دکھائیں کتب
  • 51 پیغمبرانہ منہاج دعوت (اتوار 03 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2661

    اللہ تعالیٰ  نے انسان  کی فطرت  کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی  کو اختیار کرنے  اور بدی  سے  بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو  لوگوں  تک پہنچایا اوران کو شیطان  سے  بچنے اور رحمنٰ  کے راستے   پر چلنے کی دعوت  دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے۔ دعوت الیٰ اللہ  میں انبیاء ﷩ کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے  ۔ ان کی جدوجہد کو زیر بحث لائے بغیر دعوت کا کوئی تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے۔  اور دعوتِ دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے  کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے،  دعوت  الی اللہ بنیادی طور پر ایک عملی  پروگرام ہے جو تعلیم  وتعلم ،تربیت واصلاح  کی عملی کشمکش پر مشتمل ہے ۔علم...

  • برصغیر میں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق منعدد امور توجہ طلب ہیں کیونکہ ان سے متعلق جو تفصیلات عام لوگوں کو معلوم ہیں وہ زیادہ تر غلط اور بہت کم صحیح ہیں۔ان امور میں بعض کا تعلق عقائد سے بعض کا عمل سے اور بعض کی حیثیت صرف علمی و نظری ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اور اسلام کی اشاعت سے متعلق موضوع بھی بعض غلط فہمیوں یا غلط بیانیوں کا شکار ہوا ہے۔جس کی بنا پر تصوف کی تعظیم و تمجید کے لئے ایک بات یہ بھی مشہور کی گئی ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی اشاعت میں صوفیاء کا کردار ہے بے حد عظیم ہے۔ تاریخی طور پر اگر یہ بات ثابت ہو جاتی تو اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہ تھا، لیکن ایک خالص تاریخی و علمی مسئلہ کو عقیدت و احترام کے زور پر ثابت کرنا آج کے علمی معیار و مقام کے شایانِ شان نہیں۔خوشی کا مقام ہے کہ محترم غازی عُزیر صاحب نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ کیا اقلیم ہند میں اشاعتِ اسلام صوفیاء کی مرہونِ منت ہے؟ ‘‘ میں واضح کیا گیا ہے کہ ہندستان میں اسلام صوفیاء کے ذریعہ نہیں بلکہ فقط محدثین کرام اور علمائے حق کے ذریعہ آیا، اور آج جو کچھ ہندستان میں موجود ہے وہ انہی محدثین عظام کی انتھک کاوشوں اور بے لوث خدمات کا ثمرہ ہے۔امید ہے اس کتاب سےبرصغیر میں اشاعت اسلام کی حقیقت عیاں ہو جائے گی اور محدثین کرام نے کس قدر اپنی زندگیوں کو دین اسلام کی سر بلندی کےلئے قربان کیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ محدثین اور غازی عزیر صاحب کی محنتوں کو قبول فرمائے۔آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

  • 53 ہم دعوت کا کام کیسے کریں؟ (پیر 22 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:4866

    دنیا میں کوئی بھی فکر اور نظریہ ہو اسے لوگوں تک منتقل کرنے کے لیے یا اسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے اس کی دعوت ضروری ہے ۔ پھر یہ ہے کہ دعوت کے اندر افہام و تفہیم کا پہلو غالب ہو ۔ تاکہ بات سمجھ کر اسے قبول کرنا آسان ہو ۔ یا کہیں ایسا نہ ہو کہ بات بحث و نزاع میں ہی الجھ کر رہ جائے اور اصل مدعا فوت ہو کر رہ جائے ۔ پھر جب آپ کسی کو دعوت دیتے ہیں تو اس وقت کچھ اصولوں کو ملحوظ رکھنا ہوتا ہے یعنی آپ اپنی دعوت کیسے آگے پہنچائیں کہ سامع قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ یہ بات انسان عملی تجربات سے سیکھتا ہے اگرچہ اس باب میں بھی قرآن و حدیث نے کچھ بنیادی اصول دے رکھے ہیں تاہم ان کے ساتھ ساتھ انسان کے عملی تجربات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ ہر علاقے اور قوم کے احوال مختلف ہوتے ہیں ہر قوم کی اپنی اپنی نفسیات ہوتی ہیں ۔ اس کے سمجھنے کے اپنے اپنے  زاویے ہوتے ہیں تاہم پھر بھی عقل و فہم کے کچھ عمومی اصول ہوتے ہیں جن پر عمل کیا جاسکتا اور انہیں بوقت دعوت عملا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی پہلو کے بارے میں روشنی ڈالتی  ہے کہ قرآن و حدیث اور عمومی تجرباتی اصول دعوت کیا ہو سکتے ہیں ۔ یہ کتاب ایک عربی کتاب کا ترجمہ ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اس کتاب کے مصنف ، مترجم اور ناشر کے لیے نافع بنائے ۔ (ح۔ک)
     

  • 54 یہ ہے ہماری دعوت (ہفتہ 30 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1723

    اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کو اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا اوران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے   پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے۔ دعوت الیٰ اللہ میں انبیاء ﷩ کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے ۔ ان کی جدوجہد کو زیر بحث لائے بغیر دعوت کا کوئی تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے۔ اور دعوتِ دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔ لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔ علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، دعوت الی اللہ بنیادی طور پر ایک عملی پروگرام ہے جو تعلیم وتعلم ،تربیت واصلاح کی عملی کشمکش پر مشتمل ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ یہ ہے ہماری دعوت‘‘ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کے   خطاب کی کتاب صورت ہے ۔...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1610
  • اس ہفتے کے قارئین: 6100
  • اس ماہ کے قارئین: 40121
  • کل قارئین : 47868640

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں