#6770

مصنف : مسعود عالم فلاحی

مشاہدات : 2944

ہندستان میں ذات پات اور مسلمان

  • صفحات: 642
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 16050 (PKR)
(جمعہ 21 ستمبر 2018ء) ناشر : القاضی نئی دہلی

اسلام دین فطرت ہے. اسلام نے نہ صرف تمام فطری تقاضوں کی جائز تکمیل کی ہے بلکہ غیر فطری عناصر کا سد باب کیا ہے. انسانوں میں رنگ ونسل اور ذات برادری کے تعصب کی بنیاد پر تفریق اور اونچ نیچ کا تصور زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے. اسلام نے اس تصور کی یکسر نفی کرتے ہوئے فضیلت وامتیاز کا صرف ایک معیار برقرار رکھا ہے تقوی اور خشیت الہی. فرمان الہی ہے:يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ’’لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں سے با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے۔‘‘ (الحجرات: 13)نبی رحمتﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ﻳﺎ ﺃﻳﻬﺎ اﻟﻨﺎﺱ، ﺃﻻ ﺇﻥ ﺭﺑﻜﻢ ﻭاﺣﺪ، ﻭﺇﻥ ﺃﺑﺎﻛﻢ ﻭاﺣﺪ، ﺃﻻ ﻻ ﻓﻀﻞ ﻟﻌﺮﺑﻲ ﻋﻠﻰ ﻋﺠﻤﻲ ، ﻭﻻ ﻟﻌﺠﻤﻲ ﻋﻠﻰ ﻋﺮﺑﻲ، ﻭﻻ ﺃﺣﻤﺮ ﻋﻠﻰ ﺃﺳﻮﺩ، ﻭﻻ ﺃﺳﻮﺩ ﻋﻠﻰ ﺃﺣﻤﺮ، ﺇﻻ ﺑﺎﻟﺘﻘﻮﻯ’’لوگو! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ (آدم) ایک ہے. سنو کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں نہ کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل ہے. کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں،سوائے تقوی کے۔‘‘ (مسند احمد: 23489 صحيح)انسانی مساوات پر مبنی اسلام کی ان واضح تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام کے معاشرے میں ہمیں رنگ ونسل، قبیلہ وبرادری کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق نہیں ملتی، بہت سارے صحابہ ایسے تھے جو غلام تھے لیکن اسلام لانے کے بعد انہیں بھی اسلامی معاشرے میں وہی احترام، حقوق اور تحفظات حاصل تھے جو دیگر صحابہ کو حاصل تھےزیر تبصرہ کتا ب’’ ہندوستان  میں ذات پات اور مسلمان‘‘ کی تصنیف ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتا ب میں ہندوستان کے پس منظر میں ذات پات کی تاریخی پہلو پر روشنی ڈالی ہے  او ر ہر دور  میں کس طرح حق وباطل کی کشمکش جاری رہی نیز اشاعت اسلام کی  اصل وجہ اور اسلام کی اشاعت کو روکنے کی خاطر شروع سےجس طرح کوششیں اور سازشیں جاری رہی  ان کو بھی بھی بیان کیا ہے۔اولاً یہ کتاب ماہنامہ ’’ زندگی نو‘‘ دہلی میں مئی 2000ء تااگست 2000ء قسطوار ’’ ہندستان میں چھوت چھات اور مسلمان‘‘ کے عنوان سے  قسط وار شائع ہوئی ۔بعد ازاں افادۂ عام کےلیے اسے کتابی صورت میں شائع کیاگیا۔(م۔ا) 

فہرست زیر تکمیل

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 879
  • اس ہفتے کے قارئین 11844
  • اس ماہ کے قارئین 879
  • کل قارئین56447499

موضوعاتی فہرست