ابو زید شبلی

2 کل کتب
دکھائیں

  • 1 اللہ کی تلوار (منگل 23 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:5021

    کسی قوم کی حقیقی قدر و قیمت اس کے افراد کے ذریعے ہوتی ہے۔ افراد اپنے کارناموں کی بدولت قوم کی سربلندی کا باعث بنتے ہیں۔ جس قوم میں مخلص کارکن، باعمل عالم، نڈر اور بے خوف مجادین اور راست باز سیاست دان ہوں وہ قوم ترقی کے بغیر نہیں رہ سکتی اور وہی قوم اس بات کی مستحق ہوتی ہے کہ زمین کی بادشاہت اس کے ہاتھ آئے۔ سیدنا خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ بھی ایسی ہی ایک نڈر قوم کے فرد ہیں۔سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جن کو سیف اللہ لقب عطا کیا گیا۔ انھوں نے جنگی تاریخ میں ایسے کارنامے سرانجام دئیے کہ دنیا ورطہ حیرت میں پڑ گئی۔ آپ کی جرات ، شجاعت اور عظمت کا اعتراف تو دشمن نے بھی کیا۔ ابو زید شبلی نے اپنی اس تصنیف میں ابو سلیمان سیدنا خالد بن ولید کی شخصیت، آپ کے اخلاقی و عملی کردار، خاندانی وقار اور خلافت اسلامیہ کے لیے خدمات کا بھوپور جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی ذات پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کا دفاعی انداز میں جواب بھی خوب دیا ہے۔ نبی کریمﷺ کی زبان مبارک سے خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کے جو فضائل بیان ہوئے ہیں وہ بھی بیان کیے ہیں۔ ایک ایسے مسلمان نوجوان کے لیے جو دعوت و جہاد والے نبوی منہج پر چل کر دنیا میں اپنا کوئی کردار ادا کر نا چاہتا ہو، یہ کتاب نہایت مفید ہے۔  (ع۔م)

  • سیدنا خالد بن ولید  قریش کے ایک معزز فرد اور بنو مخزوم قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔ نبی ﷺ نے جنگ موتہ میں ان کی بے مثل بہادری پر انہیں سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا۔ جب آنحضور ﷺنے اہل قریش کو بتوں کی پوجا سے منع کیاتو سب آپ کے خلاف ہوگئے۔ اس وقت آپکی عمر 17 برس تھی۔ آپ بھی اپنے والد کے ساتھ حضور ﷺکے دشمن تھے۔ بعد میں آپ نے اسلام قبول کیا۔ سیدنا خالد بن ولید  نے تلوار کے سائے میں پرورش پائی اس لیے وہ بہت پھرتیلے اورنڈر تھے۔ کشتی، گھڑ سواری اور نیزہ بازی کے ماہر تھے۔خالد بن ولید   کئی جنگوں میں شریک رہے۔ اسلام لانے کے بعد حاکم شام کا مقابلہ کرنے کےلئے تین ہزار صحابہ کی فوج تیار ہوئی اس میں آپ بھی شامل تھے۔ خونریز معرکہ ہوا مخالفین ایک لاکھ کی تعداد میں تھے۔ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوا۔اگلے روز اس لشکر کی کمان حضرت خالد   نے اپنے ہاتھوں میں لی اور اعلیٰ جنگی اصولوں پر اپنی تھوڑی سی فوج  کو مجتمع کیا اور حاکم شام کی ٹڈی دل فوج کو تہس ہنس کردیا اور فتح پائی۔ نبی پاک ﷺکی وفات کے بعدخلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق   کے دور میں آپ اسلامی لشکروں کی سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے رہے۔معرکہ یمامہ میں آپ نے صرف تیرہ ہزار فوجیوں کے ساتھ مسیلمہ بن کذاب کی لاکھوں کی فوج کو شکست دی۔ حضرت خالد بن ولید   جب بستر علالت پر تھے تو آپ نے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا۔” میں نے ان گنت جنگوں میں حصہ لیا۔ کئی بار اپنے آپ کو ایسے خطروں میں ڈالا کہ جان بچانا مشکل نظر آتا تھا لیکن شہادت کی تمنا پوری نہ ہوئی۔میر...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 638
  • اس ہفتے کے قارئین: 4815
  • اس ماہ کے قارئین: 24108
  • کل قارئین : 47704099

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں