دکھائیں کتب
  • 11 قبر پرستی ایک حقیقت پسندانہ جائزہ (جمعرات 20 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2975

    آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا  کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا  وغیرہ ایسے اعمال جو  شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب" قبر پرستی (ایک حقیقت پسندانہ جائزہ)" جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین مفسر قرآن محترم مولانا حافظ صلاح الدین﷾ کی تصنیف ہے۔یہ کتاب درحقیقت رد قبر پرستی کے موضوع پر لکھے گئے ان کے متعدد مضامین کا مجموعہ ہے۔جو مختلف اوقات میں معروف اہل حدیث مجلے الاعتصام میں چھپتے رہے اور احباب کے اصرار پر بعد میں انہیں ایک کتاب کی شکل میں طبع کر دیا گیا ہے۔موصوف کی اس کے علاوہ بھی بے شمار مفید اور علمی کتب ہیں،جن میں سے تفسیر احسن البیان سب سے زیادہ قابل ذکر ہے۔اللہ تعالی مولف کی فروغ دین کی ا...

  • 12 قبر پرستی دنیا میں کیسے پھیلی (منگل 20 اپریل 2010ء)

    مشاہدات:17085

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ امیہ کے دور میں رویاکرتے تھے کہ عہداول کادین باقی نہیں رہا لیکن اگر وہ ہمارے اس دور کو دیکھتے تو کیاکہتے ؟کیا وہ ہمیں مشرک قرار نہ دیتے اور ہم انہیں کوئی برا نام نہ دیتے کیونکہ اس وقت اور آج کے اسلام میں اب اگر کوئی مشترک چیز باقی رہ گئی ہے تووہ فقط لفظ اسلام ہے یا چند ظاہری  ورسمی عبادات ہیں اور وہ بھی بدعت کی آمیزش سے پاک نہیں ۔کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس محفوظ تو ہیں لیکن بدنصیبی یہ ہے کو دونوں مہجور و متروک ہیں طاقوں او رالماریوں کی زینت یا کنڈوں ،تعویذوں میں مستعمل ہیں۔مسلمان اپنی عملی زندگی میں ان سے بالکل آزاد ہیں اوربا وجود ادعائے اتباع ان سے مخالف چل رہے ہیں ۔اجمیر کا عرس دیکھنے کےبعد کون کہہ سکتا ہے کہ یہ وہی مسلمان ہیں جوعامل قرآن اور علمبردارتوحید تھے ؟یہ کتابچہ قبرپرستی کیوں کر پھیلی ،اسباب اور فتنہ قبرپرستی کے انسداد کےلیے وسائل وذرائع  کی اہم مباحث پر مشتمل ہے ۔نیزیہ کتابچہ مصلحین امت کو یہ سبق دیتاہے کہ وہ اٹھیں او رعلماء سوء کے اس شرذمۂ مشومہ کے چہرہ سے نقاب الٹ دیں تاکہ مسلمان اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ ان بڑی بڑی پگڑیوں کے نیچے شیطان کو سجدہ کرنے والے سر ہیں او ران لمبی گھنی ڈاڑھیوں کی اوٹ میں کفروریا کی سیاہی چھپی ہوئی ہے ؟
     

  • 13 قبر پرستی کے فروغ کے لیے شیطان کی تدبیریں (اتوار 14 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2159

    پیغمبرِ  اسلام  حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو جتنی تاکید کے ساتھ  شرکیہ امور سے  بچنے کی  ہدایت فرمائی تھی ۔افسوس ہے کہ آپﷺ کی یہ نام لیوا امت  اسی  قدر  مشرکانہ  عقائد واعمال  میں  مبتلا ہے  اور اپنے  پیغمبر  کی تمام ہدایات کو فراموش کر چکی ہے  ۔۔آپ  ﷺ   نے واضح  الفاظ میں اعلان فرمادیا تھا :أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك۔’’لوگو  کان کھول کر سن لو تم سے   پہلی امت کے لوگوں نے اپنے  انبیاء اور نیک لوگوں ،اولیاء  وصالحین کی قبروں کو عبادت گاہ (مساجد) بنالیا تھا ،خبر دار !تم  قبروں کو مساجد نہ  بنالینا۔میں تم کواس  روکتا ہوں۔اور آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں  یہود ونصاریٰ کے اس مشرکانہ  عمل پر لعنت کرتےہوئے  فرما یا: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَقبرپرستی شرک اورگناہ کبیرہ  ہے نبی کریم ﷺ نے   سختی سے   اس  سےمنع فرمایا اور اپنی  وفات کے وقت کے بھی اپنے صحابہ کرام کو اس سے  بچنے کی  تلقین  کی ۔ صحابہ کرام  نے اس پر عمل کیا  اور  پھر  ائمہ کرام  اور محدثین نے   لوگوں کو تقریر وتحریر کے  ذریعے  اس  ...

  • توحید  ایک  ایسا  تصور  ہے جس پر دین اسلام کی بنیاد اور اساس ہے۔یہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ہے۔اس کے بالمقابل شرک ہے۔ شرک  شعوری اور لاشعوری کئی طرح سے لوگوں میں آجاتا ہے۔تاہم شرک کی  سب سےزیادہ خطرناک صورت وہ ہے جب وہ لاشعوری طور پر آجائے۔انبیاء کے بعد اب یہ امت کے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہرزمانے کے رسوم و رواجات کو سمجھتے ہوئے شرک وبدعت کی اشکال واضح کریں اور لوگوں کو ان موذی امراض سے بچائیں۔زیر نظر کتاب عالم اسلام کے مشہور و معروف عالم  ابن قیم کی تالیف ہے۔اس میں انہوں نے اپنے زمانے کا خیال کرتے ہوئےتصور توحید سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے۔ لیکن مرور ایام کے باوجود آج  کے حالات اور اس کتاب کی علمیت کے باوصف  اس کی افادیت بعینہ اسی طرح برقرار ہے جیسے بوقت تحریر تھی۔واضح رہے کہ یہ کتاب ابن قیم کی  مشہور تالیف اغاثۃ اللفہان کے ایک جزء کا ترجمہ ہے ۔جسے مترجم موصوف نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے  اصل اسلوب کتاب کا خیال کرتے  ہوئے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔اور حتی الوسع کوشش کی ہے کہ  اردو میں اصل کتاب کا لطف آئے۔(ع۔ح)
     

  • 15 قبروں پر مساجد اور اسلام (جمعرات 10 جون 2010ء)

    مشاہدات:2616

    اسلام دین توحید ہے  اسلامی تعلیمات تمام کی تمام عقیدہ توحید ہی کے گرد گھومتی ہیں توحید کی ضد شرک ہے کتاب وسنت میں شرک کی پرزور نفی کی گئی ہے اور ان امور سے بھی مجتنب رہنے کا حکم دیا گیاہے جو شرک کا ذریعہ بن سکتے ہیں انہی میں سے ایک مسئلہ قبروں پر مساجد تعمیر کرنےکابھی ہے کہ اس سے شرک کا دروازہ کھلتاہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات میں یہودونصاری پرلعنت فرمائی کے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد کی حیثیت دے دی افسوس کہ آج امت مسلمہ میں یہ روش عام ہوچکی ہے اور بے شمار مزارات پرمساجد نظر آتی ہیں جہاں کھلم کھلاشرک ہورہا ہے عظیم محدث علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے زیرنظر کتاب میں اسی مسئلے کی کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت کی ہے علامہ موصوف  نے ثابت کیاہے  کہ قبروں پرمسجدیں بنانا شریعت کی روسے قطعی حرام اور گناہ کبیرہ ہے او رتمام فقہی مکاتب فکر اسی کے قائل ہین علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ  نے اس ضمن میں اہل بدعت کی طرف سے اٹھائے گئے شبہات کا بھی ٹھوس  علمی انداز میں ازالہ کیا ہے ہر بات کتاب وسنت کے محکم استدلال  اور قوی استشہاد کی بناء پر پیش کی گئی ہے جس سے مسئلہ زیر بحث کے تمام پہلو روز روشن کی طرح نکھر گئے ہیں

     

  • 16 قبروں کی زیارت اور صاحب قبر سے فریاد (پیر 28 فروری 2011ء)

    مشاہدات:15542

    آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا وغیرہ ایسے اعمال جو شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ قبروں کی زیارت اور صاحب قبر سے فریاد ‘‘ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی تالیف کا ثمر صادق احمد حسین نے اردو ترجمہ کیا ہے۔یہ کتاب درحقیقت رد قبر پرستی کے موضوع پر لکھے گئے ان کے متعدد مضامین کا مجموعہ ہے۔ اور ان دلائل کا مختصراً جائزہ لیا گیا ہے جو قبرپرستی جیسے شرکِ صریح کے جواز میں بالعموم بریلوی علماء یا ان کے ہمنوا اہل قلم کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں ۔ اور اس کے متعلق شیطان اور اس کے نمائندوں کی طرف سے پھیلائے گ...

  • 17 قبروں کے فتنے اور ان کی بدعتیں (پیر 13 جون 2016ء)

    مشاہدات:2037

    پیغمبرِ  اسلام  حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو جتنی تاکید کے ساتھ  شرکیہ امور سے  بچنے کی  ہدایت فرمائی تھی ۔افسوس ہے کہ آپﷺ کی یہ نام لیوا امت  اسی  قدر مشرکانہ  عقائد واعمال میں  مبتلا ہے  اور اپنے  پیغمبر  کی تمام ہدایات کو فراموش کر چکی ہے  ۔آپ  ﷺ نے واضح  الفاظ میں اعلان فرمادیا تھا :أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك۔ ’’لوگو  کان کھول کر سن لو تم سے   پہلی امت کے لوگوں نے اپنے  انبیاء اور نیک لوگوں ،اولیاء  وصالحین کی قبروں کو عبادت گاہ (مساجد) بنالیا تھا ،خبر دار !تم  قبروں کو مساجد نہ  بنالینا۔میں تم کواس سے  روکتا ہوں۔اور آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں  یہود ونصاریٰ کے اس مشرکانہ عمل پر لعنت کرتےہوئے  فرما یا: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى،اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قبرپرستی شرک اورگناہ کبیرہ  ہے نبی کریم ﷺ نے   سختی سے   اس  سےمنع فرمایا اور اپنی  وفات کے وقت کے بھی اپنے صحابہ کرام کو اس سے  بچنے کی  تلقین  کی ۔ صحابہ کرام  نے اس پر عمل کیا  اور  پھر  ائمہ کرام  اور محدثین نے   لوگوں کو تقریر وتحریر کے  ذریعے  اس   فتنہ  عباد ت ِقبور سے...

  • 18 قبے اور مزارات کی تعمیر ایک شرعی جائزہ (جمعرات 30 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1275

    یغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو جتنی تاکید کے ساتھ شرکیہ امور سے بچنے کی ہدایت فرمائی تھی۔ افسوس ہے کہ آپﷺ کی یہ نام لیوا امت اسی قدر مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا ہے اور اپنے پیغمبر کی تمام ہدایات کو فراموش کر چکی ہے۔ آپﷺ نے واضح الفاظ میں اعلان فرمادیا تھا :أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك۔’’لوگو کان کھول کر سن لو تم سے پہلی امت کے لوگوں نے اپنے انبیاء اور نیک لوگوں ،اولیاء وصالحین کی قبروں کو عبادت گاہ (مساجد) بنالیا تھا ،خبر دار !تم قبروں کو مساجد نہ بنالینا۔میں تم کو اس سے روکتا ہوں اور آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں یہود و نصاریٰ کے اس مشرکانہ عمل پر لعنت کرتےہوئے فرما یا: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى،اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قبرپرستی شرک اورگناہ کبیرہ ہے نبی کریم ﷺ نے سختی سے اس سے منع فرمایا اور اپنی وفات کے وقت کے بھی اپنے صحابہ کرام کو اس سے بچنے کی تلقین کی۔ صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا اور پھر ائمہ کرام اور محدثین نے لوگوں کو تقریر وتحریر کے ذریعے اس فتنہ عباد ت ِ قبور سے آگاہ کیا ۔مملکت سعودی عرب کے بانی ملک عبدالعزیز ﷫ اوران کے جانشین نے جب ارض سعودی عرب سے قبے مزارات کو ختم کیا تو شرک پھیلانے کے سب سے بڑے علمبر دارں، درباروں اور مزاروں کو کمائی کا ذریعہ بنانے والوں نے حجاز کانفرنس میں ملک عبد العزیز﷫ سے مسخ شدہ مزاروں کودوبارہ بنانے کامطالبہ کی...

  • 19 پاکپتن کے بہشتی دروازے کی شرعی حیثیت (اتوار 28 مارچ 2010ء)

    مشاہدات:15794

    دین اسلام میں جس قدر عقائد کی اصلاح اور شرک کی مذمت پر زور دیا گیا ہے بدقسمتی سے امت مسلمہ، اور خصوصاً برصغیر پاک وہند میں اکثریت اسی شدو مد کے ساتھ  خانقاہی سلسلوں کی صورت اور درباروں کی شکل میں پھیلے ہوئے شرک کے جال میں  پھنسے نظر آتے ہیں-ان اوراق میں مصنف نے ان درباروں ، مزاروں اور جبوں وقبوں کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہوئے پاکپتن میں واقع المشہور ''بہشتی دروازے'' کو موضوع بحث بنایا ہے – اور ان حضرات کے سامنے چند سوالات پیش کرتے ہوئے اس مسئلے کی نزاکت واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ  اگر  یہ واقعتا بہشتی دروازہ ہے تو سارا سال بند کیوں رہتا ہے اور مخصوص عرس کے ایام میں ہی کیوں کھولا جاتا ہے؟اگر یہ بہشتی دروازہ ہے تو کتاب وسنت میں اس کا ذکر کیوں موجود نہیں؟اور قرون اولی کے مسلمان اس سعادت سے کیوں محروم رہے؟ علاوہ ازیں ٹھوس دلائل کے ساتھ ثابت کیا گیاہے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کی جانب منسوب کی جانے والی روایت جھوٹ اور بہتات تراشی کے سوا کچھ نہیں-کتاب کے شروع میں روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے مضمون '' باب جنت''کےجواب میں ابواسامہ کا مضمون شائع کیا گیا ہے-علاوہ ازیں  کتاب میں دیگر چند مزارات پر آنکھوں دیکھے ہوشربا مناظر کا تذکرہ کرتے ہوئے قبروں اور مزارات پر مساجد تعمیر کرنے کی شرعی حیثیت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے-

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2114
  • اس ہفتے کے قارئین: 10797
  • اس ماہ کے قارئین: 44818
  • کل قارئین : 47922666

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں