دکھائیں کتب
  • 21 عذاب قبر کا بیان ( جدید ایڈیشن) (جمعرات 26 جون 2014ء)

    مشاہدات:3833

    شاید ہی  اسلام کاکوئی  حکم اور مسئلہ ہو کہ  جومختلف مسالک کے فلسفیانہ اور تخیلاتی بھنور میں پھنس کر  اپنے  اصل حلیے کو نہ کھو  چکا ہو انہی مسائل میں سے  ایک مسئلہ  عذاب قبر کا  مسئلہ ہے جس کے بارے میں لوگ افراد وتفریط کا شکار ہیں اور  منکرین حدیث کی طرح  منکرین عذابِ قبر  کے  عقیدہ  کے حاملین  بھی  موجود ہیں جس کی کوئی بھی  معقول دلیل موجود نہیں اس کے برعکس اثبات  قبر پر بہت سی  آیات قرآنیہ اور سینکڑوں احادیث موجود ہیں۔فرمانِ نبوی ﷺ کے مطابق موت کے بعدکا مرحلہ آخرت کی ہی پہلی سیڑھی اور زینہ ہے  اس مرحلہ میں موت سے لے کر یوم البعث کے  قائم ہونےتک جو کچھ قرآن کریم اور صحیح احادیث میں ثابت ہے اس  پرایمان لانالازمی  ہے ۔عذاب ِ قبر دین اسلام کے  بنیادی  عقائد میں  سے  ایک  اہم  عقیدہ  ہے عقلی وعلمی گمراہیوں میں غرق ہونے  والے  اور بے دین افراد اگرچہ  عذاب قبر کا  انکار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہی  ہے  کہ اس کے  برحق ہونے پر کتاب  وسنت میں  دلائل کے انبار موجود  ہیں اسی لیے  جملہ اہل اسلام کا اس پر اجماع ہے اور وہ اسے برحق مانتے  ہوئے  اس  پرایمان رکھتے ہیں ۔اس مسئلے  پر  امام  بیہقی ،امام ابن قیم ، اما م جلال الدین سیوطی ، اورامام ابن رجب ﷭  جیسے کبار محدثین اور آئمہ  کرام نے  باقاعدہ کتب  تالیف فرمائی ...

  • 22 عظیم شخصیات کے آخری لمحات (جمعرات 28 فروری 2019ء)

    مشاہدات:1171

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے  کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا  نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی  کی ایسی ریٹائرمنٹ  ہےجس کےلیے  کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر  ہے وہ غیر معلوم ہے۔یہ دنیاوی زندگی ایک سفر ہے جوعالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی  ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان  پر ثابت  قد...

  • پیغمبرِ  اسلام  حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو جتنی تاکید کے ساتھ  شرکیہ امور سے  بچنے کی  ہدایت فرمائی تھی ۔افسوس ہے کہ آپﷺ کی یہ نام لیوا امت  اسی  قدر  مشرکانہ  عقائد واعمال  میں  مبتلا ہے  اور اپنے  پیغمبر  کی تمام ہدایات کو فراموش کر چکی ہے  ۔آپ  ﷺ   نے واضح  الفاظ میں اعلان فرمادیا تھا :أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك۔’’لوگو غور سے سن لو تم سے   پہلی امت کے لوگوں نے اپنے  انبیاء اور نیک لوگوں ،اولیاء  وصالحین کی قبروں کو عبادت گاہ (مساجد) بنالیا تھا ،خبر دار !تم  قبروں کو مساجد نہ  بنالینا۔میں تم کواس سے  روکتا ہوں۔اور آپ ﷺ  نےاپنی مرض الموت میں  یہود ونصاریٰ کے اس مشرکانہ  عمل پر لعنت کرتےہوئے  فرما یا: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

    قبرپرستی شرک اورگناہ کبیرہ  ہے نبی کریم ﷺ نے   سختی سے   اس  سےمنع فرمایا اور اپنی  وفات کے وقت کے بھی اپنے صحابہ کرام کو اس سے  بچنے کی  تلقین  کی ۔ صحابہ کرام  نے اس پر عمل کیا  اور  پھر  ائمہ کرام&n...

  • 24 قبر سے حشر تک (منگل 11 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1508

    اس بات سے آج تک کوئی انکار نہیں کرسکا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جسے زندگی ملی اسے موت بھی دوچار ہوناپڑا، جو آج زندہ ہے کل کو اسے مرنا ہے،موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سے دو چار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کے کھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔ کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہے ایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہے جس کے لیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کے لیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔ہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر کو موت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے گزرنا پڑتا ہے۔ یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کو خالی کرنے کے لیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے۔ ایسے موقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچ سکتے ہیں اور موت کےبعد پیش آنے والے مراحل میں کامیاب ہو سکتے ہیں جنہوں نے اپنی آخ...

  • 25 قرآن مجید اور عذاب قبر (ہفتہ 12 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2615

    عقیدہ عذاب وثواب قبر قرآن مجید،احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔جس طرح دنیا میں آنے کے لئے ماں کا پیٹ پہلی منزل ہے،اور اس کی کیفیات دنیا کی زندگی سے مختلف ہیں،بعینہ اس دنیا سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کے اعتبار سے قبر کا مقام اور درجہ ہے،اوراس کی کیفیات کو ہم دنیا کی زندگی پر قیاس نہیں کر سکتے ہیں۔اہل وسنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر بر حق ہے اور اس پر کتاب وسنت کی بہت سی براہین واضح دلالت کرتی ہیں لیکن اسلام کی خانہ زاد تشریح پیش کرنے والے بعض افراد قرآن وحدیث کی صریح نصوص سے سر مو انحراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا انکار کر دیتے ہیں-عالم برزخ کیا ہے؟ اور عذاب قبر کیا ہے؟ زیر تبصرہ کتاب(قرآن مجید اور عذاب قبر) الرحیق المختوم کے مصنف ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ﷫کی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسی معرکۃ الآراء مسئلے سےمتعلق تمام حقائق  کو سپرد قلم کیا گیا ہے۔اللہ تعالی مصنف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 26 لمحات موت (جمعرات 23 جون 2016ء)

    مشاہدات:2109

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔یہ دنیاوی زندگی ایک سفر ہے جوعالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن ا...

  • 27 لوگوں کے احوال موت کے بعد (جمعہ 24 جون 2016ء)

    مشاہدات:1926

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔ہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر کو موت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے گزرنا پڑتا ہے۔یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچتے ہیں جن پر اللہ کریم کے خاص رحمت ہو ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ لوگوں کے احوال موت کے بعد ‘‘ محترم جناب خالد بن عبد الرحمٰن بن حمد الشایع کے انسان کےفوت ہوجانےکے بعد کےحالا ت پر تحریرہ کردہ ایک عربی...

  • 28 مسلمان کا سفر آخرت (ہفتہ 14 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:18584

    دین اسلام میں زندگی اور موت سے متعلقہ تمام معاملات کی رہنمائی فرما دی گئی ہے تاکہ ہر شخص جہاں دنیوی زندگی امن و راحت کے ساتھ گزارے اسی طرح اخروی زندگی میں بھی فوز و فلاح اس کا مقدر ٹھہرے۔ اسی کے پیش نظر مولانا محمد صادق سیالکوٹی نے یہ کتاب ترتیب دی ہے جس میں انسان کے اخروی سفر کے حوالے سے نگارشات پیش کی ہیں تاکہ لوگوں کو بدعات و ضلالتوں سے نکال کر اسوہ رسول کے تابع کیا جا سکے۔ کیونکہ اس وقت معاشرے میں تجہیز و تکفین اور جنازہ و قبور کے حوالہ سے بہت سی بدعات اور من گھڑت قصے مشہور ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے قارئین ان حقوق سے آگاہ ہوں گے جو زندوں کے ذمہ مردوں کے ہوتے ہیں اور ان کو ادا کر کے خدا کے ہاں سرخرو ہوں گے وہیں سنت رسول کے مطابق تجہیز و تکفین مردوں کی مغفرت اور بخشش کا باعث ہو گی۔ (ع۔م)
     

  • 29 مسلمان کا سفر آخرت ( صادق سیالکوٹی ) (منگل 28 جون 2016ء)

    مشاہدات:1838

    موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔انسان کی ولات اور وفات کے درمیان کا وقفہ وجود ابن آدم کااہم ترین وقفہ ہے اللہ تعالیٰ نے اسے یہ زندگی دکے آزمانا چاہا ہےکہ وہ خیر وشر کے دونوں راستوں میں کس پر چلتا ہے وہ اپنے پیدا کرنےوالے کی عبادت کرتا ہےاوراس کی خوشنودی کے کام کرتا ہےیا سرکش ونافرمان بن کر اپنی زندگی گزارتا ہےاور کفر وشرکی راہ اختیارکرتا ہے۔اس لیےہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر اسےموت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے اس کے دامن...

  • 30 موت کے فرشتے سے ملاقات (اتوار 14 نومبر 2010ء)

    مشاہدات:17536

    عقیدہ توحید ایک مسلمان کی سب سے بڑی میراث ہےاگر اسی میں خلل واقع ہو جائے تو نجات کا راستہ مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب برگزیدہ پیغمبر اپنی پوری زندگی اسی کے پرچارک رہے ۔ سلسلہ نبوت کے اختتام کے بعد ان کے وارثین علماء کرام بڑی جانفشانی کے ساتھ عقیدہ توحیدکا علم بلند کرتے ہوئے استحقاق حق اور ابطال باطل کر رہے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب حافظ زبیر علی زئی اور دیوبندی مکتبہ فکر کے حامل عالم حافظ نثار احمد الحسینی کے مابین ہونے والی خط و کتابت پر مشتمل ہے۔ حافظ زبیر علی زئی نے اپنے خطوط میں بیسیوں جید علمائے دیوبند کی ایسی عبارتیں نقل کی ہیں جن سے ثابت ہو تا ہے کہ دیوبند مکتبہ فکر عقیدہ وحدت الوجود کا قائل ہے۔ حافظ نثار احمد الحسینی نے ان خطوط کا جواب دینے کی اپنی سی کوشش کی ہےلیکن حافظ زبیر علی زئی کے ٹھوس اعتراضات اور دلائل کے سامنے حافظ نثار کے جوابات دلائل سے عاری نظر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں کتاب میں بدعتی کے پیچھے نمازپڑھنے کے حکم کے ساتھ ساتھ دیگر علمی فوائد کو صفحہ قرطاس پر بکھیرا گیا ہے۔

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1356
  • اس ہفتے کے قارئین: 3554
  • اس ماہ کے قارئین: 37575
  • کل قارئین : 47838269

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں