کل کتب 25

دکھائیں
کتب
  • 11 #6816

    مصنف : عبد الواحد انور یوسفی الاثری

    مشاہدات : 1323

    حدیث و سنت میں تفریق کا فتنہ قادیان سے دیوبند تک

    (اتوار 02 دسمبر 2018ء) ناشر : مرکز الدعوۃ الاسلامیہ و الخیریہ انڈیا

    حدیث وسنت  دونوں آپس میں اس طرح لازم ملزوم  ہیں کہ ایک کے  کہنے سے دوسرا خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے  اسی لیے حدیث  وسنت کو مترادف اور متساوی قرار دیا جاتا ہے اگرچہ لفظی اور معنوی اعتبار سے  دونوں الگ الگ مادوں سے آتے  اورسمجھے جاتے ہیں لیکن اصطلاحی اعتبار سے دونوں لازم ملزوم ہیں  علماء اصول  نےدونوں کی تعریف میں یکسانیت اور توافق کو برقرار رکھا ہے ۔ اسلاف امت ایک ہی چیز کو کبھی سنت اور کبھی حدیث کہہ دیاکرتے تھے اس طرح دونوں میں کسی طرح کی مغایرت باقی نہیں ۔ ایک ہی  حقیقت کے دو نام آپس میں اس طرح ضم ہوگئے کہ دوروح ایک قالب ہوگئے۔ حتیٰ کہ حدیث وسنت کا  یہی مفہوم نبی کریمﷺ، صحابہ کرام ﷢ اور اسلاف امت سے ثابت ہے ۔ماضی قریب میں بھی ہمارے علماء حدیث وسنت کو مترادف سمجھتے تھے اسی لئیے وہ حدیث  کا ترجمہ سنت اور سنت کا ترجمہ  حدیث سے کیا کرتے تھےجس کے ثبوت  زیر نظر کتاب میں ملاحظہ کیا جاسکتے ہیں ۔ حدیث وسنت میں فرق  کا فتنہ برصغیر میں سب سے پہلے مرزا غلام  احمد قادیانی  کذاب ودجال نے چھوڑ ا اور پھر بہت سے دانشوروں نے  اسے اپنایا اور گلے لگایا یہاں تک کہ ازہر ہند دار العلوم دیوبند میں بھی اس کی بازگشت سنائی دی جانے  لگی  اور شیخ الحدیث سعید پالنپوری کو لکھنا پڑا کہ ہم سنت کے ماننے والے  ہیں  حدیث کےنہیں۔ زیر نظر کتا ب’’ حدیث وسنت میں تفریق کا  فتنہ قادیان سے دیوبند تک‘‘ مولانا عبد الواحد انور یوسفی الاثری﷾  (نائب صدر  مرکز الدعوۃ الاسلامیہ والخیریہ ،مہاراشٹر۔بھارت)کی حدیث وسنت میں تفریق کے فتنے کی سرکوبی کے لیے  تحقیقی کاوش ہے ۔ موصوف نے  یہ کتاب بالخصوص  مشہور دیوبندی عالم  امین صفدر اکاڑوی  کی کتاب ’’ حدیث وسنت میں فرق‘‘  کے جواب میں تحریر کی ہے اوراس موضوع پر موجود  دیگرکتب کابھی ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔فاضل مصنف نے امین صفدر اوکاڑی  کی مذکورہ کتاب  کے مشمولات کا جائزہ لےکر یہ ثابت کیا ہےکہ  اسلاف امت حدیث وسنت کو مترادف سمجھتے تھے  دونوں کی اصالت اور حجیت  میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے تھےیہاں تک کہ دیوبند کے چوٹی کےپرانے علماءبھی حدیث وسنت کو مترادف سمجھتے اور لکھتے  تھے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر  گراں قدر اور مفید تر ہےاس کے ذریعےاصولی علمی، تاریخی اور توارث کےساتھ حدیث وسنت کی اصل حقیقت واضح ہوجاتی ہے ۔ اور سارے  شبہات تضادات مقلدین کے سامنے آجاتے اور تفریق کرنے والوں کے مکروہ مقاصد ومشن بھی سامنے آجاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے  اور حدیث وسنت میں تفریق کے فتنہ کے خاتمہ کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 12 #2356

    مصنف : ڈاکٹر محمد ادریس زبیر

    مشاہدات : 2426

    حفاظت حدیث کیوں

    (پیر 18 اگست 2014ء) ناشر : بزم توحید، کراچی

    نبی کریم ﷺکے قول ،عمل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔یہ وہ الہامی ذخیرہ ہے جو بذریعہ وحی نطق رسالت نے پیش فرمایا۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ،فقہی استدلال فضول اورر راست دینی نظریات عنقا ہو جاتے ہیں۔یہ اس شخصیت کے کلمات خیر ہیں،جنہیں مان کر ایک عام آدمی صحابی رسول بنا اور اللہ تعالی نے اسے اپنی رضا مندی کے سرٹیفکیٹ سے نوازا۔یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے ،جسے نظر انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے۔لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ حدیث رسول آج ایک مظلوم علم بن گیا ہے۔اس پر غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی کرم فرمائی کی ہے۔کہا جاتا ہے کہ حدیث کی حفاظت کا اہتمام نہ تو خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے اور نہ اس کا حکم دیا ہے،حفاظت حدیث کیا ضروری تھی؟حفاظت نہ کی جاتی تو کونسا پہاڑ ٹوٹ پڑتا؟کسی نے کہا کہ بہت ساری احادیث ہماری عقل کے مخالف ہیں۔یہ اور اس جیسے استخفاف حدیث پر مبنی کلمات ہمارے بعض مدبرین اور واعظین کی تحریروں میں نظر آتے ہیں۔ ایسے اعتراضات کو مستعار لینے اور دین پر جڑنے کی بجائے اگر یہ لوگ اس علم کو ذرا انہماک سے پڑھ لیتے تو شاید توقع سے زیادہ انہیں تشفی ہوتی اور ان کا بہت سا ذہنی نقصان نہ ہوتا۔زیر تبصرہ کتاب (حفاظت حدیث کیوں؟) اسی سلگتے موضوع پر لکھی گئی ہے جو پاکستان کے خواتین کے معروف ادارے الہدی انٹر نیشنل کی مدیرہ محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظھا اللہ کے خاوند ڈاکٹر محمد ادریس زبیر ﷾کی کاوش ہے۔مولف نے حفاظت حدیث کے موضوع پر انتہائی مفید اور مدلل بحث کی ہے۔اللہ ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 13 #281

    مصنف : ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    مشاہدات : 13701

    دفاع سنت

    (منگل 16 مارچ 2010ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    یہ کتاب  شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تالیف لطیف ہے جو در حقیقت ایک کتاب بنام ’’ہفوات المسلمین ‘‘ کاعلمی رد ہےجواگست  1922ء میں ایک رافضی اور بدعتی عقائد کے حامل مصنف کی طرف سے شائع ہوئی۔ جس میں اس نے اپنےفہم فاسد سےبعض احادیث صحیحہ کی غلط تعبیر وتشریح پیش کی ہے اور ’’والاناء یترشح یما فیہ ‘‘کےمصداق اپنے خبث باطن کے اظہار کی بھرپور کوشش کی ہے اور یوں وہ ذخیرۂ حدیث پر ردوقدح وارد کرنے کامرتکب بن گیاہے حالانکہ اس تمام سعی لاحاصل کی اساس اوہام وشبہات کےسوا کچھ نہیں اور یہ تمام شبہات اہواء نفس اور شہوات نفس کے نبیجہ میں ابھرتے ہیں ۔اس کتاب میں مولانا نے ہفوات المسلمین  والوں کے تما عقلی ونقلی اعتراضات کا جواب بالدلیل پیش کیا ہے ۔جو ان کے منہ پرایک کھلا طمانچہ ہے ۔
     

  • 14 #274

    مصنف : محمد ابو القاسم بنارسی

    مشاہدات : 13260

    دفاع صحیح بخاری

    (پیر 08 مارچ 2010ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    قرآن مجيدکےبعد سب سے زیادہ صحیح ترین اور قابل اعتماد کتاب ہونے کے شرف صحیح بخاری کو حاصل ہے۔ علماءے امت کا اتفاق ہے کہ اس کی تمام مرفوع ومتصل روایات کی صحت پر اجماع اور انہیں تلقی بالقبول حاصل ہے۔ لیکن تقلیدی جمود اور فقہی روایات کے دفاع میں نہ صرف صحیح بخاری کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ امام بخاری پر بھی طنز کے نشتر چلائے گئے۔ صحیح بخاری کو ناقص اور نامکمل ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی تو اس کی احادیث کو ضعیف اور ناقابل عمل قرار دینے سے دریغ نہ کیا گیا۔ طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ اس کی بعض روایات کو قرآن پاک کے خلاف باور کرانے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کی گئی۔ ان اعتراضات کی بارش کرنے والوں میں سے ایک نمایاں نام مولوی عمر کریم حنفی کا ہے جنہوں نے امام بخاری اور صحیح بخاری کو نشانے پر رکھتے ہوئے بہت سے رسائل  اور اشتہار تحریر کیے جن کا علمی اور سنجیدہ اسلوب میں مولانا ابوالقاسم سیف بنارسی نے مختلف رسائل میں جواب دیا۔ زیر نظر کتاب میں حافظ شاہد محمود نے بھرپور محنت کے ساتھ ابوالقاسم سیف بنارسی کے دیے گئے تمام جوابات کو جمع کیا ہے۔ یہ مجموعہ سات کتابوں پر مشتمل ہے:1۔ صراط مستقیم لہدایۃ عمر کریم۔ اس میں عمر کریم پٹنوی کے اشتہار کا مختصر جواب ہے۔2۔ الریح العقیم لحسم بناء عمر کریم۔ اس میں ذکرکردہ اشتہار کے بقیہ مباحث کو مفصل بیان کیا گیا ہے۔3۔ العرجون القدیم فی إفشاء ہفوات عمر کریم۔ اس میں امام بخاری کا دفاع اور ان کے حالات زندگی قلمبند کیے گئےہیں۔4۔ الخزی العظیم للمولوی عمر کریم۔ اس میں صحیح بخاری کی حدیثوں میں مطابقت ثابت کر کے عمر کریم کے اعتراضات کا دندان شکن جواب تحریر کیا گیا ہے۔5۔ ماء حمیم للمولوی عمر کریم۔ اس میں عمر کریم کے بارہ سوالوں کے جواب بیان کیے گئےہیں۔6۔ الأمر المبرم لإبطال الکلام المحکم۔  یہ ’’الکلام المحکم‘‘ میں کیے گئے اعتراضات کا مسکت اور جامع جواب ہے۔7۔ حل مشکلات بخاری۔ یہ کتاب پچھلی تمام کتابوں کا خلاصہ ہے۔المختصر اردو زبان میں دفاع صحیح بخاری پر اس قدر جامع کتاب پہلی بار منظر عام پر آئی ہے۔ اسے صحیح بخاری کے دفاع  پر مشتمل دستاویز کہا جائےتو بے جا نہ ہوگا۔

  • 15 #262

    مصنف : حافظ محمد گوندلوی

    مشاہدات : 14333

    دوام حدیث جلد اول

    dsa (پیر 22 فروری 2010ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔تو اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷫ وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے رد میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ اہل علم او ررسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر نظرکتاب ''دوامِ حدیث'' بھی علمائے اہل حدیث کی دفاع ِ حدیث کے باب میں سرانجام دی جانے والی خدمات جلیلہ ہی کا ایک سنہری باب ہے جو محدث العصر حافظ محمد گوندلوی ﷫ کے تحقیق آفریں قلم سے رقم کیا گیا ہے۔یہ کتاب در اصل منکرینِ حدیث وسنت کی ان تحریرات کاجواب ہے جن کوغلام احمد پرویز نے ''مقام حدیث'' کے نام سے 1953ء میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے ۔جلد اول میں ''مقام حدیث'' کے تمام مغالطات کا تفصیلی جواب دیا ہے او رجلد دوم میں ڈاکٹر غلام برق جیلانی کی انکار حدیث پر مبنی کتاب''دواسلام'' کا مکمل جواب تحریر کیا ہے۔ حضرت حافظ محدث گوندلوی نے 1953ءمیں جواب کومکمل کرلیا تھا ۔جو کہ ہفت روزہ ''الاعتصام''،ماہنامہ رحیق''اور ترجمان الحدیث ،لاہور میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ پہلی بار حافظ شاہد محمود﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے اس کتاب پر تحقیق وتخریج کا کام کر کے کتابی صورت میں حسن طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ محدث گوندلوی کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کانزول فرمائے ،اور فاضل نوجوان جید عالمِ دین حافظ شاہد محمود ﷾ کی علمی وتحقیقی خدمات بھی انتہائی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل اورزورِ قلم میں برکت فرمائے (آمین)( م۔ا)

     

  • 16 #642

    مصنف : محمد ادریس ظفر

    مشاہدات : 14564

    صحیح بخاری اور امام بخاری احناف کی نظر میں

    (جمعہ 10 جون 2011ء) ناشر : المکتبۃ الاثریہ لاہور

    سید الفقہاء و المحدثین امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ علم حدیث میں ’امیرالمؤمنین فی الحدیث‘کا پایہ بلند رکھتے ہیں۔ان کا علم و تفقہ ،زبدو ورع اور خشیت و تقوی مسلم ہے۔حضرت الامام نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے پیش نظر سولہ برس کی محنت شاقہ سے اپنی کتاب ’الجامع الصحیح‘ مرتب فرمائی جو ’صحیح بخاری‘ کے نام سے معروف و مشہور ہے۔خداوند قدوس نے مصنف کے اخلاص و للہیت کا یہ بدلہ عنایت فرمایا کہ امت کی جانب سے اسے تلقی بالقبول حاصل ہوا اور ارباب علم و نظر نے بیک زبان ہو کر اسے ’اصح الکتب بعد کتاب اللہ ‘ کے عظیم الشان اعزاز سے نوازا۔ان علما نے بھی اس امر کا اقرار کیا جو فقہی اعتبار سے امام صاحب کے منہج سے متفق نہ تھے۔لیکن افسوس ناک امر یہ ہےکہ ایک شر ذمہ قلیلہ امام صاحب اور ان کی اس عظیم الشان کتاب حدیث کی شان گھٹانے کی کوشش کرتا رہا۔ایسے لوگ پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں لیکن سچ ہے کہ ’چاند کا تھوکا منہ پہ آتا ہے‘یہ لوگ خود بے وقعت ہو کر رہ گئے۔زیر نظر کتاب میں علمائے احناف کے دسیوں حوالہ جات سے ثابت کیا گیا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ علم حدیث کے عظیم امام تھے اور صحیح بخاری خداکی کتاب کے بعد صحیح ترین کتاب ہے ۔فللہ الحمد

  • 17 #377

    مصنف : حافظ زبیر علی زئی

    مشاہدات : 16647

    صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ

    (جمعرات 03 جون 2010ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت اسلامی شریعت کی اسی طرح اساس وبنیاد ہے جس طرح کہ قرآن کریم ہے حدیث وسنت کے بغیر نہ قرآن کو سمجھا جا سکتا ہے او رنہ ہی احکامات خداوندی پر عمل ممکن ہے اللہ تعالی جزائے خیر دے محدثین کرام رحمہم اللہ کو جنہوں نے انتہائی محنت او رجگر کاوی سے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم  کے اقوال وارشادات  اور عادات وافعال کو حیطۂ تحریر میں لاکر کتابی شکل میں امت کے سامنے پیش کیاتاکہ ان پرعمل کرنے میں آسانی اور سہولت رہے ۔اس ضمن میں امام محمدبن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ  کامرتب کردہ مجموعہ حدیث جو ’صحیح بخاری ‘ کےنام سے معروف ہے جوایک ممتاز مقام رکھتا ہے  کہ اس میں صرف انہی احادیث کو جمع کیا گیا ہے  جوفن حدیث  کی رو سے قطعی صحیح ہیں کوئی کمزور روایت اس میں جگہ نہیں پا سکتی وہ لوگ جو حدیث وسنت کے اپنے مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے اور امت کارشتہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کمزور کرنا چاہتے ہیں مختلف طریقوں سے  حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جرح وتنقید کانشانہ بناتے رہتے ہیں ان کی ناپاک جسارتوں کا دائرہ یہاں تک وسعت پذیر ہوا کہ اب انہوں نے ’’صحیح بخاری‘‘ کو بھی ناقابل اعتبار ٹھہرانے کےلیے اس پر اعتراضات کرنا شروع کردیئے ہیں اس نوع کےشبہات  کا ازالہ بہت سارے علماء نے کیا ہے ۔زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ’’صحیح بخاری  پر اعتراضات کا علمی جائزہ‘‘جناب محترم حافظ زبیر علی زئی  حفظہ اللہ کی تألیف ہے جو علم حدیث کے مختلف گوشوں میں یدطو لی رکھتےہیں اور ہمہ وقت خدمت حدیث میں مشغول ہیں آنجناب نے اس کتاب میں صحیح بخاری ،امام بخاری اور صحیح بخاری کامختصر تعارف کرواتے ہوئے صحیح بخاری پر کیئے گئے بعض اعتراضات کا ٹھوس علمی اور مسکت جواب دیا ہے جس پر وہ تمام اہل اسلام کے شکریہ کےمستحق ہیں۔
     

  • 18 #183

    مصنف : حافظ زبیر علی زئی

    مشاہدات : 20736

    صحیح بخاری پر منکرین حدیث کے حملے اور ان کا مدلل جواب

    (جمعرات 03 ستمبر 2009ء) ناشر : مکتبہ الحدیث، حضرو ضلع اٹک

    مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہےکہ صحیح بخاری اصح الکتب بعد کتاب اللہ یعنی اللہ کی کتاب قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح ترین کتاب ہے بخاری ومسلم ان دونوں کتابوں کو ساری امت نے قبول کر لیا ہے سوائے تھوڑے حروف کے جن پر بعض حفاظ مثلا دار قطنی نے تنقید کی ہے لیکن ان دونوں کی صحت پر امت کا اجماع ہے اور اجماع امت اس پر عمل کرنے کو واجب کرتا ہے اس کتاب میں مصنف نے بخاری کی چند احادیث پر دور حاضر کے  منکرین حدیث نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کا با التفصیل جواب دیا ہے جس کے مطالعہ سے ان حضرات کی علمی قابلیت اور دیانت و امانت کا خوب نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

  • 19 #4345

    مصنف : حافظ زبیر علی زئی

    مشاہدات : 2763

    صحیح بخاری کا دفاع ( زبیر علی زئی )

    (منگل 22 مارچ 2016ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ،جسے امت  کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔امام بخاری﷫کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ بھی  ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ بھی  ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوتِ استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔ صحیح بخاری کی   کئی مختلف اہل علم نے شروحات ،ترجمے اور حواشی وغیرہ کا کام کیا ہے شروح صحیح بخاری میں فتح الباری کو ایک امتیازی مقام اور قبولِ عام حاصل ہے ۔لیکن بعض نام نہاد اہل علم ہمیشہ سے صحیح بخاری  پر اعتراضات کرتے چلے آئے  ہیں اور اس کی بعض روایات کو عقل سلیم سے سمجھنے کی بجائے اس پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ علماء حق نے ان کے کمزور اعتراضات اور بیہودہ تنقید کا  ہمیشہ مسکت اور مدلل جواب دے کر انہیں چپ رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " صحیح بخاری کا دفاع"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب﷫  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  صحیح بخاری پر کئے گئے اعتراضات کا علمی جائزہ پیش کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو حدیث نبویﷺ پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔آمین(راسخ)

  • 20 #918

    مصنف : محمد صادق سیالکوٹی

    مشاہدات : 21941

    ضرب حدیث

    (بدھ 27 جولائی 2011ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت شریعت اسلامیہ کی اہم ترین اساس ہے۔حدیث پاک کو نظر انداز کر دیا جائے تو نہ قرآن کریم کو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ہی دین پر مکمل عمل ممکن ہے۔بعض گمراہ لوگ جو دین کا انکار کرنا چاہتے تھے اور شریعت کی پابندیوں سےآزادی کے خواہاں تھے،انہوں نے اس مقصد کے لیے حدیث پاک کو مشکوک ٹھہرانے کی ناپاک سعی کی اور بالآخر اسے ناقابل اعتبار قرار دے کہ مسترد کر دیا۔بر صغیر میں اس حوالے سے مولوی عبداللہ چکڑالوی کا نام خارجی شہرت رکھتا ہے۔بعد ازاں مختلف لوگوں نے اس فتنے کی آبیاری کی اور بالآخر پاکستان میں چودھری غلام احمد پرویز نے اسے خوب رواج دیا۔علما نے اس فتنے کے رد میں بے شمار کتابیں لکھیں اور ساتھ ساتھ مثبت طور پر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت وضرورت سے بھی آگاہ کیا۔انہی میں مولانا محمد صادق سیالکوٹی رحمہ اللہ کی زیر نظر کتاب ’ضرب حدیث‘بھی ہے۔اس میں مولانا مرحوم نے انتہائی شستہ اور علمی انداز میں اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حدیث کی حجیت کا اثبات کیا ہے اور انکار حدیث کے نتائج پر بھی روشنی ڈالی ہے۔(ط۔ا)
     

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1906
  • اس ہفتے کے قارئین 11591
  • اس ماہ کے قارئین 49985
  • کل قارئین49401872

موضوعاتی فہرست