سمیر حلبی

2 کل کتب
دکھائیں

  • 1 محبت کی حقیقت (منگل 06 اگست 2013ء)

    مشاہدات:5940

    محبت زندگی کی اساس  اور وجود کائنات ہے ۔ محبت عبادت کی جان اور انسانوں کے باہمی تعلق کی بنیاد ہے ۔ اور محبت ہی اشیاء کے درمیان ربط کا ذریعہ ہے ۔ بعض لوگو ں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں ہونے والی ہر حرکت محبت ہی کے سبب سے ہے ۔ گو یہ محبت کے آثار و نتائج اس کے ظاہری الفاظ اور لغوی مغہوم سے ماوراء ہو کر سارے آفاق میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ بلکہ اگر یہ کہہ دیا جائے تو اس میں مبالغہ نہ ہو گا کہ محبت ہی وجود کا راز ہے ۔ کیونکہ انسان کا اپنے پروردگار سے تعلق محبت کی بنیاد پر قائم ہے اور انسانوں کا اپنے گرد و پیش کے ماحول سے ربط و تعلق بھی محبت ہی کی اساس پر استوار ہے ۔ محبت کی حدت اللہ تعالی کی عبادت کا جذبہ پیدا کرتی ہے اس کے نتیجے میں ہم اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں ۔ اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں اور اس کا پیغام پھیلاتے ہیں ۔ اسی جذبے کے تحت ہم اپنے بھائی بندوں سے اللہ کے لیے تعلق قائم کرتے ہیں ، اسی بنا پر انانیت دب جاتی ہے اور ایثار نمایاں ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں تواضع اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہو جاتی ہے ۔ محبت ہی سے زندگی رواں دواں ہے کیونکہ کسی بھی کام سے محبت انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اسے خوبی اور خلوص سے سر انجام دے ۔ محبت کیا ہے؟ اس کا صحیح مطلب کیا ہے؟ محبت کی کتنی قسمیں ہیں؟ اس کی کیا نشانیاں ہیں؟ یہ اور اس طرح کے دیگر سوالات کا  کافی و شافی جواب زیرنظر کتاب میں آپ پائیں گے ۔ اللہ ہمیں اس جذبہ کو خالصتا فروغ اسلام کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (ع۔ح)
     

  • 2 محبت، عشق و محبت کے مدارج کا شرعی تجزیہ (اتوار 19 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1648

    محبت کا لفظ اردو میں بھی کئی معانی رکھتا ہے۔ یہ محبت عام کسی شے سے بھی ہے اور کسی خاص ہستی، شخص یا رشتے سے بھی ہو سکتی ہے۔ محبت کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلا مذہبی پیار، اللہ ورسول اور دین سےمحبت ،کسی خاص رشتے سے پیار، حب الوطنی یعنی وطن کے لیے پیار، کسی بندے کے لیے پیار۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور عشق ایک جنون کا نام ہے جو اپنی انتہا پر پہنچتا ہے تو انسان اپنا عقل و شعور کھو بیٹھتا ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی، بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے ۔عشق کا معنی اور مفہوم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ یہ اللہ، رسول، نبی یا کسی محبت کرنے والے رشتے سے محبت کے اظہار کےلیے استعمال کیا جائے کیونکہ عشق میں محبت ہوتی ہی نہیں ہے عشق میں تو صرف حرص و ہوس ہوتی ہے جو کہ شہوت سے پُر ہوتی ہے۔آسانی کے طور پر آپ اسے یوں سمجھیں کہ گر ہم کہیں کہ ہمیں اپنے اہل خانہ سے محبت ہے ۔۔۔ مجھے اپنے والدین سے محبت ہے ۔۔۔ مجھے اپنی بہنوں سے محبت ہے۔۔۔۔ مجھے اپنی بیٹیوں سے محبت ہے یا کوئی شخص ایسے کہہ سکتا ہے یا ایسی بات زبان پر لاسکتا ہے کہ میں اپنی والدہ، بہن یا بیٹی کا عاشق ہوں ؟ کجا لوگ یہ کہتے پھریں کہ میں رسول ﷺ کا عاشق ہوں یا عشق الہی میں غرق ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’محبت‘‘ شام کی فاضل شخصیت علامہ سمیر حلبی کی کتاب ’’المحبة‘‘ کا اردو ترجمہ ہے یہ بامحاورہ رواں دواں ترجمہ ممتاز عالم دین شیخ الحدیث حافظ محمد امین﷾ نے کیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں جذبۂ محبت کے تمام نقاب ال...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1765
  • اس ہفتے کے قارئین: 12879
  • اس ماہ کے قارئین: 26850
  • کل قارئین : 48440158

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں