےہیں۔یہ کتاب ان پہلووں پربھی روشنی  ڈالتی ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • 2 جنت میں داخلہ اور دوزخ سے نجات (ہفتہ 30 نومبر 2013ء)

    اللہ تعالی نے  ہرکلمہ گو انسان کو اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل کرنے  کی خوشخبری  سنائی ہے۔  جوبندہ اللہ  اوراس کے  رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبردای کرے گا،    وہ جنت کا  مستحق ہے، اور جو اللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکامات   کی تابعداری نہیں کرے  گا، اس کا ٹھکانہ  جہنم ہے ۔اللہ  تعالی نے قرآن مجید ،فرقان حمید میں  اور نبی ﷺ نے    احادیث مبارکہ میں   جنت اور جہنم میں لے جانے والی اعمال  کی  تفصیل  سےوضاحت بیان  فرمادی ہے۔جنت میں دخول ہی حقیقی کامیابی ہے،   جیسے کہ ارشاد ربانی  ہے:  فَمَن زُحزِحَ عَنِ النّارِ‌ وَأُدخِلَ الجَنَّةَ فَقَد فازَ (آل عمران :185)’’پس جو دور کردیا گیا آگ سے  اور داخل کردیا گیا جنت میں تویقینا وہ کامیاب ہو گیا ہے ‘‘زیر نظر کتاب  نامور سعودی عالم دین  الشیخ عبد اللہ بن جاراللہ  کی  عربی تالیف    کا  سلیس و آسان فہم اردو  ترجمہ  ہے۔ فاضل  مؤلف نے  قرآن وحدیث کی تصریحات سے جنت اور دوزخ کا نقشہ پیش کرنے  کی ایک  مخلصانہ  کوشش کی ہے، مؤلف نے  قرآن کریم اور  احادیث رسولﷺ سے وہ تمام باتیں چن چن کر یک جا کردی ہیں، جو دوزخ سے نجات، اور جنت میں  داخلے کی ضامن ہیں۔ اللہ تمام اہل  ایمان و اہل توحید  کو دوزخ سے نجات دے، اور جنت میں ان کو داخلہ عطا فرمائے (آمین)(ک۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • عقیدہ توحید ہی وہ بنیاد ہے جس پر محمد بن عبداللہ  ﷺ کی دعوت قائم ہے۔اس پر ایمان لانا ہر مسلمان کا  اولین فریضہ ہے۔  بنی  نوع انسان کی تخلیق کامقصد  اولیٰ بھی یہی ہے  کہ اللہ وحدہ لا شریک کی خالص عبادت کی جائے۔تمام انبیاء علیہم السلام حتی کہ  خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کا مقصود اول  بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کوقائم کرنا او رانسانوں کے خود ساختہ معبودوں کوپاش پاش کرنا تھا۔ اللہ  تعالی کی وحدانیت مسلمانوں کے  لیے ایک شفاف آئینہ ہے جوشرک وبدعات کی ذرا سی گرد کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا ۔لیکن افسوس صدافسوس کہ آج بہت سے مسلمانوں کا آئینہ توحید شرک وبدعات کے غبار سے آلودہ ہے۔علمائے اسلام اپنی تالیفات ،تذکیر، وعظ ونصیحت کے ذریعے   لوگوں کےعقائد  کے اصلاح کرتے رہے ہیں۔ انہی اہم تالیفات میں  سے شیخ  ابن باز کی کتاب   اقامة  البراهين على حكم من استغاث لغير الله او صدق الكهنة والعرافين   ہے جس کادارالسلام  نے  اردو ترجمہ  ’’غیر اللہ  سےمدد اور نجومیوں کی پیش گوئیاں‘‘کے نام شائع کیا ہے۔ اللہ  اس کتاب سےاہل اسلام کے عقائدو  اعمال کی اصلاح فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں...
  • ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں بے شمار سیرت نگار وں نے سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ہیں۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد بھی کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’سیرت النبی ﷺ ‘‘ عرب کےمایہ ناز مؤلف ومحقق دکتور علی محمد محمد صلابی کی ہادیِ عالم ﷺ کی سیرت سے ماخوذ ، عصر حاضر کےتقاضوں سے ہم آہنگ دروس وعِبر اور فوائد وثمرات پر مشتمل یہ تصنیف ہے۔ یہ کتاب ندرت کے کئی پہلوؤں کی حامل ہے ۔سیرت مبارکہ اور قرآن مجید کے باہمی ربط کا اظہار ،واقعات سیرت کے بیان میں اختلاف کا حل ، اسلوب میں ادبی چاشنی...

  • ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں بے شمار سیرت نگار وں نے سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ہیں۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد بھی کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’سیرت النبی ﷺ ‘‘ عرب کےمایہ ناز مؤلف ومحقق دکتور علی محمد محمد صلابی کی ہادیِ عالم ﷺ کی سیرت سے ماخوذ ، عصر حاضر کےتقاضوں سے ہم آہنگ دروس وعِبر اور فوائد وثمرات پر مشتمل یہ تصنیف ہے۔ یہ کتاب ندرت کے کئی پہلوؤں کی حامل ہے ۔سیرت مبارکہ اور قرآن مجید کے باہمی ربط کا اظہار ،واقعات سیرت کے بیان میں اختلاف کا حل ، اسلوب میں ادبی چاشنی...

  • ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں بے شمار سیرت نگار وں نے سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ہیں۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد بھی کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’سیرت النبی ﷺ ‘‘ عرب کےمایہ ناز مؤلف ومحقق دکتور علی محمد محمد صلابی کی ہادیِ عالم ﷺ کی سیرت سے ماخوذ ، عصر حاضر کےتقاضوں سے ہم آہنگ دروس وعِبر اور فوائد وثمرات پر مشتمل یہ تصنیف ہے۔ یہ کتاب ندرت کے کئی پہلوؤں کی حامل ہے ۔سیرت مبارکہ اور قرآن مجید کے باہمی ربط کا اظہار ،واقعات سیرت کے بیان میں اختلاف کا حل ، اسلوب میں ادبی چاشنی...

  • دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالم...
  • دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام...
  • دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام...
  • دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام...
  • دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 3955
  • اس ہفتے کے قارئین: 16092
  • اس ماہ کے قارئین: 54770
  • کل مشاہدات: 40186141

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں