دکھائیں کتب
  • 11 حیات سیدنا مسیح علیہ السلام (منگل 02 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1559

    سیدنا عیسی  کو زندہ آسمان پر اٹھانے اور پھر قرب قیامت ان کے نزول کا عقیدہ قرآن مجید اور صحیح احادیث سے  ثابت ہے،مگر قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے سیدنا عیسی  کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ "اللہ نےانہیں اپنی طرف بلند کردیا "وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ انکے درجات بلند کردیے گئے تھے۔اس جگہ پر درجات کے بلند ی کا یہ فائدہ ہوا کہ صلیب پر وہ زندہ رہےاوریہود کو شبہ لگ گیا کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔سیدنا عیسی  پھر کسی اور علاقہ میں چلے گئے وہاں تقریبا نصف صدی حیات رہے پھر طبعی وفات پائی اور انکی قبر کشمیر میں ہے، اب ایک نیا مسیح پیدا ہونا تھا جو کہ ایک محبوط الحواس بھینگے میٹرک فیل دجال و کذاب مرزاقادیانی کی شکل میں پیدا ہوا ہے۔ ہمارے نزدیک مرز ا قادیانی نے تو محض عیسی علیہ السلام کی سیٹ خالی دیکھ کر خود کو مسیح کہلوانے کے لیے قرآن سے عیسی کی وفات کا عقیدہ اور اسکی قبر کے قصے گھڑے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "حیات سیدنا مسیح  " محترم  مولانا محمد مغیرہ صاحب مرکزی ناظم تبلیغ مجلس احرار اسلام پاکستان کی کاوش ہے جس میں انہوں نے مرزا قادیانی کی طرف سے وفات مسیح  کے باطل عقیدے پر پیش کردہ تیس آیات کا مکمل ومدلل جواب دیتے ہوئے سیدنا عیسی  کی زندگی کے حوالے سے وارد قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • 12 سیرت ابراہیم علیہ السلام (پیر 19 مئی 2014ء)

    مشاہدات:6545

    سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم ﷤ کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم ﷤ کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم ﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم﷤ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم﷤کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ''اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے ۔'' زیر نظر کتاب ''سیرت ابراہیم﷤'' قائد تحریک دعوت توحید میاں محمد جمیل ﷾ کی تصنیف ہے فاضل مؤلف نے آیات قرآنی اور احادیث کی روشنی میں حضرت ابراہیم﷤ کے تفصیلی وا...

  • 13 قرآن کریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام (منگل 21 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:1353

    اقوام عالَم میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی قوم ایسی نہیں جس کی مذہبی کتاب عیسائیوں کے پیغمبر اور کتاب کو مانتی ہو‘ اس کی سچائی کی تائید کرتی ہو اور ان کے فضائل بیان کرتی ہو۔ چنانچہ قرآن کریم نے بڑی تفصیل کے ساتھ حضرت عیسیٰؑ کا تذکرہ بھی کیا ہے‘ پیدائش عیسیؑ‘ رسالت عیسیؑ‘ معجزات عیسیٰ ‘ مخالفین ومنکرین عیسیٰ کی تردید ومزمت وغیرہ سب معاملات کو احسن انداز سے بیان فرمایا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں بھی قرآن کریم سے وہ آیات اور حوالے ترجمہ ومختصر تشریح کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں جن کا تعلق حضرت عیسیٰؑ‘ ان کی والدہ محترمہ کے فضائل ومناقب اور ان کی کتاب وتعلیمات کے حق وسچ ہونے سے ہے تاکہ عیسائیت کے موجودہ پیروکاروں کو اندازہ ہو کہ قرآن کریم حقیقت کا ترجمان ہے۔ حقیقت کو ہی پسند کرتا ہے اور تعصب وگروہیت سے پاک ہے۔ اس کتاب میں ہر موضوع سے متعلقہ قرآنی آیت کو بیان کیا گیا ہے اور  تفصیل بیان کی گئی ہے۔کتاب کی ترتیب نہایت عمدہ اور اسلوب نہایت شاندار اپنایا گیا ہے۔ حوالہ جات کا بھی  اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اُن لوگوں کے لیے جو قرآن کریم سے متعصبانہ رویہ رَوا رکھنے والوں کے لیے علمی جواب اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ یہ کتاب’’ قرآن کریم اور حضرت عیسیٰؑ ‘‘ مؤلف’’قاری عبدالرؤف قریشی‘‘ شہرہ آفاق کتاب ہے‘ آپ تالیف وتصانیف کا عمدہ ذوق رکھتےہ یں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنا...

  • 14 مسئلہ حیات عیسٰی ابن مریم علیہ السلام (جمعہ 30 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1994

    امت مسلمہ مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر ہر دور میں متفق رہی ہے ۔لیکن مرزا قادیانی کے کچھ نفس پرستوں نے خود ساختہ عقلی دلائل کا سہارا لے کر مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام پر امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اور الحمد اللہ ہمارے بزرگان دین اور علماءکرام نے ایسے فتنوں کا پوری طرح تعاقب کیااور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے عیسی علیہ السلام کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ 'اللہ نےانہیں اپنی طرف بلند کردیا 'وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ انکے درجات بلند کردیے گئے تھے ، اس جگہ پر درجات کے بلند ی کا یہ فیدہ ہوا کہ صلیب پر وہ زندہ رہے اور یہود کو شبہ لگ گیا کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے، عیسی پھر کسی اور علاقہ میں چلے گئے وہاں تقریبا نصف صدی حیات رہے پھر طبعی وفات پائی اور انکی قبر کشمیر میں ہے۔یہی عقیدہ تھوڑی سی کمی پیشی کیساتھ غامدی صاحب کا بھی ہے ، یہ بھی ان قادیانیوں کی طرح وفات عیسی کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن کہانی تھوڑی سی مختلف بیان کرتے ہیں۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کو صلیب کے قریب ہی موت دی گئی پھر انہیں کہیں دفن کرنے کے بجائے انکا جسم آسمان پر اٹھا لیا گیااور اب وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ حیات عیسی بن مریم علیہ السلام"میں 24 کبار علماء کرام کے فتاوی کی روشنی میں مسئلہ حیات عیسی بن مریم کو ثابت کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مفتی علماء کرام اورمرتب کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول ف...

  • 15 ملت ابراہیم (ہفتہ 03 ستمبر 2011ء)

    مشاہدات:16692

    قرآن شریف میں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ صلی ا للہ علیہ وسلم ملت ابراہیم کی پیروی کریں۔ثم اوحينا إليك ان اتبع ملة ابراهيم حنيفا-پھر یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جو شخص اس سے روگردانی کرے گا وہ علم وبصیرت سے تہی اور جاہل وبے وقوف ہے۔ومن يرغب عن ملة ابراهيم الا من سفه نفسه-بنا بریں یہ ضروری ہے کہ ملت ابراہیم کے مراد ومفہوم کو جانا جائے اور اس کی اتباع کی جائے۔زیر نظر کتاب میں اسی نکتے کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ملت ابراہیم دراصل توحید کی پکار اور شرک واہل شرک سے بے زاری ولاتعلقی کا اعلان ہے۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اہل شرک سے کھل کر اظہار براءت کیا اور انہیں اپنا دشمن قرار دیااور ہر لمحہ توحید کے علم کو بلند کیے رکھا۔اسی لیے انہیں اسؤہ حسنہ قرار دیا گیا ہے ۔نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ملت ابراہیم کی پیروی کا حق ادا کر دیا اور پوری زندگی توحید کی اشاعت اور شرک کی تردید میں بسر کر دی۔آج بھی ملت ابراہیم کو ازسر نو زندہ کرنے اور ہر سطح پر شرک واہل شرک سے براءت کو عقیدہ توحید کے اعلان واظہار کی ضرورت ہے،جس کے فہم کے لیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید رہے گا۔(ط۔ا)
     

  • 16 نساء الانبیاء (بدھ 06 نومبر 2013ء)

    مشاہدات:6468

    اس کائنات میں سب سے پہلا انسانی جوڑا حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کا تھا۔ اسی جوڑے سے شروع ہونے والی  نسل انسانی قیامت تک بڑھتی رہے گی۔ نسل انسانی کے اس تسلسل میں کچھ قدسی صفت شخصیات ایسی بھی ہیں، جن کو انبیاء علیہم السلام کے لقب سے پکارا جاتا ہے،جو اللہ کے سب سے زیادہ مقرب اور محترم بندے ہوتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ نساء الانبیاء ‘‘ میں انبیاء کرام  کی  دس بیویوں کا ایمان افروز اور عبرت آموز تذکرہ ہے۔ جسے عربی زبان میں ایک فاضل اجل احمد خلیل جمعہ نے تحقیقی اسلوب سے لکھا ہے، اور جس کا رواں اور شگفتہ اردوترجمہ  مولانا محمد احمد غضنفر نے کیا ہے۔ اس میں حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا گیا، کہ وہ بذات خود ایک مستقل کتاب کا تقاضا کرتا ہے۔کتاب میں سب سے پہلے روئے زمین کی سب سے پہلی خاتون حوا علیہا السلام کا تذکرہ  ہے، جسے تعمیر کعبہ میں اپنے خاوند کے ساتھ شرکت کا اعزاز حاصل ہے۔ پھر نوح اور لوط علیہما السلام کی بدکردار بیویوں کا عبرت آموز بیان ہے، جو اسلام کی دعوت میں رکاوٹ اور اللہ تعالیٰ کے دین میں خیانت کی مرتکب تھیں۔  بعد ازاں سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی اہلیہ رعلۃ کا ذکر ہے، جن کوحضرت ابراہیم علیہ اسلام نے پسندیدگی کی سند عطا کی۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کی بیوی راحیل کے سوانح دیے گئے ہیں، جو حضرت یوسف علیہ السلام کی والدہ ماجدہ تھیں۔ اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام  کی اطاعت شعار زوجہ لیّا ، موسی علیہ السلام کی شرم وحیا سے متصف زوجہ اور حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی ایشاع کے...

  • 17 کیا خضر علیہ السلام ابھی زندہ ہیں؟ (ہفتہ 18 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:3285

    سیدنا خضر ﷤ کے نبی یا ولی ہونے اور ان کے اب تک زندہ رہنے نیز بعض لوگوں کے خضر ﷤سے ملاقات کرنے اور خضر ﷤ کے ان کی رہنمائی کرنے کا مسئلہ عرصہ دراز سے موضوع بحث بنا ہوا ہے،اور لوگوں کے درمیان سیدنا خضر کے حوالے سے بے شمار بے تکی،غیر مستند اور جھوٹی کہانیاں زیر گردش ہیں۔ اس سلسلے میں عربی زبان میں اگرچہ کچھ کتابیں موجود ہیں ،لیکن اردو زبان کا دامن اب تک اس سے خالی تھا،اور اس امر کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ اس نازک موضوع پر اردو میں بھی کچھ لکھا جائےتاکہ لوگوں کے عقائد کی اصلاح کی جاسکے۔مقام مسرت ہے کہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو انڈیا کے ایک عالم دین محترم جناب مولانا عبد اللطیف اثری ﷾نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور صحیح بخاری کے شارح علامہ حافظ ابن حجر ﷫کی کتاب"الزھر النضر فی حال الخضر "کا اردو ترجمہ کر کے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے اس ترجمہ کا اردو نام " کیا خضر﷤ ابھی زندہ ہیں؟"رکھا ہے۔جس پر تحقیق ،تخریج اور تحشیہ کاکام شیخ صلاح الدین مقبول احمد (کویت) نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں حدیث میں خضر کا قصہ،خضر کے بارے میں خلاصہ بحث،خضر سے کون مراد ہیں؟خضر فرشتہ ہیں یا ولی یا نبی ،نبوت ورسالت پر ولایت کی برتری کی تردید،شارح العقیدہ الطحاویہ کی ایک نفیس بات،قرآن وحدیث سے نبوت خضر پر دلائل،استمرار حیات کا سبب اس کے قائلین کی نظر میں،استمرار حیات خضر کے قائلین کی آراءوغیرہ جیسی مباحث بیان کی ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف،مترجم اور تمام معاونین کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 18 کیا عیسٰی (علیہ السلام) کے والد تھے؟ (بدھ 27 مئی 2009ء)

    مشاہدات:16195

    كيا حضرت عيسٰی علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے؟ ایک طویل مدت  تک تو امت مسلمہ کے ہاں یہ مسئلہ اجماعی رہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالی کی قدرت کاملہ سے معجزانہ طور پر باپ کے بغیر پیداہوئے – لیکن تقریبا ڈیڑھ صدی قبل برصغیر پاک وہند میں یہ بازگشت سنائی دی کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام عام بچوں کی طرح پیدا ہوئے-عصر حاضر میں غلام احمد پرویز ، مرزا غلام احمد قادیانی ، جاوید احمد غامدی اور ان  کی فکر کے علمبردار لوگ اسی قسم کے نظریات کی ترویج واشاعت میں مگن ہیں- زیر نظر کتاب میں ابو القاسم محب اللہ شاہ راشدی نے اسی مسئلے کو زیر بحث لاتے ہوئے  اس ضمن میں متعدد علمی مباحث پر دلائل کی روشنی میں گفتگو کی ہے-حضرت جبرائیل علیہ السلام کی بشارت  اور حضرت ابراہیم و زکریا علیہ السلام  کی بشارت کا تذکرہ کرتےہوئے  حضرت عیسی علیہ السلام کی معبودیت کا رد کیا ہے- کتاب کے آخر میں ولادت سیدنا عیسی علیہ السلام کے متعلق مولانا ثناء اللہ امر تسری کے خیالات کو سپردقلم کیا گیاہے-

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1163
  • اس ہفتے کے قارئین: 11767
  • اس ماہ کے قارئین: 31060
  • کل قارئین : 47776664

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں