دکھائیں کتب
  • 21 نظریہ ارتقاء ۔ایک فریب (اتوار 10 اپریل 2011ء)

    مشاہدات:15545

    مادہ پرستی(Materialism) آج کے دور کا سب سے بڑا شرک ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق اس کائنات کا کوئی خالق موجودنہیں ہے یعنی فرعون ونمرود کی طرح اس فلفسہ کے قائلین نے بھی اس کائنات کے رب وخالق ومالک و رازق ومدبرکا انکار کیا ہے اور مادہ (Matter)ہی کو اصل یا کل حقیقت قرار دیا ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق مادہ قدیم اور ہمیشہ سے ہے اور ہر دور میں اپنی شکلیں بدلتا رہا ہے ۔ پس اس کائنات یا انسان کا وجود ایک حادثہ ہے جس کے پیچھے کوئی محرک، مسبب الاسباب یا علۃ العلل موجود نہیں ہے۔مادہ پرستوں یا منکرین  خدا کی ایک الجھن ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کر دیں تو اہل مذہب کے بالمقابل اس کائنات اور انسان کے بارے کیا توجیہ پیش کریں کہ یہ انسان کہاں سے آیا ہے؟ کیسے پیدا ہوا ہے؟ یہ کائنات کیسے وجود میں آ گئی ہے؟واقعہ یہ ہے کہ ان سوالات کا کوئی جواب مادہ پرستوں کے پاس نہیں تھا یہاں تک کہ ڈاروان نے اپنا نظریہ ارتقا پیش کیا تو مادہ پرستوں کی تو گویا عید اور چاندی ہو گئی اور انہیں اس کائنات اور انسان کے وجود کے بارے ایک عقلی ومنطقی توجیہ ہاتھ آ گئی۔ ڈارون نے ارتقا کا جو نظریہ پیش کیا تھا وہ اس کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھا جبکہ آج کی سائنس اور سائنسی حقائق اس ڈارونی نظریہ ارتقا کی بنیادیں ہلا چکے ہیںاور اس نظریہ ارتقا کومستقل طور پر ردی کی ٹوکری میں پھینک چکے ہیں لیکن مادہ پرستوں کے لیے ڈاروان کے نظریہ ارتقا کی سائنسی تردید ، موت سے کم نہیں ہے کیونکہ نظریہ ارتقا کے غلط ثابت ہو جانے سے ان کی فلسفہ مادہ پرستی کی واحد عقلی ومنطقی توجیہ ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو خلا میں محسوس کرتے...

  • انسانی تخلیق میں اللہ تعالی کی جو حکمت، قدرت، تدبیر اور مناسبت کار فرما ہے سائنس کی ترقی  کے ساتھ ساتھ اس کی نئی نئی جہتیں سامنے آ رہی ہیں۔ایسے ہی مظاہر قدرت میں جنیٹک سائنس سے حاصل ہونے والی معلومات بھی ہیں۔انسان کے جسم کا بے شمار خلیات سے مرکب ہونا، ہر خلیہ پر جین کی ایک بہت بڑی تعداد کا قیام پذیر ہونا اور ان جینوں کا انسان کی مختلف صلاحیتوں اور قوتوں پر اثر انداز ہونا کارخانہ قدرت کا ایسا اعجاز ہے کہ جس کا رمز آشنا ایک مسلمان ڈاکٹر کے بہ قول دو ہی صورتوں میں ایمان سے محروم رہ سکتا ہے، یا  تو اس کے دماغ میں خلل ہو یا وہ توفیق خداوندی سے محروم ہو۔جنیٹک سائنس جہاں خدا کی بے پناہ قدرت اور اس کی حکمت و تدبیر سے پردہ اٹھاتی ہےاور  علاج کے باب میں ایک چراغ امید بن کر آئی ہے، وہاں بہت سارے شرعی مسائل بھی ان تحقیقات کے پس منظر میں پیدا ہو گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" ڈی این اے ٹسٹ اور جنیٹک سائنس  سے متعلق شرعی مسائل"  ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں  انہوں نے پندرہویں فقہی سیمینار منعقدہ میسور مؤرخہ  11 تا 13 مارچ 2006ء میں ڈی این اے ٹسٹ اور جنیٹک سائنس  سے متعلق شرعی مسائل  کے موضوع پر  اہل علم کی طرف سے پیش کئے گئے تحقیقی مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)آمین(راسخ)

  • 23 کائنات 1001 حقائق پر مبنی سائنسی معلومات (جمعہ 09 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:1727

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ دینِ فطرت بھی ہے جو اُن تمام اَحوال و تغیرات پر نظر رکھتا ہے جن کا تعلق اِنسان اور کائنات کے باطنی اور خارجی وُجود کے ظہور سے ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اِسلام نے یونانی فلسفے کے گرداب میں بھٹکنے والی اِنسانیت کو نورِ علم سے منوّر کرتے ہوئے جدید سائنس کی بنیادیں فراہم کیں۔ قرآنِ مجید کا بنیادی موضوع ’’اِنسان‘‘ ہے، جسے سینکڑوں بار اِس اَمر کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش وُقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات اور حوادثِ عالم سے باخبر رہنے کے لئے غور و فکر اور تدبر و تفکر سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ شعور اور قوتِ مُشاہدہ کو بروئے کار لائے تاکہ کائنات کے مخفی و سربستہ راز اُس پر آشکار ہوسکیں۔ سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات سام...

  • 24 ہیومن اناٹومی و فزیالوجی (جمعہ 30 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:4017

    انسا ن  کو بیماری  کا لاحق ہو نا  من  جانب  اللہ  ہے  اوراللہ تعالی نے  ہر بیماری کا علاج بھی   نازل فرمایا ہے  جیسے کہ  ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے  یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی  اور کسی  نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج  کے لیے  معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ  علاج،حجامہ سے  علاج) سے  علاج کرنا  سنت  سے  ثابت ہے ۔ روحانی  اور جسمانی  بیماریوں سےنجات کے لیے  ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت  میں  پختگی  ہو گی تو  بیماری سے  شفاء بھی اسی قدر تیزی  سے  ہوگی ۔نبی کریم ﷺ جسمانی  وروحانی بیماریوں کا علاج جن وظائف اور ادویات سے  کیا کرتے تھے یاجن  مختلف بیماریوں کےعلاج کےلیے  آپﷺنے جن چیزوں کی نشاندہی کی اور  ان کے  فوائد ونقصان کو  بیان کیا ان کا ذکر  بھی  حدیث وسیرت کی کتب میں موجو د ہے  ۔ کئی اہل علم نے  ان  چیزوں ک یکجا کر کے  ان کو طب ِنبوی کا نام  دیا ہے ۔ان میں امام  ابن قیم﷫ کی کتاب  طب نبوی  قابل ذکر  ہے  او ردور جدید میں ڈاکٹر خالد غزنوی کی  کتب بھی  لائق مطالعہ ہیں۔طب کی اہمیت وافادیت کے  پیش نظر اس کو بطور  علم پڑھا جاتارہا ہے  اور  کئی نامور ائمہ ومحدثین...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1083
  • اس ہفتے کے قارئین: 11728
  • اس ماہ کے قارئین: 39422
  • کل قارئین : 45990280

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں