دکھائیں کتب
  • 31 شروح صحیح بخاری (پیر 01 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:2023

    صحیح بخاری (عربی :الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليہ وسلم وسننہ وأيامہ:مختصر نام الجامع الصحيح ) یا عام طور سے البخاری یا صحیح بخاری شریف بھی کہا جاتا ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کا مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہ احادیث ہے جو صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ اکثر سنی مسلمانوں کے نزدیک یہ مجموعہاحادیث روئے زمین پر قرآن کے بعد سب سے مستند کتاب ہے۔ ابن الصلاح کے مطابق صحیح بخاری میں احادیث کی کل تعداد 9086 ہے۔ یہ تعداد ان احادیث کو شامل کر کے ہے جو ایک سے زیادہ مرتبہ وارد ہوئی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ تعداد میں وارد احادیث کو اگر ایک ہی تسلیم کیا جائے تو احادیث کی تعداد 2761 رہ جاتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ   اصح  الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔  زیر نظر   ’’شروح صحیح بخاری‘‘ غزالہ حامدبنت پروفیسر عبد القیوم مؤلفہ نے  اس  میں  فتح الباری ،ارشاد الساری ،فیض الباری ،انوار الباری، لامع الدراریاور فضل الباری سے استفادہ کرتے ہوئے اس کتاب کو چار ابواب میں منقسم کیا ہے۔ پہلا باب تعارف حدیث پر مشتمل، دوسرا باب امام المحدثین امام بخاری کے حالات پر مبنی، تیسرا باب الجامع الصحیح اور چوتھا...

  • 32 شروح صحیح بخاری ( جدید ایڈیشن ) (جمعہ 04 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1834

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شروح صحیح بخاری‘‘ پنجاب یونورسٹی سے محترمہ غزالہ بٹ (ایم فل اسلامیات) کا مقالہ ہے۔ جس میں صحیح بخاری کی تقریبا دو سو سے زائد شروح کا سراغ لگا کر کام کیا گیا ہے۔ اس مقالے کا پہلا باب حدیث کی فضیلت واہمیت پر مبنی ہے۔دوسرےباب میں امام بخاری کی حالات زندگی کو بیان کیا ہے۔تیسرے باب میں صحیح بخاری کی افادیت کو بیان کیا ہے۔ چوتھے باب میں شروح صحیح بخاری کو بیان کیا ہے۔گویا کہ کے صاحب تالیف اور ان کے رفقاء نے نہایت دیانت اور استقامت اور باریک بینی سے سرانجام دیاہے ۔اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمٰن)

  • 33 شمائل ترمذی ( زبیر علی زئی ) (جمعہ 28 اگست 2015ء)

    مشاہدات:3415

    انسانیت کے انفرادى معاملات سے لے کراجتماعى بلکہ بین الاقوامى معاملات اورتعلقات کا کوئی ایسا گوشہ نہیں کہ جس کے متعلق پیارے پیغمبرﷺ نے راہنمائی نہ فرمائی ہو، کتبِ احادیث میں انسانى زندگی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں ہے یعنى انفرادى اور اجتماعی سیرت واخلاق سے متعلق محدثین نے پیارے پیغمبر ﷺ کے فرامین کی روشنى میں ہر چیز جمع فرمادی ہے۔کتب ِ سیرت او رکتب ِ شمائل میں فرق یہ ہے کہ کتب سیرت میں نبی کریم ﷺ سے متعلق ہر بات خوب وضاحت سے بیان کی جاتی ہے ۔ مثلاً ہجرت جہاد وقتال ،غزوات ، دشمن کی طرف سے مصائب وآلام، امہات المومنین کابیان اور صحابہ کرام کے تذکرے وغیرہ ۔جبکہ شمائل وخصائل کی کتب میں صرف آپﷺ کی ذاتِ بابرکت ہی موضوع ہوتی ہے ۔ مثلاً آپ کا چلنا پھرنا، آپ کا کھانا پینا آپ کی زلفوں کے تذکرے ، آپ کےلباس اور بالوں وغیرہ کے بیانات جو اصلاح فرد کےلیے بہت زیادہ مفید ہوتی ہیں ۔اسی لیے ائمہ محدثین نے اس طرف بھی خوصی توجہ کی ہے مثلاً امام اورامام ترمذی نے اس موضوع پر الگ سے کتب تصنیف ہیں۔ شمائل ترمذی پا ک وہند میں موجو د درسی جامع ترمذی کے آخر میں بھی مطبوع ہے۔ جسے مدارسِ اسلامیہ میں طلباء کو سبقا پڑھایاجاتا ہے ۔ اور اسے شمائل محمدیہ کےنام سے الگ بھی شائع کیا گیا ہے علامہ شیخ ناصر الدین البانی ﷫ وغیرہ نے اس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے ۔اور کئی اہل علم نے اسے اردو دان طبقہ کے لیے اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ شمائل ترمذی‘‘ امام ترمذی ﷫ کی نبی کریم ﷺ کی خصائل وعادات پر مشمتل کتاب ہے ۔اس کتاب میں امام ترمذی ﷫نے نہایت محنت وک...

  • امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار...

  • 35 صحیح بخاری (داؤد راز)۔جلد 1 (پیر 09 جون 2014ء)

    مشاہدات:4325

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے   مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام   حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور   حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ مع مختصر فوائد بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا   محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی   1392ھ میں اسے   الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ   قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ   جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام ح...

  • 36 صحیح مسلم شریف اردو ( دار السلام ) جلد اول (جمعرات 04 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:10497

    صحیح مسلم امام کی مرتب کردہ شہرہ آفاق مجموعہء احادیث ہے جو کہ صحاح ستہ کی چھ مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام بخاری کی صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے مستند کتاب ہے۔امام مسلم کا پورا نام ابوالحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری ہے ۔ 202ھ میں ایران کے شہر نیشاپور میں پیدا ہوئے اور 261ھ میں نیشاپور میں ہی وفات پائی۔ انہوں نے مستند احادیث جمع کرنے کے لئے عرب علاقوں بشمول عراق، شام اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے تقریباًتین  لاکھ احادیث اکٹھی کیں لیکن ان میں سے صرف7563 احادیث صحیح مسلم میں شامل کیں کیونکہ انہوں نے حدیث کے مستند ہونےکی بہت سخت شرائط رکھی ہوئی تھیں تا کہ کتاب میں صرف اور صرف مستند ترین احادیث جمع ہو سکیں۔ صحیح مسلم کی اہمیت کے  پیش  نظر  صحیح بخاری کی طرح اس کی  بہت زیادہ  شروحات لکھی گئیں۔ عربی  زبان میں  لکھی گئی  شروحات ِ صحیح مسلم میں  امام  نوویکی  شرح نووی کو امتیازی مقام حاصل  ہے ۔پاک وہند میں  بھی  کئی اہل  علم  نے   عربی  واردو  زبان میں اس کی  شروحات  وحواشی لکھے ۔عربی زبان میں  نواب صدیق حسن خاںاور اردو میں  علامہ وحید الزمان  کا ترجمہ  قابل ذکر    ہے اورطویل  عرصہ سے یہی  ترجمہ   متداول ہے لیکن اب اس کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے کتب  ستہ کے ترج...

  • 37 ضیاء الاسلام فی شرح الالمام باحادیث الاحکام (جمعرات 23 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:19071

    جس طرح مفسرین کرام نے ’احکام القرآن‘ کے نام سے احکام سے متعلقہ قرآنی آیات کو جمع کیا ہے اور ان کی تفاسیر مرتب کی ہیں اسی طرح محدثین عظام نے بھی ایسی احادیث کے مجموعے مرتب کیے ہیں جو صرف احکام پر مشتمل ہوں۔ ان مجموعات میں سے علامہ ابن حجر رحمہ اللہ کی ’بلوغ المرام‘ اور علامہ عبد الغنی مقدسی کی کتاب’ عمدہ الاحکام‘ اورامام عبد السلام بن ابن تیمیہ کی کتاب ’المنتقی فی اخبار المصطفی‘ بہت معروف ہوئیںیہاں تک کہ یہ تینوں کتابیں مدارس اسلامیہ میں درسی کتب میں شمارہونے لگیں۔ ان تین کتابوں کے علاوہ احادیث احکام میں جو کتاب معروف ہوئی وہ امام ابن دقیق العید(متوفی ۶۱۲ھ) کی کتاب ’الالمام باحادیث الاحکام‘ ہے۔ اس کتاب میں امام صاحب نے عبادات سے لے کر حدود وتعزیرات تک کے احکام سے متعلقہ احادیث جمع کر دی ہیں۔ اس کتاب کی کئی ایک عربی شروحات بھی لکھی گئی ہیں۔ مولانا محمود احمد غضنفر صاحب نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کا ترجمہ و تشریح کی ہیں۔کتاب کا اسلوب یہ ہے کہ سب سے پہلے حدیث کی عربی عبارت اور سامنے ہی اس کا ترجمہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس حدیث کی تحقیق وتخریج کے عنوان سے اس کے مصادر اور اس کی صحت وضعف کی بحث کی گئی ہے۔ اس کے بعد فوائد کے عنوان سے حدیث سے اخذ شدہ مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب اپنے اسلوب اور بیان کے اعتبار سے مستند احادیث احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے ایک بہت ہی مفید کتاب ہے۔ مصنف کے صحیح حدیث کے التزام کی وجہ سے بعض اہل علم نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ اس کتاب میں موجود ہر حدیث مستند ہے اور اسے بطور دلیل...

  • 38 ضیاء الکلام فی شرح عمدۃ الاحکام (پیر 04 اپریل 2011ء)

    مشاہدات:20098

    کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دین اسلامی کے بنیادی مصادر ہیں۔ اہل علم نے ہر زمانہ میں تفسیر اور حدیث کے علم کے نام سے ان مصادر دینیہ کی خدمت کی ہے۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اس پر علمی وتحقیقی کام ہوا ہے۔ بعض محدثین نے صحیح احادیث کو جمع کرنے کا التزام کیا تو بعض دوسروں نے فقہی موضوعات کے تحت روایات کو اکٹھا کیا۔ بعض اہل علم نے صحابہ کی روایات کو جمع کرتے ہوئے مسانید کو مرتب کیا تو بعض احکام سے متعلقہ ضعیف اور موضوع روایات پر متنبہ کرنے کے لیے مستقل تصانیف لکھیں۔ حدیث پر مختلف گوشوں میں سے ایک اہم گوشہ احکام الحدیث کا بھی ہے۔ مختلف ادوار میں فقہائے محدثین نے احکام سے متعلقہ روایات کو چھوٹے بڑے حدیث کے مجموعوں کی شکل میں مرتب کیا ہے۔ ان مجموعوں میں سے ایک اہم مجموعہ ’عمدۃ الأحکام فی کلام خیر الأنام‘ ہے جسے امام عبد الغنی المقدسی متوفی ۴۰۰ھ نے مرتب کیا ہے۔ اس مجموعہ حدیث کی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ یہ صحیحین میں منقول احکام سے متعلقہ روایات پر مشتمل ہے۔ پس اس پہلو یہ ایک انتہائی مستند کتاب ہے۔ مختلف زمانوں میں اہل علم نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر اس کی عربی شروحات لکھی ہے۔ افادہ عام کے لیے مولانا محمود احمد غضنفر صاحب نے اس کا اردوترجمہ اور شرح لکھی ہے ۔ کتاب کا اسلوب نہایت ہی آسان فہم ہے۔ سب سے پہلے حدیث بیان کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ’معنی الحدیث‘ کے عنوان سے اس کا ترجمہ بیان کیا گیاہے۔ اس کے بعد ’مفردات الحدیث‘ کے نام سے حدیث کے مشکل الفاظ کی ضاحت کی گئی ہے۔ اس کے بعد &r...

  • 39 طریق النجاۃ الصحاح من المشکوٰۃ (منگل 10 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1278

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔اور اللہ تعالی کی رسی یعنی  قرآن کریم  کے ساتھ انسان کا  تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب  تک  قرآن کریم کی  تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی  آپ کے طریقہ سے نہ ہو  اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس علم پر عمل  نہ کیا جائے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی ﷺ سے  ہوا صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور ترجمہ وتشریح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔ائمہ اسلاف کی طرح برصغیر  میں بھی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ سے  لےکر عصر حاضر کے متعدد علماء کرام نے  احادیث کے مختلف مجموعات مرتب کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’طریق النجاۃ  الصحاح من المشکوٰۃ‘‘بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑھی ہے ۔اس کتاب کو1305ھ میں  مولااابو محمدابراہیم  آراوی ﷫ نے  مشکوٰۃ المصابیح سے  متفق علیہ احادیث کاانتخاب کر کے مشکوٰۃ المصابیح کے ہی طرز پرمرتب کیا حتیٰ کہ مشکوٰۃ المصابیح کے   کتاب وباب کی ترتیب کوبھی  برقرار رکھا ۔اور صحیح بخاری وصحیح مسلم  ...

  • 40 علم حدیث مصطلحات اور اصول (جمعہ 13 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:4411

    علم حدیث سے مراد ایسے  معلوم قاعدوں اور ضابطوں  کا  علم ہے  جن کے  ذریعے سے کسی  بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے    کہ آیا راوی یا اس کی حدیث  قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم  اصولِ حدیث ایک ضروری علم  ہے ۔جس کے بغیر حدیث  کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات  استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے  تاکہ  وہ اس  علم   میں کما حقہ درک حاصل   کر سکے ، ورنہ  اس کے فہم  وتفہیم  میں  بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر   ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’علم حدیث  مصطلحات اور اصول‘‘ محترم جناب ڈاکٹر محمد اریس زبیر صاحب کی  کاوش ہے ۔جسے انہو ں نے   اصول حدیث  کی   اہم عربی  کتب سے استفادہ کر کے  جملہ  اصطلاحات حدیث کو    حوالہ اور مثالوں کے ساتھ   اردو دان طبقے  اور حدیث کے طلبہ وطالبات کے لیے  آسان فہم انداز میں بیان کیا  ہے  ۔ یہ   کتاب  اصول حدیث کی  معرفت کےلیے   اردو  میں  لکھی  جانے والی کتب میں اہم اضافہ  ہے ۔مدارس  ویونیورسٹیوں میں  زیر تعلیم  طالبان ِ حدیث کےلیے   بیش قیمت علمی ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1328
  • اس ہفتے کے قارئین: 3526
  • اس ماہ کے قارئین: 37547
  • کل قارئین : 47837983

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں