وزارت اسلامی امور و اوقاف و دعوت و ارشاد، مملکت سعودی عرب

17 کل کتب
دکھائیں

  • 1 دین کے تین اہم اصول (پیر 10 نومبر 2008ء)

    مشاہدات:17465

    انسان كي تخليق كا مقصد الله تعالي نے اپنی عبادت رکھا ہے اس لیے انسان کو نہ تو رزق کے معاملے میں زیادہ پریشان ہونا چاہیے اور نہ ہی دنیا کے حصول کے لیے اپنے آپ کو کھپا دینا چاہیے بلکہ اللہ تعالی نے اس کے رزق کا ذمہ خود لیا ہے جبکہ انسان کو دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کا پابند کیا ہے-اس لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کو شعور بخشا ہے اور اس کو فطرت اسلام پر پیدا فرمایا تاکہ یہ اپنی گمراہی کو بے علمی کے عذر سے پیش نہ کر سکے-اس لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف طریقوں سے یہ باور کروا دیا ہے کہ کوئی خالق ومالک اور کوئی ایسی ہستی ہے جو سارا نظام چلا رہی ہے اور اس دنیا کی ہر چیز کو کنٹرول کیے ہوئے ہے-اس لیے ہر مسلمان کو جن چیزوں سے معرفت ضروری ہے مصنف نے اپنی کتاب میں ان چیزوں کو موضوع بنایا ہے اور وہ اہم چیزیں درج ذیل ہیں:

    1-اللہ تعالی کی معرفت

    اللہ تعالی نے زمین وآسمان ،سورج،چاند اور ستاروں،شجر حجر اور پہاڑوں سے اور دنیا کے نظام سے اپنی معرفت کروائی ہے اور حتی کہ فرمان باری تعالی کے مطابق خود انسان کی اپنی جا ن میں بہت ساری نشانیاں موجود ہیں-

    2-دین کی معرفت

    دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو زندگی گزارنے کے لیے جو راہنمائی فراہم کی جاتی ہے اس کو وحی کا نام دیا گیا ہے اور اس کے ذریعے انسان کو اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود وقیود کا پابند کیاجاتا ہے تاکہ اس کی زندگی میں افراط وتفرط نہ آئے اور معتدل رویے سے زندگی بسر کرے-لہذا انسان کے لیے یہ لازمی ہے...

  • دین اسلام کے چار بڑے ٹکڑے کرنے والوں کیلئے عبرت آمیز کتاب۔  چار مشہور اماموں کے عقائد کا مدلل بیان۔  دور حاضر کے مقلدین اپنے اماموں کے عقائد  مثلاً توحید، تقدیر، ایمان وغیرہ کی مد میں اپنے اماموں سے کس قدر اختلاف رکھتے ہیں، اس کا اندازہ اس کتاب کو پڑھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ مقلدین حضرات کا دعوٰی ہے کہ جس بات پر چاروں امام متفق ہو جائیں وہ اجماع کے درجے میں جا پہنچتی ہے۔ آئیے دیکھیں کہ عقائد کے معاملات جن میں چاروں امام متفق ہیں، کیوں ان کی تقلید کرنے والے ان اجماعی معاملات میں اختلاف کا رویہ اپنائے بیٹھے ہیں۔ ایک روشن اور راہنما تحریر
     

  • 3 عقیدے کے بارے میں شکوک و شبہات کاازالہ (بدھ 03 دسمبر 2008ء)

    مشاہدات:18696

    اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنے کا نام توحید ہے –حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے شرک کی ابتدا کی اور اپنے نیک لوگوں کی تصویریں اور مجسمے بنا کر ان کی تعظیم شروع کر دی جو بعد میں شرک جیسے گناہ کی طرف لے گئی-مشرکین مکہ بھی اپنے بنائے بتوں کی عبادت کرتے تھے اور نظریہ یہ ہوتا تھا کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہیں-تو مصنف نے عقیدے میں پائے جانے والے ایسے شکوک وشبہات کو بیان کر کے ان کا رد کیا ہے-مصنف نے انبیاء کی بعثت کے مسئلہ کو واضح کرتے ہوئے توحید ربوبیت اور مشرکین کا عقیدے کو بیان کیا ہے- انبیاء سے دشمنی کے بارے میں اور ان کے شبہات کا جواب اور اس کے علاوہ غیراللہ سے استغاثہ اور عبادات کے بارے میں پائے جانے والی اختراعات اور اس کے ساتھ ساتھ قربانی اور شفاعت کے متعلق عقیدے کی وضاحت کی ہے اور توحید ربوبیت اور الوہیت کو تفصیلا واضح کیا ہے
     

  • 4 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ (بدھ 17 دسمبر 2008ء)

    مشاہدات:19174

    نماز اللہ تعالی کی طرف سے عائد کردہ ایک ایسا فریضہ ہے جس کی ادائیگی ہر مسلمان پر ایک دن میں پانچ بار ضروری ہے- بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو نماز تو ادا کرتے ہیں لیکن اس میں سنت نبوی کو ملحوظ نہیں رکھتے جبکہ یہ فریضہ جتنا اہم ہے اس کی ادائیگی میں احتیاط بھی اتنی ضروری ہے-اس لیے مصنف نے اسی احتیاط کو پیش نظر رکھتے ہوئے نماز کی درست ادائیگی کے لیے یہ کتاب تصنیف فرمائی- زیر نظر کتاب میں مصنف نے بہت سادگی اور۔ آسان انداز  میں مسنون نماز کا مکمل طریقہ بیان کیا ہے- اس کتاب کا مطالعہ جہاں آپ کو نماز کے مکمل طریقے سے روشناس کروائے گا وہاں نماز میں پڑھی جانے والی مسنون دعائیں اور دیگر احکامات سے بھی آگاہ کرے گا-مصنف  نے  نماز کے لیے بنیادی شرط طہارت سے لے کر سلام تک تمام ارکان کو بالتفصیل اور سنت کے مطابق ادا کرنے کا طریقہ بیان کیا ہے۔
     

  • 5 نماز نفل کتاب وسنت کی روشنی میں (اتوار 22 اگست 2010ء)

    مشاہدات:21866

    پروردگار کی بندگی کا سب سے اعلی اظہار نماز سے ہوتا ہے  یہی وجہ ہے کہ ہمار ے پیغمبر اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نفلی نمازوں کابھی بکثرت اہتمام کیا کرتے تھے نفل نماز بہت اہمیت کی حامل ہے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے روز قیامت اگر فرائض میں کمی ہوئی تو وہ نوافل سے پوری کردی جائے گی فلہذا ہمیں بھی نفل نماز کی ادائیگی کےلیے سعی وکاوش کرنی چاہئے زیر نظر کتاب میں فاضل مؤلف نے کتاب وسنت کی روشنی میں بڑے ہی خوبصورت اندازمیں نماز نفل کی اہمیت وفضیلت اور اس کے احکام ومسائل پرروشنی  ڈالی ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نماز نفل کی کون سی صورتیں ہوسکتی ہیں اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ پاک سے ان کی مشروعیت کہاں تک ثابت ہے آج جب کہ فرائض سے بھی غفلت برتی جارہی ہے ضرورت ہے کہ نماز کی اہمیت کو جانا جائے اور فرائض کے ساتھ نفل نماز کی بھی پابندی کی جائے اس کے لیے زیر نظر کتاب کامطالعہ انتہائی ممدو ومعاون ثابت ہوگا۔ان شاء اللہ


     

  • 6 مختصر کتاب الکبائر (پیر 20 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2309

    اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے۔ اہل علم نے کتاب وسنت کی روشنی میں گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ صغیرہ گناہ یعنی چھوٹے گناہ اور کبیرہ گناہ یعنی بڑے گناہ۔ اہل علم نے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں ان گناہوں کوشمار کیا ہے جن کےبارے میں قرآن وحدیث میں واضح طور پر جہنم کی سزا بتائی گئی ہے یا جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ نے شدید غصہ کا اظہار فرمایا ہے ۔اور صغیرہ گناہ وہ ہیں جن سے اللہ اوراس کے رسول نےمنع توفرمایا ہے ، لیکن ان کی سزا بیان نہیں فرمائی یا ان کے بار ے میں شدید الفاظ استعمال نہیں فرمائے یا اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا۔کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی وجہ سے آدمی پر سب سے بڑی ہلاکت اور مصیبت تو یقیناً آخرت میں ہی آئے گی جہاں اسے چاروناچار جہنم کاعذاب بھگتنا پڑے گا لیکن اس دینا میں بھی گناہ انسان کے لیے کسی راحت یاسکون کا باعث نہیں بنتے بلکہ انسان پر آنے والے تمام مصائب وآلام،بیماریاں اور پریشانیاں تکلیفیں اور مصیبتیں درحقیقت ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’مختصر کتاب الکبائر‘‘ امام شمس الدین ذہبی کی کتاب الکبائر کا اختصار ہے ۔اس کتاب میں ان کبیرہ گناہوں کو واضح کرنے کی کو شش کی گئی ہے کہ جن کو امام ذہبی نے اپنی کتاب الکبائر میں ذکر کیا ہے ۔ علاوہ ازیں بعض دوسرے کبائر کا بھی اس میں ذکر کیا ہے جن کو علماء نے مختلف جگہوں پر اپنی اپنی کتابوںمیں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور اس کتاب کو کبیرہ گناہوں سےمحفوظ رہنے کا ذریعہ بنائے۔ آمین( م۔ا)

  • 7 حج بیت اللہ اور عمرہ کے متعلق چند اہم فتاویٰ (جمعرات 20 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1860

    حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے ۔یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے شریعت نے امت مسلمہ کواپنے او ردنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ استغفار اور حالات کی درستگی کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں  ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز روزہ صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ فقط مالی عبادت ہے۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’ حج بیت اللہ اورعمرہ کے متعلق چند اہم فتاویٰ ‘‘ شیخ ابن باز ﷫ سے حج وعمرہ کےمتعلق کیے گئے 45 سوالات&nb...

    حج 
  • 8 حج و عمرہ اور زیارت کے مسائل کی تحقیق و وضاحت (اتوار 23 اگست 2015ء)

    مشاہدات:2399

    اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے بیت اللہ کا حج ہے ۔بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے۔ ا ور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے۔ اگر اللہ تعالی توفیق دے تو ہر پانچ سال بعد حج یا عمر ہ کی صورت میں اللہ تعالی ٰ کے گھر حاضر ی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں۔ مگر یہ اجر وثواب تبھی ہےجب حج او رعمر ہ سنت نبوی کے مطابق اوراخلاص نیت سے کیا جائے ۔اور منہیات سےپرہیز کیا جائے ورنہ حج وعمرہ کےاجروثواب سےمحروم رہے گا۔حج کے احکام ومسائل کے بارے میں اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب بازار میں دستیاب ہیں اور ہر ایک کا اپنا ہی رنگ ڈھنگ ہے۔انہی کتب میں سے زیر تبصرہ کتاب سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ جناب عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ﷫ کی ہے۔ اصل کتاب عربی میں التحقيق والايضاح لكثير من مسائل الحج والعمرة والزيارة على ضوء الكتاب والسنة کے نام سے ہے جس کے اردو ترجمہ وتفہیم کی سعادت ہند کے نامور عالمِ دین جناب مولانا مختار ندوی نے حاصل کی۔ مسائل حج کی بابت یہ مختصر مجموعہ ہےجو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺکی روشنی میں حج ،عمرہ...

    حج 
  • 9 حجاج کرام کے لیے رہنما اصول (منگل 15 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1281

    حکومت ِسعودی عرب ہر سال لاکھوں کی تعداد میں باہر سے آنے والے حجاج اور لاکھوں داخلی حجاج کا اپنی مادی اور بشری قوتیں بروئے کار لاتے ہوئے استقبال کرتی ہے ۔اور اس سلسلے میں اپنی تمام ترمادی وبشری توانائیاں بروئے کار لاتی ہے کہ منظم انداز میں حجاج بیت اللہ کی خدمت کرسکے اور ان کی رہائش ونقل وحمل کو آسان بناسکے ،نیز دیگر سہولیات بھی ایک محدود وقت اور مخصوص جگہ میں مہیا کرسکے ۔اور اس مملکت سعودی عرب سے اللہ تعالیٰ کی مدد وتوفیق ہی کا نتیجہ ہے کہ یہ اتنے بڑے اجتماع کے معاملات چلاتی ہے جس کی مثال ساری دنیا میں ملنا مشکل ہے ۔ وزارت اسلامی امور واوقاف ودعوت وارشاد اس حکومتی ڈھانچہ کا حصہ ہے جو حج کےامور میں ہر سال شریک رہتاہے’’تربیت اسلامی برائے حج ‘‘ بھی اسی وزارت کی ذمہ دار ی ہے ۔اس لیے اس وزارت اوقاف کے تحت سیکڑوں مبلغین کو مکہ اور دیگر مقدس مقامات اور بری وبحری او رہوائی راستوں سے آنے والے حجاج کےکیمپوں میں متعین کیا جاتاہے۔ اور اسی طرح یہ وزارت ہی تمام میقاتوں کی جہاں پر حجاج احرام باندھتےہیں مسؤل ہے ۔اور یہی وزارت ان میقاتوں پر موجود مساجد کی ذمہ دار ہے۔ان جگہوں پر یہی مختلف طلبہ کو متعین کرتی ہے تاکہ وہ حجاج کرام کی دینی رہنمائی کرسکیں اور حجاج صحیح شرعی طریقے سے حج ادا کرسکیں اور حج کے احکام کے سلسلے میں ان سے مسائل بھی پوچھ سکیں ۔1418ھ میں وزارت نے حجاج کرام کےلیے ’’رہنما اصول‘‘ کےنام ایک کتابچہ شائع   جس میں حجاج کرام کےلیے حج سے متعلق معلومات اوروزارت حج کے تفصیلی پروگرام اور اس کے دیگر وہ...

    حج 
  • اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے  سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے ) ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر  نبی کریمﷺ تک ہر رسول و نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی ہے۔شرک کی اسی قباحت اور اس کے ناقابل معافی جرم ہونے کے سبب تمام علماء امت نے اس کی مذمت کی اور لوگوں کو اس سے منع کرتے رہے۔عصر حاضر میں شرک پھیلانے کے سب سے بڑے علمبردار احناف اور معتقدین ہیں، جنہوں نے ہزاروں درباروں اور مزاروں کو کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔لیکن متقدمین احناف شرک کی مذمت کرتے اور لوگوں کو اس سے منع کیا کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب" ائمہ حنفیہ کی کوششیں،...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1147
  • اس ہفتے کے قارئین: 6397
  • اس ماہ کے قارئین: 34091
  • کل قارئین : 45931101

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں