#4314

مصنف : شہلا حائری

مشاہدات : 2303

نفسانی خواہش کا قانون (ایران میں متعہ کی ظاہری صورت)

  • صفحات: 520
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 20800 (PKR)
(منگل 08 مارچ 2016ء) ناشر : الرحمٰن پبلشنگ ٹرسٹ، کراچی

اسلام عزت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ انسان کی عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے دین اسلام نے نکاح کا حکم دیا ہے۔ تا کہ حصول عفت کے ساتھ ساتھ نسل انسانی کی بقاء و تسلسل بھی رہے۔ ایک فرقہ(اہل تشیع) کے ہاں نکاح کی ایک صورت متعہ کے نام پر بھی رائج ہے جو اگرچہ اسلام کے آغاز میں جائز تھا تاہم آپ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی اسے بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ ناجائز و ممنوع قرار دے دیا تھا۔ یہ فرقہ اپنے باطل نظریات و افکار کے ذریعے اسلام کی حقانیت کو مسخ کرنا چاہتا ہے۔ ان کا اصل مقصد دین حنیف کا خاتمہ اور سود ساختہ عقائد کا پرچار ہے۔ اس گروہ نے نکاح متعہ کے نام پر معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دیا ہے، بعض ممالک میں نکاح متعہ کے نام پر جسم فروشی کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نفسانی خواہش کا قانون" محترمہ شہلا حائری کی بے مثال انگریزی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ محترم نگار عرفانی نے بڑے احسن انداز سے کیا ہے۔ موصوفہ نے اپنی کتاب میں ایران کے اس نفسانی قانون کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے ان کا رد کیا ہے اور یہ بات واضح کی ہے کہ اسلامی نکاح میں ہی ہمارے معاشرے کی فلاح و بہبود ہے، اور نکاح متعہ سے معاشرے میں کیا ہولناک نتائج برآمد ہو رہے ہیں، عائلی نظام کس قدر متاثر ہو رہا ہے اور اس کے علاوہ دیگر موضوعات کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ و مترجم کو اجر عظیم سے نوازے اور ان کی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین(عمیر)

عناوین

صفحہ نمبر

پیش لفظ

5

تعارف

9

اظہار خیال

13

شہلا حائری (تعارف)

23

مقدمہ

25

حرف و لفظ کی منتقلی

31

چند انگریزی الفاظ کی اردو تشریح

33

تمہید

37

حصہ اول: قانون نفاذ کی حیثیت سے

83

نکاح: معاہدے کی حیثیت سے

85

مستقل شادی: نکاح

105

عارضی نکاح: متعہ

147

حصہ دوم: قانون مقامی اگاہی کی حیثیت سے

203

ابہام کی قوت

205

حصہ سوم: قانون جیسا سمجھا گیا

261

عورتوں کی سرگزشتیں

263

مردوں کی سر گزشتیں

359

خلاصہ الکلام

451

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2360
  • اس ہفتے کے قارئین 9604
  • اس ماہ کے قارئین 72522
  • کل قارئین57097872

موضوعاتی فہرست