#5514

مصنف : شاہد فاروق ناگی

مشاہدات : 1447

تذکرہ حافظ محمد گوندلوی ؒ

  • صفحات: 231
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 5775 (PKR)
(جمعہ 23 جون 2017ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

حضرت العلام، محدث العصر جناب حافظ محمد گوندلوی ﷫ اپنے وقت کے امام تھے۔ ان کی تدریس اور تالیف کے میدان میں نمایاں خدمات ہیں۔ حضرت العلام کا مطالعہ بہت وسیع اور فکر میں انتہائی گہرائی تھی ۔ ان کے حافظے کی پختگی کی وجہ سے لوگ انہیں چلتی پھرتی لائبریری کہا کرتے تھے ۔موصوف ۶ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ بمطابق ۱۸۹۷ء ضلع گوجرانوالہ کے مشہور قصبہ گوندلانوالہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد میاں فضل الدین ﷫نے آپ کا نام اعظم رکھا تھا اور آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کا نام محمد رکھا لیکن آپ والدہ صاحبہ کے تجویز کیے ہوئے نام ہی کے ساتھ معروف ہوئے۔ پانچ سال کی عمر میں آپ کو حفظِ قرآن کے لیے ایک حافظ صاحب کے پاس بٹھا دیا گیا، تھوڑے ہی عرصے میں حفظ کی صلاحیت خاصی بڑھ گئی۔ ایک دن والد محترم کہنے لگے کہ ایک ربع پارہ روزانہ یاد کر کے سنایا کرو، ورنہ تمہیں کھانا نہیں ملے گا۔ اس دن سے آپ نے روزانہ ربع پارہ یاد کر کے سنانا شروع کر دیا۔حفظ قرآن کا کام مکمل ہوا تو والدہ ماجدہ نے مزید تعلیم کے لیے آپ کو جامع مسجد اہل حدیث چوک نیائیں (چوک اہل حدیث) شہر گوجرانوالہ میں مولانا علاؤ الدین کے پاس بھیجا، جہاں آپ نے عربی ادب اور صرف و نحو کی چند ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ پھر آپ کو گوندلانوالہ کے ایک نیک سرشت بزرگ عبداللہ ٹھیکیدار کشمیری کی معیت میں مدرسہ تقویۃ الاسلام امر تسر میں بھیج دیا۔ یہ مدرسہ اس وقت حضرت الامام عبدالجبار غزنوی ﷫کے زیر نگرانی و سرپرستی چل رہا تھا۔ یہاں آپ نے چار سال کی قلیل مدت میں حدیث، تفسیر، فقہ اور دیگر علوم و فنون کی تمام کتب سے فراغت حاصل کی۔درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد آپ نے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے لیا۔ یہاں طب کا چار سالہ کورس مکمل کر کے آپ نے ’’فاضل الطب و الجراحت‘‘ درجہ اول کی سند اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ طبیہ کالج کے آپ کے اساتذہ میں سب سے زیادہ قابل، اور بین الاقوامی مشہور شخصیت حکیم اجمل خان مرحوم تھے۔۱۹۲۷ء میں آپ مدرسہ رحمانیہ دہلی تشریف لے گئے اور ۱۹۲۸ء تک وہیں تدریسی خدمات انجام دیں۔ پھر آپ گوجرانوالہ واپس تشریف لے آئے یہاں مولانا عطاء اللہ حنیف اور حافظ عبداللہ بڈھیمالوی جیسے بڑے علماء آپ سے اسی دور میں مختلف کتابیں پڑھتے رہے۔ ۱۹۳۳ء میں آپ عمر آباد تشریف لے گئے، چند سال یہاں تدریس کے بعد آپ واپس پھر گوجرانوالہ تشریف لے آئے اور ۱۹۴۷ء تک آپ یہیں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ۱۹۵۶ء میں جب جامعہ سلفیہ فیصل آباد قیام عمل میں آیا تو شیخ الحدیث کی مسند کے لیے حضرت حافظ محمد گوندلوی ﷫کا انتخاب ہوا۔۱۹۶۳ء تک آپ جامعہ سلفیہ میں شیخ الحدیث کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔۱۹۶۴ء کے لگ بھگ مدینہ یونیورسٹی کی طرف سے آپ کو تدریس کے لیے مدعو کیا گیا تو آپ وہاں تشریف لے گئے، مدینہ یونیورسٹی سے واپس آ کر جامعہ اسلامیہ کے بعد جامعہ محمدیہ میں تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا اور وفات تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔آپ کی وفات ۱۴ رمضان المبارک ۱۴۰۵ھ، ۴ جون ۱۹۸۵ء کو ہوئی۔ ان کے جنازہ میں علماء کرام کے جم غفیر نے شرکت کی، آپ کی نماز جنازہ شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ ؒ آف گوجرانوالہ نے پڑھائی۔ زير تبصره كتاب ’’ تذکرہ حافظ محمد گوندلوی ﷫‘‘ محترم شاہد فاروق ناگی صاحب کی مرتب شدہ ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷫ کے واقعاتِ حیات خاصی تفصیل سے بیان کیے ہیں ۔ ان واقعات میں حافظ صاحب مرحوم کےخاندان کا تذکرہ ، اساتذہ کے اسمائے گرامی ،ان کے بعض شاگردوں کی علمی سرگرمیوں کی نشاندہی اور ان کی تصانیف کی تفصیل بھی اس میں شامل کردی ہے ۔اور آخری باب میں حضرت گوندلوی کےمعاصر علماء کاتذکرہ بھی پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

اپنی سرگزشت

17

حرفے چند

27

تقریظ

31

پہلاباب :ابتدائی خاندانی حالات وپیدائش

35

گوندلاں والا میں مسلک اہل حدیث کی بنیاد

36

والد مکرم میاں فضل دین

37

والدہ ماجدہ

38

پیدائش

38

دوسراباب :تعلیمی زندگی

 

ابتدائی تعلیم

39

مدرسہ غزنویہ امرتسر

40

آیرویدیک اینڈیونانی طبی کالج دہی

42

استاد پنجاب حافظ عبدالمنان وزیرآبادی

43

تیسراباب :تدریسی زندگی

 

مدرسہ نصرۃ الاسلام گوندلاں والا

45

دارالحدیث رحمانیہ دہلی

47

جامعہ عربیہ دار السلام مدراس

50

حضرت حافظ محمد گوندلوی صاحب  کادورد

55

ایک ناخوشگوار واقعہ

56

تعلیم الاسلام اوڈاں والا

57

اوڈاں والا میں حافظ صاحب کی آمد

58

جامع مسجد مستری علم دین المعروف ناہلی والی مسجد گوجراں والا

61

حافظ صاحب کی تشریف آوری

62

جامعہ اسلامیہ

64

جامعہ آفتاب علم

65

جامعہ سلفیہ فیصل آباد

66

حافظ صاحب کی تشریف آور ی

69

جامعہ شرعیہ مدیۃ العلم دال بازار گوجرااں والا

74

جامعہ شرعیہ کی وجہ بنیاد

74

حضرت حافظ صاحب کی آمد

75

الجامعۃ الاسلامیہ مدینہ منورہ

76

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ روانگی

79

جامعہ اسلامیہ گوجراں والا

80

جامعہ محمدیہ گوجراں والا

81

حافظ صاحب کی تشریف آوری

84

چوتھا باب

 

حضرت حافظ صاحب کاحلیہ سیرت کردار

85

پانچواں با ب

 

حضرت حافظ صاحب کی ازدواجی زندگی

91

چھٹا باب

 

حضرت حافظ صاحب کی بیماری وفات اورتعزیتی پیغامات

97

ساتواں باب

 

حضرت محدث گوندلوی کاانداز تدریس

113

آٹھواں باب

 

علمی جلالت وثقافت اورقوت حافظہ

117

نواں با ب

 

حضرت حافظ محمد گوندلوی  کی تصانیف

129

دسواں با :اساتذہ کرام

145

مولانا علاؤ الدین

146

حضرت الامام عبدالجبار غزنویؓ

148

سیدنا عبدالاول غزنوی

149

سید عبدالغفور غزنوی

148

مولانا محمدحسین ہزاروی 

151

استاد پنجاب حافظ عبدالمنان وزیر آبادی

151

حکیم محمد اجمل خاں دہلوی 

153

مولانا احمد اللہ دہلوی پرتاب گڑھی

155

مولنا عبدالرحمان پنجابی 

155

مولنا محمد اسحاق رامپوری

155

مولانا عبدالرحمن دلایتی دہلوی

156

مولانا عبدالرزاق پشاروی 

156

گیارہواں باب

 

حضرت حافظ محمدمحدث گوندلوی  کےچند تلامذہ

157

مولانا محمد اسماعیل سلفی

158

مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی

159

مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری ؓ

161

شیخ ابوالبرکات احمد مدراسی

161

مولانا محمد عبداللہ

163

حافظ محمد عبداللہ بڑھیمالوی

165

سیدنا ابوبکر غزنوی

165

علامہ احسان الہیٰ ظہیر

166

حافظ محمد اسحاق حسینوی 

167

مولانا محمد اعظم

169

مدرسہ نصرۃ الاسلام گوندلاں والا

171

دارلحدیث رحمانیہ دہلی

172

جامعہ عربیہ دارالاسلام مدراس

172

جامعہ تعلیم لاسلام اوڈاں والا

173

جامع مسجد مستری علم دین گوجراں والا

174

جامعہ اسلامیہ گوجراں والا

175

جامعہ سلفیہ فیصل آباد

182

جامعہ شرعیہ مدینۃ  العلم دال بازار گوجراں والا

186

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

187

مدرسہ جامعہ محمدیہ گوجراں والا

188

بارہواں باب

 

حافظ محمد گوندلوی صاحب کی ملی جماعتی خدمات

193

ملی خدمات

193

جماعتی خدمات

197

تیراہواں باب

 

معاصرین علمائے کرام

203

مولانا ثناءاللہ امرتسری

203

مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی 

205

مولانا ابوسعید شرف الدین دہلوی 

206

مولانا ابولقاسم سیف بنارسی 

208

حافظ محمد عبداللہ روپڑی 

209

مولانا داؤد غزنوی 

210

قاضی عبدالرحیم

212

مولانا حنیف ندوی

213

حافظ محمد یوسف گکھڑوی 

214

مولانا محمد [چراغ

216

حضرت گوندلوی معاصرین کی نظر میں

219

آپ کے براؤزر میں پی ڈی ایف کا کوئی پلگن مجود نہیں. اس کے بجاے آپ یہاں کلک کر کے پی ڈی ایف ڈونلوڈ کر سکتے ہیں.

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1220
  • اس ہفتے کے قارئین 5826
  • اس ماہ کے قارئین 14564
  • کل قارئین51453409

موضوعاتی فہرست