سید ریئس احمد جعفری

1 کل کتب
دکھائیں

  • 1 تاریخ دولت فاطمیہ (اتوار 29 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1704

    سلطنت فاطمیہ یا خلافت فاطمیہ خلافت عباسیہ کے خاتمے کے بعد 297ھ میں شمالی افریقا کے شہر قیروان میں قائم ہوئی۔ اس سلطنت کا بانی عبیداللہ مہدی چونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے تھا (بعض محققین کو اس سے اختلاف ہے) اس لئے اسے سلطنت فاطمیہ کہا جاتا ہے ۔ عبید اللہ تاریخ میں مہدی کے لقب سے مشہور ہے۔ فاطمین حضرت فاطمہ کی نسل سے ہیں کہ نہیں اس بارے میں مورخین میں اختلاف ہے ۔ صرف ابن خلدون اور مقریزی اس بارے میں متفق ہیں کہ یہ فاطمی نسب ہیں۔ خود فاطمین یا ان کے داعیوں نے اثبات نسب میں کوئی حصہ نہیں لیا ۔ معتدد دفعہ ظہور کے زمانے میں نسب کا سوال اٹھایا گیا ، لیکن کسی امام نے اس کا جواب نہیں دیا ۔ معز سے مصر میں کسی نہ یہ سوال کیا کہ آپ کا نسب کیا ہے ۔ اس جواب میں معز نے ایک جلسے میں تلوار اپنی میان سے نکال کر کہا کہ یہ میرا نسب ہے اور پھر سونا حاصرینپر سونا اچھالتے ہوئے کہا کہ یہ میرا حسب ۔ اس زمانے میں جو خطبہ پڑھا جاتا تھا اس میں بھی ائمہ مستورین کی جگہ ممتخنین یا مستضعفین جیسے الفاظ پڑھا کرتے تھے ۔ زمانہ ظہور کے داعیوں نے بھی اس کی طرف توجہ نہیں دی ۔ جب بھی ان کے نسب کا سوال اٹھایا گیا تو انہوں نے خاموشی اختیار کرلی ۔ ان کی مشہور دعا ’ دعائم اسلام ‘ جو ہر نماز میں پڑھی جاتی ہے اس میں بھی کسی امام مستور کا ذکر نہیں پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تاریخ دَ‎ولتِ فاطمیہ‘‘ سید رئیس احمد جعفری ندوی کی تصنیف ہے۔ جس میں دولت فاطمی کی تاریخ، فاطمی خاندان کے فرماں رواں، فاط...


1 کل کتب
دکھائیں

  • 1 حیات شیخ الاسلام ابن تیمیہ (پیر 14 نومبر 2011ء)

    مشاہدات:22217

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ذات مجمع علوم و فنون، منبع حرب و پیکار اور ذخیرہ گفتار و کردار تھی۔ امام صاحب رحمہ اللہ نے علم منطق میں وہ دسترس حاصل کی کہ ارسطو کی منطق ایک بے حقیقت چیز بن گئی، فلسفہ میں وہ کمال حاصل کیا کہ اس کی تلوار سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے، تفسیر میں وہ نکات پیدا کیے اور وہ حقائق آشکار کیے کہ ایک نئے مدرسہ فکر کے بانی بن گئے، حدیث و نقد روایت میں ایسی دقت نظر کا نمونہ پیش کیا کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی، فقہ میں وہ مجتہدانہ کمال پیدا کیا کہ حنبلی نسبت ہونے کے باوجود اپنے اختیارات و اجتہادات میں وہ کسی متعین فقہ کے پابند نہیں تھے، تقابلی فقہ میں ایک انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے، علم کلام میں درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے اور نام نہاد فکری تصوف نا قابل بیان علمی تردید فرمائی، فن جدال و مناظرہ میں قدم رکھا تو عیسائیوں، روافض، فلاسفہ اور مناطقہ اور متکلمین کے فکر کی دھجیاں بکھیر دیں، ایک عالم باعمل کی حیثیت سے ملوک و سلاطین کے درباروں میں کلمہ حق بلند کیا، وہ محض صاحب قلم نہ تھے بلکہ صاحب شمشیر بھی تھے، ان کے قلم نے جو نقوش بنائے وہ کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں لیکن ان کی نوک شمشیر نے دشمنان اسلام کے سر و سینہ پر جو لکیریں کھینچیں، تاریخ نے انہیں بھی ناقابل فراموش بنادیا ہے، وہ صرف بزم کے میر مجلس نہ تھے، رزم کے امیر عساکر بھی تھے، وہ علم کا ایک بحر زخار تھے، معلومات کا ایک بے بہا خزانہ تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایسی جامع صفات کی حامل شخصیت پر قلم اٹھانا کوئی آسان بات نہیں ہے لیکن شیخ ابو زہرۃ مصری رحمہ اللہ نے اس موضوع پر کتاب مرتب کر کے سیر حاصل...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1036
  • اس ہفتے کے قارئین: 7594
  • اس ماہ کے قارئین: 32122
  • کل قارئین : 47111671

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں