دکھائیں کتب
  • 31 فاتحہ خلف الامام بشمول دو فتوے سکتات اور آمین (پیر 19 جنوری 2009ء)

    مشاہدات:17366

    سورہ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا ایک لازمی جز ہے جو کہ احادیث سے با صراحت ثابت ہے اور نماز میں سورہ فاتحہ کے نہ پڑھنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے اس لیے علما نے اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر بہت کچھ لکھا ہے جس کی ایک مثال بدیع الدین راشدی کی زیر نظرکتاب فاتحہ خلف الامام ہے –نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں لوگوں میں مختلف گروہ پائے جاتے ہیں ان میں سے کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جہری نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی اور پھر اس موقف کو تقویت دینے  کے لیے اور اس کو ثابت کرنے کےلیے دلائل دیے جاتے ہیں-تو ان دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے سورہ فاتحہ کے بارے میں کیا موقف ہونا چاہیے مصنف نے فاتحہ خلف الامام کے نام سے کتاب تصنیف کر کے اس بات کو بڑے اچھے انداز واضح کیا ہے-اس کتاب میں مصنف نے فاتحہ خلف الامام کے بارے میں صحیح اور مرفوع احادیث کا ذکر کیا ہے اور ان راویوں کا ذکر بھی کیا ہے جن سے یہ احادیث مروی ہیں اور اس کے علاوہ ایسے آثار کو بیان کیا ہے جو صحابہ کرام سے منقول ہیں اور آخر میں دو اہم فتوے بیان کیے ہیں  جوکہ امام کے سکتات میں مقتدیوں کا سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں ہیں-
     

  • 32 فرضیت فاتحہ (منگل 12 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1013

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سےکلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔شب معراج کے موقع پر امت محمدیہ کو اس تحفہ خداوندی سے نوازہ گیا۔نماز کفر وایمان کےدرمیان ایک امتیاز ہے۔دن اور رات میں پانچ مرتبہ باجماعت نماز اداکرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کی اول شرط یہ ہےکہ وہ نبی کریمﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کےمختلف فیہ مسائل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ پڑھنے کا ہے کہ نماز میں مقتدی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھے گا یا نہیں۔ کتاب وسنت کے دلائل کےمطابق فاتحہ ہر نفل،فرض نماز کی ہر رکعت میں پڑھنا فرض اور واجب ہے۔خواہ نمازی منفرد ہو،امام ہویامقتدی ہو۔کیونکہ سورہ فاتحہ نماز کے ارکان میں سےایک رکن ہےاور اس کےبغیر نماز نامکمل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"لاصلوۃ لمن لم یقراء بفاتحۃ الکتاب" اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے فاتحہ نہ پڑھی۔ زیر تبصرہ کتاب"فرضیت فاتحہ" مولانا رحمت اللہ ربانی کی ایک شاہکار تصنیف ہے۔ جس میں موصوف نے براہیں قاطعہ اور دلائل ساطعہ سے اس مسئلہ کو واضح کیا ہےکہ فاتحہ ہر نماز کی ہر رکعت میں فرض ہےخواہ نمازی منفرد ہو،جماعت میں ہو، مرد ہو ،عورت ہو،نماز سری ہو یاجہری فاتحہ فرض اور واجب ہے۔ موصوف نے اپنی تصنیف میں مقلدین کے اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب بھی دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ موصوف کی محنت و لگن کو شرف قبولیت سے نوازے ۔ آمین(عمیر)

  • 33 فصل الخطاب فی فضل الکتاب (پیر 18 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1880

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔قرآن واحادیث میں قرآن اور حاملین قرآن کے بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں قوموں کی ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :  وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر زیر تبصرہ کتاب’’( فصل الخطاب فی فضل الکتاب‘‘ علامہ نواب صدیق حسن خاں﷫ کی تصنیف ہے ۔ یہ رسالہ موصوف نے 1305ھ میں تحریر کیا او رمؤلف کی زندگی میں متعد بارطبع ہوا۔علامہ موصوف نے اس رسالہ میں احادیث صحیحہ واقوال صحابہ وائمہ دین کی رو...

  • 34 فقہی اختلافات حقیقت ، اسباب اور آداب و ضوابط (بدھ 14 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:2289

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" فقہی اختلافات حقیقت، اسباب اور آداب وضوابط" محترم حافظ خبیب الرحمن صاحب کی تصنیف ہے، جسے  انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے فقہی اختلافات کی حقیقت، اسباب اور اس کے آداب وضوابط پر  سیر حاصل گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" فقہی اختلاف کی حقیقت:سلف کا موقف اور ہمارا طرز عمل " محترم فیصل احمد ندوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے فقہی اختلافات کے حوالے سے سلف کے موقف اور ہمارے طرز عمل پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 36 فوز المرام فی قراۃ فاتحہ خلف الامام (منگل 04 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1690

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنی پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب محترم مولانا عبد الرحمن فاضل دیو بند کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے،ورنہ اس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہو گی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور...

  • 37 قرۃ العینین فی اثبات رفع الیدین (اتوار 13 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2164

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرۃ العینین فی اثبات رفع الیدین‘‘ مولانا نور حسین گھرجاکھی ﷫ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے احادیث نبویہ اور اقوال و عمل صحابہ ،تابعین وائمہ کرام کی...

  • 38 قضائے عمری (اتوار 25 جنوری 2009ء)

    مشاہدات:15513

    حالات کے ساتھ ساتھ لوگوں نے دین میں مختلف قسم کی بدعات اور خرافات کو داخل کر دیا ہے جس کی وجہ سے ایک عام انسان کے لیے دین کی اصل شکل دیکھنا مشکل ہو گئی ہے-لوگوں کو دین کے فوائد حاصل کرنے کے لیے شارٹ کٹ طریقے بتائے جا رہے ہیں-اور انہی فتنوں میں سے ایک قضائے عمری بھی ہے کہ فوت شدہ نمازوں کی قضا کیسے دی جائے؟اس کتاب میں قضائے عمری کے بارے میں بحث کی گئی ہے جس میں قضائے عمری کی شرعی حیثیت , مقاصد و احکام , قتل عمد اور قتل خطاء کے مابین فرق  کو واضح کرتے ہوئے صحابہ کرام , تابعین اور دیگر محققین عظام جو قضائے عمری کے بجائے توبہ کو کافی سمجھتے هيں، کے دلائل و اقوال کو بالتفصیل بیان کیا گیاہے -اسی طرح گناہوں سے توبہ کرنے کے بارے میں بھی وضاحت ہے کہ کس طرح گناہ سے توبہ کرنی ہے اورتوبہ کرنےکے بعدجو آدمی پھر گنا ہ کرلیتا ہے کیا اس کی پہلی توبہ قبول ہوتی ہے یا نہیں  ؟اس کے علاوہ توبہ کی شرائط کوبھی بیان کیا گیا ہے نیزجو افعال عمل کی راہ میں رکاوٹ  بنتے ہیں ان کے بیان کے ساتھ ساتھ نماز کی فضیلت و فرضیت ,ترک نماز پر وعید و حکم اور حقوق اللہ کی توبہ سے معافی کی بھی وضاحت موجود ہے -
     

  • 39 متنازعہ مسائل کے قرآنی فیصلے (بدھ 09 جون 2010ء)

    مشاہدات:21087

    ہمارے ہاں بہت سے دینی مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے ہرفرقہ والا اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے مخالف کو گمراہ قرار دیتا ہے اس کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہے کہ عوام قرآنی تعلیمات سے ناآشنا ہے حالانکہ عقیدہ سے متعلق بعض مسائل ایسے ہیں کہ قرآن میں ان کا دوٹوک حل موجود ہے زیر نظر کتاب میں بعض اختلافی مسائل کے بارے میں قرآنی آیات پیش کی گئی ہیں جن سے اختلاف کاواضح فیصلہ ہوجاتا ہے اس سلسلہ میں عقیدہ کے چار اہم مسائل یعنی مسئلہ علم غیب ،مسئلہ حاضر وناظر،غیراللہ  کی پرستش اور سفارش  او رمسئلہ مختار کل پرروشنی ڈالی گئی ہے ۔

     

  • 40 متنازعہ مسائل کے محمدی فیصلے (پیر 16 جون 2014ء)

    مشاہدات:2095

    قرآن وحدیث کے فہم اوراس کی تشریح وتوضیح میں اختلاف ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں ۔ اختلاف صحابہ تابعین﷭ کے درمیان بھی موجود تھا لیکن اس کے سبب وہ فرقوں اور گروہوں میں تقسیم نہیں ہوئے اس لیے کہ اس ااختلاف کے باوجود سب کامرکز اطاعت او رمعیارِ عقیدت ایک تھا قرآن اور حدیث رسول ﷺ۔ وہ اپنے اختلاف کو کتاب وسنت کی کسوٹی پر پیش کرتے تھے ۔لہذا جس کی بات معیار پر پوری اترتی وہ سچا ہوتا او ر دوسرا اپنی رائے اور موقف کوچھوڑ دیتا جب تک لوگ اس نہج پر کار بند رہے امت محمدیہ فرقہ وگروہ بندی سے محفوظ رہی ۔زیر نظر کتاب '' متنازعہ مسائل کے محمدی فیصلے '' محترم ابو عبد اللہ آصف محمود ﷾کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے صرف ایسی صحیح یا حسن احادیث کا انتخاب کر کے پیش کیا ہے کہ جن احادیث میں امت میں پائے جانے متنازعہ مسائل کا حل موجود ہے ۔نیزکتاب کے آخر میں مشرکین کے اس پروپیگنڈے کا بھی مدلل جواب دیاہے کہ امت محمد یہ میں شرک کا وجود نہیں ۔بازار میں '' متنازعہ مسائل کے خدائی فیصلے '' کے نام سے بھی ایک کتاب ہے جس میں فقہی باب بندی کے ساتھ ترجمےکے ساتھ قرآن مجید کی وہ تمام آیات جمع کردی گئی ہیں جو متنازعہ واختلافی مسائل کا شافی حل پیش کرتی ہیں ۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مؤلف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام اہل اسلام کی ہدایت کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1331
  • اس ہفتے کے قارئین: 3529
  • اس ماہ کے قارئین: 37550
  • کل قارئین : 47838037

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں