عقلیات قرآن کریم

ڈاکٹر فاطمہ اسماعیل مصری
ادارہ علوم اسلامیہ علی گڑھ
433
10825 (PKR)

تقلید اور اختلاف امت دین، دلیل، برہان، غور وفکر، تحقیق اورتخلیق کے ضد کے طور پر ابھرا ہے۔ دین، یعنی قرآن پاک اپنی اصلی شکل میں محفوظ ہے جس کے تحفظ کی ذمہ داری تاقیامت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لی ہوئی ہے۔ وحی کے الفاظ، جس وقت یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارے گئے تھے، ہو بہو وہی ہیں۔ قرآن کی حقانیت تمام فرقوں میں مسلم ہے۔ اس لئے یہی وہ نکتہ ہے جس سے امت میں اتفاق اور یگانگت کی فضا فروغ پا سکتی ہے۔ قرآنی نقطہ نظر سے دین کو سمجھنا انتہائی آسان ہے۔ تاہم اس کو کھلے ذہن کے ساتھ، قرآن کی تفسیر قرآن کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے (قرآن اپنی تفسیر خود اپنی آیات سے کرتا رہتا ہے) نہایت آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے۔ قرآن کریم، وحی خدا وندی ہے۔ دین اپنی اساس میں قدیم سے جدید ہے۔ اس لئے دین کو فطرت کے اصولوں کے مطابق، حواس خمسہ اور عقل وفکر کے ذریعے معروضی حالت کے تناظر میں پرکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ عقلیات قرآن  کریم ‘‘ ڈاکٹر فاطمہ اسماعیل مصری کی ہے جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی نے کیا ہے۔اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن نے اسلامی عقیدے کی تعمیر میں عقل کو بڑا مقام دیا ہے۔ قرآن کی 6236 آیات کا تعلق عقائد سے ہے جن میں اعتراضات و شبہات کے جوابات میں عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ قرآن اپنے مخاطبین کو دعوت دیتا ہے کہ اسلامی عقیدے کو پہلے اپنی عقل کی روشنی میں پرکھیں اور پھر ایمان لائیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے عقل، فکٰر اور اجتہاد کو استعمال کر کے عقلی استلال کے جس قرآنی منہاج کی طرف رہنمائی فرمائی ہے، صحابہ کرام اور ہر دور میں امت کےعلماء، متکلمین اور فلاسفہ نے اس کی پیروی اور اسے فروغ دیا۔ لہذا دین کو فطرت کے اصولوں کے مطابق، حواس خمسہ اور عقل وفکر کے ذریعے معروضی حالت کے تناظر میں پرکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ ہم  مصنف  کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

عناوین

صفحہ نمبر

مختصر سوانحی خاکے

11

عرض مترجم

13

پیش لفظ

18

تقریظ

25

مقدمہ

32

تمہید

43

القرآن

44

لغت میں قرآن کامفہوم

44

قرآن کااصطلاحی مفہوم

44

محکم ومتشابہ غیب  اورتاویل

48

النظر

50

نظرکالغوی مفہوم

50

نظرکااصطلاحی مفہوم

51

استدلال کالغوی واصطلاحی مفہوم

2

التبصر،التدبر:الاعتبار

53

العلم والمعرفۃ

54

الخبر،الاجتہاد ،الفقہ ،التقلید ،الظن ،الہوی ،القین

57

العقل

59

عقل کالغوی مفہوم

59

عقل کااصطلاحی مفہوم

60

معتزلہ کانقظہ نظر

60

اشاعرہ کانقطہ نظر

61

فلاسفہ کانقطہ نظر

63

مسلم فلاسفہ کانقطہ نظر

65

الحجر ،الحلم ،النہی،اللب،القلب

67

فصل اول

 

قرآن میں عقلی تدبر اورعلم ومعرفت کی طلب

77

باب اول  قرآن میں عقلی تدبر کی کھلی دعوت

78

قرآن میں لفظ عقل کااستعمال

78

آیات کی پہلی قسم

79

آیات کی دوسری قسم

81

نظرکی دعوت دینےوالی آیات

81

تبصر کی دعوت دینےوالی آیات

82

تدرکی دعوت دینےوالی آیات

83

تفکر کی دعوت دینےوالی آیات

84

اعتبار کی دعوت دینےوالی آیات

86

تفقہ کی دعوت دینےوالی آیات

88

تذکر کی دعوت دینے والی آیات

89

آیات کی تیسری قسم

90

آیات کی چوتھی قسم

92

آیات کی پانچویں قسم

94

باب دوم

98

قرآن کریم میں علم ومعرفت کی طلب

98

علم اورمعرفت کےدرمیان فرق

102

حصول علم ومعرفت کےوسائل

103

حواس اورعقل

103

حواس ،قلب اورعقل

105

خبر

108

کب معرفت کےمراحل اوریقین کےدرجات

109

یقین کامرحلہ اوراس کےدرجات

113

یقین کامعیار اورمعرفت کےدرجات

116

معرفت کےموضوعات

118

فصل دوم

 

قرآن میں عقلی تدبر کامنہاج

132

جانب اول :عقلی سرگرمیاں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کاازالہ

134

اندھی تقلید کی مذمت

134

ظن مذموم سےاجتناب

136

ہوئے نفس کی مذمت

138

جانب دوم:عقلی استدلال کےقرآن طریقے

139

تشبیہ وتمثیل سے استدلال

139

جزئیہ سے استدلال

142

تعمیم اورپھر تخصیص سے استدلال

144

تعریف سے استدلال

148

مقابلہ سے استدلال

149

قرآن قصو ں سے استدلال

151

مجادلہ ومناظرہ سے استدلال

154

سبروتقسیم

155

تحدی

157

قول بالموجب

157

اسجال

159

استدلال کی منتقلی

159

مناقضہ

160

مجاراۃ

161

عالم کائنات میں استقرائی استدلال

162

قرآن استدلال اوریونانی کےدرمیان ربط کی حقیقت

175

شکل وصورت

178

اسلوب

182

یقین وصداقت  کی حقیقت

187

فصل سوم

 

اسلامی عقیدہ کی تعمیر میں عقلی نظروتدبر کاکردار

208

امورغیب کی تائید واثبات میں عقلی نظر کاکردار

209

باب اول

211

وجو دخداوندی کےسلسلہ میں عقلی نظر کاکردار

211

تخلیق کی دلیل

215

اہتمام ونگہداشت کی دلیل

219

باب دوم :وحدانیت کےاثبات میں عقلی نظر کاکردار

224

خالق کی وحدانیت

225

عبادت وحدانیت

229

یہودونصاری کےشبہات اورقرآن کی تردید

235

پہلا شبہ

236

دوسراشبہ

238

تیسرا شبہ

244

باب سوم :رسالت کےاثبات میں عقلی نظر کاکردار

248

معجزہ قرآن سےمتعلق

248

سیرت طیبہ سےمتعلق

254

محمد ﷺ اورگزشتہ انبیاء کی تعلیمات کےدرمیان معروضی تقابل

257

باب چہارم:بعثت بعدالموت اورجزاکی تائید میں عقلی نظر کاکردار

261

تخلیق اول سے تخلیق ثانی پر استدلال

262

مردہ زمینوں کو زندہ کرنے سے استدلال

265

اضداد سے استدلال

267

مشکل سےآسان پر استدلال

268

قدرت وعلم الہیٰ سے استدلال

269

نیند کےبعد بیداری سے استدلال

271

حکمت وعدل الہیٰ سےاستدلال

272

بعض مسلم فلاسفہ کاموقف

278

فصل چہارم:

 

فکر اسلامی پر قرآن کی دعوت تدبر کےاثرات

303

باب اول :عصرنبوت اوردوصحابہ میں فکر اسلامی کاارتقاء

304

تحریک عقلیت اسلامی کی اولین بنیادوں کاظہور

304

سنت نبویہ اورعقلی نظر

305

صحابہ کرام اورعقلی نظر

309

عقلی نظر اوراجتہاد

312

رسول اکرم اوراجتہاد

321

صحابہ کرام ارواجتہاد

320

باب دوم: متشابہات قرآنی کی تفہیم میں عقلی نظر کاکردار

328

عقلی نظراورمتشابہ کےدرمیان تعلق

328

مسئلہ تاویل  اور اس میں اختلاف

328

متاخرین کےنزدیک تاویل کامفہوم

334

متشابہات کی حکمت

337

باب سوم :بعض متکلمین اسلام کےنزدیک عقل اورنقل کےدرمیان رابطہ

339

مسلمان متکلم کاموقف

339

معتزلہ اشارہ کاموقف

340

ظاہریہ کاموقف

345

محاکمہ

355

با ب چہارم :بعض فلاسفہ اسلام کےنزدیک دین اورفلسفہ میں ہم آہنگی

356

الکندی

357

ابن مسرۃ

358

الفارابی

358

ابن سینا

359

ابن حزم

359

ابن طفیل

360

ابن رشد

360

دین وفلسفہ میں ہم آہنگی کےدینی عوالم

362

محاکمہ

368

بحث کےنتائج

393

مراجع  ومستفادات

398

دوسری جلد

مصنف کی مزید تصانیف

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2074 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں