دکھائیں کتب
  • 11 حدیث و سنت میں تفریق کا فتنہ قادیان سے دیوبند تک (اتوار 02 دسمبر 2018ء)

    مشاہدات:1026

    حدیث وسنت  دونوں آپس میں اس طرح لازم ملزوم  ہیں کہ ایک کے  کہنے سے دوسرا خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے  اسی لیے حدیث  وسنت کو مترادف اور متساوی قرار دیا جاتا ہے اگرچہ لفظی اور معنوی اعتبار سے  دونوں الگ الگ مادوں سے آتے  اورسمجھے جاتے ہیں لیکن اصطلاحی اعتبار سے دونوں لازم ملزوم ہیں  علماء اصول  نےدونوں کی تعریف میں یکسانیت اور توافق کو برقرار رکھا ہے ۔ اسلاف امت ایک ہی چیز کو کبھی سنت اور کبھی حدیث کہہ دیاکرتے تھے اس طرح دونوں میں کسی طرح کی مغایرت باقی نہیں ۔ ایک ہی  حقیقت کے دو نام آپس میں اس طرح ضم ہوگئے کہ دوروح ایک قالب ہوگئے۔ حتیٰ کہ حدیث وسنت کا  یہی مفہوم نبی کریمﷺ، صحابہ کرام ﷢ اور اسلاف امت سے ثابت ہے ۔ماضی قریب میں بھی ہمارے علماء حدیث وسنت کو مترادف سمجھتے تھے اسی لئیے وہ حدیث  کا ترجمہ سنت اور سنت کا ترجمہ  حدیث سے کیا کرتے تھےجس کے ثبوت  زیر نظر کتاب میں ملاحظہ کیا جاسکتے ہیں ۔ حدیث وسنت میں فرق  کا فتنہ برصغیر میں سب سے پہلے مرزا غلام  احمد قادیانی  کذاب ودجال نے چھوڑ ا اور پھر بہت سے دانشوروں نے  اسے اپنایا اور گلے لگایا یہاں تک کہ ازہر ہند دار العلوم دیوبند میں بھی اس کی بازگشت سنائی دی جانے  لگی  اور شیخ الحدیث سعید پالنپوری کو لکھنا پڑا کہ ہم سنت کے ماننے والے  ہیں  حدیث کےنہیں۔ زیر نظر کتا ب’’ حدیث وسنت میں تفریق کا  فتنہ قادیان سے دیوبند تک‘‘ مولانا عبد الواحد انور یوسفی الاثری﷾  (نائب صدر...

  • 12 حفاظت حدیث کیوں (پیر 18 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2149

    نبی کریم ﷺکے قول ،عمل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔یہ وہ الہامی ذخیرہ ہے جو بذریعہ وحی نطق رسالت نے پیش فرمایا۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ،فقہی استدلال فضول اورر راست دینی نظریات عنقا ہو جاتے ہیں۔یہ اس شخصیت کے کلمات خیر ہیں،جنہیں مان کر ایک عام آدمی صحابی رسول بنا اور اللہ تعالی نے اسے اپنی رضا مندی کے سرٹیفکیٹ سے نوازا۔یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے ،جسے نظر انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے۔لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ حدیث رسول آج ایک مظلوم علم بن گیا ہے۔اس پر غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی کرم فرمائی کی ہے۔کہا جاتا ہے کہ حدیث کی حفاظت کا اہتمام نہ تو خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے اور نہ اس کا حکم دیا ہے،حفاظت حدیث کیا ضروری تھی؟حفاظت نہ کی جاتی تو کونسا پہاڑ ٹوٹ پڑتا؟کسی نے کہا کہ بہت ساری احادیث ہماری عقل کے مخالف ہیں۔یہ اور اس جیسے استخفاف حدیث پر مبنی کلمات ہمارے بعض مدبرین اور واعظین کی تحریروں میں نظر آتے ہیں۔ ایسے اعتراضات کو مستعار لینے اور دین پر جڑنے کی بجائے اگر یہ لوگ اس علم کو ذرا انہماک سے پڑھ لیتے تو شاید توقع سے زیادہ انہیں تشفی ہوتی اور ان کا بہت سا ذہنی نقصان نہ ہوتا۔زیر تبصرہ کتاب (حفاظت حدیث کیوں؟) اسی سلگتے موضوع پر لکھی گئی ہے جو پاکستان کے خواتین کے معروف ادارے الہدی انٹر نیشنل کی مدیرہ محترمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظھا اللہ کے خاوند ڈاکٹر محمد ادریس زبیر ﷾کی کاوش ہے۔مولف نے حفاظت حدیث کے موضوع پر انتہائی مفید اور مدلل بحث کی ہے۔اللہ ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 13 دفاع سنت (منگل 16 مارچ 2010ء)

    مشاہدات:13269

    یہ کتاب  شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تالیف لطیف ہے جو در حقیقت ایک کتاب بنام ’’ہفوات المسلمین ‘‘ کاعلمی رد ہےجواگست  1922ء میں ایک رافضی اور بدعتی عقائد کے حامل مصنف کی طرف سے شائع ہوئی۔ جس میں اس نے اپنےفہم فاسد سےبعض احادیث صحیحہ کی غلط تعبیر وتشریح پیش کی ہے اور ’’والاناء یترشح یما فیہ ‘‘کےمصداق اپنے خبث باطن کے اظہار کی بھرپور کوشش کی ہے اور یوں وہ ذخیرۂ حدیث پر ردوقدح وارد کرنے کامرتکب بن گیاہے حالانکہ اس تمام سعی لاحاصل کی اساس اوہام وشبہات کےسوا کچھ نہیں اور یہ تمام شبہات اہواء نفس اور شہوات نفس کے نبیجہ میں ابھرتے ہیں ۔اس کتاب میں مولانا نے ہفوات المسلمین  والوں کے تما عقلی ونقلی اعتراضات کا جواب بالدلیل پیش کیا ہے ۔جو ان کے منہ پرایک کھلا طمانچہ ہے ۔
     

  • 14 دفاع صحیح بخاری (پیر 08 مارچ 2010ء)

    مشاہدات:12753

    قرآن مجيدکےبعد سب سے زیادہ صحیح ترین اور قابل اعتماد کتاب ہونے کے شرف صحیح بخاری کو حاصل ہے۔ علماءے امت کا اتفاق ہے کہ اس کی تمام مرفوع ومتصل روایات کی صحت پر اجماع اور انہیں تلقی بالقبول حاصل ہے۔ لیکن تقلیدی جمود اور فقہی روایات کے دفاع میں نہ صرف صحیح بخاری کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ امام بخاری پر بھی طنز کے نشتر چلائے گئے۔ صحیح بخاری کو ناقص اور نامکمل ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی تو اس کی احادیث کو ضعیف اور ناقابل عمل قرار دینے سے دریغ نہ کیا گیا۔ طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ اس کی بعض روایات کو قرآن پاک کے خلاف باور کرانے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کی گئی۔ ان اعتراضات کی بارش کرنے والوں میں سے ایک نمایاں نام مولوی عمر کریم حنفی کا ہے جنہوں نے امام بخاری اور صحیح بخاری کو نشانے پر رکھتے ہوئے بہت سے رسائل  اور اشتہار تحریر کیے جن کا علمی اور سنجیدہ اسلوب میں مولانا ابوالقاسم سیف بنارسی نے مختلف رسائل میں جواب دیا۔ زیر نظر کتاب میں حافظ شاہد محمود نے بھرپور محنت کے ساتھ ابوالقاسم سیف بنارسی کے دیے گئے تمام جوابات کو جمع کیا ہے۔ یہ مجموعہ سات کتابوں پر مشتمل ہے:1۔ صراط مستقیم لہدایۃ عمر کریم۔ اس میں عمر کریم پٹنوی کے اشتہار کا مختصر جواب ہے۔2۔ الریح العقیم لحسم بناء عمر کریم۔ اس میں ذکرکردہ اشتہار کے بقیہ مباحث کو مفصل بیان کیا گیا ہے۔3۔ العرجون القدیم فی إفشاء ہفوات عمر کریم۔ اس میں امام بخاری کا دفاع اور ان کے حالات زندگی قلمبند کیے گئےہیں۔4۔ الخزی العظیم للمولوی عمر کریم۔ اس میں صحیح بخاری کی حدیثوں میں مطابقت ثابت کر کے عمر کریم کے اعتر...

  • 15 دوام حدیث جلد اول (پیر 22 فروری 2010ء)

    مشاہدات:13933

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث س...

  • 16 صحیح بخاری اور امام بخاری احناف کی نظر میں (جمعہ 10 جون 2011ء)

    مشاہدات:14203

    سید الفقہاء و المحدثین امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ علم حدیث میں ’امیرالمؤمنین فی الحدیث‘کا پایہ بلند رکھتے ہیں۔ان کا علم و تفقہ ،زبدو ورع اور خشیت و تقوی مسلم ہے۔حضرت الامام نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے پیش نظر سولہ برس کی محنت شاقہ سے اپنی کتاب ’الجامع الصحیح‘ مرتب فرمائی جو ’صحیح بخاری‘ کے نام سے معروف و مشہور ہے۔خداوند قدوس نے مصنف کے اخلاص و للہیت کا یہ بدلہ عنایت فرمایا کہ امت کی جانب سے اسے تلقی بالقبول حاصل ہوا اور ارباب علم و نظر نے بیک زبان ہو کر اسے ’اصح الکتب بعد کتاب اللہ ‘ کے عظیم الشان اعزاز سے نوازا۔ان علما نے بھی اس امر کا اقرار کیا جو فقہی اعتبار سے امام صاحب کے منہج سے متفق نہ تھے۔لیکن افسوس ناک امر یہ ہےکہ ایک شر ذمہ قلیلہ امام صاحب اور ان کی اس عظیم الشان کتاب حدیث کی شان گھٹانے کی کوشش کرتا رہا۔ایسے لوگ پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں لیکن سچ ہے کہ ’چاند کا تھوکا منہ پہ آتا ہے‘یہ لوگ خود بے وقعت ہو کر رہ گئے۔زیر نظر کتاب میں علمائے احناف کے دسیوں حوالہ جات سے ثابت کیا گیا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ علم حدیث کے عظیم امام تھے اور صحیح بخاری خداکی کتاب کے بعد صحیح ترین کتاب ہے ۔فللہ الحمد

  • 17 صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ (جمعرات 03 جون 2010ء)

    مشاہدات:16091

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت اسلامی شریعت کی اسی طرح اساس وبنیاد ہے جس طرح کہ قرآن کریم ہے حدیث وسنت کے بغیر نہ قرآن کو سمجھا جا سکتا ہے او رنہ ہی احکامات خداوندی پر عمل ممکن ہے اللہ تعالی جزائے خیر دے محدثین کرام رحمہم اللہ کو جنہوں نے انتہائی محنت او رجگر کاوی سے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم  کے اقوال وارشادات  اور عادات وافعال کو حیطۂ تحریر میں لاکر کتابی شکل میں امت کے سامنے پیش کیاتاکہ ان پرعمل کرنے میں آسانی اور سہولت رہے ۔اس ضمن میں امام محمدبن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ  کامرتب کردہ مجموعہ حدیث جو ’صحیح بخاری ‘ کےنام سے معروف ہے جوایک ممتاز مقام رکھتا ہے  کہ اس میں صرف انہی احادیث کو جمع کیا گیا ہے  جوفن حدیث  کی رو سے قطعی صحیح ہیں کوئی کمزور روایت اس میں جگہ نہیں پا سکتی وہ لوگ جو حدیث وسنت کے اپنے مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے اور امت کارشتہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کمزور کرنا چاہتے ہیں مختلف طریقوں سے  حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جرح وتنقید کانشانہ بناتے رہتے ہیں ان کی ناپاک جسارتوں کا دائرہ یہاں تک وسعت پذیر ہوا کہ اب انہوں نے ’’صحیح بخاری‘‘ کو بھی ناقابل اعتبار ٹھہرانے کےلیے اس پر اعتراضات کرنا شروع کردیئے ہیں اس نوع کےشبہات  کا ازالہ بہت سارے علماء نے کیا ہے ۔زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ’’صحیح بخاری  پر اعتراضات کا علمی جائزہ‘‘جناب محترم حافظ زبیر علی زئی  حفظہ اللہ کی تألیف ہے جو علم حدیث کے مختلف گوشوں میں...

  • مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہےکہ صحیح بخاری اصح الکتب بعد کتاب اللہ یعنی اللہ کی کتاب قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح ترین کتاب ہے بخاری ومسلم ان دونوں کتابوں کو ساری امت نے قبول کر لیا ہے سوائے تھوڑے حروف کے جن پر بعض حفاظ مثلا دار قطنی نے تنقید کی ہے لیکن ان دونوں کی صحت پر امت کا اجماع ہے اور اجماع امت اس پر عمل کرنے کو واجب کرتا ہے اس کتاب میں مصنف نے بخاری کی چند احادیث پر دور حاضر کے  منکرین حدیث نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کا با التفصیل جواب دیا ہے جس کے مطالعہ سے ان حضرات کی علمی قابلیت اور دیانت و امانت کا خوب نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

  • 19 صحیح بخاری کا دفاع ( زبیر علی زئی ) (منگل 22 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2433

    محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ،جسے امت  کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔امام بخاری﷫کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ بھی  ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ بھی  ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوتِ استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔ صحیح بخاری کی   کئی مختلف اہل علم نے شروحات ،ترجمے اور حواشی وغیرہ کا کام کیا ہے شروح صحیح بخاری میں فتح الباری کو ایک امتیازی مقام اور قبولِ عام حاصل ہے ۔لیکن بعض نام نہاد اہل علم ہمیشہ سے صحیح بخاری  پر اعتراضات کرتے چلے آئے  ہیں اور اس کی بعض روایات کو عقل سلیم سے سمجھنے کی بجائے اس پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ علماء حق نے ان کے کمزور اعتراضات اور بیہودہ تنقید کا  ہمیشہ مسکت اور مدلل جواب دے کر انہیں چپ رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " صحیح بخاری کا دفاع"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب﷫  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  صحیح بخاری پر کئے گئے اع...

  • 20 ضرب حدیث (بدھ 27 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:21648

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت شریعت اسلامیہ کی اہم ترین اساس ہے۔حدیث پاک کو نظر انداز کر دیا جائے تو نہ قرآن کریم کو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ہی دین پر مکمل عمل ممکن ہے۔بعض گمراہ لوگ جو دین کا انکار کرنا چاہتے تھے اور شریعت کی پابندیوں سےآزادی کے خواہاں تھے،انہوں نے اس مقصد کے لیے حدیث پاک کو مشکوک ٹھہرانے کی ناپاک سعی کی اور بالآخر اسے ناقابل اعتبار قرار دے کہ مسترد کر دیا۔بر صغیر میں اس حوالے سے مولوی عبداللہ چکڑالوی کا نام خارجی شہرت رکھتا ہے۔بعد ازاں مختلف لوگوں نے اس فتنے کی آبیاری کی اور بالآخر پاکستان میں چودھری غلام احمد پرویز نے اسے خوب رواج دیا۔علما نے اس فتنے کے رد میں بے شمار کتابیں لکھیں اور ساتھ ساتھ مثبت طور پر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت وضرورت سے بھی آگاہ کیا۔انہی میں مولانا محمد صادق سیالکوٹی رحمہ اللہ کی زیر نظر کتاب ’ضرب حدیث‘بھی ہے۔اس میں مولانا مرحوم نے انتہائی شستہ اور علمی انداز میں اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حدیث کی حجیت کا اثبات کیا ہے اور انکار حدیث کے نتائج پر بھی روشنی ڈالی ہے۔(ط۔ا)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1490
  • اس ہفتے کے قارئین: 3160
  • اس ماہ کے قارئین: 43295
  • کل قارئین : 46033500

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں