دکھائیں کتب
  • 41 متنازعہ مسائل کے محمدی فیصلے ( جدید ایڈیشن ) (بدھ 04 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1004

    قرآ وحدیث کے فہم اوراس کی تشریح وتوضیح میں اختلاف ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں ۔ اختلاف صحابہ   تابعین﷭ کے درمیان بھی موجود تھا لیکن اس کے سبب وہ فرقوں اور گروہوں میں تقسیم نہیں  ہوئے اس لیے کہ اس ااختلاف  کے باوجود سب کامرکز اطاعت او رمعیارِ عقیدت ایک تھا  قرآن اور حدیث رسول ﷺ۔ وہ اپنے اختلاف کو کتاب وسنت  کی کسوٹی پر پیش کرتے تھے ۔لہذا جس کی  بات معیار پر پوری اترتی وہ سچا ہوتا  او ر دوسرا اپنی رائے اور موقف کوچھوڑ دیتا جب تک  لوگ اس نہج پر کار بند رہے  امت محمدیہ فرقہ وگروہ بندی سے محفوظ رہی ۔ زیر نظر کتاب   ’’ متنازعہ مسائل کے  محمدی  فیصلے ( جدید ایڈیشن ) ‘‘  محترم   ابو عبد اللہ  آصف محمود ﷾کی  تصنیف  ہے جس میں  انہوں نے  صرف  ایسی صحیح یا حسن احادیث کا انتخاب کر  کے  پیش کیا ہے کہ جن احادیث  میں امت  میں پائے  جانے  متنازعہ مسائل کا حل موجود ہے ۔نیزکتاب کے آخر میں  مشرکین کے اس پروپیگنڈے  کا بھی مدلل جواب دیاہے  کہ امت محمد یہ میں  شرک کا وجود نہیں ۔بازار میں  ’’ متنازعہ مسائل کے  خدائی فیصلے ‘‘ کے نام سے بھی ایک کتاب ہے  جس میں فقہی باب بندی کے ساتھ ترجمےکے ساتھ  قرآن مجید کی وہ تمام آیات جمع کردی  گئی  ہیں جو متنازعہ  واختلافی مسائل کا شافی حل پیش کرتی ہیں  ۔ اللہ  تعالی سے  دعا کہ وہ...

  • 42 محمدیات (ہفتہ 02 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1179

    دینِ اسلام کاابلاغ او راس کی نشر واشاعت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہذا اس انعام الٰہی کی وجہ سےایک عام مسلمان کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ اصلاحِ انسانیت کےلیے اللہ تعالیٰ نےامت مسلمہ کو ہی منتخب فرمایا ۔اور ہر دور میں مسلمانوں نےاپنی ذمہ داریوں کومحسوس کیا اور دین کی نشر واشاعت میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔دور حاضر میں ہر محاذ پر ملت کفر مسلمانوں پر حملہ آور ہے او راسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور نفرت انگیز رویہ اپنائے ہوئےہیں او ر آئے دن نعوذ باللہ پیغمبر اسلام کی ذات کوہدف تنقید کا نشانہ بنا کر انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔ تو یقینا ایسی صورت حال میں رحمت کائناتﷺ کےاخلاقِ عالیہ اور آپﷺ کےپاکیزہ کردار اور سیرت کے روشن ،چمکتے اور دمکتے واقعات کو دنیا میں عام کرنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ اسے پڑھ کر امت مسلمہ اپنے پیارے نبیﷺ کے خلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ سے آگا ہ ہوسکے اور آپ کی سیرت وکردارکوروشنی میں اپنی آنے والی نسل کی تربیت کر سکے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ محمدیات‘‘ مولانا محمد صاحب جونا گڑھی کی ہے۔ جس میں انہوں نے فقہ حنفی کے (فاتحہ خلف الامام، فاتحہ خوانی اور دیگر بدعات کو قرآن وحدیث کے خلاف ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • دنیا جہان میں مختلف نقطہ نگاہ رکھنے والوں کی کسی طور پربھی کمی نہیں ہے ۔انسانوں کا باہمی اختلاف ایک فطری امر ہے لیکن اس اختلاف کو بنیاد بنا کر جھگڑے اور فساد کی راہ ہموار کرنا قابل نفرین عمل ہے۔دین اسلام مین تقلید کی کوئی گنجائش نہیں اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے۔اپنے ائمہ کی تقلید کرنا گویا کہ اپنے عمل سے ظاہر کرنا ہے کہ اسلام ناقص دین ہے۔ زیر نظر کتاب ''اہل حدیث اور علمائے حرمین کا اتفاق رائے''رنگونی صاحب کی کتاب'' غیر مقلدین سعودی عرب کے آئمہ ومشائخ کے مسلک سے شدید اختلاف ''کا نہایت ہی مدلل اور سنجیدہ جواب ہے۔رنگونی صاحب نے جن مسائل کوبنیاد بنا کر غیر مقلدین اور سعودی علماء ومشائخ اور علماء کے مابین شدید اختلاف دکھانے کی کوشش کی ہے مؤلف نے کتاب وسنت اور آئمہ سلف کے اقوال کی روشنی میں نہایت اختصار کے ساتھ ان موضوعات پر محققانہ بحث کی ہے۔اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ فاضل مؤلف نے خالص علمی اسلوب اختیار کیا ہے اور ز بان انتہائی آسان اور عام فہم استعمال کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مؤلف کو اجر عظیم سے نوازے   اور ہم سب کو دین حنیف سمجھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین (عمیر)

  • 44 مسئلہ رفع الیدین (پیر 22 جون 2015ء)

    مشاہدات:1316

    رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ  ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔ اس کا ثبوت بکثرت اور تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث سے ملتا ہے، جنہیں صحابہ کرام  کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔اور اس کا ترک یا نسخ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔سیدنا وائل بن حجر آخری ایام میں مسلمان ہونے صحابہ میں سے ہیں۔صحیح مسلم میں ان سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی  کریم ﷺ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی، پھر رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ چادر سے نکالے اور انہیں بلند کیا اور تکبیر کہی اور رکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی دونوں ہاتھ اٹھائے۔ زیر تبصرہ کتاب " مسئلہ رفع یدین "محترم علامہ قادر بخش  کی رفع الیدین  جیسے معرکۃ الآراء مسئلے کی تحقیق پر ایک عظیم الشان  تصنیف ہے،جو انہوں نے انتہائی محنت اور شوق سے جمع فرمائی ہے۔یہ کتاب انہوں نے دو حنفی علماء  مولانا شمس الحق افغانی اور مولانا عبد الرشید نعمانی کی مشترکہ لکھی ہوئی کتاب "مسئلہ رفع یدین اور اہل حدیث"کے جواب میں لکھی ہے اور اس میں رفع یدین کا اثبات کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 45 مسئلہ رفع الیدین ایک علمی و تحقیقی کاوش (بدھ 14 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2766

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے '' نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو'' (بخاری) نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام ﷢ کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ ﷢ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 5 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔زیر نظر کتاب ''مسئلہ رفع الیدین'' شیخ ابومحمد عبد القادر بن حبیب اللہ سندھی ﷫ کی عربی تصنیف الكشف عن كشف الرين عن مسئلة رفع اليدين کا ترجمہ ہے ۔ترجمہ کی سعادت مشہور ومعروف مترجم ومصنف مولانا محمد خالد سیف ﷾ نے حاصل کی ہے ۔اس کتا ب میں مصنف نے فاضلانہ ومحدثانہ انداز میں مضبوط ومستحکم دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ رفع الیدین ہی حضور اقدس ﷺ کی دائمی سنت ہے۔اس کے منس...

  • شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے '' نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو'' (بخاری) نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام   کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ   نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 5 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔زیر نظر کتاب '' مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی  جائزہ "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین،محقق اور سکالر مولانا ارشاد الحق اثری صاحب ﷾کی تصنیف ہے ۔ جوانہوں نے گوجرانوالہ کے ایک حنفی  فقیہ مولانا سرفراز خاں صاحب کے ایک تلمیذ کی کتاب"نور الصباح" کے جواب میں لکھی ہے،اور اس کے پیش کردہ مغالطات  وادعات کا بھرپور جوا...

  • 47 میں رفع الیدین کیوں کروں؟ (جمعرات 09 فروری 2012ء)

    مشاہدات:24112

    دلائل شرعیہ کی رو سے نبی کریمﷺکی ذات اسوہ حسنہ  اور معتبرمیزان ہے ،جن کے اتباع کے بغیر کامیابی ممکن نہیں اور کسی بھی عمل کی قبولیت کا معیار یہ ہے کہ وہ سنت نبوی کے مطابق ہو ۔شریعت میں ہر وہ عمل مردود ہے ،جس کی بنیاد مخالفت حدیث پر ہو یا وہ دین میں ایجاد کردہ عمل ہو،چونکہ نماز دین کی اساس اورقرب الہٰی کا بہترین ذریعہ ہے ،اس لیے ہرمسلمان پر لازم ہے کی اس کی نماز سنت کے مطابق ہے اورنماز کا کوئی بھی عمل نماز نبوی کے خلاف نہ ہو ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ تقلید کی روش نے سادہ لوح مسلمانوں کو اصل دین سے بے بہرہ کر کے تقلید امام کے نام سے ان کی نماز تک بگاڑ دی اور نمازکے کئی فرائض و سنن کو تقلید کے تیشے سے چھیدکر عامۃ الناس میں اتنامنفی پراپیگنڈہ کیا کہ لوگ انہیں نمازکے فرائض سنن ماننے کے لیے تیارنہیں۔ان سنن میں سے آپ کی ایک دائمی سنت رفع الیدین ہے ،جو آپ سے متواتر ثابت ہے ،کتاب ہذا میں رفع الیدین کے ثبو ت پر سیرحاصل گفتگو کی گئی ہے اوردلائل وآثار سے اس مسئلہ کی حقانیت ثابت کی گئی ہے۔اثبات رفع الیدین  کے موضوع پر یہ ایک عمدہ تالیف ہے ،جس کا مطالعہ قارئین کے لیے نہایت مفید ہوگا۔(ف۔ر)

     

  • 48 نصر الباری فی تحقیق جزاالقراۃ للبخاری (پیر 30 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:23264

    دين اسلام میں جس طرح نماز کی اہمیت مسلمہ ہے بالکل اسی طرح نماز کے اندر سورۃ فاتحہ کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے- كتاب وسنت كی نصوص اس سلسلے میں واضح راہنمائی فراہم کرتی ہیں اگر کوئی شخص غیر جانبداری سے ان کا مطالعہ کرے تویقینا راہ صواب اس کی منتظر ہے-علمائے اسلام کی جانب سے اس موضوع پر بہت سی کتب منظر عام پر آئیں-اس سلسلے میں امام بخاری نے ایک کتاب جزء القراء ۃ للبخاری کے نام سے تصنیف کی – جس میں انہوں نے فاتحہ خلف الامام کو موضوع بحث بناتے ہوئے تفصیل کے ساتھ اپنی علمی آراء کا اظہار فرمایا-حافظ زبیر علی زئی نے اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے امام صاحب کی  کتاب کا ترجمہ، تحقیق ، تعلیقات اور اضافہ جات کے ساتھ انتہائی سادہ انداز میں عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے اتمام حجت  کیا ہے-اس سلسلے میں انہوں نے احادیث مرفوعہ،آثار صحابہ،آثار التابعین اور اس ضمن میں علماء کرام کا تذکرہ کر کے ثابت کیاہے کہ کسی بھی مرفوع حدیث میں فاتحہ خلف الامام کی ممانعت وارد نہیں ہوئی-فاتحہ خلف الامام کی ممانعت میں جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی  ہیں وہ صحیح نہیں ہیں یا ان کی اصل نہیں- مصنف نے کتاب میں فاتحہ خلف الامام کے اثبات پر دلائل کے انبار لگاتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ نماز کا لازمی حصہ ہے اور اس کے بغیر نماز کو مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

     

  • 49 نماز میں اونچی آواز سے آمین کہنا (جمعرات 04 اکتوبر 2012ء)

    مشاہدات:20770

    جہری نمازوں میں امام و مقتدی کا اونچی آواز میں آمین کہنا نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت ہے۔ بہت سی احادیث اس بات کی شاہد ہیں کہ آمین کہنا ایک مسنون عمل ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایک بڑا فقہی مسلک اونچی آواز میں آمین کہنے کا قائل نہیں ہے۔ اس موضوع پر فریقین کی جانب سے بہت لے دے ہو چکی ہے اور ہوتی رہتی ہے۔ بہرحال اس مسئلہ کو علمی انداز میں سمجھنے اور سلجھانے کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’نماز میں اونچی آواز سے آمین کہنا‘ بھی، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب دراصل اس عربی مقالے کا اردو ترجمہ ہے جو محترم محمد مظفر الشیرازی نے مدینہ یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے آخری سال میں ’القول الامین فی الجھر بالتامین‘ کے نام سے جمع کرایا۔ اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے حافظ عبدالرزاق اظہر نے اس کو اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ مؤلف نے الجہر بالتامین سے متعلقہ جتنی روایات بھی میسر آ سکیں ان کی مکمل طور پر تخریج کی ہے اور ہر حدیث پر صحت و سقم کے حوالے سے حکم لگایا ہے، حدیث کی جتنی بھی سندیں ہیں ان کا جدول بھی پیش کیا ہے، ہر ایک راوی کا حکم ضم کرنے کے ساتھ ساتھ اسی ترتیب سے آثار صحابہ کو بھی نقل کر دیا ہے اور ساتھ ساتھ مخالفین کے دلائل کا مناقشہ بھی کیا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 50 نماز میں خشوع اور عاجزی یعنی سینے پر ہاتھ باندھنا (جمعرات 15 جنوری 2009ء)

    مشاہدات:19163

    ہمارے ہاں فقہی جمود اور تعصب کی وجہ سے یہ رجحان بہت تقویت اختیار کر گیاہے کہ نماز میں اسوہ رسول کو مدنظر رکھنے کی بجائے اسے اپنے آباؤ اجداد کے طریقہ کے مطابق ہی ادا کرنے کوشش کی جاتی ہے- حالانکہ نماز کی قبولیت کے لیے طریقہ نبوی ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے-نماز کی دیگر جزئیات کی طرح اس مسئلے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنے کی جگہ کون سی ہے-کچھ لوگوں کا خیال ہے ہاتھ زیر ناف باندھے جائیں اور کچھ لوگ ہاتھوں کو سینے پر باندھنے کے قائل ہیں-زیر نظر کتاب میں سید بدیع الدین شاہ راشدی نے سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق بالدلائل گفتگو کی ہے انہوں نے اس حوالے سے احادیث، آثار صحابہ اور اقوال تابعین کا تذکرہ کرتے ہوئے سینے پر ہاتھ نہ باندھنے والوں کے دلائل کا بھی رد پیش کیا ہے-
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1381
  • اس ہفتے کے قارئین: 3579
  • اس ماہ کے قارئین: 37600
  • کل قارئین : 47838382

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں