اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی

  • نام : ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #4797

    مصنف : ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی

    مشاہدات : 2784

    برصغیر ہند میں علوم فقہ اسلامی کا ارتقاء

    (برصغیر ہند میں علوم فقہ اسلامی کا ارتقاء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی

    اسلامی علوم میں فقہ اسلامی کوخصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ فقہ کاتعلق ایک طرف کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ ﷺ سے جو جو تمام احکام شرعیہ کاماخذ ہیں۔ جس نے زندہ مسائل کے استدلال، استنباط اور اجتہاد میں قرآن وسنت کواپنایا اور شرعی احکام کی تشریح وتعبیر میں ان دونوں کو ہی ہر حال میں ترجیح دی۔ یہ تعلیمات اللہ تعالیٰ کا ایسا عطیہ ہیں جو اپنے لطف وکرم سے کسی بھی بندے کو خیر کثیر کے طور پر عطا کردیتا ہے۔ اور فقہ اسلامی اس علم کا نام ہے جو کتاب وسنت سے سچی وابستگی کے بعد تقرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ علم دھول وغبار کواڑا کر ماحول کوصاف وشفاف بناتا ہے اور بعض ایسے مبہم خیالات کا صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ ہوتا ہے اور اندرون خانہ کچھ ۔ فقہ اسلامی مختلف شبہ ہائے زندگی کے مباحث پر مشتمل ہے اس کے فہم کے بعض نابغۂ روزگار متخصصین ایسےبھی ہیں جن کے علم وفضل اوراجتہادات سےایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے ۔ہندوستان میں جب اسلامی علوم کی کرنیں طلوع ہونے لگیں تو شروع میں علم حدیث پرزیادہ توجہ دی گئی خاص کر سندھ اور گجرات کے علاقہ میں لیکن اس کے بعد اہل فقہ اہل علم کی توجہ کا مرکز بن گیا اور فتاوی تاتارخانیہ، فتاوی ہندیہ ، قضا کے موضوع پر صنوان القضاءاوراصول فقہ میں مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت، نورالانوار جیسی اہم تالیفات منظر عام آئیں جس میں بعض کو فقہ اسلامی کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے ۔بر صغیر کے علماء میں فقہ سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کی کثرت کاجناب محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی کتاب ’فقہاء ہند‘ کی کئی جلدوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’برصغیر ہند میں علوم فقہ اسلامی کاارتقاء‘‘ ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی کی تصنیف ہے جوکہ دار اصل انگریزی زبان میں ایم فل کا مقالہ ہے جسے خود مصنف نے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ یہ کتاب ایک مقدمہ اور چھ ابواب پر مشتمل ہے فاضل مصنف نے فقہ اسلامی کی حقیقت اوراس کے ارتقاء پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے اپنی اس کاوش کا تعارف کرایا ہے باب اول میں برصغیر میں فقہ اسلامی کے ارتقاء پر گفتگو کرتے ہوئے 1857ء سے قبل کی فقہی خدمات کا سرسری جائزہ لیاکیا ہے۔ نیز 1857ء کےبعد اس میدان میں ہونے والی غیر معمولی علمی ترقی کی طرف اجمالی طور اشارہ کیا ہے۔دوسرے باب میں عربی ، فارسی اورانگریزی زبان کے فقہی لٹریچر کے اردوترجمہ کا ذکرکیاہے۔تیسرے باب میں اردو میں تالیف شدہ کتب فقہ کی فہرست پیش کی ہے۔چوتھے باب میں ہندوستان کے فقہی مدارس و مکاتب پر روشنی ڈالی گئی ہےاس میں ان درسگاہوں کا بھی ذکر ہے جن کی فقہ اسلامی پر خصوصی توجہ رہی ہے اس باب میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی خدمات کوخاص طور پر خرج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ نیز ان اداروں کابھی ذکر کیا ہے جو مسائل کواجتماعی غور وفکر کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔پانچویں باب میں چند اہم فقہی کتابوں کا تعارف اور چھٹےباب میں پاکستان کی سرکاری جامعات اور بعض حکومتی اور پرائیوٹ اداروں کی خدمات کا تعارف ہےبحیثیت مجموعی یہ کتاب برصغیر ہندو پاک کی فقہی خدمات پر ایک عمدہ کاوش ہے ۔(م۔ا)

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1057
  • اس ہفتے کے قارئین 8982
  • اس ماہ کے قارئین 47376
  • کل قارئین49352325

موضوعاتی فہرست