دکھائیں کتب
  • 51 نماز میں رفع الیدین کرنے کی شرعی حیثیت (جمعہ 11 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2795

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’نماز میں رفع الیدین کرنے کی شرعی حیثیت ‘‘ ڈاکٹر محمد اسحاق رانا﷫ کا تصنیف شدہ ہے۔اس کتابچہ میں انہوں نےایسی 37 صحیح ترین احادیث جمع کردی ہ...

  • 52 نماز میں سورہ فاتحہ (منگل 12 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2003

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنی پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’نماز میں سورۃ فاتحہ‘‘مولانا کرالدین السلفی کی تصنیف ہے۔موصوف معروف سلفی مدارس میں استاد رہے ۔علوم دینیہ وآلیہ کی تدریس تعلیم میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا ۔کتاب ہذا آپ کا علمی شاہکار ہے جس میں آپ نے فرضیت فاتحہ کواحادیث نبویہ ، اقوال صحابہ وتابعین، اور ائمہ کی...

  • نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد سب سے اہم رکن ہے۔ اس کی فرضیت قرآن سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ شب معراج کے موقع پر امت محمدیہ کو اس تحفہ خداوندی سے نوازہ گیا۔ نماز کفر و ایمان کے درمیان ایک امتیاز ہے۔ دن اور رات میں پانچ مرتبہ باجماعت نماز ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے، لیکن نماز کی قبولیت کی شرط اول یہ ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کے نماز کے موافق ہو۔ نماز کے مختلف فیہ مسائل میں سے ایک مختلف فیہ مسئلہ فاتحہ پڑھنے کا بھی ہے کہ نماز میں مقتدی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے گا یا نہیں۔ کتاب و سنت کے دلائل کے مطابق فاتحہ ہر فرض و نفل نماز کی ہر رکعت میں پڑھنا فرض اور واجب ہے خواہ نمازی منفرد ہو، امام ہو یا مقتدی، کیونکہ فاتحہ کے بغیر نماز نا مکمل و ناقص ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "لا صلوٰۃ لمن لم یقراء بفاتحۃ الکتاب" اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے فاتحہ نہ پڑھی۔ زیر تبصرہ کتاب"نماز میں سورۃ الفاتحہ" جو کہ فاضل مصنف کرم الدین سلفی کی فرضیت فاتحہ پر بے مثال تصنیف ہے۔ جس میں موصوف نے احادیث صحیحہ، آثار صحابہ و اقوال ائمہ کی روشنی میں یہ بات ثابت کی ہے کہ نماز میں فاتحہ پڑھنا ہر نمازی پر فرض اور واجب ہے خواہ وہ نمازی منفرد ہو یا جماعت کی حالت میں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہےکہ وہ فاضل موصوف کی محنت کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین(عمیر)(نماز نبوی)

  • 54 نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام (جمعہ 16 جنوری 2009ء)

    مشاہدات:17568

    نماز کے دیگر مسائل کی طرح ایک اختلافی مسئلہ نماز میں حالت قیام میں ہاتھ باندھنے کے مقام کا بھی ہے۔ ہمارے برصغیر میں اکثریت نماز میں زیر ناف ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتی نظر آتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ اس کتاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں حالت قیام میں ہاتھ باندھنے کے مقام کی وضاحت اور ہاتھ باندھنے کا حکم مستند احادیث کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ طرفین کے دلائل اور ان پر کئی طرق سے بحث ہے۔ فاضل مصنف نے نفس مسئلہ پر ہی راست گفتگو کی ہے جو کہ اکثر یا تو احادیث و آثار پر مشتمل ہے ، یا مخالفین پر اتمام حجت کیلئے سلف صالحین کے زیر بحث مسئلہ سے متعلقہ اقوال پر۔ اپنے موضوع کے لحاظ سے مختصر مگر جامع کتاب ہے۔
     

  • نماز دین اسلام کے بنیادی  پانچ ارکان میں سے  کلمہ توحید کے بعد ایک  اہم ترین رکن  ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ  باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی  کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق  کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا:تم ایسے نماز پڑھو جس مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج بہت سارے مسلمان نماز نبوی ﷺ پڑھنے کی بجائے مختلف مسالک  اور اپنے علماء کی بتلائی ہوئی نماز پڑھتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام "محقق العصر محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے نماز میں ہاتھ باندھنے اور ہاتھ باندھنے کے مقام کے حوالے سے مدلل  گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو سنت نبوی کے مطابق نماز پڑھنے  کا پابند...

  • 56 نماز میں ہاتھ کہاں باندھیں؟ (جمعرات 18 دسمبر 2008ء)

    مشاہدات:15828

    ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی ہر قسم کی عبادات اور معاملات میں اسوہ رسول کو ملحوظ خاطر رکھے- دین اسلام میں عبادات میں سے اہم ترین عبادت نماز ہے جس کے ترک سے ایک مسلمان اسلام سے خارج قرار پاتا ہے- رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز کے مکمل ارکان وشرائط سے پوری طرح آگاہ فرما دیا تھا لہذا ضروری ہے کہ نماز کو اس کی مکمل شرائط کے ساتھ اسوہ رسول کے مطابق ادا کیا جائے- نماز کی ادائیگی میں جو فروعی اختلافات پائے جاتے ہیں ان میں سےایک مسئلہ ہاتھوں کو باندھنے کا ہے کہ قیام کی حالت میں ہاتھ سینے پر باندھے جائیں گے یا سینے سے نیچے یا زیر ناف؟اس کتاب میں مصنف نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ نماز میں ہاتھ کہاں باندھنے چاہیں؟ اس حوالے سے انہوں نے بہت سی احادیث،آثار صحابہ اور  ائمہ کے اقوال کا  تذکرہ کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنے کااصل محل کیا ہے؟
     

  • 57 نماز کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت (اتوار 04 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:3091

    دعا عبادت کا مغز ہے یا عین عبادت ہے۔ دعا کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے اور اللہ تعالی سے اس کی مدد مانگی جا سکتی ہے۔لیکن فرض نمازوں کے بعد دعا مانگنے کے حوالے سے اہل علم کے درمیان دو رائے چلی آ رہی ہیں اور دونوں ہی غلو،مبالغے اور تشدد پر مبنی ہیں۔کچھ لوگ فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کو بدعت قرار دیتے ہیں تو کچھ لوگ فرض نماز کے بعد دعا مانگنے کو ضروری اور فرض قرار دیتے ہیں۔یہ دونوں موقف ہی غلو اور تشدد پر مبنی ہیں۔دعا کرنا بھی اللہ تعالی کی عبادت کرنا ہے۔جس پر کوئی بھی کسی قسم کی پابندی لگانا جائز نہیں ہے۔جس وقت کوئی چاہے، جب چاہے،جس طرح چاہے دعا کرے۔انفرادی دعا یا اجتماعی دعا اس پر کوئی مثبت یا منفی پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نماز کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت "محترم ڈاکٹر رانا محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے، جس کی تحقیق وتخریج محترم مولانا خالد مدنی صاحب نے فرمائی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں دعا کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس جدوجہد کو قبول فرماتے ہوئے ان کے میزان حسنات میں اضافے کا باعث بنائے۔آمین(راسخ)

  • 58 نماز کے تین اہم اختلافی مسائل (منگل 22 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1656

    نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمہ توحید کے اقرار کے بعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نمازی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش و منکرات سے انسان کو روکتی ہے۔ بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت و فضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کے لیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔مذاہب فقہیہ میں نمازکے مسائل کے سلسلے میں رفع الیدین، فاتحہ خلف ، آمین بالجہر میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں ف...

  • 59 نور العینین فی اثبات رفع الیدین۔جدید ایڈیشن (ہفتہ 06 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:6981

    شریعت اسلامیہ میں  نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  لہٰذا نماز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری)  نماز میں رفع الیدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر ثابت ہے لیکن افسوس بہت سے دیگر مسائل کی طرح  ’’ مسئلہ رفع الیدین ‘‘ بھی تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔ جب صحیح مرفوع احادیث، آثار صحابہ، آثار تابعین اور آئمہ کرام سے رکوع جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین ثابت ہے تو اس کے مقابلے میں ضعیف، موضوع اور چند ایک تابعین کے عمل کی کیا وقعت رہ جاتی ہے ؟ رفع الیدین کو  ایک معرکۃ الآراء مسئلہ بنا دیا گیا  ہے اور حامیین اور مخالفین نے اس پر بہت کچھ لکھ کر اس کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور انہی کوششوں میں سے ایک اعلیٰ کوشش مولانا  حافظ زبیر علی زئی محقق حدیث حفظہ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ جس میں انہوں نے رفع الدین کے مسئلے کو نکھارنے کی کوشش کی ہے۔مختلف لوگوں کے مختلف دلائل ،ان کا عالمانہ تجزیہ، اور پھر ان دلائل کا علمی محاکمہ پیش کیا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے سنت کی اہمیت پر بیان کر کے ایک مسلمان کے لیے یہ چیز واضح کی ہے کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد سنت کی پیروی اور اتباع ہونی چاہیے اس لیے اس موضوع کو نکھارنے کے...

  • نماز میں رفع الیدین ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے اور حامیین اور مخالفین نے اس پر بہت کچھ لکھ کر اس کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور انہی کوششوں میں سے ایک اعلی کوشش مولانا زبیر علی زئی محقق حدیث حفظہ اللہ تعالی کی ہے-جس میں انہوں نے رفع الدین کے مسئلے کو نکھارنے کی کوشش کی ہے-مختلف لوگوں کے مختلف دلائل ،ان کا عالمانہ تجزیہ، اور پھر ان دلائل کا علمی محاکمہ پیش کیا ہے-اس لیے سب سے پہلے سنت کی اہمیت پر بیان کر کے ایک مسلمان کے لیے یہ چیز واضح کی ہے کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد سنت کی پیروی اور اتباع ہونی چاہیے اس لیے اس موضوع کو نکھارنے کے بعد دوسرے مسائل کو پیش کیا ہے-رفع الیدین کے دلائل کو بڑی شرح وبسط کے ساتھ بیان کرنے کے بعد اس کے مقابلے میں پائے جانے والے اعتراضات کو خوب واضح کیا اور ان کا علمی انداز سے جواب دیا ہے-جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کے عمل اور بعد کے تابعین اور تبع تابعین کے اعمال اور اقوال سے اس مسئلہ کو نکھارنے کی کوشش کی ہے-اللہ تعالی سے دعا کہ وہ حق کا علم ہو جانے کے بعد اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے-آمین
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1398
  • اس ہفتے کے قارئین: 3596
  • اس ماہ کے قارئین: 37617
  • کل قارئین : 47838612

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں