دکھائیں کتب
  • 21 قربانی کے ایام و اوقات (ہفتہ 12 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1912

    ماہِ ذوالحج سال بھرکے بعدجب آتاہے توجذبۂ تسلیم ورضاء اورجذبۂ ایثاروقربانی بھی ہمراہ لاتا ہے۔قمری سال کے اس آخری مہینے کامقدس چاند جونہی طلوع ہوتاہے،تسلیم ورضاکی لازوال داستان کی یادبھی ساتھ لاتا ہے۔ اس ماہ کی دس،گیارہ اوربارہ تاریخ کودنیابھرکے کروڑوں صاحب نصاب مسلمان اسوۂ ابراہیمی کی یادتازہ کرنے کیلئے قربانی کرتے ہیں۔عیدقربان!مسلمانوں کاعظیم مذہبی تہوارہے جوہرسال 12-11-10 ذوالحجہ کوانتہائی عقیدت ومحبت، خوشی ومسرت،ذوق وشوق،جوش وخروش اورجذبۂ ایثارو قربانی کے منایاجاتاہے۔اس دن اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اپناتن،من ،دہن قربان کرنے کے عہدکی تجدیدہوتی ہے اوریہی مسلمانوں کی عید ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے عظیم فرزندحضرت اسماعیل علیہ السلام کا مقدس ذکر قیامت تک فضاؤں اور ہواؤں میں گونجتا رہے گا ۔ زیر تبصرہ کتاب " قربانی کے ایام واوقات " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں قربانی کے ایام واوقات کے موضوع پر منعقد ہونے والے 19 ویں فقہی سیمینار میں پیش کئے گئے  متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 22 قربانی کے مسائل (بدھ 01 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2718

    قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جائے ۔تخلیق ِانسانیت کے آغازہی سے قربانی کا جذبہ کار فرما ہے ۔ قرآن   مجید میں حضرت آدم﷤ کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ کی عظیم ترین سنت ہے ۔یہ عمل اللہ تعالیٰ کواتنا پسند آیا کہ اس   عمل کوقیامت تک کےلیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید نے بھی حضر ت ابراہیم ﷤ کی قربانی کے واقعہ کوتفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پھر اہلِ اسلام کواس اہم عمل کی خاصی تاکید ہے اور نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور قرآن احادیث میں اس کے واضح احکام ومسائل اور تعلیمات موجو د ہیں ۔ اللہ تعالی کےہاں   کوئی بھی عبادت کا عمل تب ہی قابل قبول ہوتا ہے کہ جب اسے نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ کی ذات ِمبارکہ تمام اہل اسلام کے لیے اسوۂ حسنہ ہے ۔عبادات میں سے اہم عبادت عید الاضحیٰ کے دن جانوروں کواللہ تعالی کی رضا کے لیے ذبح کرنا ہے اس سلسلے میں ہمارے معاشرے میں بہت سی کتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’ قربانی کے احکام مسائل ‘‘ محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے۔ جس میں انہوں نے عام فہم انداز میں قربانی کے جملہ احکام ومسائل کو بیان کردیا ہے۔ قارئین اس سے استفادہ کر کے قربانی کےسلسلے میں   معاشرہ میں پائی   جانے والی کتاہیوں کی اصلاح کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کے...

  • 23 قربانی کے مسائل (زبیر علی زئی) (ہفتہ 18 جون 2016ء)

    مشاہدات:2613

    اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے او رعبادات کی مختلف اقسام ہیں ۔مثلاً قولی،فعلی ، مالی اور مالی عبادت میں ایک عبادت قربانی بھی ہے۔ قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جاتا ہے ۔تخلیق انسانیت کے آغازہی سے قربانی کا جذبہ کار فرما ہے۔ قرآن مجید میں حضرت آدم﷤ کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ کی عظیم ترین سنت ہے ۔یہ عمل اللہ تعالیٰ کواتنا پسند آیا کہ اس عمل کو قیامت تک کے لیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید نے بھی حضر ت ابراہیم ﷤ کی قربانی کے واقعہ کوتفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پھر اہلِ اسلام کواس اہم عمل کی خاصی تاکید ہے اور نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور قرآن احادیث میں اس کے واضح احکام ومسائل اور تعلیمات موجو د ہیں ۔کتب احادیث وفقہ میں کتاب الاضاحی کے نام   سے ائمہ محدثین فقہاء نے باقاعدہ ابواب بندی قائم کی ہے ۔ اور کئی اہل علم نے قربانی کےاحکام ومسائل اور فضائل کے سلسلے میں کتابیں تالیف کی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’قربانی کے مسائل‘‘محدث العصر حافظ زبیر علی زئی﷫ کےجاری کردہ مجلہ ’’الحدیث‘‘ اور مجلہ شہادت میں قربانی کے احکام مسائل کے حوالے سے مطبوعہ مضامین کا مجموعہ ہے ۔اس میں شیخ موصوف نے قربانی کے جملہ احکام مسائل کو بادلائل پیش کیا ہے ۔بالخصوص ایام قربانی کے متعلق جامع گفتگو پیش کی ہے۔ (م۔ا)

  • 24 مسئلہ قربانی اور اس کے انکار کا پس منظر (منگل 18 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1582

    ماہِ ذوالحج سال بھرکے بعدجب آتاہے توجذبۂ تسلیم ورضاء اورجذبۂ ایثاروقربانی بھی ہمراہ لاتا ہے۔قمری سال کے اس آخری مہینے کامقدس چاند جونہی طلوع ہوتاہے،تسلیم ورضاکی لازوال داستان کی یادبھی ساتھ لاتا ہے۔ اس ماہ کی دس،گیارہ اوربارہ تاریخ کودنیابھرکے کروڑوں صاحب نصاب مسلمان اسوۂ ابراہیمی کی یادتازہ کرنے کیلئے قربانی کرتے ہیں۔عیدقربان!مسلمانوں کاعظیم مذہبی تہوارہے جوہرسال 12-11-10 ذوالحجہ کوانتہائی عقیدت ومحبت، خوشی ومسرت،ذوق وشوق،جوش وخروش اورجذبۂ ایثارو قربانی کے منایاجاتاہے۔اس دن اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اپناتن،من ،دہن قربان کرنے کے عہدکی تجدیدہوتی ہے اوریہی مسلمانوں کی عید ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے عظیم فرزندحضرت اسماعیل علیہ السلام کا مقدس ذکر قیامت تک فضاؤں اور ہواؤں میں گونجتا رہے گا۔قرآن وحدیث کے صحیفوں میں محفوظ رہے گااور آسمان کی رفعتوں اور زمین کی وسعتوں میں ہرسال یونہی تازہ اورزندہ ہوتارہے گا۔قرآن مجیداوراحادیث مبارکہ میں متعددمقامات پرقربانی کاذکرآیاہے۔ قربانی کالفظ ’’قرب‘‘سے لیاگیاہے۔عربی زبان میں قربان!اس چیزکوکہتے ہیں جس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جائے۔جبکہ اصطلاحِ شریعت میں اس سے مراد (ذبح حیوانٍ مخصوصٍ بنیۃ القربۃ فی وقت مخصوصٍ)’’مخصوص جانورکو ذوالحجہ کی دس، گیارہ اوربارہ تاریخ کوتقربِ الٰہی اوراجروثواب کی نیت سے ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے یعنی ہروہ چیزجواﷲ تعالیٰ کے قرب اوررضاکاذریعے بنے،اسے قربانی کہتے ہیں،چاہے وہ ذبیحہ کی شکل میں ہویاصدقہ وخیرات کی صورت میں ہو۔قربانی کی دوقسمیں ہیں...

  • 25 مسئلہ قربانی شرعی اور عقلی نقطہ نظر سے (بدھ 19 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1850

    ماہِ ذوالحج سال بھرکے بعدجب آتاہے توجذبۂ تسلیم ورضاء اورجذبۂ ایثاروقربانی بھی ہمراہ لاتا ہے۔قمری سال کے اس آخری مہینے کامقدس چاند جونہی طلوع ہوتاہے،تسلیم ورضاکی لازوال داستان کی یادبھی ساتھ لاتا ہے۔ اس ماہ کی دس،گیارہ اوربارہ تاریخ کودنیابھرکے کروڑوں صاحب نصاب مسلمان اسوۂ ابراہیمی کی یادتازہ کرنے کیلئے قربانی کرتے ہیں۔عیدقربان!مسلمانوں کاعظیم مذہبی تہوارہے جوہرسال 12-11-10 ذوالحجہ کوانتہائی عقیدت ومحبت، خوشی ومسرت،ذوق وشوق،جوش وخروش اورجذبۂ ایثارو قربانی کے منایاجاتاہے۔اس دن اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اپناتن،من ،دہن قربان کرنے کے عہدکی تجدیدہوتی ہے اوریہی مسلمانوں کی عید ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے عظیم فرزندحضرت اسماعیل علیہ السلام کا مقدس ذکر قیامت تک فضاؤں اور ہواؤں میں گونجتا رہے گا۔قرآن وحدیث کے صحیفوں میں محفوظ رہے گااور آسمان کی رفعتوں اور زمین کی وسعتوں میں ہرسال یونہی تازہ اورزندہ ہوتارہے گا۔قرآن مجیداوراحادیث مبارکہ میں متعددمقامات پرقربانی کاذکرآیاہے۔ قربانی کالفظ ’’قرب‘‘سے لیاگیاہے۔عربی زبان میں قربان!اس چیزکوکہتے ہیں جس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جائے۔جبکہ اصطلاحِ شریعت میں اس سے مراد (ذبح حیوانٍ مخصوصٍ بنیۃ القربۃ فی وقت مخصوصٍ)’’مخصوص جانورکو ذوالحجہ کی دس، گیارہ اوربارہ تاریخ کوتقربِ الٰہی اوراجروثواب کی نیت سے ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے یعنی ہروہ چیزجواﷲ تعالیٰ کے قرب اوررضاکاذریعے بنے،اسے قربانی کہتے ہیں،چاہے وہ ذبیحہ کی شکل میں ہویاصدقہ وخیرات کی صورت میں ہو۔قربانی کی دوقسمیں ہیں...

  • 26 مسائل قربانی (اتوار 23 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:22796

    قربانی ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت اور رسول مکرم ﷺ کا دائمی عمل ہے۔ پھر اہل اسلام کو اس اہم عمل کی خاصی تاکید کی گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ مسائل قربانی پر ایک ایسی جامع کتاب مرتب کی جائے جو قربانی کے تمام مسائل کو محیط ہو اور اس حوالہ سے کسی مسئلہ کا حل تشنہ نہ رہے۔ پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی زیر نظر کتاب اس سلسلہ کی ایک اہم کوشش و کاوش ہے۔ جس میں قربانی سے متعلقہ بہت سارے مسائل کو بالبداہت بیان کر دیا گیا ہے۔ جس میں قربانی کرنے والے کےلیے ناخن و بال کاٹنے کا حکم، میت کو قربانی میں شریک کرنا، قربانی کے جانور کی عمر، قربانی کے دن، قربانی نماز عید کے بعد کرنا، اونٹ اور گائے میں ایک سے زیادہ افراد کی شرکت اور قربانی کے گوشت کی تقسیم وغیرہ جیسے مسائل پر کتاب و سنت کی درست رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کے آخر میں ماہ ذوالحجہ کے آخری دس دنوں کی فضیلت و اہمیت بھی بیان کر دی گئی ہے۔ اہل حدیث علما کے مابین ایک اختلافی مسئلہ میت کی طرف سے قربانی کے جواز یا عدم جواز کا ہے۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر صاحب نے میت کی طرف سے قربانی کے جواز کی جانب رجحان ظاہر  کیا ہے۔ جبکہ مولانا عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ اور دیگر بہت سے اہل حدیث علما کا موقف اس سے مختلف ہے۔ بہر حال قربانی کے عمومی مسائل سے واقفیت کے حوالہ سے یہ کتاب لائق مطالعہ ہے۔(ع۔م)
     

  • 27 چار دن قربانی کی مشروعیت (پیر 28 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:7323

    عیدالاضحیٰ کے ایام میں اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بہیمۃ الانعام میں سے کوئی جانور ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔ قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے اس کی مشروعیت کتاب اللہ اور سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے۔ قربانی کرنے کے دنوں  کی تعداد کے حوالے سے فقہاء  کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک تین اور بعض  کے نزدیک چار دن ہیں۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی  کرنے کے کل ایّام  چار ہیں۔ یوم النحر(عیدالاضحیٰ کا دن، دس تاریخ) اور ایام تشریق( یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہواں دن) جس کا ثبوت قرآن اور صحیح احادیث سے ملتا ہے۔ زیر نظر رسالہ ’’ چار دن قربانی کی مشروعیت ‘‘ مولانا کفایت اللہ السنابلی حفظہ اللہ کی تالیف ہے، جس میں  شیخ  حفظہ اللہ نے چار دن قربانی کرنے  کی مشروعیت  کو قرآن و حدیث سے دلائل دیتے ہوئے ثابت کیا ہے ۔اور ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کے دلائل کا بھی تحقیقی جائزہ لیا ہے جو صرف تین دن قربانی کے قائل ہیں۔ رسالہ کل تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں چار دن قربانی  کرنے کی مشروعیت پر قرآن وصحیح احادیث سے دلائل بیان کیے گئے  ہیں۔ اور ساتھ اس بات کا بھی  تذکرہ کیا گیا ہے کہ چار دن قربانی والا قول کئی ایک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب ہے۔ نیز قیاس  صحیح  اور دلالت لغت سے بھی اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔ دوسرے باب  میں  چار دن قربانی سے متعلق اقوال تابعین وآئمہ محدثین کو پیش کیا گیا ہے۔ اور تیسرے  با...

  • 28 کیا خصی جانور کی قربانی سنت ہے ؟ (منگل 16 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:1312

    قربانی کا عمل اگرچہ ہر امت کے لیے رہا ہے، جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ... ﴿٣٤﴾...الحج ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے؛ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی اہم وعظیم قربانی کی وجہ سے قربانی کو سنتِ ابراہیمی کہا جاتا ہے اور اسی وقت سے اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی؛ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے جو قیامت تک جاری رہے گی۔ اس قربانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنی جان ومال ووقت ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کیا خصّی جانور کی قربانی سنت ہے؟‘‘ خرم شہزاد کی ہے۔ اس کتاب میں غیر خصی جانور کی قربانی کو احادیث مبارکہ کی روشنی میں فضیلت والی قربانی گردانا ہے مزید اس بارے میں صحابہ کرام اور دیگر محدثین کے اقوال کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلفِ کتاب کو اجرِ عظیم سے نوازےاور اس دینی لٹریچر کو اخروی توشۂ نجات میں شامل فرمائے اور اس کتاب کے مقاصد کو قبولیت سے نوازے۔ آمین۔(رفیق الرحمن)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1382
  • اس ہفتے کے قارئین: 3580
  • اس ماہ کے قارئین: 37601
  • کل قارئین : 47838400

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں