• 1 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 3،2،1 (جمعرات 14 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:31252

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد پہلے تین پاروں پر مشتمل ہے جس میں کتاب الاذان تک کی احادیث کی شرح شامل ہے)۔(ط۔ا)
     

  • 2 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 6،5،4 (جمعہ 15 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:29221

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد تین پاروں پر مشتمل ہے جس میں کتاب الحج تک کی احادیث کی شرح شامل ہے)۔(ط۔ا)
     

  • 3 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 9,8,7 (ہفتہ 16 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:29081

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)
     

  • 4 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 12,11,10 (اتوار 17 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:29205

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)
     

  • 5 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 15,14,13 (جمعہ 15 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:30249

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)
     

  • 6 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 18,17,16 (جمعہ 15 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:28958

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)
     

  • 7 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 21,20,19 (ہفتہ 16 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:28773

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)
     

  • 8 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 24,23,22, (اتوار 17 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:29288

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)
     

  • 9 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 27,26,25 (اتوار 17 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:28980

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)

  • 10 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 30,29,28 (اتوار 17 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:29014

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد بھی تین پاروں پر مشتمل ہے)۔(ط۔ا)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1396
  • اس ہفتے کے قارئین: 3626
  • اس ماہ کے قارئین: 17597
  • کل قارئین : 48329485

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں