• 1 فتاویٰ ڈاکٹر یوسف القرضاوی جلد اول (جمعہ 19 مئی 2017ء)

    مشاہدات:2540

    پیش آمدہ واقعات کے بارے میں دریافت کرنے والے کو دلیل شرعی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں خبر دینے کو فتویٰ کہتے ہیں۔ فتویٰ ایک اہم ذمہ داری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مفتی دینی معاملات میں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں فتویٰ نویسی کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے؛ چونکہ ایک مسلمان کو دینی اوردنیاوی معاملات میں جدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ اس لیے مسلم معاشرہ میں اس کی موجودگی ضروری ہوجاتی ہے ۔نبی کریم کے دور سے لے کر اب تک علماء نے اس اہم ذمہ داری کو نبھایا اور ا س کے اصول ،شرائط اور آداب پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ فتاویٰ دراصل مسلم معاشرہ کے اقتصادی ،معاشی ،سیاسی اور سماجی مسائل کے عکاس ہوتے ہیں۔ ان سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک مخصوص معاشرہ کے لوگ ایک مخصوص وقت اور حالات میں کن مسائل کا شکار تھے؟ معاشرتی تغیرات اور علمی وفکری اختلافات کی نوعیت کیا تھی؟ ان مسائل کے حل کے لیے اس دور کے اہلِ علم نے کس نہج پر سوچ وبچار کی اور کن اصولوں کو پیش نظر رکھا ؟ نیز ان فتاویٰ نے مسلم معاشرہ پر کتنے گہرے اثرات مرتب کیے؛چنانچہ امام مالک  ،امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل،امام مالک،ابن تیمیہ اور برصغیر میں شاہ عبدالعزیز دہلوی کے فتاویٰ نے مسلم معاشرہ پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے۔بہت سے علماء کے فتاویٰ انقلابی اور فکری تحریکات کا باعث بنے۔تاہم بعض فتاویٰ مسلم معاشرہ میں فکری انتشار کا باعث بھی بنے اور یہ عمل برصغیر میں مسلمانوں کے زوال کے بعد شروع ہوا۔یہی وجہ ہے کہ بارہ سو سال میں اتنے فتاویٰ نہیں دیے گئے جتنے برصغیر کے دوسوسالہ غلام...

  • 2 فتاویٰ ڈاکٹر یوسف القرضاوی جلد دوم (ہفتہ 20 مئی 2017ء)

    مشاہدات:1844

    پیش آمدہ واقعات کے بارے میں دریافت کرنے والے کو دلیل شرعی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں خبر دینے کو فتویٰ کہتے ہیں۔ فتویٰ ایک اہم ذمہ داری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مفتی دینی معاملات میں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں فتویٰ نویسی کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے؛ چونکہ ایک مسلمان کو دینی اوردنیاوی معاملات میں جدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ اس لیے مسلم معاشرہ میں اس کی موجودگی ضروری ہوجاتی ہے ۔نبی کریم کے دور سے لے کر اب تک علماء نے اس اہم ذمہ داری کو نبھایا اور ا س کے اصول ،شرائط اور آداب پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ فتاویٰ دراصل مسلم معاشرہ کے اقتصادی ،معاشی ،سیاسی اور سماجی مسائل کے عکاس ہوتے ہیں۔ ان سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک مخصوص معاشرہ کے لوگ ایک مخصوص وقت اور حالات میں کن مسائل کا شکار تھے؟ معاشرتی تغیرات اور علمی وفکری اختلافات کی نوعیت کیا تھی؟ ان مسائل کے حل کے لیے اس دور کے اہلِ علم نے کس نہج پر سوچ وبچار کی اور کن اصولوں کو پیش نظر رکھا ؟ نیز ان فتاویٰ نے مسلم معاشرہ پر کتنے گہرے اثرات مرتب کیے؛چنانچہ امام مالک  ،امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل،امام مالک،ابن تیمیہ اور برصغیر میں شاہ عبدالعزیز دہلوی کے فتاویٰ نے مسلم معاشرہ پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے۔بہت سے علماء کے فتاویٰ انقلابی اور فکری تحریکات کا باعث بنے۔تاہم بعض فتاویٰ مسلم معاشرہ میں فکری انتشار کا باعث بھی بنے اور یہ عمل برصغیر میں مسلمانوں کے زوال کے بعد شروع ہوا۔یہی وجہ ہے کہ بارہ سو سال میں اتنے فتاویٰ نہیں دیے گئے جتنے برصغیر کے دوسوسالہ غلام...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 947
  • اس ہفتے کے قارئین: 9630
  • اس ماہ کے قارئین: 43651
  • کل قارئین : 47904677

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں