دکھائیں کتب
  • 31 خطبات سورہ التکاثر (پیر 13 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:2400

    سورۃ التکاثر مکی سورت ہے قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے اعتبار سے سولہویں اور ترتیب توقیفی کے لحاظ سےسورۃ نمبر 102 ہے اس میں معجزانہ اختصار اور بلیغانہ اعجاز کے ساتھ موت ،قبر، قیامت، حشروحساب کے حقائق اوردوزخ کے مناظر بیان کےگئے اور ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو صرف دنیا کی زندگی کو اپنا مقصد بنالیتے ہیں اوردنیا کاا یندھن جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں،ان کے انہماک کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ انہیں دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے؛ لیکن پھر اچانک موت آجاتی ہے ،جس کی وجہ سے ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اورانہیں قصر سے قبر کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے ،ان لوگوں کو ڈرایاگیا کہ قیامت کے دن تمام اعمال کے بارے میں سوال ہوگا ،پھر تم جہنم کو ضرور دیکھوگے اور تم سے اللہ کی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ امن ،فراغت،اکل وشرب،مسکن،علم او رمال ودولت جیسی نعمتوں کو کہاں استعمال کیا؟۔ زیرتبصرہ کتاب ’’خطبات سورۃ التکاثر ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ ’’ التکاثر‘‘ کے متعلق تفسیری خطبات کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز جنوری 2002ء میں کیا اور دس خطبات میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت جمعہ میں مکمل بیان کیا ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃالتکاثر کی منفرد تفسیر ہے ۔مصنف موصوف کی یہ بارہویں اور ’’ قرآن خطبات ‘‘ کے بابربرکت سلسلے کی نوویں(9) کتاب ہے (م۔ا) 

  • 32 خطبات سورہ فاتحہ (منگل 14 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:2139

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنیٰ پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’خطبات سورۃ فاتحہ ‘‘پروفیسر حافظ عبدالستار حامد﷾ کے سورۃ فاتحہ کے متعلق بیان کے گئے خطبات کا مجموعہ ہے ان خطبات کا آغاز موصوف نے جولائی 1998ء میں او ر 15 خطبات میں اس عظیم الشان اور بابرکت سورۃ کی تفسیر وتوضیح مکمل کی ۔پروفیسر عبد الستار حماد صاحب نے اس سورت مقدس...

  • 33 خطبات سورہ مریم (بدھ 15 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:2414

    سورۃ مریم قرآن مجید کی مکی سورتوں میں سے ہے اس سورۃ کا بنیادی موضوع حضرت عیسٰی اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں صحیح عقائد کی وضاحت اوران کے بارے میں عیسائیوں کی تردید ہے اگرچہ مکہ مکرمہ میں جہاں یہ سورت نازل ہوئی عیسائیوں کی کوئی خاص آبادی نہیں تھی لیکن مکہ مکرمہ کے بت پرست کبھی کبھی آنحضرت ﷺکے دعوائے نبوت کی تردید کے لئے عیسائیوں سے مدد لیا کرتے تھےاس کے علاوہ بہت سے صحابہ کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کررہے تھے جہاں عیسائی مذہب کی حکمرانی تھی اس لئے ضروری تھا کہ مسلمان حضرت عیسی ،حضرت مریم ،حضرت زکریا اور حضرت یحیی علیہم السلام کی صحیح حقیقت سے واقف ہوں چنانچہ اس سورت میں ان حضرات کے واقعات اسی سیاق وسباق میں بیان ہوئے ہیں اور چونکہ یہ واضح کرنا تھا کہ حضرت عیسی اللہ تعالیٰ کے بیٹے نہیں ہیں جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے بلکہ وہ انبیائے کرام ہی کے مقدس سلسلے کی ایک کڑی ہیں اس لئے بعض دوسرے انبیاء کرام ﷩ کا بھی مختصر تذکرہ اس سورت میں آیا ہے لیکن حضرت عیسی کی معجزانہ ولادت او راس وقت حضرت مریم علیہا السلام کی کیفیات سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ ا سی سورت میں بیان ہوئی ہیں اس لئے ا س کا نام سورۂ مریم رکھا گیا ہے۔ صحابی رسول ﷺسیدنا جعفر طیار حبشہ میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں اسی سورت کی تلاوت کی تھی جسے سن کر وہ خود اور اسے کے درباری آبدیدہ ہوگئے تھے اور مسلمانوں کواپنےہاں حبشہ پناہ دی اور انہیں بڑے عزت واحترام رکھا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ مریم ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے...

  • 34 خطبات سورہ کوثر (بدھ 15 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:2644

    سورۃ کوثرمکی سورۃ ہے مکی سورتوں کی اہم خصوصیت قرآن کی آفاقی فصاحت و بلاغت ہے۔وہ عرب لوگ جو اپنی زبان کے مقابلے میں دوسروں کو’’ عجمی‘‘یعنی گونگا کہتے تھے وہ بھی قرآن کے سامنے بے بس ہو چکے۔قرآن نے اہل مکہ کو چیلنج دیا کہ ایک کتاب یا ایک سورۃ یا ایک آیت ہی بنا لاؤ لیکن وہ عرب اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے اور ماند پڑ گئے۔ایک بار مکہ میں قصیدہ نویسی کا مقابلہ ہوا ،کم و بیش چالیس قصائد خانہ کعبہ کی دیوار پر لٹکائے گئے،ان میں سے بعض اپنی طوالت میں بے مثال تھے ۔آخر میں سورۃ کوثر بھی آویزاں کی گئی اور ہر فیصلہ کرنے والا اس سورۃ پر آن کر اٹک جاتااور سب لوگوں نے بالاتفاق کہا کہ یہ کسی انسان کی کاوش نہیں ہو سکتی۔الکوثر سے ایک نہر مراد ہے ، جو جنت میں آپ ﷺ کو عطا کی جائے گی۔واضح رہے کہ نہر کوثر اور حوض کوثر میں فرق ہے کہ ، حوض کوثر میدان حشر میں ہو گا ـ جبکہ کوثر یا نہر کوثر جنت میں ہے ، البتہ یہ ضرور ہے کہ حوض میں جو پانی ہے اس کا مصدر نہر کوثر ہی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ کوثر‘‘ پرو فیسر عبد الستار حامد ﷾ کی سورۃ الکوثر کی تفسیر میں 12 خطبات کا مجموعہ ہے جوکہ خطیبانہ انداز میں فضائل رسول ﷺ کا منفرد تذکرہ پر مشمل ہے ۔موصوف نےان خطبات میں رسول اکرم ﷺ کی خصوصیات کے حوالے سے ’’ کوثر‘‘ کے چند معروف مفاہیم کو خطبات جمعہ میں بیان کیا اور بعد ازاں اسے کتابی صورت میں مرتب کر کے شائع کیا ہے ۔موصوف اس کے علاوہ سورۃ یوسف ، سورۃ مریم ، سورۃ یٰسین، سورۃ کہف، سورۃ نور، سورۃ فاتحہ اور آیت الکرسی پر...

  • 35 خطبات سورہ کہف (منگل 14 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:2281

    سورت کہف قرآن مجید کی 18 ویں سورت جو مکہ میں نازل ہوئی۔ اس میں اصحاب کہف، حضرت خضر اور ذوالقرنین کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔یہ سورت مشرکین مکہ کے تین سوالات کے جواب میں نازل ہوئی جو انہوں نے نبی ﷺکا امتحان لینے کے لیے اہل کتاب کے مشورے سے آپ کے سامنے پیش کیے تھے۔ اصحاب کہف کون تھے؟ قصۂ خضر کی حقیقت کیا ہے؟ اور ذوالقرنین کا کیا قصہ ہے؟ یہ تینوں قصے عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ سے متعلق تھے۔ حجاز میں ان کا کوئی چرچا نہ تھا، اسی لیے اہل کتاب نے امتحان کی غرض سے ان کا انتخاب کیا تھا تاکہ یہ بات کھل جائے کہ واقعی محمد ﷺ کے پاس کوئی غیبی ذریعۂ علم ہے یا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ اپنے نبی کی زبان سے ان کے سوالات کا پورا جواب دیا بلکہ ان کے اپنے پوچھے ہوئے تینوں قصوں کو پوری طرح اُس صورتحال پر چسپاں بھی کردیا جو اس وقت مکہ میں کفر و اسلام کے درمیان درپیش تھی۔اس سورت کی فضیلت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے والے کے لئے دو جمعوں کے درمیانی عرصہ کے لئے روشنی رہتی ہے ۔ ( سنن بیہقی ص249 ج 3 ) زیر تبصرہ کتاب’’خطبات سورۃ کہف ‘‘ پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ کہف کے متعلق تفسیری خطبات کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز نومبر1994ء میں کیا اور بیس خطبات یعنی پانچ ماہ میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت میں مکمل بیان کیا ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃ کہف کی منفرد تفسیر ہے ۔(م۔ا)

  • 36 خطبات سورۃ یٰسین (جمعرات 16 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1583

    سورۃیٰسین مکی سورت ہے اس سورۃکا آغاز “ی” (یا) اور “س” (سین) دو حرفوں سے ہوا ہے اس مناسبت سے اس کا نام سورہ یٰس ہے۔اس کے مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے درمیانی دور کے اخیر میں نازل ہوئی ہو گی۔سورۃ یٰسین کا مرکزی مضمون آخرت کے انجام سے خبردار کرنا ہے اس طور سے کہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگ جاگ اٹھیں اور انہیں اپنے مستقبل اور اپنی نجات کی فکر دامن گیر ہو۔ رسول کی بعثت اسی لیے ہوتی ہے کہ وہ خبردار کرنے کا یہ فریضہ انجام دے۔اس سورت کی فضلیت کے متعلق کتب احادیث میں متعدد احادیث موجود ہیں لیکن اسناد کے اعتبار سے یہ صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتیں۔ اور یہ بات بھی ثابت نہیں ہے کہ صحابہ اس سورہ کو کسی شخص کی جانکنی کے موقع پر پڑھا کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات سورۃ یٰسین ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ ’’ یٰسین‘‘ کے متعلق تفسیری خطبات جمعۃ المبارک کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز مارچ 1993ء میں جامع مسجد توحید اہل حدیث وزیر آباد میں کیا اور 12 خطبات میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت جمعہ میں مکمل بیان کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں ہر واقعہ، ہر حدیث اور ہربات مستند اور باحوالہ تحریرکرنے کی کوشش کی ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃیٰسین کی منفرد تفسیر ہے ۔ (م۔ا)

  • 37 خطبات سورۃ یٰسین ( جدید ایڈیشن ) (جمعہ 25 اگست 2017ء)

    مشاہدات:1221

    قرآن حکیم‘ رب کائنات کا اپنے بندوں کے نام پیغام عظیم ہے۔ اس کا پڑھنا کارِ ثواب‘ سمجھنا باعث ہدایت اور عمل کرنا ذریعہ نجات ہے۔ ملت اسلامیہ کے زوال وانحطاط کے اسباب میں سے ایک اہم سبب کتاب الٰہی سے اعراض اور پیغام ربانی سے انحراف بھی ہے۔ امت مسلمہ کے عروج واستحکام‘ عظمت رفتہ کی بحالی اور دنیوی واُخروی کامیابی کے لیے قرآنی فہمی انتہائی ضروری ہے۔ ہماری اعتقادی بے راہ روی اور عملی خرابیوں کی بنیادی وجہ بھی قرآنی احکام سے بے خبری‘ الٰہی فرامین سے لا علمی اور آسمانی ہدایت سے بے اعتنائی ہے۔ آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ عوام کوقرآنی حقائق ومعارف سے آگاہ کیا جائے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر تالیف کی گئی ہے۔ اس میں   سورۂ یسن کے خطبات کو آسان‘ سادہ اور عام فہم انداز سے بیان کیا گیا ہے اور ہر بات باحوالہ درج کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ حوالہ جات کا خاص اہتمام ہے اور حوالہ ساتھ ہی دے دیا جاتا ہے ۔ یہ کتاب’’ خطبات سورۂ یسن ‘‘ عبد الستار حامد کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 38 دروس سورہ فاتحہ (جمعہ 01 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:1742

    سورۂ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی اور مضامین کے اعتبار سے جامع ترین سورۃ ہے جو پورے  قرآن مجید کا  مقدمہ ،تمہید اور خلاصہ ہے ۔ احادیث صحیحہ، آثار صحابہ و اقوال ائمہ کی روشنی میں یہ بات ثابت کی ہے کہ نماز میں فاتحہ پڑھنا ہر نمازی پر فرض اور واجب ہے خواہ وہ نمازی منفرد ہو یا جماعت کی حالت میں۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ  نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے اس سورت کی عربی اور اردو  میں کئی ایک تفسیریں الگ سے شائع  ہوچکی ہیں ۔اور کئی  علماء نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر وتشریح کو اپنے دروس میں بھی بیان کیا ہے۔ زیر تبصرہ ’’دروس سورۃ فاتحہ ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔یہ  مولانا عبدالرزاق یزدانی ﷫ کے جامع مسجد رحمانیہ پونچھ روڈ ، لاہور میں نماز فجر کے بعد  دیے گئے دروس کا  مجموعہ ہے ۔مولانا نے  سادہ انداز میں  سورۃ فاتحہ کی تفسیر کو تفسیر القرآن بالقرآن کی شکل میں پیش کیا ہے ۔علاوہ ازیں  اس میں احادیث اور تاریخی واقعات بھی جابجاسمودئیے گیے ہیں ۔اور موقع کی مناسبت سے اردو اور پنجابی کےاشعار کے ذریعے بھی  اس تفسیر کودلچسپ بنادیاگیا ہے۔یہ تفسیر علماء کرام ، طلباء اور عامۃ الناس کے مفید ونفع بخش ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں...

  • 39 راہ نجات سورۃ العصر کی روشنی میں (جمعہ 10 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:3069

    سورۃ العصر قرآن  حکیم کی مختصر ترین سورتوں میں سے ایک ہے ۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نےزمانے کی قسم کھا کر کہا ہے کہ بالعموم انسان خسارے میں ہے سوائے  اس آدمی کے جس کے اندر وہ چار صفات پائی جائیں جن کا ذکر آیت نمبر 3 میں آیا ہے ۔خوش قسمتی سےاس میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ تقریبا سب کےسب اردو میں عام طور پر مستعمل ہیں  اور ایک عام اردو دان بھی ان سے  بہت حدتک مانوس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورۃ  کاسرسری مفہوم تقریبا ہر شخص  فوراً جان لیتا ہے اوراس میں کسی قسم کی دقت محسوس نہیں کرتا۔اپنے مضامین کے   اعتبار سے  قرآن مجید کی  ایک  عظیم الشان سورت ہے  امام شافعی﷫ نے اس کےبارے  میں فرمایا کہ ’’ اگر  لوگ تنہا اسی ایک سورۃ پر غور کریں تو یہ ان کے لیے  کافی ہوجائے ‘‘ یہ سورۃ کل تین آیات پر مشتمل ہے  او راس کی دوسری  آیت عددی اعتبار ہی  سے نہیں بلکہ مفہوم کے  لحاظ سے بھی مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔ اس میں یہ درد ناک حقیقت بطور کلیہ بیان ہوئی  ہے کہ ’’انسان بالعموم اور بحیثیت مجموعی خسارے میں ہے ۔ پہلی آیت میں  اس حقیقتِ کبریٰ کے دلائل وشواہد کوصرف ایک  قَسم میں سمو کر پیش کردیاگیا ہے ۔ جبکہ تیسری آیت اس کلیے سے ایک استثناء کو بیان کررہی ہے۔اس سورۃ کے  دو حصے  ہیں  ایک دعویٰ اور اس کی دلیل پر مشتمل ہونےکی بناپر انتہائی گہری  علمی اہمیت کا حامل ہے  جبکہ دوسرا جز  عملی اعتبار سے انتہائی اہم&nbs...

  • 40 راہ ہدایت (منگل 16 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1735

    قرآن مجید اللہ تعالی  نے   نبی کریم ﷺ پر لوگوں کی  ہدایت ونصیحت کے لیے   نازل فرمایا کہ انسان کو اس دنیا میں کس طرح زندگی بسر کرنا ہے۔اورزندگی  گزارنے کے لیے  دین ِاسلام کے قوانین کیا اوران کی  خلاف ورزی پر کیا سزائیں ہیں۔  قرآن میں بیان  کردہ  احکا م   سے تبہی واقف ہو اجاسکتا کہ جب  اس کو   ترجمہ  وتفسیر سے  پڑھا جائے اور اس   کی تعلیم وتفہیم کی  کوشش کی جائے ۔زیر نظر کتاب ’’راہ ہدایت ‘‘ چوہدری جواد سلیم  صاحب کی مرتب شدہ ہے اس میں  انہوں نےمنتخب   قرآنی  آیات کو موضوعات کے لحاظ سے  ترتیب دے  کر  ان کا ترجمہ وتشریح معتبر اور مستند تفاسیر سے  نقل کی ہے ۔جن لوگوں کے پاس  پورا قرآن مجید کا ترجمہ وتفسیر کے پڑہنے کی فرصت  نہیں ان کےلیے   یہ   کتاب انتہائی اہم ہے ۔مفسر  قرآن  حافظ صلاح الدین  یوسف ﷾ کی  اس کتاب پر  نظر ثانی  سےاس  کی   افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالی ٰ ان کی  اس کاوش کوقبول فرمائے اوراسے  عوام االناس کےلیے  مفید بنائے (آمین) (م۔ا)  

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2049
  • اس ہفتے کے قارئین: 12921
  • اس ماہ کے قارئین: 46942
  • کل قارئین : 47943307

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں