دکھائیں کتب
  • 21 حدیث کی تیسری کتاب تحقیق و تخریج کے ساتھ (اتوار 12 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2102

    زیر تبصرہ کتاب کتب احادیث کا وہ با برکت سلسلہ ہے جو محترم مولانا عبد المجید سوہدروی  ﷫نے بچوں اور نوجوانوں میں حدیث کا شوق پیدا کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔جس وقت آپ نے یہ مبارک سلسلہ شروع فرمایا تھا اس وقت بچوں اور نوجوانوں کے لئے اردو میں حدیث کے موضوع پر بہت کم کتب دستیاب تھیں۔بہرحال آپ نے نونہالان چمن کی اصلاح وتربیت کے لئے جو کتب لکھیں اور ان کی جو تشریح فرمائی وہ اپنی سلاست اور افادیت کی بناء پر بہت پسند کی گئیں۔اس وقت کے تقریبا 500 علماء کرام نے ان کتب کی بابت اپنے اچھے ریمارکس دئیے۔بطور نمونہ چند معروف  علماء کرام  کے ریمارکس کتاب کے شروع میں بھی درج کر دئیے گئے ہیں۔جنہیں پڑھ کر اس کتاب کی حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ حدیث کی کل چار کتب ہیں ۔ہر کتاب میں متعدد احادیث جمع ہیں ۔پہلی کتاب میں 40 احادیث ہیں،دوسری میں 32،تیسری میں بھی 32 اور چوتھی میں 33 احادیث جمع ہیں۔اس طرح یہ نورانی سلسلہ کل 137 احادیث پر مشتمل ہے۔اس کتاب کی تخریج وتحقیق کا کام محترم مولانا محمد ادریس فاروقی صاحب ﷫نے کیا ہے۔یہ کتاب مدارس ،مساجد اور گھروں میں اسلامی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ایک کورس کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 22 حدیث کی دوسری کتاب تحقیق و تخریج کے ساتھ (ہفتہ 11 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2068

    زیر تبصرہ کتاب کتب احادیث کا وہ با برکت سلسلہ ہے جو محترم مولانا عبد المجید سوہدروی  ﷫نے بچوں اور نوجوانوں میں حدیث کا شوق پیدا کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔جس وقت آپ نے یہ مبارک سلسلہ شروع فرمایا تھا اس وقت بچوں اور نوجوانوں کے لئے اردو میں حدیث کے موضوع پر بہت کم کتب دستیاب تھیں۔بہرحال آپ نے نونہالان چمن کی اصلاح وتربیت کے لئے جو کتب لکھیں اور ان کی جو تشریح فرمائی وہ اپنی سلاست اور افادیت کی بناء پر بہت پسند کی گئیں۔اس وقت کے تقریبا 500 علماء کرام نے ان کتب کی بابت اپنے اچھے ریمارکس دئیے۔بطور نمونہ چند معروف  علماء کرام  کے ریمارکس کتاب کے شروع میں بھی درج کر دئیے گئے ہیں۔جنہیں پڑھ کر اس کتاب کی حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ حدیث کی کل چار کتب ہیں ۔ہر کتاب میں متعدد احادیث جمع ہیں ۔پہلی کتاب میں 40 احادیث ہیں،دوسری میں 32،تیسری میں بھی 32 اور چوتھی میں 33 احادیث جمع ہیں۔اس طرح یہ نورانی سلسلہ کل 137 احادیث پر مشتمل ہے۔اس کتاب کی تخریج وتحقیق کا کام محترم مولانا محمد ادریس فاروقی صاحب ﷫نے کیا ہے۔یہ کتاب مدارس ،مساجد اور گھروں میں اسلامی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ایک کورس کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 23 حدیث کی مشہور کتابیں اردو ترجمہ ’المستطرفہ‘ (ہفتہ 18 فروری 2017ء)

    مشاہدات:5862

    ابو عبداللہ محمد بن جعفر بن ادریس معروف الکتانی1857ء کو فاس شہر میں پیدا ہوئے۔ تما م علوم وفنون کی تعلیم اپنے خاندان میں ہی حاصل کی ۔ 18 سال کی عمر میں تحصیل علم کے بعد مشائخ اور بڑے علماء کے امتحان اور جانچ پرکھ کےبعد خانقاہ کتانیہ میں تدریس شروع کی اور بیس سال کی عمر میں فاس کی سب سے بڑی مسجد جامع قرویین میں تدریس کی ابتداء کی جہاں اپنے والد صاحب کی نگرانی میں تقریباً سب ہی علوم وفنون کی متعددکتابیں پڑھائیں۔تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کیا ۔فقہ) حدیث ،تاریخ، تصوف، تفسیر، سیرت اور انساب وغیرہ جیسے موضوعات پر ساٹھ سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ان کی اہم کتب میں سے زیر تبصرہ اہم کتاب ’’رسالہ المستطرفہ ‘‘ ہے۔ یہ کتاب علم حدیث اور کتب حدیث کے تعارف کے متعلق ہے۔ اس کتاب کا علوم حدیث اور تعارف محدثین کے حوالے سے کتابوں میں وہی مقام ہے جو عام علوم کی نسبت ابن ندیم کی مشہور کتاب الفہرست لابن الندیم کا ہے۔ یہ کتاب حدیث اور علوم حدیث کے 1400 کتابوں کے تذکرے اور چھ صد کے قریب مشہور محدثین کے تراجم اور تعارف پرمشتمل ہے۔ اس میں ہر کتاب صاحب کتاب کا مختصر جامع تعارف ،نقد اور تبصرہ علامہ کتانی نے بڑی جامعیت کےساتھ پیش کیاہے۔ کتاب ہذا اسی کتاب کاترجمہ ہے۔ترجمہ کی سعادت مولانا مفتی شعیب احمد نے حاصل کی ہے۔ مکتبہ رحمانیہ نے اسے حسن ِطباعت سےآراستہ کیا ہے۔ (م۔ا)

  • 24 حدیث کی پہلی کتاب تحقیق و تخریج کے ساتھ (جمعہ 10 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:3378

    زیر تبصرہ کتاب کتب احادیث کا وہ با برکت سلسلہ ہے جو محترم مولانا عبد المجید سوہدروی  ﷫نے بچوں اور نوجوانوں میں حدیث کا شوق پیدا کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔جس وقت آپ نے یہ مبارک سلسلہ شروع فرمایا تھا اس وقت بچوں اور نوجوانوں کے لئے اردو میں حدیث کے موضوع پر بہت کم کتب دستیاب تھیں۔بہرحال آپ نے نونہالان چمن کی اصلاح وتربیت کے لئے جو کتب لکھیں اور ان کی جو تشریح فرمائی وہ اپنی سلاست اور افادیت کی بناء پر بہت پسند کی گئیں۔اس وقت کے تقریبا 500 علماء کرام نے ان کتب کی بابت اپنے اچھے ریمارکس دئیے۔بطور نمونہ چند معروف  علماء کرام  کے ریمارکس کتاب کے شروع میں بھی درج کر دئیے گئے ہیں۔جنہیں پڑھ کر اس کتاب کی حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ حدیث کی کل چار کتب ہیں ۔ہر کتاب میں متعدد احادیث جمع ہیں ۔پہلی کتاب میں 40 احادیث ہیں،دوسری میں 32،تیسری میں بھی 32 اور چوتھی میں 33 احادیث جمع ہیں۔اس طرح یہ نورانی سلسلہ کل 137 احادیث پر مشتمل ہے۔اس کتاب کی تخریج وتحقیق کا کام محترم مولانا محمد ادریس فاروقی صاحب ﷫نے کیا ہے۔یہ کتاب مدارس ،مساجد اور گھروں میں اسلامی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ایک کورس کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 25 حدیث کی چوتھی کتاب تحقیق و تخریج کے ساتھ (پیر 13 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2092

    زیر تبصرہ کتاب کتب احادیث کا وہ با برکت سلسلہ ہے جو محترم مولانا عبد المجید سوہدروی  ﷫نے بچوں اور نوجوانوں میں حدیث کا شوق پیدا کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔جس وقت آپ نے یہ مبارک سلسلہ شروع فرمایا تھا اس وقت بچوں اور نوجوانوں کے لئے اردو میں حدیث کے موضوع پر بہت کم کتب دستیاب تھیں۔بہرحال آپ نے نونہالان چمن کی اصلاح وتربیت کے لئے جو کتب لکھیں اور ان کی جو تشریح فرمائی وہ اپنی سلاست اور افادیت کی بناء پر بہت پسند کی گئیں۔اس وقت کے تقریبا 500 علماء کرام نے ان کتب کی بابت اپنے اچھے ریمارکس دئیے۔بطور نمونہ چند معروف  علماء کرام  کے ریمارکس کتاب کے شروع میں بھی درج کر دئیے گئے ہیں۔جنہیں پڑھ کر اس کتاب کی حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ حدیث کی کل چار کتب ہیں ۔ہر کتاب میں متعدد احادیث جمع ہیں ۔پہلی کتاب میں 40 احادیث ہیں،دوسری میں 32،تیسری میں بھی 32 اور چوتھی میں 33 احادیث جمع ہیں۔اس طرح یہ نورانی سلسلہ کل 137 احادیث پر مشتمل ہے۔اس کتاب کی تخریج وتحقیق کا کام محترم مولانا محمد ادریس فاروقی صاحب ﷫نے کیا ہے۔یہ کتاب مدارس ،مساجد اور گھروں میں اسلامی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ایک کورس کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 26 حفظ حدیث کورس (حصہ اول) (پیر 13 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2502

    اللہ تعالیٰ نے یوں تو انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں لیکن قوتِ حافظہ ان میں اہم ترین نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس خاص نعمت سے انسان مشاہدات و تجربات اور حالات و واقعات کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا ہے اور ضرورت کے وقت انہیں مستحضر کرکے کام میں لاتا ہے-اہل عرب قبل از بعثت ِنبویﷺ ہزاروں برس سے اپنا کام تحریر و کتابت کے بجائے حافظہ سے چلانے کے خوگر تھے-عرب بے پناہ قوت حافظہ کے مالک تھے۔ ان کے شعرا، خطبا اور اُدبا ہزاروں اشعار، ضرب الامثال اور واقعات کے حافظ تھے۔ شجر ہائے نسب کومحفوظ رکھنا ان کا معمول تھا بلکہ وہ تو گھوڑوں کے نسب نامے بھی یاد رکھتے تھے۔ موجودہ دور میں بھی مختلف اقوام میں ایسے بے شمار افراد پائے جاتے ہیں جن کے حافظوں کو بطورِ نظیر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ خود ہندوستان میں سیدانور شاہ کشمیری، سید نذیر حسین محدث دہلوی، حافظ عبدالمنان وزیرآبادی اور حافظ محمد محدث گوندلوی ﷭ بے نظیر حافظے کے مالک تھے-عربوں کا تعلق جب کلامِ الٰہی سے ہوا تو ان کو رسولِ کریمﷺاور قرآنِ مجید سے بے پناہ عقیدت ومحبت ہوئی۔ انہوں نے قرآن و حدیث کو حفظ کرنا شروع کیا۔ حضرت انس بن مالک﷜ جو آپ کے خادمِ خاص تھے، کہتے ہیں کہ’ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس ہوتے اور حدیث سنتے جب ہم اٹھتے تو ایک دوسرے سے دہراتے حتیٰ کہ ہم اس کو ازبر کرلیتے۔ نبی پاکﷺنے ان اشخاص کے لئے خصوصی دعا فرمائی جو آپ کی باتوں کو سن کر یاد رکھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ کئی ائمہ محدثین ہزاروں احادیث کے حافظ تھے۔ عصر حاضر میں متون احادیث کو یاد کرنے کا ذوق موجود ہے۔ احادیث کو یاد کرنے کے لیے مختلف مجموعہ جات م...

  • 27 خواتین کے لیے حدیث کی کتاب (بدھ 04 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:2092

    عصر حاضر میں ہماری محترم مائیں بہنیں بھی عزت وعظمت کا وہی درجہ رکھتی حاصل کرسکتی ہیں جوقرون اولیٰ کی جلیل القدر خواتین کونصیب ہوا تھا۔اس کا واحد طریقہ یہ ہےکہ جس طرح ان عظیم خواتین نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات پر عمل کیا تھا اسی طرح آج کی خواتین بھی عمل کرنےکی کوشش کریں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ خواتین کے لیے حدیث کی کتاب ‘‘ معروف خطیب و مصنف کتب کثیرہ محترم جناب مولانا عبدالمنان راسخ ﷾ کی کاوش ہے ہے ۔ اس کتاب میں انہو ں نے رسول اللہﷺ کی ایک صد ان احایث اور ان کی شاندار تشریحات پیش کی ہیں جن کا تعلق خواتین کےاحکام سے ہے۔مصنف نے کتاب میں مذکور احادیث کی روشنی میں خواتین کی کامیابی کے تمام طریقے بہت آسان اور دلکش پیرائے میں بتادئیے ہیں ۔یہ کتاب اس لائق ہے کہ اس کو ہرگھرانے کی زینت بنائے جائے اور اس کا مطالعہ روزانہ نہایت توجہ اور احترام سے کیا جانا چاہیے ۔ اس کی بدولت ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاںسچی دینی تعلیمات سے آشنا، صحیح عقیدے سےمنور اور اعمال صالحہ سےمزین ہوسکتی ہیں۔(م۔ا)

  • 28 رسالہ عمل بالحدیث (جمعرات 07 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1398

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا...

  • 29 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے 200سنہری ارشادات (جمعہ 23 ستمبر 2011ء)

    مشاہدات:18751

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو راہ ہدایت دکھلانے کے لیے مختلف آسمانی صحائف نازل فرمائے اور پھر ان صحائف کی تشریح و تبیین کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کا انتخاب کیا۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ہستیوں میں سے سب سے آخری ہیں جن کی زندگی قرآن کریم کی تفسیر کا بہترین نمونہ ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہونے والے 200 ارشادات کو مع اردو ترجمہ صفحہ قرطاس پر منتقل کیا گیا ہے۔ مولانا عبدالمالک مجاہد نے ان احادیث کو مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ یہ احادیث دین اسلام کے بنیادی عقائد اور اصولوں سے متعلق ہیں جن کوانہوں نے موضوعاتی یا فقہی ترتیب سے بھی پاک رکھا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلمان ان احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حرز جان بنائیں۔ تاکہ مصنف کے بقول دوران گفتگو ہماری زبانوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث رواں دواں ہوں۔(ع۔م)

  • 30 سنن ابن ماجہ اور اس کی شرح انجاز الحاجۃ (پیر 22 مئی 2017ء)

    مشاہدات:3646

    مولانا محمد علی جانباز ﷫ ۱۹۳۴ء میں مشرقی پاکستان کے ضلع فیروز پور (بھارت) کے قصبہ بُدھو چک میں پیدا ہوئے۔ آپ نے تعلیم کا آغاز اپنے قصبہ ہی کی مسجد سے کیا۔ یہاں آپ کے استاد مولانا محمد﷫ تھے۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی ابتدائی کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں اور بعد ازاں اپنے استاد محترم محمد﷫ کی ترغیب پر1951ء میں آپ مدرسہ تعلیم الاسلام اوڈانوالہ ضلع فیصل آباد میں داخل ہوئے۔ یہاں پر آپ نے مولانا محمد صادق خلیلاور شیخ الحدیث مولانا محمد یعقوب قریشی  سے مختلف فنون کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۹۵۳ء میں آپ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں تشریف لے گئے۔ وہاں پر آپ نے شیخ العرب والعجم استاد العلماء حضرت العلام حافظ محمد محدث گوندلویاور استاد العلماء مولانا ابو البرکات احمد مدراسیسے کسبِ فیض کیا۔ یہاں سے فراغت کے بعد ۱۹۵۸ء میں جب جامعہ سلفیہ کا باقاعدہ آغاز ہوا تو آپ حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی  کے ہمراہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد تشریف لے گئے۔ جامعہ سلفیہ میں آپ نے حافظ محمد گوندلوی سے صحیح بخاری، مؤطا امام مالک، حجۃ اللہ البالغہ، سراجی اور کئی ایک کتابوں کا درس لیا۔ حافظ محمد گوندلوی کے علاوہ آپ نے جامعہ سلفیہ میں ہی مولانا شریف اللہ خان سواتی اور حضرت مولانا پروفیسر غلام احمد حریری رحمہما اللہ سے بھی استفادہ کیا۔ اور اِسی اثناء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات بھی پاس کئے۔۱۹۵۸ء میں حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی تحریک پر آپ نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے ہی اپنے تدریسی دور کا آغاز کیا۔ ۱۹۶۲ء میں مولانا جانباز س...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1508
  • اس ہفتے کے قارئین: 3706
  • اس ماہ کے قارئین: 37727
  • کل قارئین : 47839298

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں